قبرص
| Κυπριακή Δημοκρατία (Kypriakī́ Dīmokratía) Kıbrıs Cumhuriyeti جمہوریہ قبرص |
|||||
|---|---|---|---|---|---|
|
|||||
| شعار: ندارد | |||||
| ترانہ: Ύμνος εις την Ελευθερίαν | |||||
| دارالحکومت | نکوسیا |
||||
| عظیم ترین شہر | نکوسیا | ||||
| دفتری زبان(یں) | یونانی، ترکی | ||||
| نظامِ حکومت
صدر
|
جمہوریہ (صدارتی نظام) دیمیتریس کرستوفیاس |
||||
| آزادی - تاریخِ آزادی |
برطانیہ سے 16 اگست 1960ء |
||||
| یورپی یونین کی رکنیت | یکم مئی 2004ء | ||||
| رقبہ - کل - پانی (%) |
9251 مربع کلومیٹر (167) 3572 مربع میل برائے نام |
||||
| آبادی - تخمینہ:2007ء - کثافتِ آبادی |
855,000 (155) 90 فی مربع کلومیٹر(111) 233 فی مربع میل |
||||
| خام ملکی پیداوار (م۔ق۔خ۔) - مجموعی - فی کس |
تخمینہ: 2007ء 21.41 ارب بین الاقوامی ڈالر (113 واں) 31522 بین الاقوامی ڈالر (مالیاتی فنڈ) (26 واں) |
||||
| انسانی ترقیاتی اشاریہ (تخمینہ: 2007ء) |
0.903 (28) – بلند |
||||
| سکہ رائج الوقت | یورو (EUR) |
||||
| منطقۂ وقت - عمومی ۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و) |
مشرقی یورپی وقت (EET) (یو۔ٹی۔سی۔ 2) مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 3) |
||||
| ملکی اسمِ ساحہ (انٹرنیٹ) |
.cy | ||||
| رمزِ بعید تکلم (کالنگ کوڈ) |
+357 |
||||
قبرص مشرقی بحیرہ روم کا ایک جزیرہ اور ملک ہے جو اناطولیہ (ایشیائے کوچک) کے جنوب میں واقع ہے۔ جمہوریہ قبرص 6 اضلاع میں تقسیم ہے جبکہ ملک کا دارالحکومت نکوسیا ہے۔ 1913ء میں برطانوی نو آبادیاتی بننے والا قبرص 1960ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ 11 سال تک فسادات کے بعد 1964ء میں اقوام متحدہ کی امن فوج تعینات کی گئی جس کے بعد جزیرے کے یونان کے ساتھ الحاق کیا گیا جس پر ترکی نے 1974ء میں جزیرے پر حملہ کردیا۔ اس کے نتیجے میں شمالی قبرص میں ترکوں کی حکومت قائم ہوگئی جسے ترک جمہوریۂ شمالی قبرص کہلاتی ہے تاہم اسے اقوام متحدہ تسلیم نہیں کرتی۔ شمالی قبرص اور قبرص ایک خط کے ذریعے منقسم ہیں جسے "خط سبز" کہا جاتا ہے۔ شمالی قبرص کو صرف ترکی کی حکومت تسلیم کرتی ہے۔ جمہوریہ قبرص یکم مئی 2004ء کو یورپی یونین کا رکن بنا۔
[ترمیم] تاریخ
قبرص 395ء میں رومی سلطنت کی تقسیم کے بعد بازنطینی سلطنت کا حصہ بنا اور امیر معاویہ کے دور میں اسے مسلمانوں نے فتح کرلیا۔
تیسری صلیبی جنگ کے دوران 1191ء میں انگلستان کے شاہ رچرڈ اول (رچرڈ شیر دل) نے اسے فتح کرلیا۔
1489ء میں جمہوریہ وینس نے جزیرے کا کنٹرول سنبھال لیا جبکہ 1571ء میں لالہ مصطفی کی زیر قیادت عثمانی فوج نے جزيرہ فتح کرلیا۔
|
||||||||||
|
|||||
|
||||||||