برونائی دارالسلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


Negara Brunei Darussalam
نڬارا بروني دارالسلام
ریاست برونائی دارالسلام
برونائی دارالسلام کا پرچم برونائی دارالسلام کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: Always in service with God's guidance
(ہمیشہ خدمت، خدا کی رہنمائی میں)
ترانہ: Allah Peliharakan Sultan / ﷲ ڤليهاراكن سلطان
برونائی دارالسلام کا محل وقوع
دارالحکومت بندر سری بگاوان
عظیم ترین شہر بندر سری بگاوان
دفتری زبان(یں) ملاوی (بھاس ملایو)
نظامِ حکومت
بادشاہ/سلطان
مطلق ملوکیت
حسن البلقیہ
آزادی
- تاریخِ آزادی
برطانیہ سے
یکم جنوری 1984ء
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
5765  مربع کلومیٹر (170)
2226 مربع میل
8.6
آبادی
 - تخمینہ:2007ء
 - 2001 مردم شماری
 - کثافتِ آبادی
 
390,000 (171)
332844
65 فی مربع کلومیٹر(134)
168 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ء

9.557 ارب بین الاقوامی ڈالر (142 واں)
25600 بین الاقوامی ڈالر (35 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ء)
0.894
(30) – بلند
سکہ رائج الوقت برونائی ڈالر (BND)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)

(یو۔ٹی۔سی۔ 8)
غیر مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 8)
ملکی اسمِ ساحہ
    (انٹرنیٹ)
.bn
رمزِ بعید تکلم
  (کالنگ کوڈ)
+673

برونائی دارالسلام بر اعظم ایشیاء کے مشرقی جانب، جزائر شرق الہند میں واقع ایک مسلم ملک ہے۔ برونائی کو سرکاری طور پر دی نیشن آف برونائی، دی ایڈوب آف پیس کہا جاتا ہے۔ جنوبی بحیرہ چین کے ساحل کے علاوہ یہ پوری کی پوری ملائیشیاء کی ریاست ساراوک سے گھری ہوئی ہے۔ بورنیو کے جزیرے پر واقع یہ واحد خود مختار ریاست ہے جبکہ باقی جزیرہ اندونیشیا اور ملائیشیاء کا حصہ ہے۔بورنیو کی کل آبادی جولائی 2012 میں 408786 نفوس پر مشتمل تھی۔

برونائی یکم جنوری 1984 کو برطانیہ سے آزاد ہوا۔ 1999 سے 2008 کے دوران معاشی ترقی کی شرح 56 فیصد رہی جس کی وجہ سے برونائی اب صنعتی ریاست بن گئی ہے۔ اس کی دولت کا بڑا حصہ تیل اور قدرتی گیس کے ذخیروں سے آتا ہے۔ جنوبی ایشیائی ریاستوں میں سنگا پور کے بعد برونائی انسانی ترقی کے اعشاریئے میں دوسرے نمبر پر آتا ہے اور اسے ترقی یافتہ ملک مانا جاتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق برونائی میں فی کس قوت خرید دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق لیبیا کے علاوہ برونائی دنیا کا دوسرا ملک ہے جہاں قرضے قومی آمدنی کا صفر فیصد ہیں۔ فوربس کے مطابق برونائی 182 ممالک میں 5ویں امیر ترین ملک ہے۔

تاریخ[ترمیم]

977 عیسوی میں بورنیو کو پونی کہا جاتا تھا۔ 1225 میں چینی سرکاری نمائندہ چوا جو کوا نے اطلاع دی بورنیو کی حفاظت کے لئے 100 جنگی بحری جہاز تعینات ہیں۔
14ویں صدی عیسوی میں پونی کو ماجاپاہٹ کی ذیلی ریاست بنا دیا گیا اور اسے سالانہ 60 کلو کافور خراج دینا پڑتا تھا۔ 1369 میں ثلث نے حملہ کر کے یہاں لوٹ مار کی اور خزانے اور سونے کو اپنےساتھ لے گیا۔ ماجاپاہٹ کے جہازوں نے ثلث کو بھگا دیا لیکن پونی کا دفاع بہت کمزور ہو گیا۔ 1371 میں ایک چینی رپورٹ کے مطابق پونی بہت غریب ریاست تھی اور اس پر ماجاپاہٹ کا مکمل قبضہ تھا۔
15ویں سے 17ویں صدی کے درمیان برونائی کی سلطنت اپنے عروج پر تھی اور شمالی بورنیو سے جنوبی فلپائن تک ان کی حکومت تھی۔ 16ویں صدی میں یہاں اسلام کی جڑیں مضبوط ہو چکی تھیں اور یہاں ایک بہت بڑی مسجد بنائی گیئ۔ 1578 میں ایک ہسپانوی سیاح الونسو بیلتران نے پانی کے اوپر پانچ منزلہ بلند جگہ بتائی۔
یورپی اثرات کے باعث برونائی کی ریاست کمزور پڑنے لگی۔ سپین نے 1578 میں برونائی کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ سپین کی طرف سے 400 ہسپانوی، 1500 فلپائنی اور 300 بورنیو کے باشندے تھے۔ اس جنگ کے نتیجے میں ایک بار دارلحکومت پر بھی ہسپانوی قبضہ ہو گیا۔ تاہم جلد ہی یہ قبضہ ختم ہو گیا اور ہسپانیوں کو بھگا دیا گیا۔ 1660 سے 1673 تک خانہ جنگی بھی رہی۔
کئی مواقع پر برطانیوں نے برونائی کے معاملات میں مداخلت کی تھی۔ جولائی 1846 میں برطانیہ نے برونائی پر حملہ کر دیا۔ 1880 میں سلطان نے جیمز بروک کو ساراوک کا علاقہ سونپ کر اسے راجہ بنا دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جیمز بروک کی مدد سے بادشاہ نے ایک مقامی بغاوت فرو کی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ بروک اور اس کے بھتیجوں نے مزید زمین بھی حاصل کرنے کی حکمت عملی جاری رکھی اور انہیں سفید راجہ کہا جاتا تھا۔سلطان ہاشم جلیل العالم اقامدین نے برطانیوں سے درخواست کی کہ وہ مزید قبضہ نہ کریں۔ 17 ستمبر 1888 کو ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت برونائی برطانوی منظوری کے بغیر اپنی سرزمین کسی غیر ملکی کو استعمال کے لئے نہیں دے سکتا تھا۔ تاہم ساراوک نے جب برونائی کے کچھ علاقے پر 1890 میں قبضہ کیا تو برطانیہ نے اس کے خلاف کوئی حرکت نہ کی حالانکہ یہ معاہدے کی صریح خلاف ورزی تھی۔ اس طرح برونائی کا رقبہ اس کی موجودہ حدود تک سکڑ گیا۔
1906 کے معاہدے کے تحت برطانوی باشندے یہاں آباد ہونے لگے اور سلطان کو لازمی طور پر ان کو مشیر مقرر کرنا تھا۔ رفتہ رفتہ یہ لوگ سلطان سے زیادہ بااختیار ہو گئے۔ تاہم یہ نظام 1959 میں ختم ہو گیا۔
کئی ناکام کوششوں کے بعد 1929 میں تیل دریافت ہوا۔ 5 اپریل 1929 کو 297 میٹر کی گہرائی سے تیل نکلا۔ تیل اور گیس کی پیدوار سے برونائی کی زیادہ تر آمدنی آتی ہے۔
جاپانیوں کے قبضے کے بعد انہوں نے سلطان احمد تاجدین سے برونائی پر حکومت کا معاہدہ کیا۔
سلطان کا تخت برقرار رہا اور اسے جاپانیوں سے پینشن اور اعزازت دیئے گئے۔
برطانیہ کو جاپانی حملے کا خدشہ تو تھا لیکن یورپ میں جنگ کی وجہ سے برونائی کا دفاع ممکن نہ ہوسکا۔
قبضے کے دوران جاپانیوں نے اپنی زبان کو سکولوںمیں رائج کیا اور سرکاری افسران کو جاپانی سیکھنے کے لئے مجبور کیا گیا۔ مقامی کرنسی کی جگہ دوسری کرنسی رائج کی گئی۔ 1943 میں معاشی بحران سے اس نئی کرنسی کی قدر ختم ہو گئی اور کوڑیوں کے بھاؤ ملنے لگی۔ اتحادی جہازوں نے بحری ناکہ بندی کر دی اور تجارت ختم ہو کر رہ گئی۔ خوراک، ادویات اور دیگر ضروریات زندگی کی قلت پیدا ہو گئی اور قحط اور بیماریوں سے شہری بری طرح متاثر ہوئے۔
جاپانیوں نے برونائی میں بحری مستقر اور ہوائی اڈہ بھی بنایا۔ بحری مستقر تو اتحادی بمباری سے تباہ ہو گیا لیکن ہوائی پٹی بچ گئی جس کی مرمت کر کے عوامی ائیرپورٹ بنا دیا گیا۔
10 جون 1945 میں امریکی ہوائی اور بحری فوج کی مدد سے آسٹریلیا کی فوج نے حملہ کر کے بورنیو کو جاپان سے واپس لے لیا۔ جاپانیوں نے 10 ستمبر 1945 کو ہتھیار ڈال دیئے۔ برطانیہ نے جاپان سے حکومت کا قبضہ لے لیا اور جولائی 1946 تک قابض رہے۔

بعد از جنگ عظیم دوم[ترمیم]

برطانیہ کی فوجی حکومت نے برونائی میں حکومت بنائی جس میں آسٹریلیا کے فوجی شامل تھے۔ سویلین حکومت کو 6 جولائی 1945 کو اختیارات سونپ دیئے گئے۔
1959 میں نئے آئین کے مطابق برونائی کو خودمختار حکومت دے دی گئی جبکہ خارجہ امور، دفاع اور حفاظت کا ذمہ برطانیہ کے پاس ہی رہا۔
یکم جنوری 1984 کو برونائی نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ روایتی اعتبار سے قومی دن 23 فروری کو منایا جاتا ہے۔

آئین[ترمیم]

جولائی 1953 کو آئین بنانے کے لئے 7 رکنی کمیٹی بنائی گئی جس کے بنائے گئے آئین کے خاکے کو برطانیہ نے قبول کر لیا۔

29 ستمبر 1959 کو بندر سری بیگوان میں آئین کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔ اس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  • سلطان کو ریاست کا سربراہ بنایا گیا
  • برونائی اپنے اندرونی نظم و نسق کا ذمہ دار ہوگا
  • برطانوی حکومت محض دفاع اور امور خارجہ کو سنبھالے گی
  • ریزیڈنٹ کی جگہ برطانوی ہائی کمشنر ہوگا

آزادی[ترمیم]

1971 کا معاہدہ[ترمیم]

14 نومبر 1971کو سلطان حسن البلقیہ 1959 کے آئین میں ترامیم کے بارے بات چیت کرنے لندن پہنچے۔ 23 نومبر 1971 کو ایک نیا معاہدہ طے ہوا جس کے اہم نکات یہ ہیں:

  • برونائی کو مکمل اندرونی خود مختاری دے دی گئی
  • خارجہ اور دفاع کے امور برطانیہ کے ذمے بدستور رہیں گے
  • دفاع اور حفاظت کے امور برونائی اور برطانیہ مل کر طے کریں گے

اس معاہدے کے تحت برونائی میں تعینات ہونے والے گورکھا فوجی ابھی تک برونائی میں تعینات ہیں۔

1979 کا دوستی اور تعاون کا اینگلو برونائی معاہدہ[ترمیم]

7 جنوری 1979 کو برونائی اور یونائیٹڈ کنگڈم کے درمیان معاہدہ ہوا جس کے تحت برونائی کو بین الاقوامی امور خود سنبھالنے ہوں گے اور آہستہ آہستہ برونائی پوری طرح آزاد ہو جائے گا اور برطانیہ بین الاقوامی امور میں مدد کرے گا۔

مکمل آزادی[ترمیم]

مئی 1983 میں برطانیہ نے یہ اعلان کیا کہ یکم جنوری 1984 کو برونائی پوری طرح آزاد ہو جائے گا۔

31 دسمبر 1983 کو ملک کے چاروں اضلاع کی مساجد میں اجتماعات ہوئے۔

یکم جنوری 1984 کی نصف شب کو سلطان نے آزادی کا اعلان پڑھ کر سنایا۔

سیاست اور حکومت[ترمیم]

سیاسی نظام بنیادی طور پر مالے کی اسلامی بادشاہت کے اصول پر قائم ہے جس کے تین حصے ہیں۔ مالے ثقافت، مذہب اسلام اور بادشاہت کے زیر انتظام سیاسی ڈھانچہ۔ قانونی نظام برطانوی نظام عدل پر مشتمل ہے لیکن بعض صورتوں میں شرعی قوانین کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔

برونائی کی اپنی پارلیمان ہے۔

خارجہ تعلقات[ترمیم]

1979 تک خارجہ تعلقات برطانیہ کی ذمہ داری تھے۔ اس کے بعد برونائی کی سفارتی ٹیم نے یہ کام سنبھال لیا ہے۔ آزادی کے بعد اس ٹیم کو باقاعدہ وزارت کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ خارجہ پالیسی کے اہم اصول درج ذیل ہیں:

  • دیگر ریاستوں کی خود مختاری، سالمیت اور آزادی کا احترام کرنا
  • دیگر اقوام کے ساتھ دوستانہ تعلقات
  • دیگر اقوام کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہ کرنا
  • علاقے میں امن، حفاظت اور استحکام کو یقینی بنانا

جغرافیہ[ترمیم]

برونائی جنوب مشرقی ایشیا کا ملک ہے اور کے دو حصے ایک دوسرے سے الگ تھلگ ہیں۔ کل رقبہ 5765 مربع کلومیٹر ہے۔ اس کی 381 کلومیٹر لمبی سرحد ملائیشیاء سے ملتی ہے۔ علاقائی سمندری پانی کی حد 500 مربع کلومیٹر ہے اور 200 بحری میل اس کے بحری معاشی علاقے شمار ہوتے ہیں۔

برونائی کی کل آبادی 408000 نفوس پر مشتمل ہے۔ دارلحکومت بندر سری بیگوان میں ڈیڑھ لاکھ افراد بستے ہیں۔ زیادہ تر برونائی رین فارسٹ پر مشتمل ہے۔

برونائی کا موسم استوائی نوعیت کا ہے اور اوسط سالانہ درجہ حرارت 26.1 ڈگری رہتا ہے۔

معیشت[ترمیم]

برونائی ایک چھوٹی لیکن انتہائی امیر معیشت ہے جس میں ملکی اور بین الاقوامی شمولیت پائی جاتی ہے جسے حکومتی نگرانی، فلاحی اقدامات اور دیہاتی رواجوں سے سنبھالا جاتا ہے۔ خام تیل اور قدرتی گیس ملکی آمدنی کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ بناتے ہیں۔ برونائی روزانہ 167000 بیرل خام تیل پیدا کرتا ہے جو جنوب مشرقی ایشیاء میں چوتھے نمبر پر ہے۔ اس کے علاوہ 25 ملین مکعب میٹر قدرتی گیس بھی روز پیدا ہوتی ہے جس سے برونائی دنیا میں نواں بڑا قدرتی گیس پیدا کرنے والا ملک ہے۔

برونائی کی آمدنی کا کچھ حصہ بیرون ملک سرمایہ کاری سے بھی آتا ہے۔ حکومت ہر طرح کی طبی سہولیات، چاول کی قیمت میں رعایت اور گھر مہیا کرتی ہے۔

آبادی کی خصوصیات[ترمیم]

جولائی 2013 میں برونائی کی کل آبادی 415717 افراد پر مشتمل تھی جس میں سے 76 فیصد آبادی شہروں میں رہتی ہے۔ اوسط زیادہ سے زیادہ عمر 77 سال سے زیادہ ہے۔ آبادی کا 66 فیصد سے زیادہ حصہ مالے ہے جبکہ چینی، مقامی اور دیگر نسلوں کے لوگ باقی آبادی کا حصہ ہیں۔

برونائی کی سرکاری زبان مالے ہے۔

سرکاری طور پر برونائی کا مذہب اسلام ہے اور دو تہائی آبادی مسلمان ہے۔ دیگر مذاہب میں بدھ مت، عیسائیت وغیرہ شامل ہیں۔

ثقافت[ترمیم]

برونائی میں مالے ثقافت پائی جاتی ہے اور اس پر اسلام کا گہرا اثر ہے۔

شرعی ریاست ہونے کی وجہ سے شراب کی خرید و فروخت اور استعمال ممنوع ہے۔ غیر ملکی اپنے استعمال کے لئے دوسرے ممالک سے محدود مقدار میں شراب لا سکتے ہیں۔

میڈیا[ترمیم]

برونائی کا میڈیا حکومت نواز ہے۔ حکومت اور بادشاہت پر تنقید کرنا ممکن نہیں ہے۔

برونائی کی حکومت چھ ٹی وی چینل چلاتی ہے۔ ایک پرائیوٹ کمپنی کیبل ٹی وی چلاتی ہے اور ایک پرائیوٹ ریڈیو ایف ایم چینل بھی موجود ہے۔

دفاع[ترمیم]

برونائی کے تین انفینٹری دستے ہیں جو ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ برونائی کی بحری فوج کے پاس کئی اجتہاد قسم کی جنگی کشتیاں بھی موجود ہیں۔ ایک برطانوی فوجی مرکز بھی یہاں قائم ہے جس میں گورکھا فوجیوں کی تعداد 1500 ہے۔

انتظامی ڈھانچہ[ترمیم]

اہم آباد علاقے 2800 کلومیٹر طویل سڑکوں کی مدد سے ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

برونائی تک زمینی، بحری اور فضائی، ہر طریقے سے پہنچا جا سکتا ہے۔ برونائی کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ ملک میں آمد کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ برونائی میں ایک بندرگاہ بھی ہے۔

برونائی میں تقریباً ہر دو انسانوں کے لئے ایک کار موجود ہے اور یہ شرح دنیا میں بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔

صحت عامہ[ترمیم]

برونائی میں چار سرکاری ہسپتال ہیں۔ اس کے علاوہ 16 مراکز صحت اور 10 کلینک بھی کام کرتے ہیں۔

شہری ہر بار ڈاکٹر کے پاس جانے کے لئے محض ایک برونائی ڈالر ادا کرتے ہیں۔ اگر کسی وجہ سے ملک میں علاج ممکن نہ ہو تو سرکاری خرچے پر مریض کو دوسرے ملک بھیجا جاتا ہے۔ 2011-12 میں کل 327 مریضوں کو حکومت کی طرف سے ملائیشیا اور سنگا پور بھیجا گیا اور اس پر 1 کروڑ 20 لاکھ امریکی ڈالر کا خرچہ ہوا۔

برونائی میں کوئی میڈیکل کالج نہیں اور ڈاکٹر بننے کے لئے طلباء و طالبات کو ملک سے باہر جانا پڑتا ہے۔

فہرست متعلقہ مضامین برونائی[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]