بدھ مت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
بدھ مت
Dharma Wheel.svg
دھرما چکر بدھ مت کا نشان ہے
کل تعداد
50 کروڑ سے ایک ارب تک
بانی
گوتم بدھ
علاقے جہاں پر کثیر تعداد ہے
چین، جاپان، برما، کوریا، تھائی لینڈ، بھارت، سری لنکا مزید ۔ ۔ ۔
زبانیں
چینی، برمی، جاپانی، زبان،سری لنکا کی زبانیں، بھارتی زبانیں

بدھ مت ایک مذہب اور فلسفہ ہے جو مختلف روایات، عقائد اور طرز عمل كو محیط كيا ہوا ہے، جس كي زیادہ تر تعلیمات کی بنیاد سدھارتھ گوتم کی طرف منسوب ہیں، عام طور پر بدھا (سنسکرت "ايک جاگت") کے نام سے بھي جانا جاتا ہے۔دنیا کے بڑے مذاہب میں سے ایک مذہب بدھ مت بھی ہے۔ بدھا کچھ چوتھي سے پانچوی صدی قبل مسیح کے درمیان شمال مشرقی بر صغیر میں رہتے تھے اور تعليمات ديتے تھے۔ انہيں بدھ مت لوگ "ایک جاگت" یا "روشن خیال ٹیچر" كے نام سے مانتے ہیں۔ انھوں نے حیات احساسی کو مشکلات سے نجات حاصل كرنا،نروانہ كو حاصل كرنا اور تکلیف اور دوسرے جنموں كی مشكلات سے بچنا سكھايا۔

  • == گوتم بدھGautma Budha ==

گوتم کپل وستو Kapila Vastu میں ہمالیہ کی ایک ریاست میں پیدا ہوا تھا۔ جہاں آریائی قبیلہ ساکیہ یا شاکہہ Shakya آباد تھا، اس کے سردار یا راجہ شدودھن Shudho Dhana کا لڑکا تھا۔ گوتم کی ماں کا نام مایا یا مہامایاMayaor Maha Maya تھا۔ گوتم کے سال ولادت میں سخت اختلاف ہے۔ عام طور پر ۳۶۵ ق م بتایا جاتا ہے۔ نیز یہ مسلۂ تنازعہ فیہ ہے کہ گوتم کا اصل نام کیا تھا۔ بعض لوگوں نے سدارتھ Siddharata پہلا نام اور گوتم قبائیلی نام بتایا ہے۔ مگر جدید تحقیق کے مطابق ان کا اصل نام گوتم تھا اور سدارتھ، ساکیہ منی، ساکھیہ سہنا، جن بھاگوا، لوک ناتھ اور دھن راج وغیرہ ان کے القاب تھے، جو ان کے متعقدین نے انہیں دیے تھے۔ گوتم کے بچپن کے حالات مستند کتابوں میں نہیں ملتے ہیں اور جو ملتے ہیں وہ عقدت مندوں کی عقیدت سے اس طرح متاثر ہوئے ہیں کہ تاریخی معیار پر پورے نہیں اترتے ہیں۔ بہرحال اتنا پتہ چلتاہے کہ انہوں نے رواج کے مطابق علوم و فنون اور سپہ گری میں مہارت پیدا کی اور کمسنی میں ان کی شادی یشودھرا Yasodhra سے کردی گئی۔ آخر بعض روایات کے مطابق گوتم کی عمر جب تیس کی ہوئی تو ان میں ذہنی تبدیلی ہوئی اور کچھ طبعی رجحان اور کچھ زندگی کے تلخ واقعات نے گوتم کو مجبور کیا کہ وہ ابدی سکون و مسرت حاصل کرنے کی کوشش کریں اور اس کے حصول کا طریقہ معلوم کرنے کی کوشش کریں۔ اس ذہنی خلفشار کے زمانے میں ان کا ایک بیٹا پیدا ہوگیا تو وہ بول بڑے مجھے یہ نیا رشتہ توڑ نا پڑے گا۔ آخر بعض روایات کے مطابق گوتم اسی شب گھر کو چھوڑ کر جنگل نکل گئے۔ جہاں انہوں نے چھ سال تک مختلف ریاضتوں میں گزارے۔ جس میں گھاس بھونس پر گزارہ، بالوں کے کپڑوں کا پہنا، گھنٹوں کھڑے رہنا، کانٹوں میں لیٹ جانا، جسم پر خاک ملنا، سر اور ڈارھی کے بال نوچنا۔ اس طرح کے سخت مجاہدات میں مشغول رہے۔ آخر ان پر یہ حقیقت عیاں ہوئی کہ جسم کی آزادی اور اس طرح کے مجاہدات سے تسکین ناممکن ہے اور یہ طریقہ مسائل حل کرنے سے قاصرہیں۔ چنانچہ انہوں نے باقیدہ کھانا پینا شروع کردیا اور اپنے چیلوں سے یہ کہا کہ ریاضت کے یہ تمام طریقہ غلط ہیں۔ چنانچہ وہ انہیں چھوڑ کر چلے گئے۔ (ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، ۵۸۳ تا ۸۸۳)

  • == نروان Nirvana ==

چیلوں کے چلے جانے کے بعد گوتم سخت ہیجان میں مبتلا ہوگئے۔ آخر وہ بدھ گیاBudha Gaya میں جو اس وقت غیر آباد علاقہ تھا، وہاں ایک درخت کے نیچے بہٹھ گئے۔ اس واقع کے بعد انہوں نے تہیہ کرلیا، کہ جب تک ان پر حقائق ظاپر نہ ہوئیں گے وہ اسی طرح مراقب رہیں گے۔ دفعتاً غروب آفتاب کے وقت ان کے ذہن میں ایک چمک پیدا ہوئی اور ان پر یہ حقائق منکشف ہوئے کہ ”صفائے باطن اور محبت خلق“ میں ہی فلاح ابدی کا راز مضمر ہے اور تکلیف سے رہائی کے یہی دو طریقہ ہیں۔ انہوں نے حیات کے چشمہ موت اور زندگی کا ایک لامتناہی سلسلہ دیکھا۔ ہر حیات کو موت سے اور موت کو حیات وابستہ پایا۔ ہر سکون اور ہر خوشی کو نئی خواہش نئی مایوسی اور نئے غم کے دوش بدوش پایا۔ زندگی کو موت سے ملاقاتی ہوتے پھر اپنے کرم کے مطابق جنم لیتے دیکھا۔ اس نوری کفیت اور انکشاف کے بعد وہ بدھ یعنی روشن ضمیر ہوگئے اور انہیں یقین ہوگیا کہ وہ غلطی اور جہالت کے دھندلکوں سے آزاد ہوچکے ہیں۔ ان کی زندگی خواہشوں اور الائشوں سے آزاد ہوچکی ہے اور انہیں تناسخ کے چکر سے نجات مل چکی ہے۔ انسانی مصاحبوں کے علاج جان لینے کے بعد وہ بنارس آئے Vanarsi اور وہاں ایک مقام مگادیہ Magadiiya میں قیام کیا۔ ان کے چیلے جو انہیں چھوڑ گئے یہاں آن ملے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے چیلوں کو اپنی تعلیمات سے روشناس کرایا اور زندگی و موت کے حقائق انہیں سنجھائے۔ آخر وہ ان سے متاثر ہوکر ان کے دین میں داخل ہوگئے، پھر انہوں نے اپنی دعوت کو عام کیا اور تین ماہ یہاں قیام کیا۔ ان کی بزرگی و علم کا شہرہ دور دور تک پھیل گیا اور بہت سے لوگ ان کی کرامتوں کو دیکھ کر ان کے مذہب میں داخل ہوگئے۔ یہاں سے گوتم راج گڑھ Raj Garha گئے۔ اس وقت مگدھ Madh کا راجہ بمبارا Bambara تھا۔ اس نے گوتم کا خیر مقدم کیا اور ایک باغ ان کے قیام کے لئے وقف کردیا۔ یہاں گوتم نے کئی سال گزارے۔ وہ ہر سال گرمی اور جاڑے میں تبلغ کے لئے نکلتے اور برسات میں واپس آجاتے۔ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ راجہ بہار ادر اجات سترہ Ajara Stra نے گوتم سے ملاقاتیں کیں اور انہوں نے بدھ مذہب قبول کرلیا تھا۔ الغرض چند سال کے اندر گوتم کا مذہب تیزی سے پھیل گیا۔ پھر کپل وستو میں باپ کے بلانے پر آئے اور گھر والوں سے ملاقاتیں کیں، مگر راج گڑھ واپس آگئے اور تقریباً چوالیس سال تک گوتم اپنے مذہب کی تبلخ کرتے رہے اور اس سلسلے میں ہندوستان کے مختلف مقامات پر گئے۔ ان کی حیات میں ان کا مذہب تیزی سے مقبول ہوگیا اور دور دور تک ان کے مبلغین ہندوستان کے ہر حصہ میں پہنچ گئے اور لوگوں کو اس نئے مذہب سے روشناس کرایا۔ عام روایات کے مطابق گوتم نے ۰۸ سال کی عمر میں ۳۸۴ ق م میں وفات پائی۔ ہندو رسم کے مطابق ان کی لاش نظر آتش کردی گئی۔ (ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، ۹۸۳ تا ۳۹۳)

  • == تعلیمات ==
   گوتم کے زمانے میں لکھنے پڑھنے کا رواج بہت کم تھا۔ اس لئے ایک عرصہ تک ان کی تعلیمات زبانی منتقل ہوتی رہیں۔ تقریباً تین سو سال کے بعد ۲۵۲ ق م میں اشوک کے عہد میں پہلی مرتبہ انہیں ضبط تحریر میں لانے کی کوشش کی گئی۔ یہ کتابیں تری پٹک Tripitaka یعنی تین ٹوکریوں کے نام سے منسوب ہوئیں۔ مگر حقیقت میں یہ تین سے زائد ہیں، یعنی ہر کتاب کئی کتابوں پر مشتمل ہیں۔ یہ اشوک Ashoka کے عہد میں بہار کی زبان پالی Pali میں قلمبند کی گئیں تھیں۔ مگر اصل جلدیں بہت جلد ناپید ہوگئیں۔ ان کی نقل مہند Mahend لنکا لے گیا تھا۔ وہاں ان کا ترجمہ سنگھالی Singhali زبان میں ہوا۔ وہ نقل بھی اصل کی طرح معدم ہوگئیں۔ مگر سنگھالی Singhali زبان کا ترجمہ رہے گیا، جسے ۰۳۴۱ء؁ میں ایک گیا Gaya کے راہب گھوش Ghosha نے اصلی تسلیم کرتے ہوئے اس کا پالی میں ترجمہ کیا۔ پاک وہند میں اب یہی تری پٹک Tripitaka سے مستند اور قدیم سمجھی جاتی ہیں۔ حافظہ کی کمزوری اور ترجمہ کے ہیر پھیر کے بعد گوتم کی تعلیمات کہاں تک پہنچی یہ بتانا مشکل ہے۔ 

بدھ مذہب کی کتابیں دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک بانی مذہب کی طرح نہیں بلکہ ایک مصلح یا فلسفی کی حثیت سے اپنی تعلیمات کا سارا زور اخلاق و اعمال پر پیش کیا گیا ہے اور ان بنیادی عقائد کو نظر انداز کردیا ہے، جن پر ایک مذہب کی تعمیر ہوتی ہے۔ گوتم نے نہ تو خدا کے وجود پر کوئی بات صاف کہی ہے اور نہ کائنات کی تخلیق کے اسباب پر روشنی ڈالی ہے اور نہ ہی روح کی وضاحت کی ہے، بلکہ اسے مادہ کا جز کہے کر خاموشی اختیار کی ہے۔ جنت و جہنم، حشر ونشر اور آخرت و قیامت جیسے مسائل کو انہوں نے پس پشت دال دیا ہے اور آواگون Arvagona کے ہندو عقیدے کو اہمیت دے کر راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ عالم کی چیزیں اسباب کے تحت وجود میں آتی ہیں اور ہر لمہ غیر محسوس طریقہ سے بدلتی رہتی ہیں اور انہی اسباب کے تحت فناء ہوتی ہیں۔ گویا پوری کائنات میکانکی طور پر وجود میں آئی ہے اور اسی طور پر چل رہی ہے۔ اس میں کوئی شعور اور ارادہ کارفرما نہیں ہے۔ گوتم نے ان تمام مسائل کی وضاحت اور تشریح کے بغیر اخلاقی احکام کی تلفین کی ہے، جس کے ذریعے نروان حاصل کیا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں گوتم نے والدین، اولاد، استاد و شاگرد، خادم و آقا اور شوہر و بیوی کے فرائض، حقوق اور زمہ داریاں بتائیں ہیں۔ انہوں نے والدین کو حکم دیا ہے کہ وہ بچوں کی تعلیم کی طرف توجہ دیں اور انہیں برائی سے بچائیں، نیز ان کے لئے ترکے کی شکل میں معاش مہیا کریں۔ اولاد کو حکم دیا کہ وہ والدین کی اطاعت اور احترام کریں۔ اس طرح دوسرے لوگوں کو شفقت، محبت، ہمدردی، احترام، وفاداری، ہنرمندی، مساوات، حسن سلوک، ادب اور تعظیم کی ہدایت کی ہے۔ گویا ایک فلسفی کی موجودات کے اجزاء ترکیبی سے بحث کی ہے۔ پھر انسان کی خصوصیات اور صفات و روپ پر ایک تفصیلی بحث کی ہے، جس سے ایک مذہب کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی ہے۔ گوتم مذہب کے تمام فطری مسائل کو حل کرنے سے قاصر رہے۔ یہی وجہ ہے بدھ مذہب ان لوگوں کے درمیان توپھیل سکا، جو بت پرست اور اوہام پرست تھے۔ مگر اہل مذہب کے مقابلے میں قطعی ناکام رہا۔ (ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، ۸۹۳ تا ۵۰۴)

  • == سنگھSangha ==

بدھ مذہب کا آغاز ترک دنیا سے ہوا تھا۔ اس لئے جیسے جیسے مقتعدین کا حلقہ بڑھتا چلا گیا تو راہبوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ مگر جلد ہی گوتمGautma نے محسوس کرلیا کہ ہر شخص تارک الدنیا نہیں ہوسکتاہے اور مذہب کو محض راہبوں تک محدود درست نہیں ہے۔ لہذا اپنے پیروکاروں کو دو حصوں، راہبوں اور دنیا داروں میں تقسیم کردیا۔ راہبوں کی ایک انجمن بنائی گئی، جو سنگھ کے نام سے موسوم ہے۔ سنگھ کے ممبروں کو بھکشو Bhikshu کا خطاب دیا گیا اور ان کے لئے اہم شرائط و احکام وضع کئے گئے۔ اوائل میں سنگھ کے تمام ممبر سمجھے جاتے تھے۔ پھر ان میں عہدہ دار ابھرنے لگے اور ان کا صدر مذہبی پیشوا بن گیا۔ (ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، ۶۰۴ تا ۸۰۴)

  • == سنگھ کی مجالس ==

عام روایات کے مطابق سنگھ کی پہلی مجلس گوتم کی موت کے فوراً بعد راج گڑھ میں منعقد ہوئی تھی اور دوسری مجلس سو سال کے بعد وسیالی Visali میں بلائی گئی تھی اور اس میں نزاعی مسائل زیر بحث آئے تھے۔ مگر ان دونوں مجالس کے انعقاد کی مستند ذرائع سے تصدیق نہیں ہوتی ہے، اس لئے تین سو سال کے بعد اشوک کے عہد کے میں جو مجالس بلائی گئی، وہی پہلی مجلس سمجھی جاتی ہے۔ اس میں تقریباً ایک ہزار راہبوں نے شرکت کی تھی اور اس میں اختلافی مسائل کو سلجھانے کی کوشش کی گئی تھی۔ جیسا کہ بالاالذکر کیا گیا تھا کہ گوتم کی تعلیمات کو تین کتابوں میں جمع کی گئیں، نیز تبلغ کے لئے دور دراز مبلغ بھیجے گئے۔ سنگھ کی دوسری مجلس کنشک کی سرپرستی میں سری نگر کے قریب تقریباً ۵۴۱ء؁ میں منعقد ہوئی جس میں اختلافات ختم کرنے کی آخری کوشش کی گئی۔ نیز بدھ کی تعلیمات پر صخیم کتاب لکھی گئی، جس کو تانبے پر کندہ کرا کر ایک خاص استوپہ میں رکھیں گئیں۔ (ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، ۸۰۴ تا ۹۰۴)

  • == فرقے ==

بدھ مذہب میں اختلافات گوتم کی زندگی میں ہی پیدا ہوگئے تھے۔ ایک بھنگی کو سنگھ میں داخل کرنے پر اعلیٰ زات کے ممبروں نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔ ذات کے علاوہ اور بہت سے مسائل نزاع کا باعث بن گئے تھے۔ مگر پھر بھی گوتم کی زندگی میں انہیں ابھرنے کا موقع نہیں ملا اور گوتم کی موت کے بعد انہوں نے شدد اختیار کرلی اور بہت جلد بدھ کے متعبین اٹھارہ گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ اشوک اور کنشک کی سرپرستی میں جو مجالس منعقد ہوئیں، ان میں اختلافات کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی مگر دور نہ ہو سکے اور بالاآخر بدھ مذہب دو فرقوں میں تقسیم ہوگیا۔ جو ہنیان Hinayana اور مہایان Mahayana کے نام سے موسوم ہیں۔ اول الذکر مرکب اضغر Lesser Wehicle اور ثانی الذکر مرکب اکبر Great Wehicle بھی کہتے ہیں۔ ان دونوں فرقوں میں سے ہر ایک متعدد ذیلی فرقوں میں تقسیم ہے۔ ہنیان فرقہ جزویات کو چھوڑ کر کلیات میں قدیم مذہب پر کاربند ہے۔ یہ گوتم کی تعلیمات کے مطابق روح اور خدائی کا قائل نہیں ہے، نیز گوتم کو ہادی مانتا ہے۔ مہایان اس کے برعکس گوتم کو ماقوق الانسان سمجھتا ہے اور اس کی مورت کو بحثیت دیوتا پوجا کرتا ہے۔ یہ گوتم کے علاوہ دوسرے دیوتاؤں کا قائل ہے اور ان کی پرستش بھی کرتا ہے۔ اس فرقے کی اشاعت کنشک کے دور میں زور شور سے ہوئی، اس لئے منگولیا، چین، جاپان اور تبت میں اسی کو غلبہ حاصل ہوا۔ مگر لنکا، برما، سیام اور مشرقی جزائر میں ہنیان نے پامردی سے مقابلہ کیا، لیکن بالاآخر اسے وہاں مغلوب کرلیا گیا۔ (ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، ۹۰۴ تا ۰۱۴)

  • == ترقی کا سبب ==
   بدھ مت کی ترقی و مقبولیت کا راز اس کے بانی کی بے داغ زندگی میں تھا۔ اس کے علاوہ بدھ مت کے اصول نہایت سادہ تھے۔ مذہبی و راہبانہ جماعت سنگھ نے اس کی اشاعت میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ ابتدا میں راجاؤں اور سرداروں نے بھی اس کی سرپرستی کی۔ عام رواداری اور محبت کا پیغام عوام کے لئے جو برہمنی نظام کی قیود میں بندھے ہوئے تھے۔ بدھ مذہب کو ابتدا میں نیچی زات کے لوگوں اور ویشوں نے اختیار کیا تھا۔ پھر سرحدی ریاستوں کے راجاؤں نے اختیار کیا۔ جب اشوک نے بھی بدھ مت کا پیرو ہوکر اسے اپنی سلطنت کے سرکاری مذہب کا درجہ دیا، تو اس کی شہرت دور دور تک پھیل گیا۔ یہ مذہب وادی سندھ سے افغانستان اور وسط ایشاء میں داخل ہوا اور براہ چین کے راستے کوریا تک پہنچ گیا۔ اس طرح لنکا، برما، تبت، سیام، نیپال اور ملایا کے لوگوں نے اسے خوشی خوشی قبول کرلیا۔ اشوک کے مبلغ یا بھکشو گاؤں گاؤں پھرتے اور اہنسا کا پرچار کرتے اور لوگوں کو جانوروں کی قربانی سے منع کرتے۔ رفتہ رفتہ ان بھکشوؤں کے لئے وہار اور استوپے تعمیر ہونے لگے اور یہ جگہیں تعلیم اور عبادت کامرکز بن گئیں۔ ان میں سب سے بڑا مرکز ٹیکسلہ تھا۔ ٹیکسلہ کی پاٹ شالائیں جو وید کے بھجنوں اور اپنشدکے اشلوکوں سے گونجتی تھیں، بدھ مت کی درستگاہوں میں تبدیل ہوگئیں۔ 

موریا سلطنت کے ذوال کے بعد باختر کے یونانیوں نے ٹیکسلہ کو پایہ تخت بنایا، تو انہوں نے بھی بدھ مذہب قبول کرلیا۔ اشوک کے عہد میں بہت سے یونانیوں نے بدھ مذہب قبول کرلیا تھا۔ چنانچہ مشہور بھکشو دھرم راجیکا جس سے ٹیکسلہ کا ایک اسٹوپہ منسوب ہے یونانی تھا۔ اشوک نے اسے یونانی نوآبادیوں میں تبلیغ کے لئے بھیجا تھا۔ منیانڈر نے پٹنہ تسخیر کرلیا، مگر وہاں سے آکر اشوک کی طرح جنگ و جدل سے تائب ہو کر بدھ مت اختیار کرلیا اور آخر عمر میں راج پاٹ سے کنارہ کشی کرکے بھکشو بن گیا۔ منیانڈر کے دربار میں بدھ مذہباور ہندو پنڈتوں میں بحث مباحثے ہوتے رہتے تھے۔ بدھ مت کے سنتوں میں منیانڈرر کا درجہ بہت اونچا ہے۔ اس کے گرو ناگا سین نے منیانڈر کے جو مکالمات اور اقوال ’ملندا شا‘ کے نام سے مرتب کئے وہ آج بھی لنکا، برما اور تھائی لینڈ میں گوتم بدھ کا سب سے مقدس صحیفہ سمجھے جاتے ہیں۔ جب کشن قوم کے راجہ کنشک نے اپنی سلطنت قائم کی تو اسنے بھی بدھ مت قبول کرلیا۔ اس نے اس کی ترقی و ترویح کے لئے بحت سے اقدامات کئے۔ جن میں بدھ مت کے فرقوں کے اختلافات ختم کرانے کے لئے مجلس کا انعقاد اور اپنے دارلحکومت پرش پورہ (پشاور) میں ایک اسٹوپا کی تعمیر شامل ہے۔ اس طرح وردھن خاندان کے راجہ ہریش نے بھی بدھ مت قبول کرلیا تھا۔

   وادی سندھ میں بدھ مت کی مقبولیت کا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے، کہ مشہور چینی سیاح ہیونگ سانگ یہاں سے گزرا تو فقط سندھ میں کئی سو سنگھران موجود تھے اور بھکشوؤں کی تعداد بھی دس ہزار سے زائد تھی۔ حالانکہ اس وقت بدھ مت کو ذوال آچکا تھا اور ہندو مذہب دوبارہ حاوی ہو تاجا رہا تھا۔ (سبط حسن، پاکستان میں تہذیب کا ارتقاء۔ ۱۲۱۔ ۴۲۱)
  • * == بدھ مت کا ذوال ==

بدھ مت پانچ سو سال تک برابر ترقی کرتا رہا اور رفتہ رفتہ ہندوستان کے علاوہ افغانستان، چین، برما، سیام، اور مشرقی جزائر میں پھیل گیا۔ گو ایشاء کے ایک بڑے حصہ پر قابض ہوگیا تھا۔ اس کے بعد اس کی ترقی رک گئی اور اس کا ذوال شروع ہوگیا۔ ہندوستان میں اس کے پیرؤں کی تعداد دن بدن گھٹی گئی، آخر نویں صدی عیسویں آخر تک ہندستان میں یہ بالکل ناپید ہوگیا۔ برصغیر میں بدھ مت کا ذوال کا اہم سبب برہمنوں کی مخالفت تھی۔ وہ یہ جانتے تھے کہ اس مذہب کی ترقی میں ان کی موت پوشیدہ ہے، اس لئے وہ اسے ہر قیمت پر مٹانا چاہتے تھے۔ چنانچہ ایک طرف گوتم کو شیوکا اوتار تسلیم کرکے اس مذہب کی انفرادیت ختم کرنے کی کوشش کی اور دوسری طرف لوگوں کو تشدد پر اکسایا۔ کمارل بھٹ Kamarl Bhath اور شنکر اچاریہ Shankara Acharya جیسے پرجوش ہندو مبلغین نے باضابطہ بدھوں کے خلاف مہم چلائی اور اپنی تقریروں سے لوگوں کے دلوں میں اس کے خلاف نفرت اور دشمنی کا جذبہ پیدا کیا۔ نتیجہ یہ ہوا اس کے خلاف اکثر مقامات پر بلوے ہوئے اور بڑی بے دردی سے بدھوں کا قتل عام کیا گیا۔ بلاآخر بدھ مت اس سرزمین سے ناپید کردیا گیا۔ گوتم نے جن بنیادی عقائد پر ایک مذہب کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے، نظر انداز کردیا اور نہ ہی وجود اللہ تعالیٰ کے بارے میں کچھ بتایا اور نہ ہی آخرت کا خوف لوگوں کے دلوں میں بٹھایا، بلکہ روح کے وجود سے انکار کرکے اخلاقی احکامات کی تمام بندشوں کو ڈھیلا کردیا۔ اس بنیادی کمزوری کی وجہ سے یہ مذہب علم کے لوگوں میں مقبول نہیں ہوسکا۔ انہوں نے اسے ایک اصلاحی تحریک سے زیادہ اہمیت نہ دی۔ نیز مسائل محتاج تشریح کی رہنے کی وجہ سے اس کے متعبین میں وہ شدت پیدا نہیں ہوسکی جو ہونی چاہیے تھے۔ اس مذہب کی دوسری کمزوری یہ تھی کہ اس نے رہبانیت اور ترک دنیا پر زور دیا تھا۔ حلانکہ یہ تعلیم چند افرد کے لئے مناسب ہے، لیکن عام لوگوں کے لئے ناقابل قبول اور ناممکن عمل ہے۔ یہ نقص اس مذہب کو ہمہ گیر بنانے میں سخت حائل رہا۔ علاوہ ازیں اس سے ایک طرح بدھوں کے اندر مختلف سفینہ حیات کو ترقی دینے اور منوانے کے جذبہ کو مردہ کردیا۔ دوسری طرف راجاؤں کی سرپرستی ان کے اخلاقی انحاد کا باعث بنی۔ راہبانہ زندگی میں راجاؤں کی قربت اور نواشات ان کی اخلاقی طاقتوں کے لئے صبر آزما ثابت ہوئی۔ فطرتی کمزوریاں انہیں آرام طلب عیش پسند اور حریض بنے سے نہیں روک سکیں اور کچھ دنوں کے اندر ان کے سنگھ برائیوں کے مرکز بن گئے۔ اس مذہب کے اندر ایک اہم نقص عدم تشدد کی تعلیم تھی۔ جو اس کے ذوال کا اہم سبب بنی۔ یہ تعلیم ممکن ہے راہبیانہ زندگی کے لئے اہمیت رکھتی ہو، مگر اجتماعی زندگی میں بہت تباہ کن اور مہلک چابت ہوئی۔ بدھوں نے اس اصول پر ان لوگوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی جو کرشن کے عدم تشدد کے قائل تھے، اور انہوں نے تشدد کے لفظ کو بے معنی بنا دیا تھا۔ ایسی حالت مین جب کرشن کے ماننے والے ان کے خلاف آرستہ ہوئے، تو بچاؤ کی کوئی صورت پیدا ہو نہ سکی اور وہ تباہ ہوگئے۔ (ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، ۰۱۴ تا ۵۱۴)

سدھارتھ گوتم كا بت بودھگيا، بھارت

چار اہم صداقتیں[ترمیم]

  1. زندگی دکھ ہی دکھ ہے
  2. دکھ کا سبب خواہشاتِ نفسانی ہیں۔
  3. خواہشاتِ نفسانی کو قابو کر لیا جائے تو دکھ کم ہو جاتا ہے۔
  4. خواہشاتِ نفسانی کا خاتمہ کرنے کے لیے مقدس ہشت اصولی مسلک پر چلنا چائیے۔


اس مسلک میں راسخ عقیدہ، راست عزم (ترک خواہشات نفسانی اور اہنسا وغیرہ) راست گفتاری، راست روی، کسب حلال، کوشش صالح، نیک نیتی یا راست بازی اور حقیقی(Right Ecstasy) شامل ہیں۔


عقیدے کی تفصیل[ترمیم]

دیندار کی منزل مقصود یہ ہے کہ وہ وجود کی قید سے نکل کر راہا راحت عدم وجود (نروان) میں پہنچ جائے۔ فرد ایسے عناصر سے بنا ہے جو اس سے پہلی موجود تھے اور جو اس کے مرنے کے بعد منتشر ہو جائیں گے۔ اور جو دوبارہ تقریباً اسی شکل میں مرتب کیے جا سکتے ہیں۔ آدمی اسی آواگون کے چکر سے نکلنے کے لئے مذہبی زندگی کے ذریعے کوشش کرتا ہے۔

بدھ مت کے کچھ خصوصی اجزاء[ترمیم]

کرم یا کرما[ترمیم]

لفظی معنی کام یا عمل کے ہیں۔ پت انسان کی زندگی پر بلکہ ہر زندہ جان کی زندگی پر اس کے اپنے اعمال کا اثر ہوتا ہے، خصوصاً دکھ کا سبب ہمیشہ انسان کے اپنے غلط یا مضر اعمال ہوتے ہیں۔ گوتم بدھ کا کہنا ہے کہ دکھ سے نجات موجودہ دنیا کے دائرۂ تکلیف میں حاصل کرنا ناممکن ہے۔ [1]

اینتیہ[ترمیم]

دنیا فانی ہے اسکا ثبوت اس بات میں ہے کہ وہ چیزیں جن سے ہم خوشی کی توقع کرتے ہیں مثلاً شہرت، اقتدار، بندھن اور پیسہ آخر کار دکھ کا باعث بنتے ہیں۔ [2]

اودیہ[ترمیم]

بے حسی۔ بنیادی طور پر انسان حقیقت سے محروم ہے اور اپنی زندگی بے حسی میں گزارتا ہے۔ اس کا نتیجہ بھی دکھ ہے اور دکھ سے نجات پانے کے لئے اور نروان حاصل کرنے کے لئے انسان کو آگاہی کی تلاش کرنا ہو گی۔

بدھی[ترمیم]

اس آگاہی کا نام بدھ یا بدھی ہے۔ [3] سدھارتھ گوتم بدھ مت کے پہلے بدھ ضرور تھے لیکن ان کے بعد بھی کئی لوگ بدھ بن چکے ہیں۔ اس مذہب کے پیروکار نہ صرف گوتم بدھ بلکہ اور بدھوں کے طریقے کی بھی پیروی کرتے ہیں۔

ارہٹ[ترمیم]

وہ ذات جو دنیاوی بندھنوں کو مکمل طور سے چھوڑ کر نروان حاصل کر لیتا ہے۔

بدھ مت کے مذاہب[ترمیم]

مہایانا[ترمیم]

اس مذہب کے مطابق زندگی کا مقصد نروان کی تلاش ہے اور دائرۂ تکالیف سے نجات ہے۔ اس کی کھوج میں کئی نیک افراد اپنی زندگی گزارتے ہیں تا کہ وہ خود بدھ بن سکیں۔ بدھ بننے کے بعد ان افراد کا فرض اور مقصد اور لوگوں کو انتیہ کا احساس دلانا ہے۔ ان افراد کو "بدھی ستوا" کہتے ہیں۔ یہ نروان حاصل کر سکتے ہیں لیکن گوتم بدھ کی طرح اپنے نروان کی قربانی دے کر وہ اوروں کو نروان کے راستے پر چلاتے ہیں۔ اس مذہب کے پیروکار تبت، منگولیا، کوریا، جاپان، ویتنام اور چین میں پائے جاتے ہیں۔ [4]

تھیروڈا[ترمیم]

اس مذہب کے مطابق زندگی کا مقصد نروان حاصل کرنا ہے۔ اس لئے انسان کی بہترین شکل "ارہٹ" کی شکل ہوتی ہے۔ چونکہ نروان زندگی اور موت سے بعید ایک اور ہہی حالت ہوتی ہے۔ ہر انسان کی کھوج نروان کے لئے ہونی چاہیے۔ سری لنکا، تھائی لینڈ، لاؤس، برما اور کمبوڈیا میں اس مذہب کے پیروکار پائے جاتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Feiser & Powers, P.72
  2. ^ Feiser & Powers, P.72
  3. ^ Feiser & Powers, P.72
  4. ^ Feiser & Powers


مزید[ترمیم]

Feiser, James & John Powers. Scriptures of the East. New York: McGraw Hill, 2004

مذاہب و عقائد
Religions.jpg
اسلام | عیسائیت | بدھ مت | بہائی | تائو مت | جین مت | زرتشت | شنتومت | سکھمت | کنفیوشس مت| ہندومت| یہودیت| آغاخانیت| کالاش مت| نور بخشی مت