بھوٹان
| འབྲུག་རྒྱལ་ཁབ་ مملکتِ بھوٹان |
|||||
|---|---|---|---|---|---|
|
|||||
| شعار: One Nation, One People |
|||||
| ترانہ: འབྲུག་ཙན་དན་ ('brug.tsan.dan.) | |||||
| دارالحکومت | تھمپو |
||||
| عظیم ترین شہر | تھمپو | ||||
| دفتری زبان(یں) | زونکھا | ||||
| نظامِ حکومت
بادشاہ
وزیرِ اعظم |
مطلق ملوکیت جگمے خسار نمگیال کنزانگ دورجی |
||||
| آزادی - قیام وانگچک بادشاہت بھارت سے آزادی |
بھارت سے سترہویں صدی 17 دسمبر 1907ء 8 اگست 1949ء |
||||
| رقبہ - کل - پانی (%) |
47000 مربع کلومیٹر (131) 18147 مربع میل نامعلوم |
||||
| آبادی - تخمینہ:2007ء - کثافتِ آبادی |
658,000 (162) 46 فی مربع کلومیٹر(156) 119 فی مربع میل |
||||
| خام ملکی پیداوار (م۔ق۔خ۔) - مجموعی - فی کس |
تخمینہ: 2007ء 3.503 ارب بین الاقوامی ڈالر (160 واں) 1400 بین الاقوامی ڈالر (160 واں) |
||||
| انسانی ترقیاتی اشاریہ (تخمینہ: 2007ء) |
0.579 (133) – متوسط |
||||
| سکہ رائج الوقت | گلتروم (نگولتروم) (BTN) |
||||
| منطقۂ وقت - عمومی ۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و) |
بھوٹان کا وقت (یو۔ٹی۔سی۔ 6) غیر مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 6) |
||||
| ملکی اسمِ ساحہ (انٹرنیٹ) |
.bt | ||||
| رمزِ بعید تکلم (کالنگ کوڈ) |
+975 |
||||
بھوٹان جنوبی ایشیا کا ایک چھوٹا اور اہم ملک ہے. یہ ملک چین اور بھارت کے درمیان واقع ہے. اس ملک کا مقامی نام درك یو ہے، جس کا مطلب ہوتا ہے 'ڈریگن کا ملک. یہ ملک بنیادی طور پر پہاڑی علاقے پر مشتمل ہے صرف جنوبی حصہ میں تھوڑی سی ہموار زمین ہے. ثقافتی اور مذہبی طور سے تبت سے منسلک ہے، لیکن جغرافیائی اور سیاسی حالات کے پیش نظر اس وقت یہ ملک بھارت کے قریب ہے.
نام [ترمیم]
کچھ لوگوں کے مطابق بھوٹان سنسکرت کے لفظ بھو-ات تھان سے بنا ہے جس کا لفظی مطلب ہے اونچی زمین. کچھ کے مطابق یہ بھوت - انت (یعنی تبت کا خاتمہ) کی بگڑی شکل ہے. یہاں کے باشندے بھوٹان کو درك - يو (ڈریگن کا ملک) اور اس کے باشندوں کو درپكا کہتے ہیں. اس کے علاوہ بھی بھوٹان کے کئی اور سابق نام بھی ہیں۔
تاریخ [ترمیم]
سترھویں صدی کے آخر میں بھوٹان میں بدھ لوگوں کی اکثریت تھی. 1865 میں برطانیہ اور بھوٹان کے درمیان سنچل معاہدہ پر دستخط ہوا، جس کے تحت بھوٹان کی کچھ سرحدی زمین کے حصہ کے بدلے کچھ سالانہ فنڈنگ کے معاہدے کئے گئے. برطانوی اثرات کے تحت 1907 میں وہاں بادشاہی نظام کی تشکیل ہوئی. تین سال بعد ایک اور معاہدہ ہوا، جس کے تحت برطانوی اس بات پر راضی ہوئے کہ وہ بھوٹان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کریں گے لیکن بھوٹان کی خارجہ پالیسی برطانیہ کی طرف سے طے کی جائے گی. بعد میں 1947 کے بعد یہی کردار بھارت کو برطانیہ کی طرف سے ملا. دو سال بعد 1949 میں بھارت بھوٹان معاہدے کے تحت بھارت نے بھوٹان کی وہ ساری زمین اسے لوٹا دی جو انگریزوں کے قبضے میں تھی. اس معاہدے کے تحت بھارت کا بھوٹان کی خارجہ پالیسی اور دفاعی پالیسی میں کافی اہم کردار رہا.
یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔
| ویکیمیڈیا العام میں بھوٹان سے متعلق وسیط موجود ہے۔ |