جابر بن عبداللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ (عربی: جابر بن عبدالله بن عمرو بن حرام الأنصاري) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک تھے جن کا تعلق یثرب (مدینۃ الرسول) سے تھا۔

ابتدائی زندگی اور اسلام[ترمیم]

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہجرت سے پندرہ سال پہلے مدنیہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق قبیلہ خزرج کے ایک غریب خاندان سے تھا۔ آپ کم عمری میں اسلام لائے اور بے شمار غزوات میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ساتھ دیا۔ والد کا نام عبداللہ اور والدہ کا نام نصیبہ بنت عقبہ بنت عدی تھا جو ان کے والد کے خاندان ہی سے تھیں۔ آپ کے والد حضرت عبداللہ انصاری غزوہ احد میں شہید ہوئے۔ ان کی نسل کو بنو حرام کہا جاتا ہے جو آج بھی مسجد قبلتین کے قریب رہائش رکھتے ہیں۔[1] حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سات بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔ بعض روایات کے مطابق ایک دفعہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اے جابر تم ایک لمبی زندگی پاؤ گے اگرچہ اندھے ہو جاؤ گے مگر تمہاری ملاقات میری اولاد میں سے ایک شخص سے ہوگی وہ میرا ہم نام ہوگا اور میری طرح چلتا ہوگا جو پانچواں امام ہوگا۔ جب اسے ملو تو میرا سلام کہنا۔ یہ بات پوری ہوئی جب ان کی ملاقات امام محمد باقر علیہ السلام سے ہوئی۔

وفات[ترمیم]

انہوں نے چورانوے سال کی عمر پائی اور 78ھ میں وفات پائی۔ روایات کے مطابق انہیں حجاج بن یوسف نے زہر دلوایا تھا۔ انہیں بغداد کے قریب مدائن میں دریائے دجلہ کے قریب دفن کیا گیا۔

1932ء کی قبر کشائی[ترمیم]

1932ء میں عراق کے اس وقت کے بادشاہ شاہ فیصل کو خواب میں صحابیِ رسول حضرت حذیفہ ابن الیمانی (معروف بہ حذیفہ یمانی) کی زیارت ہوئی جس میں انہوں نے بادشاہ کو کہا کہ اے بادشاہ میری قبر میں دجلہ کا پانی آ گیا ہے اور جابر بن عبداللہ کی قبر میں دجلہ کا پانی آ رہا ہے چنانچہ ہماری قبر کشائی کر کے ہمیں کسی اور جگہ دفن کر دو۔ اس کے بعد ان دونوں اصحابِ رسول کی قبریں سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں کھولی گئیں جن میں مفتیِ اعظم فلسطین، مصر کے شاہ فاروق اول اور دیگر اہم افراد شامل تھے۔ ان دونوں کے اجسام حیرت انگیز طور پر تازہ تھے جیسے ابھی دفنائے گئے ہوں۔ ان کی کھلی آنکھوں سے ایسی روشنی خارج ہو رہی تھی کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں چکا چوند ہو گئیں۔ ہزاروں لوگوں کو ان کی زیارت بھی کروائی گئی جن کے مطابق ان دونوں کے کفن تک سلامت تھے اور یوں لگتا تھا جیسے وہ زندہ ہوں۔ ان دونوں اجسام کو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک کے بالکل قریب سلمان پاک نامی جگہ پر دوبارہ دفنا دیا گیا جو بغداد سے تیس میل کے فاصلے پر ہے۔

احادیث کی روایت[ترمیم]

آپ سے 1500 کے قریب احادیث روایت کی گئی ہیں۔ آپ ان کو مدینہ میں مسجد نبوی میں اور مصر و دمشق میں بیان کیا کرتے تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ المسکینہ۔ بزبان انگریزی