بدھ مت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

بدھ مت ایک مذہب اور فلسفہ ہے جو مختلف روایات، عقائد اور طرز عمل كو محیط كيا ہوا ہے، جس كي زیادہ تر تعلیمات کی بنیاد سدھارتھ گوتم کی طرف منسوب ہیں، عام طور پر بدھا (سنسکرت "ايک جاگت") کے نام سے بھي جانا جاتا ہے۔دنیا کے بڑے مذاہب میں سے ایک مذہب بدھ مت بھی ہے۔ بدھا کچھ چوتھي سے پانچوی صدی قبل مسیح کے درمیان شمال مشرقی بر صغیر میں رہتے تھے اور تعليمات ديتے تھے۔ انہيں بدھ مت لوگ "ایک جاگت" یا "روشن خیال ٹیچر" كے نام سے مانتے ہیں۔ انھوں نے حیات احساسی کو مشکلات سے نجات حاصل كرنا،نروانہ كو حاصل كرنا اور تکلیف اور دوسرے جنموں كی مشكلات سے بچنا سكھايا

سدھارتھ گوتم كا بت بودھگيا، بھارت

چار اہم صداقتیں[ترمیم]

  1. زندگی دکھ ہی دکھ ہے
  2. دکھ کا سبب خواہشاتِ نفسانی ہیں۔
  3. خواہشاتِ نفسانی کو قابو کر لیا جائے تو دکھ کم ہو جاتا ہے۔
  4. خواہشاتِ نفسانی کا خاتمہ کرنے کے لیے مقدس ہشت اصولی مسلک پر چلنا چائیے۔


اس مسلک میں راسخ عقیدہ، راست عزم (ترک خواہشات نفسانی اور اہنسا وغیرہ) راست گفتاری، راست روی، کسب حلال، کوشش صالح، نیک نیتی یا راست بازی اور حقیقی(Right Ecstasy) شامل ہیں۔


عقیدے کی تفصیل[ترمیم]

دیندار کی منزل مقصود یہ ہے کہ وہ وجود کی قید سے نکل کر راہا راحت عدم وجود (نروان) میں پہنچ جائے۔ فرد ایسے عناصر سے بنا ہے جو اس سے پہلی موجود تھے اور جو اس کے مرنے کے بعد منتشر ہو جائیں گے۔ اور جو دوبارہ تقریباً اسی شکل میں مرتب کیے جا سکتے ہیں۔ آدمی اسی آواگون کے چکر سے نکلنے کے لئے مذہبی زندگی کے ذریعے کوشش کرتا ہے۔

بدھ مت کے کچھ خصوصی اجزاء[ترمیم]

کرم یا کرما[ترمیم]

لفظی معنی کام یا عمل کے ہیں۔ پت انسان کی زندگی پر بلکہ ہر زندہ جان کی زندگی پر اس کے اپنے اعمال کا اثر ہوتا ہے، خصوصاً دکھ کا سبب ہمیشہ انسان کے اپنے غلط یا مضر اعمال ہوتے ہیں۔ گوتم بدھ کا کہنا ہے کہ دکھ سے نجات موجودہ دنیا کے دائرۂ تکلیف میں حاصل کرنا ناممکن ہے۔ [1]

اینتیہ[ترمیم]

دنیا فانی ہے اسکا ثبوت اس بات میں ہے کہ وہ چیزیں جن سے ہم خوشی کی توقع کرتے ہیں مثلاً شہرت، اقتدار، بندھن اور پیسہ آخر کار دکھ کا باعث بنتے ہیں۔ [2]

اودیہ[ترمیم]

بے حسی۔ بنیادی طور پر انسان حقیقت سے محروم ہے اور اپنی زندگی بے حسی میں گزارتا ہے۔ اس کا نتیجہ بھی دکھ ہے اور دکھ سے نجات پانے کے لئے اور نروان حاصل کرنے کے لئے انسان کو آگاہی کی تلاش کرنا ہو گی۔

بدھی[ترمیم]

اس آگاہی کا نام بدھ یا بدھی ہے۔ [3] سدھارتھ گوتم بدھ مت کے پہلے بدھ ضرور تھے لیکن ان کے بعد بھی کئی لوگ بدھ بن چکے ہیں۔ اس مذہب کے پیروکار نہ صرف گوتم بدھ بلکہ اور بدھوں کے طریقے کی بھی پیروی کرتے ہیں۔

ارہٹ[ترمیم]

وہ ذات جو دنیاوی بندھنوں کو مکمل طور سے چھوڑ کر نروان حاصل کر لیتا ہے۔

بدھ مت کے مذاہب[ترمیم]

مہایانا[ترمیم]

اس مذہب کے مطابق زندگی کا مقصد نروان کی تلاش ہے اور دائرۂ تکالیف سے نجات ہے۔ اس کی کھوج میں کئی نیک افراد اپنی زندگی گزارتے ہیں تا کہ وہ خود بدھ بن سکیں۔ بدھ بننے کے بعد ان افراد کا فرض اور مقصد اور لوگوں کو انتیہ کا احساس دلانا ہے۔ ان افراد کو "بدھی ستوا" کہتے ہیں۔ یہ نروان حاصل کر سکتے ہیں لیکن گوتم بدھ کی طرح اپنے نروان کی قربانی دے کر وہ اوروں کو نروان کے راستے پر چلاتے ہیں۔ اس مذہب کے پیروکار تبت، منگولیا، کوریا، جاپان، ویتنام اور چین میں پائے جاتے ہیں۔ [4]

تھیروڈا[ترمیم]

اس مذہب کے مطابق زندگی کا مقصد نروان حاصل کرنا ہے۔ اس لئے انسان کی بہترین شکل "ارہٹ" کی شکل ہوتی ہے۔ چونکہ نروان زندگی اور موت سے بعید ایک اور ہہی حالت ہوتی ہے۔ ہر انسان کی کھوج نروان کے لئے ہونی چاہیے۔ سری لنکا، تھائی لینڈ، لاؤس، برما اور کمبوڈیا میں اس مذہب کے پیروکار پائے جاتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Feiser & Powers, P.72
  2. ^ Feiser & Powers, P.72
  3. ^ Feiser & Powers, P.72
  4. ^ Feiser & Powers


مزید[ترمیم]

Feiser, James & John Powers. Scriptures of the East. New York: McGraw Hill, 2004

مذاہب و عقائد
Religions.jpg
اسلام | عیسائیت | بدھ مت | بہائی | تائو مت | جین مت | زرتشت | شنتومت | سکھمت | کنفیوشس مت| ہندومت| یہودیت| آغاخانیت| کالاش مت| نور بخشی مت