عبداللہ بن ابی قحافہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ابوبکر صدیق سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Padlock.svg اس صفحہ کو ترامیم کیلیے نیم محفوظ کر دیا گیا ہے اور صارف کو اندراج کر کے داخل نوشتہ ہونا لازم ہے؛ (اندراج کریں یا کھاتہ بنائیں)
ابوبکر
Abu bakr.png
خلافت راشدہ
Abubakr'sreign.png
خلافت رسول
مکمل نام ابوبکر
(أبو بكر الصديق)
عہد 8 جون 632ء (10ھ) – 23 اگست 634ء (12ھ)
پیدائش 573ء
مکہ معظمہ، عرب
مقام پیدائش مکہ معظمہ، عرب
وفات 23 اگست 634 (عمر 61 سال)
مقام وفات مدینہ منورہ، عرب
جائے تدفین بجانب قبر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد نبوی، مدینہ منورہ
پیشرو -
جانشین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ
والد عثمان ابو قحافہ
والدہ سلمیٰ ام الخیر
بھائی ۔ معتق
۔ عتیق
۔ قحافہ بن عثمان
بہنیں ۔ فردا
۔ قریبا
۔ ام عامر
شریک حیات ۔ قتیلہ بنت عبد العزٰی (مطلقہ)
۔ ام رومان بنت عامر
۔ اسماء بنت عمیس
۔ حبیبہ بنت خارجہ
بیٹے ۔ عبداللہ بن ابی بکر
۔ عبد الرحمٰن بن ابی بکر
۔ محمد بن ابی بکر
بیٹیاں ۔ اسماء بنت ابی بکر
۔ عائشہ بنت ابی بکر
۔ ام کلثوم بنت ابی بکر
خلف صدیقی
دیگر القاب ۔ الصدِّيق
۔ رفیق قبر
۔ یارِ غار
۔ شیخ اکبر
۔ عتیق
ابو بکر
خلیفۃ الرسول -

Abu bakr.png

آفتاب رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درخشندہ ستاروں میں سب سے روشن نام یار غار رسالت، پاسدار خلافت، تاجدار امامت، افضل بشر بعد الانبیاء حضرت ابوبکر صدیق کا ہے جن کو امت مسلمہ کا سب سے افضل امتی کہا گیا ہے.بالغ مردوں میں آپ سب سے پہلے حلقہ بگوش اسلام ہوئے. آپ کی صاحب زادی حضرت عائشہ صدیقہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمکی سب سے محبوب زوجہ ہونے کا شرف حاصل ہوا.

ابتدائی زندگی

واقعہ فیل کے تین برس بعد آپ کی مکہ میں ولادت ہوئی.آپ کا سلسلہ نسب ساتویں پشت پر سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مل جاتا ہے.آپ کا نام پہلے عبداکعبہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بدل کر عبداللہ رکھا ، آپ کی کنیت ابوبکر تھی. آپ قبیلہ قریش کی ایک شاخ بنو تمیم سے تعلق رکھتے تھے.آپ کے والد کا نام عثمان بن ابی قحافہ اور والدہ کا نام ام الخیر سلمٰی تھا. آپ کا خاندانی پیشہ تجارت اور کاروبار تھا. مکہ میں آپ کے خاندان کو نہایت معزز مانا جاتا تھا. کتب سیرت اور اسلامی تاریخ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعث سے قبل ہی آپ کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان گہرے دوستانہ مراسم تھے. ایک دوسرے کے پاس آمدرفت ، نشست و برخاست، ہر اہم معاملات پر صلاح و مشورہ روز کا معمول تھا.مزاج ميں یکسانیت کے باعث باہمی انس ومحبت کمال کو پہنچا ہوا تھا.بعث کے اعلان کے بعد آپ نے بالغ مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا. ایمان لانے کے بعد آپ نے اپنے مال و دولت کو خرچ کرکے موذن رسول حضرت بلال سمیت بے شمار ایسے غلاموں کو آزاد کیا جن کو ان کے ظالم آقاؤں کی جانب سے اسلام قبول کرنے کی پاداش میں سخت ظلم وستم کا نشانہ بنایا جارہا تھا. آپ کی دعوت پر ہی حضرت عثمان RAZI.PNG ، حضرت زبیر بن العوامRAZI.PNG، حضرت طلحہRAZI.PNG ، حضرت عبدالرحمن بن عوفRAZI.PNG اور حضرت سعد بن وقاص RAZI.PNG جیسے اکابر صحابہ ایمان لائے جن کو بعد میں دربار رسالت سے عشرہ مبشرہ کی نوید عطا ہوئي.


ارادہ ہجرت

جب قریش مکہ کے مظالم اپنی انتہا کو چھونے لگے تو سرکار دوعالمصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسلمانوں کو حبشہ کی جانب ہجرت کی اجازت دے دی.اہل ایمان کی بڑی تعداد نے اس پر لبیک کہا اور حبشہ کی جانب ہجرت کرنا شروی کردی.اس موقع پر آپ بھی حکم نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سرتسلیم خم کرتے ہوئے حبشہ کے سفر پر روانہ ہوگئے۔ تاہم اہلیان مکہ میں آپ کی عزت کا یہ عالم تھا کہ آپ نے اپنے سفر کا کچھ ہی حصہ طے کیا تھا کہ کفار مکہ کے ایک طاقتور سردار ابن دغنہ سے برداشت نہ ہوسکا. اس نے باوجود ایمان نا لانے کے آپ کو روک لیا اور اپنی حمایت اور پناہ پیش کردی. اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مسلمان ہوجانے کے باوجود آپ کی مکہ میں کس قدر عزت منزلت تھی.

القاب و خطاب

صدیق اور عتیق آپ کے خطاب ہیں جو آپ کو دربار رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عطا ہوئے.آپ کو دو مواقعوں پر صدیق کا خطاب عطا ہوا.اول جب آپ نے نبوت کی بلا جھجک تصدیق کی اور دوسری بار جب آپ نے واقعہ معراج کی بلا تامل تصدیق کی .اس روز سے آپ کو صدیق اکبر کہا جانے لگا.

مدینہ ہجرت

جب سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسلمانوں کو مدینہ ہجرت کا حکم دیا تو آپ کو سرکار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہمسفر بننے کا اعزاز حاصل ہوا. اس سفر میں آپ نے تمام مواقعوں بالخصوص غار ثور میں قیام کے دوران حق دوستی ادا کردیا۔ آپ کو اس سفر ہجرت کے حوالے سے میں " ثانی الاثنین " کے لقب سے یاد کیا گیا ہے (سورۃ توبہ 40 )


ایثار و سخاوت

آپ کو بدر ،احد،خندق،تبوک،حدیبیہ،بنی نظیر ، بنی مصطلق ،حنین، خیبر،فتح مکہ سمیت تمام غزوات میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمکی ہمراہی کا شرف حاصل رہا.غزوہ تبوک میں آپ نے جو اطاعت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اعلی مثال قائم کی جس کی نظیر ملنا مشکل ہے.اس غزوہ میں سرکاردو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ترغیب پر تمام صاحب اسطاعت صحابہ نے دل کھول کر لشکر اسلامی کی امداد کی مگر ابوبکر نے ان سب پر اس طرح سبقت حاصل کی کہ آپ اپنے گھر کا سارا سامان لے آئے.جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ " اے ابوبکر ! گھر والوں کے لئے بھی کچھ چھوڑا ہے"؟ تو آپ نے عرض کی " گھر والوں کے لئے اللہ اور اس کا رسولصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی کافی ہے ".

پروانے کو چراغ ہے ، بلبل کو پھول بس صدیق کے لئے ہے خدا کا رسول بس


حیات طیبہ میں امامت

حیات طیبہ کے آخری ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو نماز وں کی امامت کا حکم دیاا. آپ نے مسجد نبوی میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر مصلی رسول پر 17 نمازوں کی امامت فرمائي.رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ اقدام آپ کی خلافت کی طرف واضح اشارہ تھا. ایک دفعہ نماز کے اوقات میں آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ مدینہ سے باہر تھے۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو نہ پا کر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو نماز کی امامت کو کہا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو امامت کرواتا دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا "اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ پسند کرتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ نماز کی امامت کرے.یہ بات حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اعتماد کا اظہار تھا کہ آپ ہی مسلمانوں کے پہلے خلیفہ ہوں گے چنانچہ آپ پہلے خلیفہ المسلمین منتخب ہوئے.

اول امیر المومنین

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد صحابہ کرام کے مشورے سے آپ کو جانشین رسول مقرر کیا گیا.آپ کی تقرری امت مسلمہ کا پہلا اجماع کہلاتی ہے.بار خلافت سنبھالنے کے بعد آپ نے مسلمانوں کے سامنے پہلا خطبہ دیا.


میں آپ لوگوں پر خلیفہ بنایا گیا ہوں حالانکہ میں نہیں سمجھتا کہ میں آپ سب سے بہتر ہوں. اس ذات پاک کی قسم ! جس کے قبضے میں میری جان ہے، میں نے یہ منصب و امارت اپنی رغبت اور خواہش سے نہیں لیا، نہ میں یہ چاہتا تھا کہ کسی دوسرے کے بجائے یہ منصب مجھے ملے، نہ کبھی میں نے اللہ رب العزت سے اس کے لئے دعا کی اور نہ ہی میرے دل میں کبھی اس (منصب) کے لئے حرص پیدا ہوئی. میں نے تو اس کو بادل نخواستہ اس لئے قبول کیا ہے کہ مجھے مسلمانوں میں اختلاف اور عرب میں فتنہ ارتدار برپا ہوجانے کا اندیشہ تھا. میرے لئے اس منصب میں کوئی راحت نہیں بلکہ یہ ایک بارعظیم ہے جو مجھ پر ڈال دیا گیا ہے. جس کے اٹھانے کی مجھ میں طاقت نہیں سوائے اس کے اللہ میری مدد فرمائے. اب اگر میں صحیح راہ پر چلوں تو آپ سب میری مدد کیجئے اور اگر میں غلطی پر ہوں تو میری اصلاح کیجئے. سچائي امانت ہے اور جھوٹ خیانت، تمہارے درمیان جو کمزور ہے وہ میرے نزدیک قوی ہے یہاں تک کے میں اس کا حق اس کو دلواؤں . اور جو تم میں قوی ہے وہ میرے نزدیک کمزور ہے یہاں تک کہ میں اس سے حق وصول کروں. ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی قوم نے فی سبیل اللہ جہاد کو فراموش کردیا ہو اور پھر اللہ نے اس پر ذلت مسلط نہ کی ہو،اور نہ ہی کبھی ایسا ہوا کہ کسی قوم میں فحاشی کا غلبہ ہوا ہو اور اللہ اس کو مصیبت میں مبتلا نہ کرے.میری اس وقت تک اطاعت کرنا جب تک میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم کی راہ پر چلوں اور ا گر میں اس سے روگردانی کروں تو تم پر میری اطاعت واجب نہیں (طبری. ابن ہشام)


طرز حکمرانی

امیرالمومنین منتخب ہونے کے اگلے روز آپ نے قصد کیا کہ آپ اپنی تجارتی سرگرمیوں کا آغاز کریں تاکہ معاشی معاملات کو انجام دیا جاسکے۔ راستے میں حضرت عمر سے ملاقات ہوئی . انہوں نے آپ سے عرض کیا " یا امیرالمومنین  ! آپ کہاں تشریف لے جارہے ہیں؟" آپ نے فرمایا "تجارت کی غرض سے بازار کی طرف جارہا تھا". حضرت عمر نے فرمایا " اب آپ امیر المومنین ہیں"،" تجارت اور مسلمانوں کے باہمی معاملات ایک ساتھ کیسے چلیں گے ؟". آپ نے فرمایا " بات تو آپ (عمر) کی درست ہے مگر اہل وعیال کی ضروریات کیسے پوری کی جائیں گی؟". حضرت عمر نے عرض کیا " آئیے حضرت ابوعبیدہ کے پاس چلتے ہیں اور ان سے مشورہ کرتے ہیں.( واضح رہے کہ حضرت ابوعبیدہ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امت کا امین مقرر کیا تھا اسی لئے بیت المال کی نگرانی بھی آپ ہی کے زمہ تھی). حضرات شیخین ، امین الامت کے پاس پہنچے اور صورتحال ان کے سامنے رکھ دی.امین الامت نے فرمایا " اب ابوبکر مسلمانوں کے خلیفہ ہیں.مسلمانوں کے مسائل اور معاملات کے زمہ دار ہیں.خلافت کے معاملات کو نبٹانے کے لئے طویل وقت اور سخت محنت درکار ہوتی ہے.اگر خلیفہ تجارت کریں گے تورعایا کا حق ادا نہ کرسکیں گے.لہذا ان کی اور ان کے اہل وعیال کی ضرورت کے لئے بیت المال سے وظیفہ مقرر کردینا چاہیے.اب سوال یہ تھا کہ وظیفہ کی مقدار کتنی ہو ؟ اس موقعہ پر حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ " جتنا مدینے کے کسی ایک مزدور کی آمدنی ہوتی ہے اتنا کافی رہے گا" عرض ہوا کہ اتنے کم سے تو آپ کا گزارہ نہیں ہوسکے گا " آپ نے فرمایا "اگر اس سے ایک عام آدمی کے گھر کا گزارہ ہوسکتا ہے تو خلیفہ کا بھی ہونا چاہیے۔ اگر نہیں ہوسکتا تو اس کا مطلب ہے کہ ایک عام مزدور کس طرح گزارہ کرتا ہوگا". چناچہ خلافت اسلامی کے اس پہلے تاجدار کا وظیفہ ایک عام مزدور کے مساوی مقرر ہوا. بعد ازاں آپ نے اس قلیل رقم میں مزید کمی کروادی. واقعہ یوں ہے کہ آپ کو میٹھا مرغوب تھا.اب روز جو مقدار بیت المال سے عطا ہوتی اس میں ہی گزارہ کرنا دشوار تھا چاجائیکہ میٹھا کہاں سے آتا ؟ آپ کی زوجہ محترمہ نے یہ کیا کہ روز جو آٹا بیت المال سے آتا تھا اس میں سے چٹکی چٹکی جمع کرنا شروع کردیا.جب اس کی مقدار زیادہ ہوگئی تو ایک روز میٹھا تیار کرکے دسترخوان پر رکھا گیا. آپ نے فرمایا " یہ کہاں سے آيا؟ ".زوجہ محترمہ نے عرض کیا " گھر میں بنایا ہے" آپ نے فرمایا " جو مقدار ہم کو روزانہ ملتی ہے اس میں تو اس کی تیاری ممکن نہیں؟".زوجہ محترمہ نے سارا ماجرہ عرض کیا. آپ نے یہ سن کر فرمایا " اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم کو اتنی مقدار ( جو روز کفایت کی گئی) ہم کو روزانہ زیادہ ملتی ہے اس سے کم میں بھی گزارہ ہوسکتا ہے.لہذا اس کو بیت المال میں داخل کروادیا جائے اور آئندہ سے روزانہ ملنے والے وظیفے سے یہ مقدار کم کردی جائے".

یہ ایک تاریخ ساز حقیقت ہے کہ خلیفہ المسلمین، جانشین پیمبر حضرت ابو بکر صدیق نے خلافت کا منصب و زمہ داری سنبھالتے ہی پہلے روز اپنے خطبے میں جس منشو ر کا اعلان فرمایا پورے دور خلافت میں اس کے ہر حروف کی مکمل پاسداری کی.آپ کی دینی ومذہبی خدمات تاریخ اسلام کا روشن باب ہیں.مغربی مورخین (جو عموما تاریخ اسلام کے واقعات بیان کرنے میں تعصب اور جانبداری سے کام لیتے آئے ہیں) عہد صدیقی کی کچھ ان الفاظ میں تشریح کرتے ہیں. " حضرت ابوبکر کا دور گو کہ نہایت مختصر تھا مگر خود اسلام ، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کسی اور کا اتنا احسان مند نہیں جتنا ابو بکر RAZI.PNG کا ہے.

کارہائے نمایاں

جیش اسامہ کی روانگی

اس لشکر کی تشکیل رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے عہد مبارکہ میں ہی کردی تھی تاہم آپ کے وصال کے بعد ریاست الاسلامی کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات کے پیش نظر صحابہ کرام کی اکثریت اس لشکر کی فوری روانگی کے حق میں نہیں تھی .اس موقع پر آپ نے موقف اختیار کیا کہ اس لشکر کی تشکیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بذات خود فرمائی ہے اس لئے اس کی روانگی میں کسی قسم کی تاخیر مناسب نہیں. اس لشکر نے زبردست کامیابیاں حاصل کیں اور فتوحات شام کا دروازہ کھول دیا.

فتنہ منکرین زکوۃ

خلیفہ منتخب ہونے کے بعد سب سے پہلے جس فتنہ نے سر اٹھایا وہ منکرین زکوۃ کا تھا. آپ نے فیصلہ کیاا کہ ان منکرین کے خلاف جہاد کیا جائےگا کیونکہ یہ غریبوں کو ان کا حق نہیں دیتے.آپ نے اعلان کیا کہ تمام انسانوں کی ضروریات یکساں ہیں اس لئے سب کو یکساں معاوضہ دیا جائے اور ان کی ضروریات بیت المال سے پوری کی جائیں.

انسدادفتنہ ارتداد

حضرت ابوبکر (رض) کے دور کے شروع میں فتنہ ارتداد زوروں پر تھا لیکن صدیق اکبر کی مستقل مزاجی اور صبر سے اسلام پر خطرناک ترین دور بخیر و عافیت ان کی موجودگی میں ختم ہوا اور عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ یقینی بنایا گيا.آپ نے اس فتنہ کے انسداد کی مہم پر حضرت خالد بن ولید کو مامور کیا جنہوں نے کئی مرتدین بشمول مدعی باطل طلیحہ اور مسلمہ کذاب جیسے خطرناک عناصر کا مکمل خاتمہ کردیا.

تسخیر عراق و شام

آپ نے مملکت اسلامیہ کے دونوں جانب موجود اس وقت کی بڑی طاقتوں کو للکارا ۔ ایک جانب شام پر تسخیر کی خاطر پہلے حضرت اسامہ بن زید کے لشکر کو شام روانہ کیا جس نے قیصر روم کی افواج کو شکست فاش دے کر شام کی فتوحات کا آغاز کیا.بعد ازاں حضرت ابوعبیدہ ا بن الجراح اور یزید بن ابوسفیان کی قیادت میں لشکر کشی جاری رہی یہاں تک کہ یہ جنگی لحاظ سے اہم ترین صوبہ قیصرروم کے اقتدار سے نکل کر اسلامی خلافت کا حصہ بن گیا

.دوسری جانب حضرت خالد بن ولید اور حضرت مثنی بن حارثہ جیسے مایہ ناز جرنیلوں کے زیر قیادت فوجیں روانہ کرکے شاہ کسری کے اقتدار پر زبردست ضرب لگائي .



تدوین ‌قرآن

عہد خلافت میں آپ کے زریں کارناموں میں ایک قرآن پاک کو یکجا کرکے ایک مصحف کی تشکیل کرنا ہے. اس کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ عربوں میں حافظہ کی قوت کو نہایت اہمیت حاصل تھی.کسی بھی چیز کو حافظہ کی بنیاد پر یاد رکھنا ، تحریر ی صورت میں یاد رکھنے پر فوقیت رکھتا تھا. اسی لئے صحابہ کرام کی ایک بڑی تعداد کو قرآن کریم کا بیشتر حصہ حفظ تھا.عہد صدیقی میں جنگ یمامہ ہوئی جس میں حفاظ کرام صحابہ کی ایک بڑی تعداد نے جام شہادت نوش فرمایا. اس موقع پر حضرت عمر فاروق کو یہ خدشہ لاحق ہوا کہ آنے والے دور میں حفاظ کی کمی کے باعث قرآن کریم میں اختلاف پیدا نہ ہوجائے. آپ نے یہ رائے صدیق اکبر کے سامنے رکھی کہ ‌قرآن پاک کو ایک کتابی شکل میں مرتب کیا جائے.آپ نے اول تو انکار کیا مگر جب اکابر صحابہ نے اصرار فرمایا تو آپ (صدیق اکبر) نے اس کو قبول فرمالیا اور کاتب وحی حضرت زید بن ثابت کو اس قرآن پا ک کو ایک مجوعہ کی شکل میں مرتب کرنے کا حکم دیا جنہوں نے صحابہ کرام کے سینوں میں محفوظ اور متفرق اورا‌ق کو یکجا کرکے یہ خدمت انجام دی.بعد ازاں حضرت عثمان RAZI.PNG کے دور خلافت میں اسی صحیفہ سے نقول کروا کر دیگر صوبہ جات میں بھجوائی گئیں.


حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے وقت صحابہ کرام کی تسکین کی خاطر کے لئے آپ کی استقامت اور خطبے کے زریعے ان میں تسکین قلب پیدا کرنا اور امت میں انتشار کے خدشہ کے پیش نظر بار خلافت قبول فرمالینا، قرآن کریم کی تدوین مرتدین اور منکرین زکوۃ سے اعلان جہاد، حضرت اسامہ بن زید کی قیادت میں شام کی جانب لشکر روانہ کرنا اور اس عزم پر ثابت قدم رہنا ،مملکت شام کی جانب افواج کی روانگی اور انہیں کمک پہنچانا، خلافت اسلامی کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے دفاع واستحکام اور عامتہ المسلمین کی فلاح کے لئے اقدامات،اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لئے تمام ممکنہ تدابیر اختیار کرنا آپ کی دینی و مذہبی خدمات کے کارہائے نمایاں شمار ہوتے ہیں.

سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نظر میں

  • میں نے جس شخص پر اسلام پیش کیا اس نے پس وپیش سے کام لیا مگر ایک واحد ابوبکر تھے جنہوں نے میری ایک آواز پر لبیک کہا اور اسلام قبول کیا.
  • ابو بکر کے مال نے مجھے جتنا نفع پہنچایا اتنا نفع مجھے کسی کے مال سے نہیں پہنچا . اس پر حضرت ابوبکر صدیق نے روتے ہوئے عرض کیا " یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! میں اور میرا مال سب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی کا ہے.
  • میں اگر اللہ کے سوا کسی کو اپنا دوست و خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا.
  • ایک موقعہ پر سرکار صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آج سے مسجد نبوی میں کھلنے والی تمام کھڑکیاں اور دروازے بند کردیئے جائیں آ‏ئندہ صرف ابوبکر کا دروازہ کھلا رکھا جائے گا.
  • آپ امت پر اتنے شفیق تھے کہ ایک روز سرکار دوعالمصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا "میری امت پر ان میں سب سے مہربان ابوبکر ہیں."(ترمذی)
  • تم (ابوبکرصدیق) غار میں بھی میرے ساتھ رہے اور بروز قیامت حوض کوثر پر بھی میرے ہمراہ ہوگے. (ترمذی)
  • انبیا کرام کے سوائے سورج کبھی ابوبکر سے بہتر آدمی پر طلوع نہیں ہوا.
  • کسی قوم کے لئے بہتر نہیں کہ ان میں ابوبکر ہوں اور ان کی امامت کوئی دوسرا کرے.
  • اے ابوبکر ! تم کو اللہ جل شانہ نے آتش جہنم سے آزاد کردیا ہے۔ اسی روز سے آپ کا لقب عتیق مشہور ہوگیا.
  • ایک روز آپ {{}} نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا " یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا کوئی شخص ایسا بھی ہے جس کو بروز قیامت جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے گا ؟ " ، سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا " ہاں ابوبکر ! مجھے امید ہے کہ تم انہی لوگوں میں سے ہو" (بخاری)
  • سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک روز ارشاد فرمایا ا " ہم نے ہر شخص کے احسان کا بدلہ چکادیا مگر ابوبکر کے احسانات ایسے ہیں کہ ان کا بدلہ اللہ جل شانہ ہی عطا فرمائے گا".

آپ کو یہ اعزاز بھی تنہا حاصل ہے کہ آپ کی مسلسل چار نسلوں کو شرف صحابیت حاصل ہوا.آپ کے والد گرامی حضرت ابی قحافہ آپ خود ، آپ کے صاحبزادے عبدالرحمن اور پوتے ابو عتیق محمد بھی شرف صحابیت سے مشرف ہوئے.رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ساری زندگی آپ پر کسی دوسرے کو فضیلت نہیں دی.




صحابہ کی نظر میں

حضرت عمر فرماتے ہیں کہ " حضرت ابوبکر ہمارے سردار،ہمارے بہترین فرد،اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہم سب سے زیادہ محبوب تھے.

ایک موقع پر حضرت عمر فاروق نے ارشاد فرمایا کہ " اگر ابوبکر شب ہجرت میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اور مرتدین سے قتال کا کارنامہ مجھے دے کر میری ساری عمر کے اعمال لے لیں تو میں سمجھوں گا کہ میں ہی فائدے میں رہا".

حضرت عمر ارشاد فرماتے ہیں کہ " ابوبکر نے ایسا راستہ اختیار کیا کہ اپنے بعد آنے والے کو مشقت میں ڈال گئے". اس عظیم خلیفہ نے ہر معاملے میں اپنا وہ ہی معیار رکھا جو اس وقت کسی عام مزدور کا ہوا کرتا تھا.


حضرت علی فرماتے ہیں کہ قسم ہے اس رب کی جس نے رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم کو آخری رسول بنا کر بھیجا اور ابوبکر سے اس کی تصدیق کروائی (تاریخ خلفاء)

حضرت معصب بن عمیر فرماتے ہیں "اس امرپر تمام امت کا اتفاق ہے کہ حضرت ابوبکر کا لقب صدیق ہے کیونکہ آپ نےبے خوف ونڈر ہوکر رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تصدیق کی اور اس میں کسی قسم کی کوئی جھجک سرزر نہیں ہوئی.

وفات

22 جمادی الثانی 13 ہجری بمطابق 23 اگست 634 ء کو آپ نے 63 برس کی عمر میں مدینہ منورہ میں وفات پائی. ۔ اپنی وفات سے پہلےآپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مسلمانوں کو ترغیب دی کی وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو خلیفہ تسلیم کر لیں۔ لوگوں نے آپ کی ہدایت پر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو خلیفہ تسلیم کر لیا. وفات کے وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے وہ تمام رقم جو کہ بطور وظیفہ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بیت المال سے دوران خلافت لی تھی اپنی وراثت سے بیت المال کو واپس کر دی. .آپ کی مدت خلافت دو سال تین ماہ اور گیارہ دن تھی.زندگی میں جو عزت واحترام آپ کو ملا . بعد وصال بھی آپ اسی کے مستحق ٹھیرے او سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمکے پہلو میں محو استراحت ہوئے.آپ کی لحد سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بائیں جانب اس طرح بنائی گئي کہ آپ کا سر ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے شانہ مبارک تک آتا ہے.

اقوال

تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی تحقیر نہ کرے، کیونکہ اللہ جل شانہ کے نزدیک ادنی درجے کا مسلمان بھی اعلی درجہ رکھتا ہے. ہم نے بزرگی کو تقوی میں، بےنیازی کو یقین میں اورعزت کو تواضح میں پایا. اللہ جل شانہ وہی اعمال قبول فرماتا ہے جو صرف اس کی رضا کیلئے کئے جائیں. جس نے پنج وقتہ نمازیں پابندی وقت کے ساتھ خشوع وخضوع سے ادا کیں تووہ اللہ کی حفاظت میں آگیا. اے لوگوں ! اللہ کے خوف سے رو، اگر رو نہ سکو تو رونے کی کوشش ضرور کرو مسلمان کا حق مارنے والے پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے. جس جسم کی غذا حرام ہو وہ جہنم میں داخل کیا جائے گا. سچ بولنا اور نیکی کرنا جنت اور جھوٹ بولنا اور بدکاری کرنا دوزخ ہے. جس کام کے کرنے کا اللہ تعالٰی نے اپنی رحمت کا وعدہ فرمایا ہے اس کے کرنے میں جلدی کرو.

بیرونی روابط

اردو سمعہ

عبداللہ بن ابی قحافہ
مناصبِ اہل سنت
نیا عہدہ خلیفہ راشد
632–634
جانشین
عمر بن خطاب