قسطنطین اعظم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
قسطنطین اعظم
قیصر بازنطینی روم
Rome-Capitole-StatueConstantin.jpg
عہد حکومت 306ء تا 337ء
پورا نام فلاوی-یس ولاری-یس اوریلی-یس قسطنطین اگسٹس
پیشرو قسطنطینوس یکم
جانشین قسطنطینوس دوئم
خاندان آل قسطنطین
والد قسطنطینوس یکم
والدہ ہیلانہ

قسطنطین ولد قسطنطینوس کلوروس عرف "قسطنطین اعظم" یا "قسطنطین یکم" 306ء تا 337ء "قیصر" بازنطینی روم تھا- یہ نہ صرف بازنطینی سلطنت کا بانی تھا بلکہ یہ پہلا "قیصر" تھا جس نے عیسائیت کو اپنا کر اس کو پوری سلطنت کا سرکاری مذہب بھی بنایا- قسطنطین اعظم اور شریک شہنشاہ لائیسینیس نے 313ء میں فرمان میلان جاری کیا، جو سلطنت بھر میں تمام مذاہب کے مذہبی رواداری کا حکم تھا- اس وقت کے اولین سپہ سالار، قسطنطین اعظم نے دو شریک شہنشاہوں، لائیسینیس اور ماکسنتیس کو خانہ جنگوں میں شکست دے کر واحد حاکم ٹھرا- 330ء میں اس نے روم کی بجائے ایک نئے شہر بازنطیم کو بازنطینی سلطنت کا دارالحکومت بنایا اور اسکا نام نئی روم رکھا- تاہم، قسطنطین کے اعزاز میں، لوگ اسے قسطنطنیہ کے نام سے پکارنے لگے، جو ایک ہزار سال کے لئے مشرقی رومی سلطنت کا دارالحکومت رہا-

اسلامی نقطہ نظر[ترمیم]

اسلامی روایات کے مطابق جب حضرت عیسٰی علیہ السلام اللہ کے پاس چلے گئے تو عیسائیوں میں اختلافات پیدا ہوگئے- کچھ لوگ کہنے لگے کہ عیسی علیہ السلام "اللہ کا بندہ و رسول" تھے- جبکہ کچھ لوگ کہنے لگے کہ "وہ تو خود رب تھے" (نعوذ باللہ) اور کچھ کا کہنا تھا کہ وہ " اللہ کا بیٹا تھے- جب قسطنطین اعظم کا دور آیا تو عیسائی علماء اس کے پاس ان اختلافات کو لے کر آئے کہ وہ انکا فیصلہ کرے- قسطنطین اپنی والدہ کی وجہ سے اس فرقے کے قول کو پسند کرتا تھا جسے یقین تھا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام "اللہ کا بیٹا تھے" اور وہ تثلیث کے قائل تھے- یہ فرقہ ملکیہ کہلایا جسے بعد ازاں رومن کیتھولک کلیسا کہا جانے لگا-

پادری عبداللہ بن اریوس اور ان کے دیگر ساتھی جو کہتے تھے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام "اللہ کا بندہ و رسول" تھے، پر قسطنطین اعظم نے بہت سختیاں ڈھائیں جن کی وجہ سے یہ لوگ اپنی جان بچا کر مختلف جگہوں اور علاقوں میں منتقل ہوگئے- جن میں کچھ عرب وادیوں میں آئے اور زہد و قناعت کی زندگی بسر کرنے لگے- یوں یہ لوگ کم ہوتے ہوتے ناپید ہوگئے- بعد میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو چند افراد باقی رہے، صرف وہ جو جزیرہ نما عرب پرانے وقتوں میں ہجرت کر گئے تھے، ان میں سے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کر لیا-