عائشہ بنت ابی بکر
وکیپیڈیا سے
| بسلسلۂ مضامینِ اسلام ازواج مطہرات |
|---|
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ بنت صدیق ، طیبہ زوجہ، طیب۔ حبیبہ، حبیب اللہ ، حضرت ابو بکر صدیق کی صاحبزادی تھیں۔ آپ کا لقب صدیقہ اور کنیت ام عبد اللہ تھی ان کی والدہ محترم کا نام زینب ام رومان تھا جن کا سلسلہ نسب نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں کنانہ سے مل جاتا ہے۔
فہرست |
[ترمیم] رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نکاح
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے شوال سن 11 نبوی میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اورشوال 11 ہجری میں ان کی رخصتی ہوئی۔ رخصتی کے وقت ان کی عمر ساڑھے گیارہ برس تھی۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ نو برس گذارے۔ آپ کی ولادت سے قبل ہی آپ کے والدین ایمان لاچکے تھے اس لئے امہات المؤمنین میں آپ واحد خاتون ہیں جن کی اسلامی خون سے ولادت اور اسلامی دودھ سے پرورش ہوئی۔
[ترمیم] فضائل و مناقب
حضرت عائشہ کے فضائل میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت ابو موسی اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا " مردوں میں سے تو بہت تکمیل کے درجے کو پہنچے مگر عورتوں میں صرف مریم دختر عمران، آسیہ زوجہ فرعون ہی تکمیل پر پہنچی اور عائشہ کو تمام عورتوں پر ایسی فضیلت ہے جیسے ثرید کو تمام کھانوں پر" ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا " یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں اور آپ کی خدمت میں سلام عرض کرتے ہیں" حضرت عائشہ نے جواب میں فرمایا " ان (جبرائیل علیہ السلام) پر بھی اللہ رب العزت کا سلام اور رحمت ہو"
[ترمیم] آیات تیمّم کے نزول کا سبب
حضرت عائشہ کے امت پر احسانات میں سے ہے کہ آیات تیمّم کے نزول کا ظاہری سبب بھی آپ کی زات ا قدس ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ایک سفر میں حضرت عائشہ کا ایک ہار کہیں گر گیا جو آپ کو بہت عزیز تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے چند صحابہ کرام کو ہار کی تلاش میں روانہ کیا ۔ دوران تلاش نماز کا وقت ہوگیا ۔ پانی نہ ہونے کے باعث سب نے بلا وضو نماز ادا کی۔ جب صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو رنج کے ساتھ بلاوضو نماز پڑھنے کا زکر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کیا۔ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر آیات تیمّم کا نزول ہوا۔
[ترمیم] صحابہ میں ممتاز حیثیت
حضرت عروہ بن زبیر فرماتے ہیں "میں نے کسی ایک کو بھی معانی قرآن ، احکام حلال و حرام ، اشعار عرب اور علم الانساب میں حضرت عائشہ
سے بڑھ کر نہیں پایا" ۔ حضرت عائشہ
کی خصوصیت تھی کہ جب کوئی نہایت مشکل و پیچیدہ مسئلہ صحابہ میں آن پڑتا تھا تو وہ آپ ہی کی طرف رجوع فرمایا کرتے تھے اور آپ
کے پاس اس سے متعلق علم ضرور موجود ہوتا تھا۔ حضرت عائشہ کو علمی حیثیت سے عورتوں میں سب سے زيادہ فقیہہ اور صاحب علم ہونے کی بناء پر چند صحابہ کرام پر بھی فوقیت حاصل تھی۔ فتوے دیا کرتی تھیں اور بے شمار احادیث ان سے مروی ہیں۔ خوش تقریر بھی تھیں۔
[ترمیم] جودو سخاوت
ایک صحابی کا بیان ہے کہ آپ نے ایک روز میں 70 ہزار درہم اللہ کی راہ میں صرف کیۓ اور خود پیوند لگے کپڑے پہنا کرتی تھیں۔ایک روز حضرت عبداللہ بن زبیر نے ایک لاکھ درہم آپ کی خدمت میں روانہ کیۓ جو آپ نے اسی روز اللہ کی راہ میں خیرات کردیۓ اسی روز آپ کا روزہ بھی تھا۔ شام کو آپ کی ملازمہ نے روکھی سوکھی آپ کی خدمت میں پیش کی اور کہا کہ اگر کچھ بچالیا جاتا تو میں سالن بھی تیار کرلیتیں آپ نے فرمایا " مجھے خیال بھی نہ آیا تم ہی یاد دلا دیتیں۔ واضح رہے کہ آپ کی خدمت میں ایسے نذرانے حضرت امیر معاویہ
اور حضرت عبداللہ بن زبیر
کی جانب سے پیش کیۓ جاتے تھے کہ اس زمانہ میں افواج اسلامی کثرت سے فتوحات حاصل کررہی تھیں ۔
طیبہ صدیقی اثر ترقی اسلام پر ہے جو تفقہ آپ نے دین میں حاصل کیا اور جو تبلیغ آپ نے امت کو فرمائی اور علم نبوت کی اشاعت میں جو مساعی انہوں نے کیں اور حو علمی فوائد انہوں نے فرزندان امت کو پہنچائے وہ ایسک درجہ ہے جو کسی اور زوجہ محترمہ کو حاصل نہیں۔
[ترمیم] علم الاحادیث
کتب الاحادیث میں آپ سے روايت کردہ احادیث کی تعداد دو ہزار دو سو دس ہے۔
[ترمیم] وصال
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وصال کے 48 سال بعد 63 برس کی عمر میں 17 رمضان المبارک 57 ھجری میں حضرت امیر معاویہ کے دور خلافت میں وفات پائی اور جنت البقیع میں استراحت فرمائی۔