مالدیپ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


(دِڤِهِرَا‘جِيگِ جُمهُورِ‘يَا) ދިވެހިރާއްޖޭގެ ޖުމްހޫރިއްޔާ
جمہوریہ مالدیپ
مالدیپ کا پرچم مالدیپ کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: ندارد
ترانہ: Gavmii mi ekuverikan matii tibegen kuriime salaam
مالدیپ کا محل وقوع
دارالحکومت مالے
عظیم ترین شہر مالے
دفتری زبان(یں) دیویہی، سنہالی
نظامِ حکومت
صدر
جمہوریہ (صدارتی نظام)
محمد وحید حسن
آزادی
- تاریخِ آزادی
برطانیہ سے
26 جولائی 1965ء
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
298  مربع کلومیٹر (204)
115.06 مربع میل
برائے نام
آبادی
 - تخمینہ:2007ء
 - 2006 مردم شماری
 - کثافتِ آبادی
 
306,000 (174)
298842
1105 فی مربع کلومیٹر(9)
2862 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ء

2.839 ارب بین الاقوامی ڈالر (164 واں)
3900 بین الاقوامی ڈالر (116 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ء)
0.741
(100) – متوسط
سکہ رائج الوقت روفیا (MVR)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)

(یو۔ٹی۔سی۔ +5)
غیر مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ +5)
ملکی اسمِ ساحہ
    (انٹرنیٹ)
.mv
رمزِ بعید تکلم
  (کالنگ کوڈ)
+960

مالدیپ (انگریزی: Maldives) ، باضابطہ نام جمہوریہ مالدیپ، جزائر پر مشتمل ایک ریاست ہے جو بحر ہند میں واقع ہے۔ یہ بھارت کے جزائر لکادیپ کے جنوب میں،جبکہ سری لنکا سے تقریبا‬ سات سو کلومیٹر (435 میل) جنوب مغرب میں واقع ہے۔ 26 مرجانی چٹانیں ایک ایسے خطے کو تشکیل دیتی ہیں جو 1192 چھوٹے جزائر پر مشتمل ہے جن میں سے تقریباً 200 ہی ایسے ہیں جن پر انسانی آبادی موجود ہے۔ مالدیپ کا دار الحکومت مالے ہے جہاں‌پورے ملک کی 80فیصد آبادی قیام پذیر ہے۔ یہاں کے زیادہ تر لوگ مسلمان ہیں۔


نام[ترمیم]

مالدیپ کا مطلب غالباً "پہاڑی جزیرے" ہے (تامل میں ملائی کا مطلب پہاڑ اور تیوو کا مطلب "جزیرہ" ہوتا ہے) یا پھر اس کا مطلب "ہزاروں جزائر" ہے۔ چند ماہرین کا ماننا ہے کہ مالدیپ کا لقظ سنسکرت کے لفظ مالادیپوا سے نکلا جس کا مطلب "جزائر کا گجرا" یا "جزائر کا ہار" ہے یا پھر "مہیلا دیپوا" یعنی "عورتوں کا جزیرہ" سے نکلا ہے۔ چند ماہرین اسے عربی کے لفظ محل سے نکلا ہوا لفظ قرار دیتے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

1153ء میں اسلام سے آشنا ہونے کے بعد یہ جزائر پرتگیزیوں (1558ء)، ولندیزیوں (1654ء) اور برطانویوں(1887ء) کی نو آبادی بنے۔ 1965ء میں مالدیپ نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی اور 1968ء میں اسے جمہوریہ قرار دیا گیا۔ حالانکہ 40 سالوں میں محض چند دو افراد ہی صدور قرار پائے۔ مالدیپ آبادی کے لحاظ سے ایشیا کا سب سے چھوٹا ملک ہے۔ یہ سب سے چھوٹا مسلم اکثریتی ملک بھی ہے۔ اسلام تقریباً تمام آبادی کا باضابطہ مذہب ہے جبکہ قومی و عام زبان دیویہی ہے، جو ہند یورپی زبانوں سے تعلق رکھتی ہے اور سری لنکا کی زبان سنہالی سے میل کھاتی ہے۔

نظام حکومت[ترمیم]

ملک میں صدارتی نظام حکومت موجود ہے ۔ پارلیمنٹ صدر کو نامزد کرتی ہے اور عام شہری ووٹ دے کر اس کی توثیق کرتے ہیں۔ صدر چار سالوں‌کے لئے منتخب ہوتا ہے ۔ پارلیمنٹ کو مجلس کہا جاتا ہے جس کے کل 54 ممبران ہوتے ہیں جن میں‌سے 8 کو صدر نامزد کرتا ہے باقی کو ووٹرز منتخب کرتے ہیں ہیں۔ 8 ممبران مالے سے منتخب ہوتے ہیں۔ دیگر 38 کو 19 اضلاع سے منتخب کیا جاتا ہے ۔

سیاحت[ترمیم]

سیاحت کے حوالے سے مالدیپ دنیا بھر میں ممتاز مقام رکھتا ہے۔ ملکی معیشت سیاحت کے علاوہ ماہی گیری پر انحصار کرتی ہے۔ جہاز سازی، بنکاری اور ساخت گری کے شعبہ جات بھی اچھی رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ جنوبی ایشیائی ممالک میں مالدیپ دوسرے درجے پر سب سے زیادہ جی ڈی پی کا حامل ہے (3900 امریکی ڈالرز بمطابق 2002ء)۔ اس کے اہم تجارتی شراکت داروں میں بھارت، سری لنکا، تھائی لینڈ، ملائشیا اور انڈونیشیا شامل ہیں۔

جغرافیہ[ترمیم]

مالدیپ دنیا کا سب سے سپاٹ ترین ملک ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ زمینی سطح صرف 2.3 میٹر (ساڑھے 7 فٹ) ہے۔ گزشتہ ایک صدی میں سمندروں کی سطح میں 20 سینٹی میٹر (8 انچ) اضافہ ہوا ہے۔ سمندر کی سطح میں بڑھتا ہوئے اس اضافے نے مالدیپ کی بقا کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ 2004ء میں بحر ہند میں آنے والے سونامی نے مالدیپ کو بھی لپیٹ میں لیا تھا اور ملک کے کئی علاقے سمندری پانی میں ڈوب گئے اور کئی افراد بے گھر ہو گئے اور 6 غیر ملکیوں سمیت 75 افراد ہلاک ہوئے۔

متعلقہ مضامین مالدیپ[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]