حجر بن عدی
حجر بن عدی صحابیٔ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تھے اور حضرت علی کے محبین میں سے تھے۔ ان کا جھگڑا زیاد بن سمیہ سے ہوا جب زیاد حضرت علی کو برا بھلا کہہ رہا تھا۔ انہیں معاویہ بن ابی سفیان نے ان کے ساتھیوں سمیت قتل کروا دیا تھا۔ اس قتل کی پیشگوئی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کی تھی۔ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں بیان کیا کہ حجر بن عدی کے قتل کے بعد معاویہ بن ابی سفیان سے حضرت عائشہ نے پوچھا کہ اے معاویہ تجھے کسی بات نے اہل عذراء یعنی حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کے قتل پر آمادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ان کے قتل میں امت کی اصلاح اور ان کی زندگی میں امت کی خرابی دیکھی ہے۔ اس پر حضرت عائشہ سے نے فرمایا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بیان کرتے سنا کہ عنقریب عذراء میں کچھ لوگ قتل ہوں گے جن کی خاطر اللہ اور آسمان والے غصے ہو جائیں گے۔[1]
[ترمیم] حوالہ جات
- ^ البدایہ والنہایہ از ابن کثیر جلد 6 صفحہ 306