جنوبی کوریا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


대한민국/大韓民國
جمہوریہ کوریا
جنوبی کوریا کا پرچم جنوبی کوریا کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: 홍익인간 (弘益人間)
(تمام انسانوں کو فائدہ پہنچائیں)
ترانہ: 애국가
جنوبی کوریا کا محل وقوع
دارالحکومت سیول
عظیم ترین شہر سیول
دفتری زبان(یں) کوریائی ( ہانگوکیو)
نظامِ حکومت
صدر
وزیرِ اعظم
جمہوریہ (نیم صدارتی نظام)
لی میونگباک
ہین سیونگسو
آزادی
- اعلانِ آزادی
آزادی
جمہوریہ
جاپان سے
یکم مارچ 1919ء
15 اگست 1945ء
15 اگست 1948ء
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
99538  مربع کلومیٹر (108)
38432 مربع میل
0.3
آبادی
 - تخمینہ:2007ء
 - کثافتِ آبادی
 
48,224,000 (25)
480 فی مربع کلومیٹر(21)
1243 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ء

1206 ارب بین الاقوامی ڈالر (14 واں)
24600 بین الاقوامی ڈالر (37 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ء)
0.921
(26) – بلند
سکہ رائج الوقت جنوبی کوریائی وون (KRW)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)
کوریا کا معیاری وقت
(یو۔ٹی۔سی۔ 9)
غیر مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 9)
ملکی اسمِ ساحہ
    (انٹرنیٹ)
.kr
رمزِ بعید تکلم
  (کالنگ کوڈ)
+82

مئی 1948 ءمیں جنوبی کوریا کو جمہوریہ قرار دیا گیا اور سینگمن ری کو صدر منتخب کر لیا گیا۔ سیول اس مملکت کا دارالحکومت قرار پایا۔ جنوبی کوریا کا رقبہ 38000 مربع میل ہے اور اس کی آبادی 46885000 (46.88ملین) ہے۔ 1950 میں (5 جولائی کو) شمالی کوریا کی فوجوں نے جنوبی کوریا پر چڑھائی کر ڈالی۔ اس طرح جنگ کوریا کا آغاز ہو گیا۔ اقوام متحدہ کے فوجی دستے امریکہ کی زیر قیادت جنوبی کوریا کی امداد کو پہنچے۔ یہ جنگ تین سال جاری رہی۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ کوریا کی جنگ امریکہ کی پہلی محدود جنگ تھی، پہلی غیر اعلانیہ جنگ تھی، اور امریکہ کی پہلی جنگ تھی جسے وہ جیت نہ سکا۔

جنگ کوریا دنیا کی پہلی جنگ تھی جسے دنیا کی دو سپر طاقتیں امریکہ اور روس بالواسطہ جنگ (Proxy War) کے طور پر لڑتی رہیں۔ اس تین سالہ جنگ میں تین ملین 30) لاکھ) لوگ ہلاک ہوئے جس میں 36940 امریکی شامل تھے۔ (جبکہ ویتنام کی 16 سال جنگ میں امریکہ کے 58218 شہری مارے گئے تھے۔) 1953 ءمیں جنگ بندی عمل میں آئی اور اس کے ساتھ ہی دونوں کوریائی ریاستیں 38 عرض بلد پر مستقل تقسیم ہو کر رہ گئیں۔ سرحد کو بارودی سرنگوں اور خاردار تاروں سے محفوظ بنانے کا اہتمام کیا گیا۔بعد میں دونوں ریاستوں کو اقوام متحدہ کا ممبر بنا لیا گیا۔

جنوبی کوریا میں سنگمن ری کی حکومت رفتہ رفتہ غیر مقبول ہوتی چلی گئی۔ طلبا نے اس کے خلاف زبردست تحریک چلائی جس کے نتیجہ میں 26 اپریل 1960ءکو سنگمن ری کو مستعفی ہونا پڑا۔

16 مئی 1961 ءکو ایک فوجی بغاوت کے ذریعہ” جنرل پارک چنگ ہی“ حکمران ٹولے کا چیئرمین بن گیا۔ 1963ءمیں اسے صدر منتخب کر لیا گیا۔ 1972 ءکے ایک ریفرنڈم میں جنرل پارک چنگ ہی کو غیر محدود مدت کے لیے ملک کا صدر بننے کا اختیار دے دیا گیا۔ 26 اکتوبر 1979ء کو کوریا کی سی آئی اے کے چیف نے جنرل پارک چنگ ہی کو قتل کر دیا۔ مئی 1980ءمیں ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ جنرل جن دوھواںنے ملک میں مکمل مارشل لاءنافذ کر دیا اور جمہوریت کے حق میں مظاہرے کرنے والے عوام کو ”کوانگ جو“ میں طاقت کے ذریعہ کچل کر رکھ دیا۔

جولائی 1972 ءمیں کوریا کے دونوں حصوں میں ملک کو متحد کرنے کے لیے پرامن ذرائع پر کام کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا لیکن 1985 ءتک اس میں کوئی پیشرفت نہ ہو سکی۔ 1985 ءمیں دونوں ملکوں کے ما بین اقتصادی معاملات پر تبادلہ ¿ خیال کرنے کا فیصلہ ہو گیا۔

10 جون 1987 ءکو مزدوروں، کارکنوں، دکانداروں اور دیگر متوسط طبقے کے لوگوں نے حکومت کے خلاف مظاہروں میں طلبا کا ساتھ دیا اور جمہوریت کی بحالی کامطالبہ کیا۔ یکم جولائی 1987ءکو ”چن“ نے انتخابات کرانے کا اعلان کر دیا۔ دسمبر 1987ءمیں ”اوہ تائی وو“ صدر منتخب ہو گیا۔ 1990ءمیں تین بڑی سیاسی جماعتوں نے ایک ہی جماعت میں ضم ہونے کا فیصلہ کر لیا لیکن ایک لاکھ طلباءنے اس اقدام کو غیر جمہوری قرار دے کر اس کے خلاف مظاہرے کئے۔

1993 ءمیں ”کم یونگ سام“ نے 1961 ءکے بعد پہلی مرتبہ سول صدر کا منصب سنبھالا۔ 26 اگست 1996 ءکو سیول کی ایک عدالت نے جنرل چنگ کو بغاوت اور کرپشن کے الزام میں سزائے موت اور روہ تائی وو کو اڑھائی سال قید کی سزا سنائی۔ 18 دسمبر 1997 ءکو کم وائے جنگ نے صدارتی انتخاب جیت لیا۔ 22 دسمبر 1997ءکو چن اور روہ کو معافی دیکر کر رہا کر دیا گیا۔

فہرست متعلقہ مضامین جنوبی کوریا[ترمیم]