مسجد نبوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مسجدِ نبوی
المسجد النبوی
متناسقات: 24°28′06″N 39°36′39″E / 24.468333°N 39.610833°E / 24.468333; 39.610833متناسقات: 24°28′06″N 39°36′39″E / 24.468333°N 39.610833°E / 24.468333; 39.610833
مقام Flag of سعودی عرب مدینہ، سعودی عرب
سال تاسیس 1 ہجری
622ء
مکتب فکر اسلام
انتظامیہ حکومت سعودی عرب
امام امام:
شیخ حسین عبد العزیز
معلومات طرزِ تعمیر
طرز تعمیر اسلامی طرز تعمیر; عثمانی معماری; مملوک معماری
گنجائش 600,000
(حج کے دوران 1,000,000 تک تعداد پہنچ جاتی ہے)
تعداد مینار 10
بلندیٔ مینار 105 میٹر (340 فٹ)

موقع حبالہ: Haramain Thread
Basmala.svg

Allah-green.svg
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین
اسلام

تاریخ اسلام

عقائد و اعمال

خدا کی وحدانیت
قبولیت اسلام
نماز · روزہ · حج · زکوٰۃ

اہم شخصیات

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
ابوبکر صدیق · عمر فاروق · عثمان غنی · علی حیدر
احباب حضور اکرم
حضور اکرم کا خاندان
حضور اکرم کی ازواج
دیگر پیغمبران

کتب و قوانین

قرآن · حدیث · شریعت
قوانین · کلام
سیرت

مسلم مکتبہ ہائے فکر

سنی · شیعہ · صوفی

معاشرتی و سیاسی پہلو

اسلامیات · فلسفہ
فنون · سائنس
فن تعمیر · مقامات
اسلامی تقویم · تعطیلات
خواتین اور اسلام · رہنما
سیاسیات · جہاد · آزاد خواہی

مزید دیکھیئے

اسلامی اصطلاحات
اسلام پر مضامین کی فہرست


مسجد نبوی سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ میں قائم اسلام کا دوسرا مقدس ترین مقام ہے ۔ مکہ مکرمہ میں مسجد حرام مسلمانوں کے لئے مقدس ترین مقام ہے جبکہ بیت المقدس میں مسجد اقصی اسلام کا تیسرا مقدس مقام ہے ۔

تعمیر[ترمیم]

مسجد الحرام کے بعد دنیا کی سب سے اہم مسجد ”مسجد نبوی“ کی تعمیر کا آغاز 18 ربیع الاول سنہ 1ھ کو ہوا ۔ حضور اکرم ﷺ نے مدینے ہجرت کے فوراً بعد اس مسجد کی تعمیر کا حکم دیا اور خود بھی اس کی تعمیر میں بھر پور شرکت کی ۔مسجد کی دیواریں پتھر اور اینٹوں سے جبکہ چھت درخت کی لکڑیوں سے بنائی گئی تھی ۔مسجد سے ملحق کمرے بھی بنائے گئے تھے جو آنحضرت ﷺ اور ان کے اہل بیت اور بعض اصحاب رضی اللہ تعالٰی عنہم کے لئے مخصوص تھے ۔

مسجد نبوی جس جگہ قائم کی گئی وہ دراصل دو یتیموں کی زمین تھی۔ ورثاء اور سرپرست اسے ہدیہ کرنے پر بضد تھے اور اس بات کو اپنے لئے بڑا اعزاز سمجھتے تھے کہ ان کی زمیں شرف قبولیت پا کر مدینہ منورہ کی پہلی مسجد بنانے کیلئے استعمال ہوجائے مگر محمدﷺ نے بلا معاوضہ وہ زمین قبول نہیں فرمایا، دس دینار قیمت طے پائی اور آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہم کو اس کی ادائیگی کا حکم دیا اور اس جگہ پر مسجد اور مدرسہ کی تعمیر کا فیصلہ ہوا۔ پتھروں کو گارے کے ساتھ چن دیا گیا۔ کھجور کی ٹہنیاں اور تنے چھت کیلئے استعمال ہوئے اور اس طرح سادگی اور وقار کے ساتھ مسجد کا کام مکمل ہوا۔ مسجد سے متصل ایک چبوترہ بنایا گیا جو ایسے افراد کے لئے دار الاقامہ تھا جو دوردراز سے آئے تھے اور مدینہ منورہ میں ان کا اپنا گھر نہ تھا۔

آپﷺ نے اپنے ہاتھ سے مسجد نبوی کی تعمیر شروع کی جبکہ کئی مسلم حکمرانوں نے اس میں توسیع اور تزئین و آرائش کا کام کیا۔ گنبد خضراء کو مسجد نبوی میں امتیازی خصوصیت حاصل ہے جس کے نیچے محمدﷺ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے روضہ مبارک ہیں۔ یہ مقام دراصل ام المومنین حضرت عائشہ کا حجرہ مبارک تھا ۔ ریاست مدینہ میں مسجد نبوی کی حیثیت مسلمانوں کے لئے عبادت گاہ، کمیونٹی سینٹر، عدالت اور مدرسے کی تھی۔

مسجد کےدرمیان میں عمارت کا اہم ترین حصہ محمدﷺ کا مزار واقع ہے جہاں ہر وقت زائرین کی بڑی تعداد موجود رہتی ہے ۔مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ یہاں مانگی جانے والی ہر دعا مقبول ہوتی ہے۔ خصوصاً حج کے موقع پر رش کے باعث اس مقام پر داخلہ انتہائی مشکل ہوجاتا ہے ۔ اسی مقام پر منبر رسول بھی ہے ۔ سنگ مرمر کا بنا حالیہ منبر عثمانی سلاطین کاتیار کردہ ہے

سعودی عرب کے قیام کے بعد مسجد نبوی میں کئی مرتبہ توسیع ہوئی لیکن شاہ فہد بن عبد العزیز کے دور میں مسجد کی توسیع کاعظیم ترین منصوبہ تشکیل دیا گیا جس کے تحت حضرت محمد ﷺ کے دور کے تمام شہر مدینہ کو مسجد کا حصہ بنادیا گیا۔ اس عظیم توسیعی منصوبے کے نتیجے میں مسجد تعمیرات کا عظیم شاہکار بن گئی۔

مسجد نبوى كا مقام[ترمیم]

Sun rises over al-Masjid al-Nabawi

رسول اللہ ﷺ نے اسی مسجد کے سنگریزوں پر بیٹھ کر معاشرہ کے تمام مسائل کو قرآن کریم کی روشنی میں حل فرمایا۔ آپ کی تمام اصلاحی اور تعمیری سرگرمیاں یہیں سے انجام پاتی تھیں۔ سینکڑوں مہاجرین کی اس چھوٹی سی بستی میں منتقل ہونے کے نتیجہ میں آبادی کے مسائل تھے اور ان نووارد افراد کو معاشرے میں ضم کرنے کے مسائل تھے ۔ اس مسئلہ کو مسجد نبوی کے صحن میں بیٹھ کر مواخات کی شکل میں حل کیا گیا۔ نئی مملکت کے تمام سیاسی مسائل کے حل اور قانون سازی کیلئے اس مسجد نے پارلیمنٹ ہاوس کا کردار ادا کیا۔ عدالتی فیصلوں کے لئے اسی مسجد نے سپریم کورٹ کا کردار ادا کیا۔ ہر قسم کی تعلیمی کاروائیاں اسی مسجد سے سرانجام پانے لگیں۔ تمام رفاہی کاموں کا مرکز یہی مسجد قرار پائی۔ تجارت و زراعت کے مسائل کے لئے یہی کامرس چیمبر اور یہی ایگریکلچر ہاوس قرار دیا گیا۔ دفاعی اقدامات اور جنگی حکمت عملی کے لئے بھی یہی مسجد بطور مرکز استعمال ہونے لگی۔ رسول اللہ ﷺ نے جب کسی علاقے میں جہاد کیلئے لشکر روانہ کرنا ہوتا تو اسی مسجد سے اس کی تشکیل کی جاتی اور ایک موقع پر مجاہدین نے جہاد کی تربیت کا مرحلہ بھی اس مسجد کے صحن میں مکمل کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حبشہ کے کچھ لوگ آئے ہوئے تھے اور عید کے روز مسجد نبوی کے صحن میں وہ نیزہ بازی کی مشق کررہے تھے جسے میں نے رسول اللہ ﷺ کی اوٹ میں کھڑے ہوکر دیکھا۔رسول اللہ ﷺ نے مسجد ومدرسہ کو مسلم معاشرہ کا محور بنا دیا تھا اور مسجد ومدرسہ کا کردار زندگی کے ہر شعبہ پر محیط تھا، جس کے نتیجے میں دیکھتے ہی دیکھتے صدیوں کے الجھے ہوئے تمام مسائل حل ہوگئے اور مدینہ منورہ کا معاشرہ دنیا کے لئے ایک عظیم الشان مثال بن گیا۔

رسول اکرم ﷺ نے مسجد نبوی کو صرف عبادت کی جگہ قرار نہیں دیا بلکہ اس سے لوگوں کی سماجی ، سیاسی ، علمی اور زندگی کے دیگر امور سے متعلق مسائل کے حل کے لئے بھی استفادہ کرتے تھے اسی لئے یہ مسجد مسلمانوں کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔برسوں سے لاکھوں مسلمان مسجد نبوی اوراس کے احاطے میں واقع روضہ نبوی کی زیارت کے لئے نہایت عقیدت و احترام اور ذوق و شوق کے ساتھ مدینے جاتے ہیں ۔

شاه عبدالله كا تعميرى منصوبه[ترمیم]

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ نے مسجد نبوی کی تعمیر و توسیع کے لئے 4ارب 70کروڑ ریال کے عظیم منصوبے کا اعلان کیا ہے ۔ منصوبے کے مطابق مسجد نبوی کے مشرقی حصے کی توسیع کی جائے گی جس کے بعد اس حصہ میں مزید 70 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہوجائے گی۔ اس منصوبہ میں مسجد نبوی میں 182 بڑی خودکار چھتریاں بھی نصب کی جائیں گی تاکہ زائرین سورج کی گرمی اور بارش سے محفوظ رہ سکیں۔

Madina Haram at evening.jpg

مسجد نبوى كى توسيع[ترمیم]

تاريخ میں، مسجد نبوى كى توسيع نو مرتبه هوئى.

توسيع توسيع كى تاريخ زمانہ آمر كل علاقہ (م2)[1] نسبة الزيادة دروازوں كى تعداد ميناروں كى تعداد ديگر
پہلى مرتبہ مسجد كو بنانبے والے 1 هـ
622م
النبوی نبی محمد 1,050 - 3 - پہلى مرتبہ
پہلى توسيع 7 هـ
628م
نبوی نبی محمد 2,475 136% 3 - غزوة خيبر کے بعد مكمل ہوئى
دوسرى توسيع 17 هـ
638م
خلفاء راشدين عمر بن خطاب 3,575 44.4% 6 - كنواں
تيسرى توسيع 29 هـ - مطابق:30 هـ|30 هـ
649م - 650م
خلفاء راشدين عثمان بن عفان 4,071 13.9% 6 - جنوبى توسيع مكمل كى
چوتهى توسيع 88 هـ - مطابق:91 هـ|91 هـ
707م - 710م
اموى دور عمر بن عبد العزيز
بأمر من الوليد بن عبد الملك
6,440 58.2% 20 4 حجره نبوى كو مسجد مين داخل كيا
پہلی مرتبہ اذان كى جگہ بنوائى
پہلى مرتبہ كهوكهلى محراب بنوائى
پانچويں توسيع 161 هـ - مطابق:165 هـ|165 هـ
779م - 782م
عہد عباسيہ ابو عبد الله محمد المہدی 8,890 38% 24 3 -
ترميمات وإصلاحات 654 هـ
1275م
مكمل عہد عباسيہ
شروع عہد مملوكيہ
شروع كى المستعصم بالله
مكمل كى ظاہر بيبرس
8,890 0% 24 3 تمت بعد الحريق الأول للمسجد
ترميمات وإصلاحات 881 هـ
1476م
عہد مملوكيہ قايتباي 8,890 0% 24 3 -
چھٹی توسيع 886 هـ - 888 هـ
1481م - 1483م
عهد مملوكية قايتباي 9,010 1.3% 4 4 تمت بعد الحريق الثاني للمسجد
ترميمات وإصلاحات 947 هـ
1540م
عهد عثمانيه سليمان القانونی 9,010 0% 4 4 -
ساتويں توسيع (مجيديہ) 1265 هـ - 1277 هـ
1849م - 1860م
عهد عثمانىيه عبد المجيد الأول 10,303 14.4% 5 5 عهد عثمانى كى بنيادى عمارة
آٹھویں توسيع 1372 هـ - 1375 هـ
1952م - 1955م
سعوديہ عبد العزيز آل سعود 16,327 58.5% 10 4 50 ملين سعودى ريال كى لاگت
نوىں توسيع 1406 هـ - 1414 هـ
1985م - 1994م
سعوديہ فهد بن عبد العزيز آل سعود 98,327
و235,000 چوك
502% 41 10 سب سے بڑى توسيع

مسجد نبوی کے مؤذن[ترمیم]

  • كامل بن صالح بن احمد نجدى.
  • مصطفى بن عثمان بن حسن نعمانى.
  • عبدالمطلب بن صالح بن احمد نجدى.
  • عصام بن حسين بن عبدالغنى بخارى.
  • عبد الرحمن بن عبد الإله بن إبراهيم خاشقجي (شيخ المؤذنين).
  • عمر بن يوسف بن محمد كمال.
  • سامي بن محمد حسن ديولی.
  • فيصل بن عبد الملك بن محمد سعيد نعمان.
  • سعود بن عبد العزيز بن حسين بخاری.
  • محمد بن ماجد بن حمزة حكيم.
  • إياد بن أحمد بن عباس شكری.
  • أشرف بن محمد بن حمزة عفيفی.
  • عبد المجيد بن سلامة بن عودة السريحی.
  • عمر بن نبيل سنبل۔

بیرونی روابط[ترمیم]

  1. ^ بوابة الحرمين الشريفين: عمارة وتوسعة المسجد النبوي