توحید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
  • لفظ توحیدکا مطلب خدا کو ایک ماننا ھے۔ اس کا اطلاق ذات اور صفات دونوں پر ہوتا ہے۔ صوفیائے کرام کے نزدیک توحید کے معنی یہ ہیں کہ صرف خدا کا وجود ہی وجود اصلی ہے۔ وہی اصل حقیقت ہے۔ باقی سب مجاز ہے۔ دنیاوی چیزیں انسان، حیوان، مناظر قدرت، سب اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ خدا کی ذات واحد ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔

شہادت توحید[ترمیم]

شہادت توحید سے مراد ہے کہ بندہ دل و زبان سے یہ اقرار کرے کہ اس کائنات کا خالق و مالک صرف اللہ تعالٰیٰ ہے، وہ سب پر فائق ہے، وہ کسی کی اولاد ہے نہ اس کی کوئی اولاد ہے۔ صرف وہی عبادت کے لائق ہے۔ کسی اور کے لئے اس سے بڑھ کر عظمت و رفعت اور شان کبریائی کا تصور بھی محال ہے۔ وہی قادر مطلق ہے اور کسی کو اس پر کوئی طاقت نہیں۔ اس کا ارادہ اتنا قوی اور غالب ہے کہ اسے کائنات میں سب مل کر بھی مغلوب نہیں کر سکتے۔ اس کی قوتیں اور تصرفات حد شمار سے باہر ہیں۔ قرآن حکیم میں ہے:

إِنَّمَا اللّهُ إِلَـهٌ وَاحِدٌ سُبْحَانَهُ أَن يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَات وَمَا فِي الأَرْضِ وَكَفَى بِاللّهِ وَكِيلاًO (النساء، 4 : 171)

ترجمہ: بے شک اللہ ہی یکتا معبود ہے، وہ اس سے پاک ہے کہ اس کیلئے کوئی اولاد ہو، (سب کچھ) اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اللہ کا کار ساز ہونا کافی ہے۔