اہل حدیث

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Padlock.svg اس صفحہ کو ترامیم کیلیے نیم محفوظ کر دیا گیا ہے اور صارف کو اندراج کر کے داخل نوشتہ ہونا لازم ہے؛ (اندراج کریں یا کھاتہ بنائیں)

اہل حدیث سے مراد مسلمانوں کے اس تفرقے کی ہے کہ جس کی پیدائش دوسری صدی ہجری کے اواخر اور تیسری صدی ہجری (یعنی اواخر آٹھویں و نویں صدی عیسوی) سے دیکھنے میں آئی۔ اہل الرائے اور اہل القرآن کے برخلاف اس تفرقے میں احادیثِ نبویDUROOD3.PNG کی اسناد پر زور دیا جاتا ہے یعنی اہل الراۓ کی طرح تقلید پر قائم نہیں ہوتے مگر اہل القرآن کی طرح حدیث کو نظر انداز بھی نہیں کرتے[1]۔ اہل حدیث کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن کے بعد حدیث کو اپنی زندگی کا مشعل راہ بنایا جائے اگرکسی معاملہ میں قرآن و حدیث سے مسئلہ کی وضاحت نہ ہو تو مجتہدین، کے اجتہادات کو دیکھا جائے کہ جس کا اجتہاد، قرآن اور حدیث کے زیادہ نزدیک ہے اسے لےلیا جائے جو نا موافق ہو اسے رد کردیا جائے۔ اہل حدیث کے نزدیک خبر احاد عقائد ، احکام اور مسائل میں حجت ہے جبکہ حدیث کی متابعت (یعنی اطاعت) قرآن کی آیات کے اتباع کے برابر ہے ۔ اس سلسلے میں قرآن کریم کی سورت النجم کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے : وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى ، إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى (ترجمہ: اور نہیں بولتا ہے وہ اپنی خواہشِ نفس سے، نہیں ہے یہ کلام مگر ایک وحی جو نازل کی جارہی ہے۔ قرآن سورہ النجم آیت 3 تا 4)[2]۔ آج کل ہندوستان اور پاکستان میں اہل حدیث سے مراد اس گروہ کی جاتی ہے کہ جو حنبلی سے قریب ہیں لیکن کسی ایک امام کی پیروی کا دعویٰ نہیں کرتے۔

اہل حدیث سے مراد

اہل حدیث ، بنیادی طور پر ایک عمومی مفہوم رکھنے والی اصطلاح ہے کیونکہ کوئی گروہ بھی مسلمانوں کا سواۓ اہل القران کے ایسا نہیں جو کہ حدیث کا منکر ہو اور اس لحاظ سے تمام مسلمان ہی اہل حدیث کہے جاسکتے ہیں[3] لیکن اس کے باوجود متعدد سیاسی و جغرافیائی عوامل کی وجہ سے آج یہ اصطلاح ان لوگوں کے ليے ہی مخصوص کی جاچکی ہے کہ جو غیر مقلد ہیں۔

ہم اہل حدیث سے صرف حدیث لکھنے اور سننے اور روایت کرنے والا ہی مراد نہیں لیتے ، بلکہ ہر وہ شخص جس نے حدیث کی حفاظت کی ،اس پرعمل کیا اوراس کی ظاہری وباطنی معرفت حاصل کی ، اور اسی طرح اس کی ظاہری اورباطنی طور پر اتباع وپیروی کی تو وہ اہل حديث کہلا نے کا زيادہ حقدار ہے ۔اوراسی طرح قرآن پرعمل کرنے والا بھی وہی ہے ۔اوران کی سب سے کم خصلت یہ ہے کہ وہ قرآن مجید اورحدیث نبویہ سے محبت کرتے اوراس کی اور اس کے معانی کی تلاش میں رہتے ہیں، اوراس کے موجبات پرعمل کرتے ہیں۔[4]

چند وضاحتیں

  1. جیسا کہ مضمون کی ابتداء میں ذکر آیا کہ اہل حدیث ہر مسلمان ہوتا ہے اور اسی طرح اہل سنت بھی ہر مسلمان ہے لیکن اس کے باوجود اس قسم کے نام اسلام میں مختلف تفرقوں کے مابین تفریق واضح کرنے کے لیئے الگ الگ گروہوں کے ليے ہی مستعمل دیکھے جاتے ہیں اور یہ استعمال عام اخبار سے لیکر علمی نوعیت کی کتب تک عیاں ہے۔
  2. اہل حدیث کو وہابی بھی کہہ دیا جاتا ہے کیونکہ یہ تحریک محمد بن عبدالوہاب کی تحریک سے ملتی جلتی ہے حالانکہ محمد بن عبدالوہاب کی تحریک سترھویں صدی میں واقع ہونے والی تحریک ہے۔[5]
  3. یہ خیال غلط ہے کہ غیرمقلدین کے نزدیک ہر بلااسباب مشکل کشائی کرنے والا خدا ہے[6] ایسا کوئی بیان اہل حدیث کی اپنی کتب سے نہیں ملتا۔
  4. انہیں اثری (یعنی روایت والے) ، سلفی (یعنی سلف صالحین کے نقش قدم پر چلنے والے) ، محمدی اور اہلسنت ( یعنی سنت والے) بھی کہا جاتا ہے[7] یہ تمام نام عمومی طور پر ہر مسلمان کے ليے استعمال کیئے جاسکتے ہیں۔
    1. اہل سنت کے بارے میں مزید وضاحت اگلے قطعے میں آجاۓ گی۔
    2. سلفی کا لفظ آج کل سیاسی و تفرقات کے سلسلے میں اپنے اصل مفہوم سے خاصہ مختلف مفہوم بنا کر استعمال کیا جاتا ہے۔ سلفی کا لفظ اصل میں سلف سے بنا ہے اور ہر وہ مسلمان جو کہ اسلاف کی تعلیمات پر چلتا ہو وہ سلفی ہے؛ مختلف عقائد کے فرقے بننے سے قبل تمام اہل اسلام سلفیت ہی پر قائم تھے۔

اصلی اہل سنت کا دعویٰ

اہل الحدیث اپنے آپ کو اصلی أهل السنة والجماعة کہتے ہیں، اور اہلسنت سے اہل الحدیث ہی مراد لیتے ہیں جیسا کہ ناصر بن عبدالکریم العقل نے لکھا

  • اہلسنت والجماعت وہ ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جیسا طرز زندگی اختیار کرتے ہیں۔ انہیں اہل سنت، نبیDUROOD3.PNG کی پیروی کی وجہ سے کہا جاتا ہے اور الجماعت ، ان کے حق پر متفق ہونے کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ دین میں فرقہ بندی نہیں کرتے اور آئمۂ حق سے اختلاف نہیں کرتے، جن مسائل پر سلف کا اجماع ہے اسے تسلیم کرتے ہیں۔ انہیں اہل حدیث، اہل اثر، اہل اتباع، طائفہ منصورہ اور فرقہ ناجیہ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ نبیDUROOD3.PNG اور سلف صالحین کے پیروکار ہوتے ہیں۔[8]

یہاں ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اصلی أهل السنة والجماعة کا لقب ؛ اہل حدیث ہی نہیں بلکہ دیگر غیرمقلدین جیسے سلفی[9]، مقلدین جیسے بریلوی[10] ، اہل تشیع[11] اور صوفیا[12] سمیت ہر فرقہ خود اپنے ليے استعمال کرتا ہے۔

حدیث اور سنت میں فرق

اصل مضمون: اہل حدیث

حدیث اور سنت

اہل حدیث کے مطالعے کے دوران اس عام غلط فہمی کو دور کرنا لازم ہے کہ جس کے تحت حدیث کو سنت کو ایک ہی چیز سمجھا جاتا ہے۔ فی الحقیقت ؛ حدیث اور سنت دونوں ایک دوسرے سے ناصرف لسانی اعتبار سے بلکہ شریعت میں اپنے استعمال کے لحاظ سے بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں[13]۔ کہا جاتا ہے کہ اسلام ؛ قرآن اور سنت پر عمل کرنے کا نام ہے۔ سنت کی تشکیل میں احادیث اہم کردار ادا کرتی ہیں لیکن سنت صرف احادیث سے نہیں بنی ہوتی ہے؛ سنت میں رسولDUROOD3.PNG کی زندگی کا وہ حصہ بھی شامل ہے جو الفاظ کی شکل میں نہیں مثال کے طور پر تقریر اور یا کسی عبادت کا طریقہ ، تقریر کو محدثین حدیث میں بھی شمار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سنت میں قرآن اور حدیث میں بیان کردہ ہدایات پر عمل کرنے کا نمونہ پایا جاتا ہے؛ یہ طریقہ یا عملی نمونہ محمدDUROOD3.PNG کے زمانے میں موجود اس عہد کی نسل سے اجتماعی طور پر اگلی اور پھر اگلی نسل میں منتقل ہوتا رہتا ہے اور اس کی اس اجتماعی منتقلی کی وجہ سے اس میں نقص یا ضعف آجانے کا امکان حدیث کی نسبت کم ہوتا ہے کیونکہ حدیث ایک راوی سے دوسرے راوی تک انفرادی طور پر منتقل ہوتی ہے اور اس منتقلی کے دوران اس راوی کی حیثیت ، اعتبار اور اس کی یاداشت کا دخل ہوتا ہے۔

جدول اول۔ حدیث اور سنت کے فرق کی وضاحت
  1. حدیث کا لفظ ، حدث سے بنا ہے۔
  2. حدث کے معنی ؛ نیا واقعہ ، خبر اور بات / قول
  3. حدیث ، صرف الفاظ ہیں، جیسے قرآن۔
  4. حدیث ، منہ سے ادا ہو کر منتقل ہوتی ہے
  5. حدیث ، سنت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے
  6. حدیث ، پیغمبرDUROOD3.PNG یا صحابہRAZI.PNG کے اقوال اور تقریر
  7. حدیث ؛ کو قرآن کی طرح عملی طور پر سمجھنے کے ليے سنت کی ضرورت ہے
  8. حدیث ؛ ایک فرد سے دوسرے فرد تک پہنچتی ہے اور انفرادی ہونے کی وجہ سے منتقلی کے دوران نقص آجانے کا احتمال زیادہ ہے
  1. سنت کا لفظ سنن سے بنا ہے
  2. سنت کے معنی ؛ راہ ، طریقہ ، اور رواج
  3. سنت ، الفاظ کا عملی نمونہ
  4. سنت ، معمولات زندگی کی صورت منتقل ہوتی ہے
  5. سنت ، قرآن سے مربوط ہوکر شریعت بناتی ہے
  6. سنت ، قرآن اور پیغمبرDUROOD3.PNG کے اقوال پر عمل پیرا ہونے کا طریقہ
  7. سنت ؛ نبیDUROOD3.PNG اور انکے بعد صحابہRAZI.PNG کے احکام ، امتناع ، اقوال ، عمل و فعل
  8. سنت ؛ ایک عہد کی نسل سے دوسری نسل تک پہنچتی ہے اور اجتماعی ہونے کی وجہ سے منتقلی کے دوران نقص کا احتمال کم ہے

سنت کا نمونہ پیغمرDUROOD3.PNG نے پیش کیا اور پھر اس کے بعد اصحاب اکرام اور تابعین سے ہوتا ہوا موجودہ زمانے تک پہنچا ہے اسی ليے اس میں امت کے اجتماعی درست طریقۂ کار یا راہ کا مفہوم بھی شامل ہوتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ عموماً اس کے ساتھ الجماعت کا لفظ لگا کر سنت و الجماع بھی کہا جاتا ہے[14]۔

حدیث اور سنت کا فرق مفہوم کے لحاظ سے اسلامی شریعت میں پایا جاتا ہے لیکن اس فرق سے کسی ایک کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ دونوں ہی اپنی جگہ مسلم ہیں اور حدیث کے بغیر سنت اور شریعت کا علم ، دونوں سے کوئی ایک تشکیل نہیں پاسکتا۔ مفتی عبدالجلیل کے مطابق ؛ حدیث کو رد کرنے کا رحجان مغرب کی استعماریت سے مقابل آنے کے ليے اس سے متصادم اسلامی نظریات کو رد کرنے والے جدت پسندوں کی جانب سے بیسویں صدی کے اوائل میں بھی سامنے آیا[15]، ان ہی میں سے ایک شخص عبداللہ چکرالوی نے احادیث کو یکسر رد کر کہ اہل القرآن کی بنیاد ڈالی[1]۔ دوسری جانب اہل حدیث بھی انتہا پر پہنچے ہوۓ ہیں؛ ان کے نزدیک حدیث کی متابعت ، قرآن شریف کی آیات کے اتباع کے برابر ہے کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالی نے خود رسولDUROOD3.PNG (کی دین سے متعلق) ہر بات کو اللہ کی اجازت سے ہونے کی ضمانت دی ہے اور اس سلسلے میں سورت النجم کی ابتدائی 15 آیات بکثرت حوالے کے طور پیش کی جاتی ہیں[2] ، اس سورت کے حوالے میں ایک قابل غور بات یہ ہے کہ سورت میں اللہ تعالیٰ کا اشارہ ، محمدDUROOD3.PNG کے اس قول کی جانب ہے جو قرآن کی صورت نازل ہو رہا تھا۔ سنت اور حدیث کا لفظ امامیان اور وفقہا مختلف مفہوم رکھتا ہے؛ حدیث ، سنت کا حصہ ہوتی ہے لیکن سنت صرف حدیث نہیں ہوتی۔ امام شافعیRAHMAT.PNG نے کہا

میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو تمام سنت اور احادیث کو جانتا ہو۔ اگر احادیث کا علم رکھنے والے علما کے علم کو یکجا کیا جاۓ تو صرف اسی حالت میں تمام سنت آشکار ہوسکتی ہے۔ چونکہ ماہرین حدیث دنیا کے ہر گوشے میں پھیلے ہیں اس وجہ سے بہت سی احادیث ایسی ہوں گی جن تک ایک عالم حدیث کی رسائی نہ ہوگی لیکن اگر ایک عالم ان سے نا آشنا ہے تو دوسروں کو ان کا علم ہوگا[16]

تاریخی جائزہ

اس اصطلاح یا باالفاظ دیگر اس گروہ کی شکل آٹھویں صدی عیسوی کے اواخر سے ظہور پانے لگی تھی؛ 744ء میں خلیفہ یزید ابن الولید کی موت پر متعدد علماء کے خیال میں امت کے زوال کا آغاز ہورہا تھا اور ان کے نزدیک اس کی وجہ مختلف سطحوں پر قرآن کی مختلف توجیہات (مختلف رائے) پیش کرنے میں تھی۔ اس مقام سے وہ علماء جو کہ گو احادیث کو مقدم رکھتے تھے اور اصحاب حدیث تھے مگر کسی گروہ کی شکل میں نا تھے ، ان علماء سے جدا ہونے لگے جو قیاس یا رائے کا استعمال کرنے کے حق میں تھے، انہیں اہل الرائے یا اصحاب رائے بھی کہا جاتا ہے[17]۔

صحابۂ اکرام کا دور

مذکورہ بالا تاریخی مقام محض ایک قسم کا نشان ہے جہاں سے اہل حدیث واضح ہو کر نظر آنا شروع ہوۓ لیکن چوتھے خلیفہ حضرت علیRAZI.PNG اور امیر معاویہ کے مابین جنگ صفین پر معاہدے کے بعد مسلمان جو اب تک دو بڑے گروہوں میں بٹے ہوۓ تھے (ایک حضرت علیRAZI.PNG کی جانب اور ایک امیر معاویہ کی جانب) اب تین گروہوں میں دکھائی دینے لگے؛ اول شیعہ دوم خارجی اور سوم باقی تمام (جنہیں سمجھنے میں آسانی کی خاطر سنی بھی کہا جاسکتا ہے)[18]۔ یہی تیسرا گروہ ہے کہ جس کی دو بڑے گروہوں میں تقسیم کا ذکر اس قطعے کی ابتداء میں ہوا۔ یہ لوگ حضرت محمدDUROOD3.PNG کی سنت پر زور دیتے تھے اور حدیث کی عمل داری کے حق میں ہونے کے ساتھ ساتھ اولین صحابہ اکرام اور ابتدائی مسلم امہ (اسلاف) کی راست داری پر یقین رکھتے تھے[19]۔ صحابۂ اکرام کا دور ھجری سالنامے کے لحاظ سے 100 سال (لگ بھگ 720ء) تک بتایا جاتا ہے جب آخری صحابی عامر بن واثلۃ بن عبداللہ (ابوطفیل)RAZI.PNG کا انتقال ہوا[20]۔

تابعین کا دور

اس کے بعد فتاویٰ کے اجراء کا تابعین کا دور آتا ہے، اور ان میں امت کے وہ لوگ شامل تھے کہ جو صحابۂ اکرام جیسے فقہا کے ساتھ رہ چکے تھے؛ ان میں زین العابدینRAZI.PNG ، ابو عبد اللہ نافعRAZI.PNG (مولی، عبد اللہ بن عمر ابن الخطابRAZI.PNG) ، عکرمہRAZI.PNG (مولی ابن عباسRAZI.PNG) ، یحیی بن ابی کثیرRAZI.PNG ، سعد بن المسیبRAZI.PNG ، عطا بن ابی رباحRAZI.PNG (وفات: 734ءمحمد ابن سیرینRAZI.PNG (وفات: 729ء) اور ابن شہاب الزھریRAZI.PNG (وفات: 742ء) جیسے علماء کے نام آتے ہیں۔ یہ تابعین فتاویٰ کے اجراء کے سلسلے میں سیرتDUROOD3.PNG اور صحابہRAZI.PNG کی روش سے نہیں ہٹتے تھے اور گو کہ ان کے فتاویٰ میں فرق نہیں پایا جاتا مگر قیاس کے استعمال کی جھلک اس دور سے واضح ہونے لگتی ہے[21]۔ اصحاب حدیث کا تذکرہ کرتے ہوۓ ، أهل السنة کا لفظ پہلی بار محمد ابن سیرین نے استعمال کیا، ان کے الفاظ یوں بیان ہوئے ہیں

وہ (یعنی روایت / احادیث اپنانے والے) عموماً اسناد کی تحقیق پر نہیں جاتے تھے، لیکن جب فتنہ (683ء تا 685ء) واقع ہوا تو انہوں نے کہا: ہمیں اپنے آگاہ کرنے والوں کا نام بتاؤ۔ پس، اگر وہ اھل السنۃ سے ہوتے تو انکی روایت تسلیم کرلی جاتی اور اگر وہ اھل البدع سے ہوتے تو قبول نا کی جاتی۔ اصل عبارت کے لیئے حوالہ عدد دیکھیے [22]

تبع تابعین کا دور

تبع تابعین کا دور کوئی نویں صدی عیسوی کے اوائل تک آتا ہے اور اس دور میں آنے والے ناموں میں سے چند اہم نام ؛ امام ابو حنیفہ (699ء تا 765ء) جو ایک اور مشہور تبع التابعی امام مالک (711ء تا 795ء) کے معلم بھی تھے، ھشام بن عروہ، عبدالرحمن بن عمرو الاوزاعی (وفات: 774ء) اور سفيان بن عيينہ (وفات: 813ء) کے نام آتے ہیں۔ امام مالکRAHMAT.PNG کی بیان کردہ احادیث ، مسند سمجھی جاتی ہیں کیونکہ ان کے راویین مستند ہوا کرتے تھے اور ان کے یہاں مدینے کے سات اہم فقہا سے استفادہ کیا جاتا ہے[23]۔ امام ابو حنیفہRAHMAT.PNG اپنے فتاویٰ میں ابراھیم النخعیRAHMAT.PNG سے زیادہ استفادہ کرتے تھے۔

تبع تابعین کے بعد

تابعین اور تبع تابعین کے بعد آنے والے فقہا اور مجتہدین میں امام مالک کے شاگرد اور امام ابو حنیفہ سے متاثر امام شافعی (767ء تا 820ء) ، امام ابوحنیفہ کے شاگرد اور امام احمد بن حنبل کے معلم ابو یوسف (وفات: 798ء) اور عبدالرحمن ابن مہدی کے نام آتے ہیں۔ ان کے دور میں فتاویٰ کے سلسلے میں شاہ ولی اللہ کا قول آتا ہے کہ؛ اس عہد کے فقہا حضرت محمدDUROOD3.PNG کی احادیث، اسلافی منصفین کے فیصلوں اور صحابہ، تابعین اور تیسری نسل کے فقہی علم ، اور پھر اجتہاد کی جانب دیکھتے تھے۔[24] اصحاب الحدیث اور اصحاب الرائے کے ابتدائی ایام میں الگ الگ مکتبۂ فکر کی حیثیت سے موجودگی نظر نہیں آتی اور اس بات کا اندازہ مذکورہ بالا عبارت میں ابن سیرین کے قول سے بھی لگایا جاسکتا ہے اور اسی وجہ سے یہ کہا جاتا ہے کہ ان دونوں اصحاب کی جڑیں ابتدائی دو نسلوں (صحابہ اور تابعین) سے منسلک ہیں۔
اسباب پیدائش کے قطعے میں درج عوامل کی وجہ سے ان دونوں اصحاب (الحدیث اور الرائے) میں وقت کے ساتھ ساتھ آپس میں تفریق نمایاں ہوتی گئی۔ اہل الحدیث کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اصحاب اپنے مکتبۂ فکر میں حضرت عبداللہ بن عمر ابن الخطابRAZI.PNG ، عبداللہ ابن عمرو ابن العاصRAZI.PNG ، عبداللہ ابن الزبیرRAZI.PNG اور حضرت عبداللہ بن عباسRAZI.PNG سے قریب آتے ہیں، مذکورہ بالا صحابہ اور تابعین ، نصوص کے مطابق رہنے کی کوشش اور کسی بھی قسم کی نصوص کی خلاف ورزی نا ہونے کا بہت خیال رکھا کرتے تھے۔
اہل الرائے کو حضرت عمرRAZI.PNG اور عبداللہ بن مسعودRAZI.PNG (وفات:653ء) سے نکلنے والے بھی کہا جاتا ہے جو اپنا قیاس استعمال کرنے والے سمجھے جاتے ہیں[23][25]، ان سے متاثر ہونے والے علقمہ النخعیRAHMAT.PNG (وفات:689ء) ہی ابراھیم النخعیRAHMAT.PNG کے معلم تھے جو پھر حماد بن ابو سلیمانRAHMAT.PNG کے معلم ہوۓ؛ جن کے شاگرد ، امام ابو حنیفہ تھے[24]۔
اصحاب الحدیث کا ابتدائی مرکز حجاز بنا اور اصحاب الرائے کا ابتدائی مستقر کوفہ (عراق) رہا۔ ایسا ہونے کے متعدد اسباب بیان کیۓ جاتے ہیں جن کا ذکر اسباب کے قطعے میں آیا ہے۔

خلاصۂ تاریخ

تاریخ کے مذکورہ بالا بیان میں محمد ابن سیرینRAHMAT.PNG کے اقتباس میں فتنۂ دوم کے تذکرے[22] اور 744ء میں یزید ابن الولید کی موت کا حوالہ[17] اس بات کی جانب نشاندہی کرتے ہیں کہ اصحاب حدیث کہلاۓ جاسکنے والے افراد عالم اسلام کے ابتدائی زمانے (100 ھجری) یا اس سے بھی کچھ قبل موجود تھے؛ اس کے علاوہ امام محمد بن حسن شیبانیRAHMAT.PNG کا ایک حوالہ بھی دیا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے امام ابن شہاب زہریRAHMAT.PNG کا تذکرہ کرتے ہوۓ کہا کہ؛ مدینہ منورہ میں جو بھی اہلحدیث ہوئے، ان میں سب سے بڑے عالم زہری رحمہ اللہ تھے۔ یعنی امام محمدRAHMAT.PNG کے زمانے میں اہلحدیث موجود تھے اور ان کی وفات کا زمانہ 804ء (189ھ) آتا ہے[26]۔ ان تاریخی حوالہ جات سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانے میں اہل حدیث اور اہل الرائے کی کوئی تفریق نہیں واضح طور پر پیدا نہیں ہوئی تھی اور محمد ابن سیرینRAHMAT.PNG کے حوالے سے ہی اہل سنت اور اہل البدع کے گروہوں کی موجودگی بھی اس ہی عہد میں ظاہر ہوتی ہے۔ غیرمسلم تاریخ دان بھی اس اہل حدیث اور اہل الرائے کی تفریق کے واضح ہونے کا زمانہ دوسری صدی ھجری (آٹھویں عیسوی) کا ہی بیان کرتے ہیں[27]۔ تابعین کا دور نامی قطعے میں درج ابن سیرین کے بیان سے دو باتیں اور سامنے آتی ہیں ؛ ایک تو یہ کہ اس زمانے میں بناوٹی یا اختراعی احادیث (جن کا ذکر سیاسی اسباب کے قطعے میں بھی آیا) پائی جاتی تھیں ورنہ اصحاب حدیث کو ان کی تحقیق کی ضرورت پیش نا آتی ، اور دوسری بات یہ سامنے آئی اصحاب حدیث ہر مستند یا غیر مستند حدیث کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔

اسبابِ پیدائش

کوئی بھی مظہر اپنے اسباب کے بغیر وجود میں نہیں آتا۔ اہل الحدیث گروہ کے وجود میں آنے کے بھی محققین نے متعدد اسباب بیان کیئے ہیں اور ان اسباب کو سمجھنے میں آسانی پیدا کرنے کی خاطر؛ نفسیاتی، جغرافیائی، سیاسی اور معاشرتی اسباب میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اصول الفقہ (jurispurdence) کا آغاز خود صحابۂ اکرام کے زمانے سے ہی ہو چکا تھا کیونکہ قرآن اور سنت کی روشنی میں قرآن اور حدیث میں نا ملنے والے مسائل اس وقت بھی تھے۔ صحابہ اکرام کے دور میں اجتہاد کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی لیکن ان کے بعد کے دور میں اور اسلام (اب تک غیرمسلم سرزمینوں پر) پھیلنے کے ساتھ ساتھ متعدد تبدیلیاں دیکھنے میں آنے لگیں؛ اب عربی زبان پر کامل عبور رکھنے والوں کے ساتھ عربی زبان سیکھنے والے بھی شامل تھے، اسی طرح اب اسلامی حکومت میں ایسے علاقے بھی تھے کہ جہاں ابھی تک لوگوں کے درمیان قبل از اسلام کے ناصرف اطوار بلکہ قوانین تک موجود تھے۔ صحابہ اکرام کے دور کے جیسا اب کوئی قرآن و سنت کا مرکز نہیں رہا تھا ، اب اسلامی علماء میں بھی مختلف افکار لوگ تھے اور ایسے میں ضرورت محسوس ہوئی اجتہاد کو مربوط و منظم کرنے کی جس کی جانب کسی تنازع کی صورت میں رجوع کیا جاسکے؛ تاریخی مطالعہ اس قسم کی صورتحال کا زمانہ کوئی 750ء کے لگ بھگ دکھاتا ہے۔

جغرافیائی اسباب

آج کے جدید دور میں متعدد تیز رفتار ذرائع (بعید تکلم، برقی خط، قطار، ہوائی جہاز وغیرہ) سے ناپید آٹھویں صدی میں نقل و حمل کے ليے گھوڑوں اور اونٹوں پر انحصار سے اس زمانے میں انسانی روابط کی نوعیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے الگ علاقے ، افکاری لحاظ سے بھی الگ نہیں تو اسقدر قریب نہیں ہوسکتے تھے کہ جیسے آج ہیں۔ حجاز میں رہنے والے ایک عالم کی نسبت کوفہ میں مقیم کسی عالم یا قاضی یا منصف کے ليے کسی بات کا فیصلہ کرتے وقت مختلف اقسام کی احادیث پر انحصار مشکل ہوسکتا تھا۔ ابو الفتح الشھرستانی (1086ء تا 1153ء) کے الفاظ میں[28]

والنّصوص إذا كانت متناهية والوقائع غير متناهية، وما لا يتناهى لا يضبطه ما يتناهى
ترجمہ: تحریری متن محدود ہیں، لیکن روزمرہ زندگی کے حوادث لامحدود،
اور یہ ممکن نہیں کہ کوئی متناہی چیز کسی لامتناہی چیز کا احاطہ کرسکے

عراق میں مقیم امام ابو حنیفہ (699ء تا 765ء) کے ليے کسی سنی سنائی حدیث پر فیصلہ کرنا ، حجاز میں مقیم کسی عالم کی نسبت ایک بالکل مختلف نوعیت کا معاملہ ہوسکتا ہے کہ جہاں براہ راست احادیث کی اسناد کو یقینی بنایا جانا ممکن تھا۔ مستند احادیث تک رسائی رکھنے والے کے ليے کسی اور کی راۓ پر انحصار کرنا ممکن نہیں تھا؛ یہ لوگ اپنی توجہ احادیث پر مرکوز کر رہے تھے اور ان کے ليے کمزور حدیث بھی کسی زہن کی مضبوط رائے سے احسن تھی، ان میں امام احمد بن حنبل (780ء تا 855ء) کا نام بھی نمایاں آتا ہے[29]۔

نفسیاتی اسباب

آٹھویں، نویں صدی کے حجازی ہوں یا بغدادی ؛ ان علماء اکرام کے خلوص نیت پر شبہ کوئی بھی تاریخ کا مطالعہ کرنے والا کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔ اسلام کے مرکز سے قریب بسنے والوں کو انسانی نفسیات کے مطابق احادیث کو چھوڑ کر کسی عالم کی رائے پر فیصلہ سناتے وقت کسی غلطی کا خوف تھا تو کسی دور بسنے والے زہن میں نفسیاتی طور پر یہ تشویش ہوتی تھی کہ تمام تر احتیاط کے باوجود راویِ حدیث کے دل کا حال اور اسکی سچائی صرف اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جان سکتا تھا۔ اگر راوِیِین الحادیث کی لڑی میں سے کوئی راوی کسی جگہ مستند نا ہوا تو علم الحدیث کی تمام تر وسعت اور احادیث کا انتخاب کرنے کے تمام تر سائنسی طریقۂ کار کے باوجود شبہ کی گنجائش پیدا ہو سکتی تھی۔ غیرمسلم محققین کے یہاں ایک معاشرتی وجہ اسلامی سلطنت میں نۓ داخل ہونے والے بعض مقامات پر وہیں کے پرانے قوانین کا موجود ہونا بھی بیان کی جاتی ہے[30]۔

سیاسی اسباب

تحریک اہل حدیث کا ابتدائی مستقر حجاز رہا جہاں سے بعد میں یہ مختلف علاقوں میں پھیلی۔ اس کی ایک وجہ سیاسی بھی بیان کی جاتی ہے کہ چونکہ مسند خلافت اور اس کے ساتھ سیاسی ہلچل خاصی حد تک پہلے دمشق اور پھر بغداد کو منتقل ہوچکی تھی جس کی وجہ سے یہ خطہ مذہبی موضوعات پر نسبتاً پرسکون ہوگیا تھا۔ جبکہ دوسری جانب اسی منتقلی مسند خلافت و سیاسی مرکز نے اہل الرائے کی نشونما میں بھی کردار ادا کیا؛ کہ خارجی اور دیگر گروہوں کی جانب سے بناوٹی احادیث کا اپنے مفاد میں استعمال بڑھ گیا تھا جس کے باعث عراق کے علماء کو احادیث کو قبول کرنے کے ليے متعدد شرائط عائد کرنا پڑیں اور بعض اقسام کی احادیث کی نسبت قیاس اور رائے کو ترجیح دینے کی ضرورت پیش آنے لگی۔ ان بناوٹی اختراعی احادیث کی موجودگی کا ثبوت، تاریخی جائزہ کے قطعے میں تابعین کا دور میں دیۓ گئے محمد ابن سیرین کے اقتباس سے بھی ملتا ہے کہ اگر اس زمانے میں بناوٹی احادیث نہیں تھیں تو پھر اہل احادیث کو راویِ حدیث کے اہل سنت یا اہل بدع میں سے ہونے کی تفتیش کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی[22]۔

تالیفِ احادیث

اصل مضمون: اہل حدیث

علم الحدیث

احادیث کو جمع و مرتب کرنے والے علماء نے جو محتاط طریقۂ کار اس مقصد کے دوران اختیار کیا اسے علم الحدیث کا نام دیا جاتا ہے۔ اس طریقۂ کار میں حدیث کی اسناد ، اس کے راویین کا تسلسل اور متن کی نوعیت پر تحقیق شامل ہے؛ مختصر یوں کہا جاسکتا ہے کہ اس میں راوی اور روایت کی کیفیت معلوم کرنے کے اصول اختیار کیۓ جاتے ہیں[31]۔

جدول دوم۔ اس قطعے میں آنے والی اہم اصطلاحات کی وضاحت
  1. تقریر
  2. خبر
  3. آثار
  4. متواتر
  5. آحاد
  6. صحیح
  7. حسن
  8. ضعیف
  9. مرسل
  10. متروک
  1. نبیDUROOD3.PNG کی جانب سے کسی بات کی اجازت
  2. (الف) حدیث (ب) نبیDUROOD3.PNG کے علاوہ کسی اور سے منقول (ج) الف اور ب دونوں پر
  3. صحابۂ اکرام اور تابعین کی جانب منقول ہو
  4. وہ حدیث جس کے راویین کی تعداد بکثرت ہو
  5. وہ حدیث جس کے راویین کی تعداد متواتر سے کم ہو
  6. جس کے تمام راویین دیانت اور مضبوط حافظہ رکھتے ہوں
  7. جس کے راویین ، صحیح حدیث سے کم حافظہ رکھتے ہوں
  8. وہ حدیث جو نا تو صحیح ہو نا حسن ہو
  9. وہ ضعیف حدیث جو ایک تابعی کسی صحابی کے واسطے بغیر کہے
  10. وہ ضعیف حدیث جس کے راوی پر چھوٹ کی تہمت ہو

اہل الحدیث کے عقائد

فرقۂ ناجیہ کا بیان

اہل حدیثوں کے مطابق انکا فرقہ ہی، ناجی فرقہ اور طائفہ منصورہ ہے، دلیل کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :- (ہروقت میری امت کا ایک گروہ حق پر رہے گا جو بھی انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرے گا وہ انہيں نقصان نہیں دے سکے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالی کا امر آجائے (یعنی قیامت قائم ہو جائے) تووہ گروہ اسی حالت میں ہوگا) [32]۔۔ اورانکا کہنا ہےکہ بہت سارے آئمہ کرام نے اس حدیث میں مذکور گروہ سے، اہل حدیث ہی مراد لیا ہے،جیسا کہ امام حاکم رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ :-

امام احمد رحمہ اللہ تعالی نے اس حدیث کی بہت اچھی تفسیر اورشرح کی ہے جس میں یہ بیان کیا گيا کہ طائفہ منصورہ جوقیامت تک قائم رہے گا اور اسے کوئ بھی ذلیل نہیں کرسکے گا ، وہ اہل حدیث ہی ہيں ۔ تواس تاویل کا ان لوگوں سے زیادہ کون حق دار ہے جو صالیحین کے طریقے پرچلیں اورسلف کے آثارکی اتباع کریں اور بدعتیوں اور سنت کے مخالفوں کو سنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ دبا کر رکھیں اورانہیں ختم کردیں ۔[33]

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ RAHMAT.PNG کہتے ہیں :- تواس سے یہ ظاہرہوا کہ فرقہ ناجیہ کے حقدارصرف اورصرف اہل حدیث و سنت ہی ہیں ، جن کے متبعین صرف نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں اورکسی اورکے لیے تعصب نہیں کرتے ، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اقوال واحوال کوبھی اہل حدیث ہی سب سے زيادہ جانتے اوراس کا علم رکھتے ہيں ، اوراحادیث صحیحہ اور ضعیفہ کے درمیان بھی سب سے زيادہ وہی تیمیز کرتے ہيں ، ان کے آئمہ میں فقہاء بھی ہیں تو احادیث کے معانی کی معرفت رکھنے والے بھی اوران احادیث کی تصدیق ، اورعمل کے ساتھ اتباع و پیروی کرنے والے بھی ، وہ محبت ان سے کرتے ہیں جو احادیث سے محبت کرتا ہے اورجو احادیث سے دشمنی کرے وہ اس کے دشمن ہيں ۔ وہ کسی قول کو نہ تو منسوب ہی کرتے اورنہ ہی اس وقت تک اسے اصول دین بناتے ہیں جب تک کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ثابت نہ ہو اور جو کتاب و سنت کے مخالف ہو اسے باطل قرار دیتے ہیں ، اور نہ ہی وہ ظن خواہشات کی پیروی کرتے ہيں ، اس لیے کہ ظن کی اتباع جھالت اور اللہ کی ھدایت کے بغیر خواہشات کی پیروی ظلم ہے۔ [34]

اوصاف بمطابق اہل حدیث

اہل الحدیث اپنی امتیازی خوبیاں مندرجہ ذیل بیان کرتے ہیں:-

  • اس مسلک میں اعتدال کا ایک حسن ہے۔
  • یہاں ضابطۂ حیات، اسوۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے۔
  • یہاں صحابہ کرام سے لامحدود محبت بھی ہے اور اہل بیت سے والہانہ عقیدت بھی۔
  • یہاں آئمہ کرام اور اولیائے دین کی بہت زیادہ عزت و تعظیم ہے۔
  • یہاں صحیح حدیث کو آئمہ کے قول پر ترجیح دینے کا ذوق بھی ہے اور فقہائے کرام کی بہترین کاوشوں کا اعتراف بھی۔
  • یہاں احکام شریعت کی پیروی بھی لازم ہے اور نفس کو پاک کرنے کا شغل بھی۔[35]

منھج اھل حدیث

اس قطعے میں ان بیانات کا خلاصہ دیا جارہا ہے جو کہ اہل حدیثوں کی جانب سے صرف خود کو اہل سنت و الجماعت کی حیثیت سے پیش کرتے وقت کیئے جاتے ہیں (دیکھیئے اسی مضمون کا قطعہ بنام اصلی اہل سنت کا دعویٰ

  • اہل سنت والجماعت کے نزدیک عقیدہ کے مآخذ تین ہیں، کتاب اللہ ، سنت صحیحہ اور سلف صالحین کا اجماع۔
  • قرآن و حدیث کے معنی سمجھنے کے سلسلے میں واضح نصوص، سلف صالحین کے فہم کو ہی مرجع قرا دیا جائےگا۔ اس کے بعد لغت عرب کا درجہ آتا ہے، بہر حال محض لغوی احتمالات کے باعث ان سے ثابت شدہ مفہوم کی مخالفت نہ کی جائے گی۔
  • دین کے تمام بنیادی اصول نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی زندگی میں نہایت واضح طور پر بیان فرما دیئے تھے لہذا اب کسی کے لیئے اس میں نئی چیز نکالنے کی گنجائش نہیں ہے۔
  • اللہ تعالی کی صفات کو بے مثال ماننا: اللہ کی صفات کو مخلوق کی صفات کے طرح نہ سمجھا جائے اور نہ ہی اس مشابہت ( کےاندیشے) کے پیش نظر ان صفات کا انکار ہی کیا جائے۔
  • وحدت الوجود اور اللہ تعالی کا کسی مخلوق میں حلول کرنا یا مخلوق اور خالق کے یکجان ہونے کا عقیدہ رکھنا دین سے خارج کردینے والا کفر ہے۔
  • تمام صحیح العقیدہ مسلمانوں کی طرح اجزاۓ ایمان کی پیروی کرنا۔
  • کرامات اولیاء: اولیاء اللہ کی کرامتیں بر حق ہیں مگر ہر خرق عادت (عام قانون سے ہٹا ہوا کام) کرامت نہیں ہوتا، وہ شعبدہ بھی ہوسکتا ہے، کرامت پابندِ شریعت سے رونما ہوتی ہے اور شعبدہ، فاسق وفاجر سے۔
    • معجزے اور کرامت میں فرق یہ ہے کہ نبی علمِ وحی کی بنا پر معجزے کا دعویدار ہوتاہے، جبکہ ولی کسی کرامت کا دعوی نہیں کرسکتا، کیونکہ اسے نہ وحی آتی ہے، نہ علم غیب ہی ہوسکتا ہے، بلکہ عام لوگوں کی طرح اُسے بھی کرامت کا پتہ اس کے وقوع ہونے کے بعد ہی چلتا ہے۔
  • دین کو شریعت اور طریقت میں اس طرح تقسیم کرنا کہ اول الذکر عوام کے لیئے اور ثانی الذکر خواص کے لیئے ہو، نیز سیاست ومعیشت یا کسی شعبہ زنگی کو دین سے جدا سمجھنا باطل اور حرام ہے۔
  • عالم الغیب اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ اس کے برعکس عقیدہ رکھنا کفر ہے۔ البتہ اللہ اپنے رسولوں کو جس قدر چاہتا ہے امور غیب میں سے مطلع فرماتاہے۔
  • نجومیوں اور کاہتوں کی تصدیق کرنا کفر ہے اور ان سے راہ ورسم رکھنا کبیرہ گناہ ہے۔
  • وسیلے کی تین اقسام ہیں:
  1. جائز: اللہ تعالی کی طرف اس کے اسماء وصفات کو وسیلہ بنانا یا اپنے کسی نیک عمل یا کسی بقید حیات بزرگ کی دعا کو وسیلہ بنانا مباح ہے۔
  2. بدعت: ایسی چیز کو وسیلہ بنانا جو شرعی دلیل سے ثابت نہ ہو بدعت ہے مثلا انبیاء و صالحین کی ذات یا ان کی بزرگی کو وسیلہ بنانا۔
  3. شرک: کسی فوت شدہ بزرگ کی وساطت سے عبادت کرنا یا اس سے دعا کرنا، اسے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا۔
  • برکت: برکت صرف اللہ تعالی کی جانب سے ہوتی ہے، اللہ تعالی اپنی جس مخلوق میں چاہتاہے برکت فرما دیتا ہے، بر کت سے مراد خیر کی کثرت اور زیادتی اور اس کی ہمیشگی ہے،
  • جس چیز کے باعث برکت ہونے کی دلیل نہ ہو، اس سے حصول تبرک ناجائز ہے۔
  • قبروں کی زیارت اور ان کے پاس جو لوگ اعمال کرتے ہیں وہ حسب ذیل تین اقسام کے ہوتے ہیں
  1. جائز: آخرت کی یاد کے لیئے، اہل قبور کو سلام کرنے اور ان کے لیئے دعائے مغفرت کرنے کے لیئے جانا، یہ اعمال قبروں بر کرنا مباح ہیں۔
  2. بدعت:جو امور توحید کی روح کے منافی اور شرک کا سبب ہیں جیسے؛ قبر پر عبادت کو تقرب الہی کا ذریعہ سمجھنا، قبروں سے برکات حاصل کرنا، ثواب بخشانا، پختہ بنا کر مزار کی شکل دینا، رنگ وروغن کرنا، چراغ جلانا، چادریں چڑھانا، عبادت گاہ بنانا اور انکی طرف رخت سفر باندھنا بدعت کے کام ہیں۔
  3. شرک: ایسی زیارت میں عبادات کی مختلف شکلیں شامل ہوتی ہیں، مثلا زائر کا صاحب قبر کو پکارنا، اسے غوث سمجھنا، فریاد کرنا، مدد مانگنا، قبر کے گرد طواف کی طرح چکر لگانا، اس کے نام کا چڑھاوا دینا اور نذر و نیاز ماننا۔
  • قرآن مجید اپنے الفاظ و معنی کے ساتھ اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور غیر مخلوق ہے، اللہ تعالی سے اس کی ابتداء ہے اور اسی کی طرف اس کی انتہاء ہے۔ قرآن کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ یہ ایک معنوی تعبیر ہے یا وہ مجازی اور غیر حقیقی ہے؛ اس قسم کے عقائد رکھنا گمراہی ہے۔
  • امارت کبری: خلیفہ کا انتخاب اجماع امت یا اہل حل وعقد کی بیعت کے ذریعے ہوتا ہے، اگر کوئی شخص اقتدار پر قابض ہوگیا اور امت نے اس کے اقتدار کو تسلیم کرلیا تو بھلائی اور نیکی کے کاموں میں اس کی اطاعت اور خیر خواہی فرض ہوگی اور اس کے خلاف بغاوت حرام ہوگی سوائے اس بات کے، کہ حاکم کفر کا مرتکب ہو۔

بیرونی روابط

حوالہ جات

جہاں تک ممکن ہوسکا ، روۓ خط (online) حوالہ جات کو ترجیح دی گئی ہے۔ موضوع پر تمام مسلم و غیرمسلم ، تفرقاتی و طبقاتی پہلوؤں کو سامنے لانے کی خاطر حوالہ جات پر کوئی دینی و لادینی ، اسلامی و غیراسلامی یا تفرقاتی پابندی نہیں ؛ ماسواۓ کہ (اپنے مقام پر) مصدقہ ہوں۔ روۓ خط مقامات تبدیل بھی ہوسکتے ہیں اس ليے مضامین کے عنوانات انگریزی ہی میں دیۓ جارہے ہیں۔ کسی حوالے پر اعتراض ہو تو تبادلۂ خیال پر بیان کیجیۓ۔

  1. ^ 1.0 1.1 Oxford Islamic studies online روۓ خط مضمون
  2. ^ 2.0 2.1 آسان قرآن نامی ایک موقع روۓ خط
  3. ^ عرب نیوز موقع پر ایک مضمون
  4. ^ مجموع الفتاوی ( 4/ 95 )
  5. ^ روئے خط مضمون
  6. ^ اہل حدیث پوسٹر کا جواب: مصنف مفتی محمد عبدالوہاب خان القادری؛ بوستان رضا ، سعودآباد کراچی روئے خط اردو کتاب
  7. ^ برآءۃ اہلحدیث/ص:21
  8. ^ اصول اہل سنت والجماعت: تحریر ناصربن عبد الکریم العقل
  9. ^ Are The Salafis From Ahl us-Sunnah wal-Jamaa'ah by SalafiPublications روئے خط مضمون
  10. ^ Alahazrat.net ایک اردو کتاب
  11. ^ The Shi'ah are (the real) Ahl al-Sunnah by Dr. Muhammad Tijani al-Samawi روئے خط مضمون
  12. ^ Tasawwuf - the distorted image روئے خط مضمون
  13. ^ Defference between Hadith and Sunnah روئے خط مضمون
  14. ^ The Sunnah; Britannica روئے خط مضمون
  15. ^ A Historical Background of the Refutation of the Hadith and the Authenticity of its Compilation by Mufti Abdul-Jaleel Qaasimi روئے خط مضمون
  16. ^ The Importance of The Ahl al-sunnah by Harun Yahya روئے خط کتاب
  17. ^ 17.0 17.1 Encyclopedia of Islam and the Muslim World: Richard C. Martin; ISBN 0028656032
  18. ^ تاریخ التشریح الاسلامی؛ محمد الخضری: قاہرہ 1934
  19. ^ Religion and Politics under the Early ‘Abbāsids by Qasim Zaman: ISBN-10: 9004106782
  20. ^ آخری صحابی سے متعلق ایک عربی مضمون موقع روئے خط
  21. ^ الاصابۃ جلد چہارم ؛ ابن حجر عسقلانی
  22. ^ 22.0 22.1 22.2 They (traditionists) were not used to inquiring after the isnad, but when the fitna occurred, they said: Name us your informants. Thus, if these were ahl al-sunna, their traditions were accepted, but if they were ahl al-bida, their traditions were not accepted. Muslim Tradition Studies in Chronology, Provenance and Authorship of Early Hadith: G. H. A. Juynboll ISBN-13: 9780521085168
  23. ^ 23.0 23.1 The Seven Fuqaha' of Madina by Muhammad Abu Zahrah روۓ خط مضمون
  24. ^ 24.0 24.1 Usul Al Fiqh Al Islami by Taha Jabir Al Alwani روئے خط کتاب
  25. ^ Opinionism and Umar Ibn Al-Khattab موقع روئے خط
  26. ^ موطا،ص:363/بحوالہ برآءتِ اہل حدیث، افادات بدیع الدین شاہ راشدیRAHMAT.PNG
  27. ^ The medieval Islamic controversy between philosophy and orthodoxy by Iysa A. Bello; Brill ISBN 9004080929
  28. ^ الملل والنحل : الشھرستانی روئے خط مضمون
  29. ^ Neutrosophy in arabic philosophy: Salah osman; renaissance high press
  30. ^ The Zahiris: their doctrine and their history by Dr. Ignaz Doldziher
  31. ^ An Introduction To The Science Of Hadith روئے خط مضمون
  32. ^ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1920 )
  33. ^ [کتاب : معرفۃ علوم الحديث للحاکم نیسابوری ص:2 - 3 ] ۔
  34. ^ مجموع الفتاوی ( 3/347 ) ۔
  35. ^ روئے خط