محمد باقر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ٰ

Padlock.svg اس صفحہ کو ترامیم کیلیے نیم محفوظ کر دیا گیا ہے اور صارف کو اندراج کر کے داخل نوشتہ ہونا لازم ہے؛ (اندراج کریں یا کھاتہ بنائیں)
محمد باقر
مکمل نام محمد ابن علی
ترتیب پنجم
جانشین حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام
تاریخ ولادت 1 رجب، 57 ہجری
لقب باقر
کنیت ابو جعفر
والد علی ابن حسین زین العابدین
والدہ فاطمہ
تاریخ وفات 07 ذی الحج، 114 ہجری < 733 عیسوی
وجۂ وفات شہادت


حضرت محمد باقر، حضرت زین العابدین کے فرزند اور اہل تشیع کے پانچویں امام ہیں. آپ کانام اپنے جد بزرگوار حضرت رسول خدا کے نام پر محمد تھا اور باقر لقب۔ اسی وجہ سے امام محمد باقر علیہ السّلام کے نام سے مشہور ہوئے۔ بارہ اماموں میں سے یہ آپ ہی کو خصوصیت تھی کہ آپ کا سلسلہ نسب ماں اور باپ دونوں طرف حضرت رسول خدا تک پہنچتا ہے۔ دادا آپ کے سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السّلام تھے جو حضرت رسول خدامحمدمصطفےٰ کے چھوٹے نواسے تھے اور والدہ آپ کی ام عبد اللہ فاطمہ علیہ السّلام حضرت امام حسن علیہ السّلام کی صاحبزادی تھیں جو حضرت رسول کے بڑے نواسے تھے۔ اس طرح حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام رسول کے بلند کمالات اور علی علیہ السّلام وفاطمہ کی نسل کے پاک خصوصیات کے باپ اور ماں دونوں سے وارث ہوئے۔

ولادت

آپ کی ولادت روز جمعہ یکم رجب 57ھ میں ہوئی . یہ وہ وقت تھا جب امام حسن علیہ السّلام کی وفات کو سات برس ہوچکے تھے . امام حسین علیہ السّلام مدینہ میں خاموشی کی زندگی بسر کررہے تھے اور وقت کی رفتار تیزی سے واقعہ کربلا کے اسباب فراہم کررہی تھی . زمانہ ال رسول اور شیعانِ اہل بیت علیہ السّلام کے لیے صر اشوب تھا . چُن چُن کر محبانِ علی علیہ السّلام گرفتار کیے جارہے تھے , تلوار کے گھاٹ اتارے جارہے تھے یا سولیوں پر چڑھائے جارہے تھے اس وقت اس مولود کی ولادت گویا کربلا کے جہاد میںشریک ہونے والے سلسلہ میں ایک کڑی کی تکمیل تھی .

واقعہ کربلا

تین برس امام محمد باقر علیہ السّلام اپنے جد بزرگوار حضرت امام حسین علیہ السّلام کے زیرِسایہ رہے . جب آپ کاسن پورے تین سال کا ہوا تو امام حسین علیہ السّلام نے مدینہ سے سفر کیا .ا س کم سنی میں امام محمد باقر علیہ السّلام بھی راستے کی تکلیفیں سہنے میں ا پنے بزرگوں کو شریک رہے . امام حسین علیہ السّلام نے مکہ میں پناہ لی . پھر کوفہ کاسفر اختیار کیا اور پھر کربلا پہنچے . ساتویں محرم سے جب پانی بند ہوگیا تو یقیناً امام محمدباقر نے بھی تین یوم پیاس کی تکلیف برداشت کی . یہ خالق کی منشاء کی ایک تکمیل تھی کہ وہ روز عاشور میدان ُ قربانی میںنہیںلائے گئے . ورنہ جب ان سے چھوٹے سن کا بچہ علی اصغر علیہ السّلام تیر ستم کا نشانہ ہوسکتا تھا تو امام محمد باقر علیہ السّلام کابھی قربان گاہ شہادت پر لاناممکن تھا . مگر سلسلہ امامت کادنیامیں قائم رہنا نظام کائنات کے برقرار رہنے کے لیے ضروری اور اہم تھا لٰہذا منظور الٰہی یہ تھا کہ امام محمد باقر علیہ السّلام کربلا کے میدان میں اس طرح شریک ہوئے .عاشور کو دن بھر عزیزوں کے لاشے پر لاشے اتے دیکھنا . بیبیوں میں کہرام , بچوں میں تہلکہ , امام حسین علیہ السّلام کاوداع ہونا اورننھی سی جان علی اصغر علیہ السّلام کا جھولے سے جدا ہوکر میدان میںجانا اور پھر واپس نہ انا ,امام علیہ السّلام کے باوفا گھوڑے کا درخیمہ پر خالی زین کے ساتھ آنا اور پھر خیمہ عصمت میںایک قیامت کابرپا ہونا .یہ سب مناظر امام محمد باقر علیہ السّلام کی انکھوں کے سامنے آئے اور پھر بعد عصر خیموں میں آگ کا لگنا , اسباب کا لوٹا جانا, بیبیوں کے سروں سے چادروں کا اتارا جانا اور آگ کے شعلوں سے بچوں کاگھبرا کرسراسیمہ ومضطرب اَدھر اُدھر پھرنا , اس عالم میں امام محمد باقر علیہ السّلام کے ننھے سے دل پر کیا گزری اور کیا تاثرات ان کے دل پر قائم رہ گئے اس کا اندازہ کوئی دوسرا انسان نہیں کرسکتا۔

گیارہ محرم کے بعد ماں اور پھوپھی ,دادی اورنانی تمام خاندان کے بزرگوں کو دشمنوں کی قید میںاسیر دیکھا , یقیناً اگر سکینہ علیہ السّلام کا ہاتھ رسی میں بندھ سکتا ہے تو یقین کہا جاسکتا ہے کہ امام محمد باقر علیہ السّلام کاگلا بھی ریسمان ظلم سے ضرور باندھا گیا . کربلا سے کوفہ او رکوفہ سے شام اور پھر رہائی کے بعد مدینہ کی واپسی ان تمام منازل میں نہ جانے کتنے صدمے تھے جو امام محمد باقر علیہ السّلام کے ننھے سے دل کو اٹھانا پڑے او رکتنے غم والم کے نقش جو دل پر ایسے بیٹھےکہ ائیندہ زندگی میں ہمیشہ برقرار رہے۔

تربیت

واقعہ کربلا کے بعد امام زین العابدین علیہ السّلام کی زندگی دنیا کی کشمکشوں اور آویزشوں سے بالکل الگ نہایت سکون اور سکوت کی زندگی تھی , اہل دنیا سے میل جول بالکل ترک کبھی محراب عبادت اور کبھی باپ کاماتم ان ہی دو مشغلوں میں تمام اوقات صرف ہوتے تھے .یہ وہی زمانہ تھا جس میں امام محمد باقر علیہ السّلام نے نشونما پائی .16ھ سے 59ھ تک 43 برس اپنے مقدس باپ کی سیرت زندگی کامطالعہ کرتے رہے اور اپنے فطری اور خداداد ذاتی کمالات کے ساتھ ان تعلیمات سے فائدہ اٹھاتے رہے جو انھیں اپنے والد ُ بزرگوار کی زندگی کے ائینہ میں برابر نظر اتی رہیں۔

باپ کی وفات اور امامت کی ذمہ داریاں

حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام بھر پور جوانی کی منزلوں کو طے کرتے ہوئے ایک ساتھ جسمانی وروحانی کمال کے بلند نقطہ پر تھے اور 83 برس کی عمر تھی جب آپ کے والد بزرگوار حضرت امام زین العابدین علیہ السّلام کی شہادت ہوئی .حضرت نے ا پنے وقت وفات ایک صندوق جس میں اہلِ بیت علیہ السّلام کے مخصوص علوم کی کتب تھیں امام محمد باقر علیہ السّلام کے سپرد کیا نیز اپنی تمام اولادکوجمع کرکے ان سب کی کفالت وتربیت کی ذمہ داری اپنے فرزند امام محمد باقر علیہ السّلام پر قرار دی اور ضروری وصایا فرمائے اس کے بعد امامت کی ذمہ داریاں حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام پر ائیں . آپ سلسلہ اہلِ بیت علیہ السّلام کے پانچویں امام ہوئے ہیں جو رسول خدا کے برحق جانشین تھے

اس دور کی خصوصیات

یہ وہ زمانہ تھا جب بنی امیہ کی سلطنت اپنی مادری طاقت کے لحاظ سے بڑھاپے کی منزلوں سے گزر رہے تھے . بنی ہاشم پر ظلم وستم اورخصوصاً کربلا کے واقعہ نے بہت حد تک دنیا کی انکھوں کو کھول دیا اور جب یزید خود اپنے مختصر زمانہ حیات ہی میں جو واقعہ کربلا کے بعد ہوا اپنے کیے پرپشیمان ہوچکا تھا اور اس کے برے نتائج کو محسوس کر چکا تھا اور اس کے بعد اس کا بیٹا معاویہ اپنے باپ اور دادا کے افعال سے کھلم کھلا اظہار بیزاری کرکے سلطنت سے دستبردار ہوگیا تو بعد کے سلاطین کوکہاں تک ان مظالم کے مہلک نتائج کااحساس نہ ہوتا . جب کہ اس وقت جماعت توابین کا جہاد مختار رض اور ان کے ہمراہیوں کے خون حسین علیہ السّلام کا بدلہ لینے میں اقدامات اور نہ جانے کتنے واقعات سامنے اچکے تھے جن سے سلطنت شام کی بنیادیں ہل گئیں تھیں . اس کا نتیجہ یہ تھا کہ امام محمد باقر علیہ السّلام کے زمانہ امامت کو حکومت کے ظلم وتشدد کی گرفت سے کچھ آزادی نصیب ہوئی اور آپ کو خلق خدا کی اصلاح وہدایت کا کچھ زیادہ موقع مل سکا .

عزائے امام حسین علیہ السّلام میں انہماک

آپ واقع کربلا کو اپنی انکھوں سے دیکھے ہوئے تھے .پھر اپنے باپ کی تمام زندگی کا جو امام مظلوم علیہ السّلام کے غم میں رونے میں بسر ہوئی . مطالعہ کرچکے تھے . یہ احساس بھی نہایت تکلیف دہ تھاکہ ان کے والد بزرگوار باوجود اتنے غم ورنج اور گریہ وزاری کے ایسا موقع نہ پا سکے کہ دوسروں کو امام حسین علیہ السّلام کے ماتم برپا کرنے کی دعوت دیتے اس کا نتیجہ یہ تھا کہ امام محمد باقر علیہ السّلام کو اس میںخاص اہتمام پیدا ہوا . آپ مجالس کی بنا فرماتے تھے اور کمیت بن زید اسدی جو آپ کے زمانہ کے بڑے شاعر تھے , ان کوبلا کر مراثیہائے امام حسین علیہ السّلام پڑھواتے اور سنتے تھے .یہی وہ ابتداتھی جسے امام جعفر صادق علیہ السّلام اور اس کے بعد پھر امام رضا علیہ السّلام کے زمانہ میں بہت فروغ حاصل ہوا۔

علمی مرجعیت

دریا کا پانی بند کے باندھ دیے جانے سے جب کچھ عرصہ کے لیے ٹھہرجائے اور پھر کسی وجہ سے وہ بند ٹوٹے تو پانی بڑی قوت اور جوش وخروش کے ساتھ بہتا ہوا محسوس ہوگا .ائمہ اہل بیت علیہ السّلام میں سے ہر ایک کے سینہ میں ایک ہی دریا تھا , علم کا جو موجزن تھا مگر اکثر اوقات ظلم وتشدد کی وجہ سے اس دریا کو پیاسوں کے سیراب کرنے کے لیے بہنے کا موقع نہیں دیا گیا . امام محمدباقر علیہ السّلام کے زمانہ میں جب تشدد کا شکنجہ ذرا ڈھیلا ہوا توعلوم اہلِبیت علیہ السّلام کا دریا پوری طاقت کے ساتھ امنڈااور ہزاروں پیاسوں کو سیراب کرتا ہوا .»شریعت حقہ« اور احکام الٰہی کے کھیتوں کو سرسبز بناتا ہوا دنیا میں پھیل گیا . اس علمی تبحر اور وسعت معلومات کے مظاہرے کے نتیجے میں آپ کا لقب باقر علیہ السّلام مشہور ہوا . اس لفظ کے معنی ہیں اندرونی باتوں کامظاہرہ کرنے والا چونکہ آپ نے اپنے سے بہت سے پوشیدہ مطالب کو ظاہر کیا اس لیے تمام مسلمان آپ کو باقر علیہ السّلام کے نام سے یاد کرنے لگے . آپ سے علوم اہلبیت علیہ السّلام حاصل کرنے والوں کی تعداد سینکڑوں تک پہنچی ہوئی تھی .بہت سے ایسے افراد بھی جو عقید تاً ائمہ معصومین علیہ السّلام سے وابستہ نہ تھے اور جنھیں جماعت اہلسنت اپنے محدثین میں بلند درجہ سمجھتی ہے وہ بھی علمی فیوض حاصل کرنے امام محمد باقر علیہ السّلام کی ڈیوڑھی پر اتے تھے جیسے زہری امام اوزاعی اور عطاربن جریح، قاضی حفض بن غیاث وغیرہ یہ سب امام محمد باقر علیہ السّلام کے شاگردوں میں محسوب ہیں۔

علوم اہلبیت علیہ السّلام کی اشاعت

حضرت علیہ السّلام کے زمانہ میں علوم اہلبیت علیہ السّلام کے تحفظ کااہتمام اور حضرت کے شاگردوں نے ان افادیات سے جو انہیں حضرت امام محمدباقر علیہ السّلام سے حاصل ہوئے. مختلف علوم وفنون اور مذہب کے شعبوں میں کتب تصنیف کیں ذیل میں حضرت کے کچھ شاگردوں کا ذکر ہے اور ان کی تصانیف کانام درج کیا جاتا ہے . جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ امام محمدباقر علیہ السّلام سے اسلامی دنیا میں علم ومذہب نے کتنی ترقی کی۔

~01 . ابان ابن تغلب : یہ علم قرآت اور لغت کے امام مانے گئے ہیں- سب سے پہلے کتاب غریب القرآن یعنی قرآن مجید کے مشکل الفاظ کی تشریح انہوں نے تحریر کی تھی اور ~0141ئھ میں وفات پائی۔

~0-2 ابو جعفر محمد بن حسن ابن ابی سارہ رو اسی علم قرآت, نحو اور تفسیر کے مشہور عالم تھے۔ کتاب الفصیل معانی

القرآن وغیرہ پانچ کتب کے مصنف ہیں- ~0101ئھ میں وفات پائی۔

~0-3 عبداللّٰہ ابن میمون اسود القداح: ان کی تصانیف سے ایک کتاب مبعث بنی، رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت اور تاریخ زندگی میں اور ایک کتاب حالاتِ جنت و نار میں تھی- ~0105ئھ میں وفات پائی۔

~0-4 عطیہ ابن سعید عوفی- پانچ جلدوں میں تفسیر قرآن لکھی- ~0111ئھ میں وفات پائی- ~0-5 اسماعیل ابن عبدالرحمٰن الدی الکبیر- یہ مشہور مفسر قرآن ہیں- جن کے حوالے تمام اسلامی مفسرین نے سدی کے نام سے دیے ہیں ~0127ئھ میں وفات پائی- ~0-6 جابر بن یزید جعفی, انہوں نے امام محمد باقر علیہ السلام سے پچاس ہزارحدیثیں سن کر یاد کیں اور ایک روایت میں ستر ہزار کی تعداد بتائی گئی ہے- اس کاذکر صحاح ستہ میں سے صحیح مسلم میں موجود ہے- تفسیر, فقہ اور حدیث میں کئی کتب تصنیف کیں- ~0128ئھ میں وفات پائی- ~0-7 عمار بن معاویہ وہنی: فقہ میں ایک کتاب تصنیف کی ~0132ئھ میں وفات پائی- ~0-8 سالم بن ابی حفصہ ابو یونس کوفی: فقہ میں ایک کتاب لکھی وفات ~0137ئھ میں پائی- ~0-9 عبدالمومن ابن قاسم ابو عبداللّٰہ انصاری: یہ بھی فقہ میں ایک کتاب کے مصنف ہیں- ~0147ئھ میں

وفات پائی-

~0-10 ابوحمزہ ثمالی: تفسیر قرآن میں ایک کتاب لکھی, اس کے علاوہ کتاب النوادر اور کتاب الزمد بھی ان کی تصانیف میں سے ہیں- ~0150ئھ میں وفات پائی- ~0-11 زرارہ ابن اعین: بڑے بزرگ مرتبہ شیعہ عالم تھے ان کی علم کلام اور فقہ اور حدیث میں بہت سی کتب

ہیں- وفات ~0150ئھ-

~0-12 محمد بن مسلم: یہ بھی بڑے بلند پایہ بزرگ تھے- امام محمد باقر علیہ السلام سے تیس ہزار حدیثیں سنیں- بہت سی کتب کے مصنف ہیں جن میں سے ایک کتاب تھی- چہار صد مسئلہ اور ابواب حلال و حرام- وفات ~0150ئھ ~0-13 یحیٰی بن قاسم ابو بصیر اسدی جلیل المرتبہ بزرگ تھے- کتاب مناسک حج کتاب یوم دلیلہ تصنیف کی- ~0150ئھ میں وفات پائی- ~0-14 اسٰحق قمی: فقہ میں ایک کتاب کے مصنف ہیں- ~0-15 اسماعیل بن جابر خثعمی کوفی: احادیث کی کئی کتب تصنیف کیں اور ایک کتاب فقہ میں تصنیف کی- ~0-16 اسمٰعیل بن عبدالخالق:بلند مرتبہ فقیہہ تھے- ان کی تصنیف سے بھی ایک کتاب تھی- ~0-17 بروالا سکاف الازدی: فقہ میں ایک کتاب لکھی- ~0-18 حارث بن مغیرہ: یہ بھی مسائل فقہ میں ابک کتاب کے مصنف ہیں- ~0-19 حذیفہ بن منصور خزاعی: ان کی بھی ایک کتاب فقہ میں تھی- ~0-20 حسن بن السری الکاتب: ایک کتاب تصنیف کی- ~0-21 حسین بن ثور ابن ابی فاختہ: کتاب النوادر تحریر کی- ~0-22 حسین بن حما عبدی کوفی: ایک کتاب کے مصنف ہیں- ~0-23 حسین بن مصعب بجلی: ان کی بھی ایک کتاب تھی- ~0-24 حماد بن ابی طلحہ: ایک کتاب تحریر کی- ~0-25 حمزہ بن حمران بن اعین: زرارہ کے بھتیجے تھے اور ایک کتاب کے مصنف تھے۔ یہ چند نام ہیں ان کثیر علمائ و فقہا و محدثین میں سے جنہوں نے امام محمد باقر علیہ السّلام سے علوم اہل بیت علیہ السّلام کو حاصل کر کے کتب کی صورت میں محفوظ کیا- یہ اور پھر اس کے بعد امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور میں جو سینکڑوں کتب تصنیف ہوئیں یہی وہ سرمایہ تھا جس سے بعد میں کافی#- من لا یحضرہ, تہذیب اور استبصار ایسے بڑے حدیث کے خزانے جمع ہو سکے جن پر شیعیت کا آسمان دورہ کرتا رہا ہے-

اخلاق و اوصاف

آپ کے اخلاق وہ تھے کہ دشمن بھی قائل تھے چنانچہ ایک شخص اہل شام میں سے مدینہ میں قیام رکھتا تھا اور اکثر امام محمد باقر علیہ السلام کے پاس آ کر بیٹھا کرتا تھا- اس کا بیان تھا کہ مجھے اس گھرانے سے ہرگز کوئی خلوص و محبت نہیں مگر آپ کے اخلاق کی کشش اور فصاحت وہ ہے جس کی وجہ سے میں آپ کے پاس آنے اور بیٹھنے پر مجبور ہوں-

امورِ سلطنت میں مشورہ

سلطنتِ اسلامیہ حقیقت میں ان اہل بیت رسول کا حق تھی مگر دنیا والوں نے مادی اقتدار کے آگے سر جھکایا اور ان حضرات کو گوشہ نشینی اختیار کرنا پڑی- عام افراد انسانی کی ذہنیت کے مطابق اس صورت میںاگرچہ حکومتِ وقت کسی وقت ان حضرات کی امداد کی ضرورت محسوس کرتی تو صاف طور پر انکار میں جواب دیا جا سکتا تھا مگر ان حضرات کے پیش نظر اعلی ظرفی کا وہ معیار تھا جس تک عام لوگ پہنچے ہوئے نہیں ہوتے- جس طرح امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے سخت موقعوں پر حکومت وقت کو مشورے دینے سے گریز نہیں کیا اسی طرح اس سلسلہ کے تمام حضرات علیہ السّلام نے اپنے اپنے زمانہ کے بادشاہوں کے ساتھ یہی طرزِ عمل اختیار کیا- چنانچہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ایسی صورت پیش آئی- واقعہ یہ تھا کہ حکومتِ اسلام کی طرف سے اس وقت تک کوئی خاص سکہ نہیں بنایا گیا تھا- بلکہ روی سلطنت کے سکے اسلامی سلطنت میں بھی رائج تھے- ولید بن عبدالملک کے زمانہ میں سلطنت شام اور سلطان روم کے درمیان اختلافات پیدا ہو گیا- رومی سلطنت نے یہ ارادہ ظاہر کیا کہ وہ اپنے سکوں پر پیغمبر اسلام کی شان کے خلاف کچھ الفاظ درج کرا دے گی اس پر مسلمانوں میں بڑی بے چینی پیدا ہو گئی- ولید نے ایک بہت بڑا جلسہ مشاورت کے ليے منعقد کیا جس میں عالم السلام کے ممتاز افراد شریک تھے- اس جلسہ میں امام محمد باقر علیہ السلام بھی شریک ہوئے اور آپ نے یہ رائے دی کہ مسلمان کو خود اپنا سکہ ڈھالنا چاہئے جس میں ایک طرف لاالٰہ الااللّٰہ اور دوسری طرف محمد رسول اللّٰہ نقش ہو- امام علیہ السّلام کی اس تجویز کے سامنے سر تسلیم خم کیا گیا اور اسلامی سکہ اس طور پر تیار کیا گیا-

سلطنت بنی امیہ کی طرف سے مزاحمت

باوجودیکہ امام محمد باقر معاملاتِ ملکی میں کوئی دخل نہ دیتے تھے اور دخل دیا بھی تو سلطنت کی خواہش پر وقارِ اسلامی کے برقرار رکھنے کے ليے- مگر آپ کی خاموش زندگی اور خالص علمی اور روحانی مرجعیت بھی سلطنت وقت کو گوارا نہ تھی چنانچہ ہشام بن عبدالملک نے مدینہ کے حاکم کو خط لکھا کہ امام باقر کو ان کے فرزند امام جعفر صادق کے ہمراہ دمشق بھیج دیا جائے- اس کو منظور یہ تھا کہ حضرت کی عزت و وقار کو اپنے خیال میں دھچکا پہنچائے چنانچہ جب یہ حضرات علیہ السّلام دمشق پہنچے تو تین دن تک ہشام نے ملاقات کا موقع نہیں دیا- چوتھے دن دربار میں بلا بھیجا- ایک ایسے موقع پر کہ جب وہ تخت شاہی پر بیٹھا تھا اور لشکر داہنے اور بائیں ہتھیار لگائے صف بستہ کھڑا تھا اور وسط دربار میں ایک نشانہ تیراندازی کا مقرر کیا گیا تھا اور رؤسائ سلطنت اس کے سامنے شرط باندھ کر تیر لگاتے تھے امام علیہ السلام کے پہنچنے پر انتہائی جراَت اور جسارت کے ساتھ اس نے خواہش کی کہ آپ بھی ان لوگوں کے ہمراہ تیر کا نشانہ لگائیں- ہر چند حضرت علیہ السّلام نے معذرت فرمائی مگر اس نے قبول نہ کیا- وہ سمجھتا تھا کہ آل محمد طویل مدت سے گوشہ نشینی کی زندگی بسر کر رہے ہیں- ان کو جنگ کے فنون سے کیا واسطہ, اور اس طرح منظور یہ تھا کہ لوگوں کو ہنسنے کا موقع ملے- مگر وہ یہ نہ جانتا تھا کہ ان میں سے ہر ایک فرد کے بازو میں علی علیہ السّلام کی قوت اور دل میں امام حسین علیہ السّلام کی طاقت موجود ہے- وہ حکم الٰہی اور فرض کا احساس ہے جس کی وجہ سے یہ حضرات ایک سکون اور سکوت کا مجسمہ نظر آتے ہیں- یہی ہوا کہ جب مجبور ہو کر حضرت نے تیر و کمان ہاتھ میں لیا اور چند تیرپے در پے ایک ہی نشانے پر بالکل ایک ہی نقطہ پر لگائے تو مجمع تعجب اور حیرت میں غرق ہو گیا اور ہر طرف سے تعریفیں ہونے لگیں- ہشام کو اپنے طرزِ عمل پر پشیمان ہونا پڑا- اس کے بعد اس کو یہ احساس ہوا کہ امام علیہ السلام کا دمشق میں قیام کہیں عام خلقت کے دل میں اہل بیت علیہ السّلام کی عظمت قائم کر دینے کا سبب نہ ہو- اس لیے اس نے آپ کو واپس مدینہ جانے کی اجازت دے دی مگر دل میں حضرت علیہ السّلام کے ساتھ عداوت میں اور اضافہ ہو گیا۔

وفات

سلطنتِ شام کو جتنا حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام کی جلالت اور بزرگی کا اندازہ زیادہ ہوتا گیا اتنا ہی آپ کا وجود ان کے ليے ناقابل برداشت محسوس ہوتا رہا- آخر آپ کو اس خاموش زہر کے حربے سے جو اکثر سلطنت بنی امیہ کی طرف سے کام میں لایا جاتا رہا تھا شہید کرنے کی تدبیر کر لی گئی- وہ ایک زین کا تحفہ تھا جس میں خاص تدبیروں سے زہر پوشیدہ کیا گیا تھا اور جب حضرت اس زین پر سوار ہوئے تو زہر جسم میں سرایت کر گیا۔ چند روز کرب و تکلیف میں بستر بیمار پر گزرے اور آخرت سات ذی الحجہ ~0114ئھ کو ~057برس کی عمر میں وفات پائی۔

آپ کو حسب وصیت تین کپڑوں کا کفن دیا گیا جن میں سے ایک وہ یمنی چادر تھی جسے اوڑھ کر آپ روز جمعہ نماز پڑھتے تھے اور ایک وہ پیراہن تھا جسے آپ ہمیشہ پہنے رہتے تھے اور جنت البقیع میں اسی قبہ میں کہ جہاں حضرت امام حسن علیہ السّلام اور امام زین العابدین علیہ السّلام دفن ہو چکے تھے حضرت علیہ السّلام بھی دفن کئے گئے۔