مغیرہ ابن شعبہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

عرب کے معروف مدبر اور صحابی ۔ مغیرہ بن شعبہ بنو ثقیف کے چشم و چراغ تھے۔ 5 ھ میں طائف سے مدینہ آکر مشرف با اسلام ہوئے اور اس کے بعد یہیں کے ہو رہے۔ نبی اکرم کی خدمت کو شعار بنایا۔ وہ حصول علم اور اکتساب فیض کے لیے دن کا اکثر حصہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتے ۔


عہد نبوی کی خدمات[ترمیم]

صلح حدیبیہ کے وقعہ پر جب عروہ بن مسعود ثقفی نے پرانے طریقے کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک کی طرف ہاتھ بڑھایا تو آپ نے اسے جھاڑ دیا۔ حالانکہ ذاتی طور پر اس کے آپ پر بہت سے احسانات تھے۔ بیعت رضوان میں شامل ہوئے۔ آپ کو غزوہ خیبر ، فتح مکہ اور غزوہ تبوک میں شمولیت کا شرف حاصل ہوا۔ آپ کا قبیلہ 9 ہجری میں مسلمان ہوا۔ قبول اسلام کے بعد بھی ان کے قبیلے کے لوگ اپنے بت لات سے خوفزدہ تھے۔ چنانچہ حضور اکرم کے حکم سے مغیرہ بن شعبہ نے جاکر نہ صرف لات کے بت کو توڑا بلکہ اس کا مندر بھی ڈھا دیا۔ اور اس کی بنیادیں تک کھود ڈالیں۔

عہد خلافت کی خدمات[ترمیم]

عہد صدیقی میں مغیرہ بن شعبہ نے مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔ عہد فاروقی میں ایران کے خلافجنگ قادسیہ سے پہلے مسلمانوں کے سفیر کے فرائض بہت جرات سے سرانجام دئیے اور جنگ میں شرکت بھی کی۔ یزد گرد کی آخری لڑائی معرکہ نہاوندمیں آپ فوج کے اعلی سالاروں میں تھے۔ مردان شاہ کے پاس سفیر بنا کر بھی آپ ہی کو بھیجا گیا ۔ جنگ میں کامیابی کے بعد ایران کے لیڈروں کی تسخیر شروع ہوئی تو آپ کو ہمدان پر قبضے کے لیے بھیجا گیا۔

مغیرہ بن شعبہ بہادر جرنیل ہی نہیں اچھے منتظم ، مدبر اور سیاست دان بھی تھے ۔ عہد فاروقی میں کوفہ و بحرین کے گورنر مقرر کیے گئے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر سبائیوں نے حملہ کیا تو آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا کہ تین میں سے ایک صورت اختیار فرمائیے ۔ جانثاوں کو لے کر مفسدوں کا مقابلہ کیجیے یا مکہ معظمہ چلے جائیے کہ حدود حرم میں کوئی آپ پر حملہ نہ کر سکے گا۔ تیسری صورت یہ ہے کہ شام چلے جائیے کہ امیر معاویہ وہاں موجود ہیں اور وہاں امن و امان ہے۔ لیکن حضرت عثمان نے یہ مشورہ قبول نہ کیا ۔ شہادت عثمان کے بعد حضرت علی خلیفہ بنے۔ تو آپ نے انہیں مشورہ دیا کہ سارے اموی گورنر معزول نہ کریں یا کم از کم معاویہ کو فی الحال معزول نہ کریں۔ ورنہ اس کے نتائج غلط نکلیں گے ۔ حضرت علی نے یہ مشورہ قبول نہ کیا۔

امیر معاویہ کے لیے خدمات[ترمیم]

مغیرہ بن شعبہ امیر معاویہ کے معتمد علیہ مشیر تھے۔ انہوں نے مغیرہ کو کوفہ کا گورنر بنایا۔ حضرت مغیرہ نے خوارج کا کامیابی سے مقابلہ کیا۔ زیاد بن ابیہ کو امیر معاویہ کی بیعت پر آمادہ کرنے والے مغیرہ ہی تھے۔ حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کی شدید تنقید کے باوجود آپ نے ان کے خلاف کاروائی نہ کی ۔ کیونکہ ان کے خون سے اپنے ہاتھ رنگنا پسند نہ کرتے تھے۔ یزید کی ولی عہدی کی تجویز بھی آپ ہی نے پیش کی تھی