توحید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Basmala.svg

Allah-green.svg
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین
اسلام

تاریخ اسلام

عقائد و اعمال

خدا کی وحدانیت
قبولیت اسلام
نماز · روزہ · حج · زکوٰۃ

اہم شخصیات

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
ابوبکر صدیق · عمر فاروق · عثمان غنی · علی حیدر
احباب حضور اکرم
حضور اکرم کا خاندان
حضور اکرم کی ازواج
دیگر پیغمبران

کتب و قوانین

قرآن · حدیث · شریعت
قوانین · کلام
سیرت

مسلم مکتبہ ہائے فکر

اہل سنت · اہل تشیع · صوفی

معاشرتی و سیاسی پہلو

اسلامیات · فلسفہ
فنون · سائنس
فن تعمیر · مقامات
اسلامی تقویم · تعطیلات
خواتین اور اسلام · رہنما
سیاسیات · جہاد · آزاد خواہی

مزید دیکھیئے

اسلامی اصطلاحات
اسلام پر مضامین کی فہرست


  • لفظ توحید کی تلاش یہاں لاتی ہے، عقیدۂ توحیدی کے لیۓ دیکھیۓ توحیدیت (monotheism)

خدا کو ایک ماننا ۔ اسلام کا سب سے اہم اصول ہے۔ اس کا اطلاق ذات اور صفات دونوں پر ہوتا ہے۔ یہ لفظ قرآن میں کہیں استعمال نہیں ہوا۔ صوفیائے کرام کے نزدیک توحید کے معنی یہ ہیں کہ صرف خدا کا وجود ہی وجود اصلی ہے۔ وہی اصل حقیقت ہے۔ باقی سب مجاز ہے۔ دنیاوی چیزیں انسان، حیوان، مناظر قدرت، سب اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ معتزلہ صفات کو نہیں مانتے بلکہ ذات ہی کو توحید کا مرکز قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ علما نے اس سلسلے میں علم کی ایک علیحدہ شاخ قائم کی ہے۔ جس کو ’’علم التوحید والصفات‘‘ کہتے ہیں اور اس سلسلے میں بہت سی موشگافیاں کی ہیں۔ لیکن خلاصہ سب کا یہی ہے کہ خدا کی ذات واحد ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔

شہادت توحید[ترمیم]

شہادت توحید سے مراد ہے کہ بندہ دل و زبان سے یہ اقرار کرے کہ اس کائنات کا خالق و مالک صرف اللہ تعالٰیٰ ہے، وہ سب پر فائق ہے، وہ کسی کی اولاد ہے نہ اس کی کوئی اولاد ہے۔ صرف وہی عبادت کے لائق ہے۔ کسی اور کے لئے اس سے بڑھ کر عظمت و رفعت اور شان کبریائی کا تصور بھی محال ہے۔ وہی قادر مطلق ہے اور کسی کو اس پر کوئی طاقت نہیں۔ اس کا ارادہ اتنا قوی اور غالب ہے کہ اسے کائنات میں سب مل کر بھی مغلوب نہیں کر سکتے۔ اس کی قوتیں اور تصرفات حد شمار سے باہر ہیں۔ قرآن حکیم میں ہے:

إِنَّمَا اللّهُ إِلَـهٌ وَاحِدٌ سُبْحَانَهُ أَن يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَات وَمَا فِي الأَرْضِ وَكَفَى بِاللّهِ وَكِيلاًO (النساء، 4 : 171)

ترجمہ: بے شک اللہ ہی یکتا معبود ہے، وہ اس سے پاک ہے کہ اس کیلئے کوئی اولاد ہو، (سب کچھ) اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اللہ کا کار ساز ہونا کافی ہے۔