ڈنمارک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


Kongeriget Danmark
Königreich Dänemark
Kongsríkið Danmark, Kunngeqarfik Danmarki
مملکت ڈنمارک
ڈنمارک کا پرچم ڈنمارک کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: ندارد
ترانہ: Der er et yndigt land
ڈنمارک کا محل وقوع
دارالحکومت کوپن ہیگن
عظیم ترین شہر کوپن ہیگن
دفتری زبان(یں) ڈینسک
نظامِ حکومت
ملکہ
وزیرِ اعظم
آئینی ملوکیت
ایلیزابیتھ دوم
اینڈرز فوخ راسمیوسن
اتحاد
- اتحاد
قبل از تاریخ سے
قبل از تاریخ سے
یورپی یونین کی رکنیت یکم جنوری 1973ء
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
43094  مربع کلومیٹر (133)
16639 مربع میل
1.6
آبادی
 - تخمینہ:2007ء
 - کثافتِ آبادی
 
5,475,791 (108)
127 فی مربع کلومیٹر(83)
329 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ء

204.6 ارب بین الاقوامی ڈالر (49 واں)
37400 بین الاقوامی ڈالر (17 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ء)
0.949
(14) – بلند
سکہ رائج الوقت ڈنمارک کا کرونا (DKK)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)
مرکزی یورپی وقت (CET اور CEST)
(یو۔ٹی۔سی۔ 1)
مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 2)
ملکی اسمِ ساحہ
    (انٹرنیٹ)
.dk
رمزِ بعید تکلم
  (کالنگ کوڈ)
+45

ڈنمارک (Listeni/ˈdɛnmɑrk/; ڈنمارکی زبان: Danmark، انگریزی زبان: Danmark, pronounced [ˈdænmɑɡ̊] ( سنیے)) سرکاری نام جمہوریہ ڈنمارک (ڈنمارکی زبان: Kongeriget Danmark, pronounced [ˈkɔŋəʁiːəð ˈdanmɑɡ̊] ( سنیے)) شمالی یورپ کے ایک ملک کا نام ہے اس کے شمال میں سویڈن اور ناروے اور جنوب میں جرمنی، مشرق میں بحیرہ بالٹک اور مغرب میں بحیرہ شمالی واقع ہے۔

ڈنمارک کی تاریخ کے اہم حصوں کا پتہ ہمیں ان پتھروں سے ملتا ہے۔ جن پر پرانے زمانے کے لوگوں نے کئی تصویریں بنائی ہیں۔ اور یہ پتھر ڈنمارک کے شہر Jelling میں موجود ہیں۔ اور یہ اس ملک کی سب سے پرانی لکھی ہوئی تاریخ ہے۔ ڈنمارک کا نام یہیں پہلی بار لیا گیا تھا۔ سب سے پرانا پتھر تقریباً 900 صدی کا ہے۔ اس پتھر کو اس وقت کے بادشاہ Gorm بے اپنی بیوی Thyra کی یادگار کا نام دیا۔ ان پتھروں سے اس زمانے کی بے دینی کا اندازہ بہ خوبی لگایا جا سکتا ہے۔ Gorm کی وجہ سے بھی تاریخ لکھنے میں کافی مدد ملی ہے۔ کیونکہ وہ خود عیسائیت کے خلاف تھا۔ Gorm کے بیٹا Harald نے دوسرے سب سے بڑے پتھر تک کا سفر کیا اور اس کا نام Blåtand رکھا۔ اور اس کو اپنے والدین کی یادگار کی علامت بنایا۔ اس زمانے کی پتھروں پر بنی ہوئی تصویریں ہمیں یہ بتاتی ہیں۔ کہ بادشاہ Harald نے پورے ڈنمارک اور ناروے پر حکومت کی۔ Saxo Grammaticus ایک ڈینش تاریخ دان تھا جو 1200 تک زندہ رہا۔ اس نے پہلی ڈنمارک کی تاریخ کی کتاب لاطینی زبان میں لکھی۔ اس کی کچھ باتیں سمجھ میں نہ آنے والی ہیں لیکن اس کے باوجود اس نے ڈنمارک کے کلچرل لائف کے بارے میں بہت عمدگی سے لکھا ہے۔ Valdemar 1200 میں ڈنمارک کا بادشاہ تھا۔ اس نے Estland کو فتح کیا۔ Estland کا دارلحکومت Tallinn کی بنیاد ڈینش لوگوں نے ہی رکھی تھی۔ 1300 کے آخر میں ملکہ مارگریٹ نے ڈنمارک، سویڈن اور ناروے پر حکومت کی۔ اس کے تینوں ملکوں کا اپنے دور میں کئی بار دورہ کیا۔ 1397 میں اس کی تاج پوشی کی گئی۔ سویڈن کے شہر Kalmar میں ایک یونین کی بنیاد رکھی گئی۔ جس کا نام کالمار یونین تھا۔ جس کے یہ تین ممالک ممبر تھے۔ 1520 میں سویڈن اس یونین سے نکل گیا۔ لیکن ناروے 1814 تک ڈنمارک کے ساتھ اس یونین میں رہا۔ اس کے بعد جب یہ دونوں ملک علیحدہ ہوئے تو ڈنمارک نے آئس لینڈ اور جزائر فارو پر قبضہ کر لیا۔




فہرست متعلقہ مضامین ڈنمارک[ترمیم]

مزید دیکھیں[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

متناسقات: 56°N 10°E / 56°N 10°E / 56; 10