زیاد بن ابی سفیان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

حضرت امیر معاویہ کے ایک اہم مشیر ۔ اتنہائی ذہن انسان تھا۔ بہت بہادر جرنیل اور بہت اچھا منتظم تھا۔


حضرت علی کی حمایت[ترمیم]

شروع میں حضرت علی کے معروف حامیوں میں سے تھا اور حضرت علی نے اسے کرمان اور فارس کا گورنر مقرر کیا تھا۔ حضرت علی کے بعد حضرت حسن کے ساتھ منسلک رہے۔ لیکن ان کی دسترداری کے بعد مشرقی علاقوں میں آزاد حکمران بن گیا۔ اس کی اعلیٰ صلاحیتوں کے سبب امیر معاویہ اس سے خائف تھے اور وہ یہ سمجھتا تھا کہ امیر معاویہ اسے کسی قیمت پر معاف نہیں کریں گے۔ مغیرہ بن شعبہ امیر معاویہ کے مشیر بنے تو انہوں نے زیاد اور امیر معاویہ کے درمیان معاملات طے کرا دئیے۔


امیر معاویہ کے مشیر[ترمیم]

اس طرح زیاد دمشق گیا ۔ امیر معاویہ نے نہ صرف اس کا گرمجوشی سے استقبال کیا بلکہ یہ اعلان بھی کیا کہ وہ اس کے والد ابوسفیان کا بیٹا اور ان کا بھائی ہے۔ اس سے زیاد کو نفسیاتی سکون ملا اور اس نے بہت وفاداری سے اموی حکومت کی خدمت کی ۔زیاد شروع میں مغیرہ بن شعبہ کا مشیر بنا پھر بصرہ کا گورنر اور مغیرہ کی وفات کے بعد کوفہ و بصرہ دونوں جگہ کا گورنر بنا ۔ وہ سال کا نصف حصہ ایک جگہ گزارتا تھا اور باقی نصف دوسری جگہ ۔ نہایت سخت گیر حکمران تھا۔ اس نے شورش پسند عراقیوں کو سختی سے کچل دیا۔ کوفہ و بصرہ میں فوج اور پولیس کی تعداد میں اضافہ کیا۔ مشتبہ افراد کی نگرانی کی۔ رات بھر کا پہرہ نافذ کیا جو اتنا سخت تھا کہ رات کو گھر سے باہر نکلنے والا قتل کر دیا جاتا ۔ زیاد نے بنو امیہ کے مخالفین کو چن چن کر قتل کروا دیا۔ ان میں صحابی رسول حجر بن عدی اور ان کے ساتھ بھی شامل تھے۔ جن کو قتل کروانے کے لیے مغیرہ تیار نہیں ہوئے تھے۔

یزید نے حضرت حسین کے خلاف فوجی کاروائی کے لیے اس کے بیٹے عبید اللہ بن زیاد کو مقرر کیا تھا جو ابن زیاد کے نام سے مشہور ہے جو اس کی وفات 673ھ کے بعد اس کا جانشین مقرر کیا گیا تھا۔