عثمان بن عفان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Padlock.svg اس صفحہ کو ترامیم کیلیے نیم محفوظ کر دیا گیا ہے اور صارف کو اندراج کر کے داخل نوشتہ ہونا لازم ہے؛ (اندراج کریں یا کھاتہ بنائیں)
۔
عثمان
Uthman.png
دور عثمانی میں اسلامی سلطنت
Mohammad adil-Rashidun-empire-at-its-peak-close.PNG
غنی
(اللہ کی راہ میں بے دریغ خرچ کرنے والا)
مکمل نام عثمان بن عفان
(عثمان بن عفان)
عہد 11 نومبر 644ء (23ھ) – 17 جولائی 656ء (35ھ)
پیدائش 679ء (59ھ)
مقام پیدائش طائف، عرب
وفات 17 جولائی 656ء (35ھ) (عمر 76-77 برس)
مقام وفات مدینہ منورہ، عرب
مقام تدفین جنت البقیع، مدینہ منورہ
پیشرو عمر بن خطاب
جانشین علی بن ابی طالب
والد عفان بن ابو العاص
والد ارویٰ بنت کریز
بہن آمنہ
شریک حیات ۔ رقیہ

۔ ام کلثوم
۔ نائلہ
۔ رملہ بنت شیبہ
۔ فاطمہ بنت الولید
۔ فاختہ بنت غزوان
۔ ام البنین

۔ ام عمرو
بیٹے ۔ عمرو (عمرو)
۔ عمر (عمر)
۔ خالد (خالد)
۔ ابان بن عثمان (أبان)
۔ عبداللہ الاصغر
(عبد الله الأصغر)
۔ Al-ولید (الوليد)
۔ سعید (سعيد)
۔ عبدالملک (عبدالملك)
بیٹیاں ۔ مریم (مريم)
۔ ام عثمان (أم عثمان)
۔ عائشہ (عائشة)
۔ ام عمرو (أم عمرو)
۔ ام ابان الکبریٰ
(أم أبان الکبرى)
۔ اروی (أروى)
۔ ام خالد (أم خالد)
۔ ام ابان الصغریٰ
(أم أبان الصغرى)
آل غنی
القاب ۔ غنى ("آللہ کی راہ میں بے دریغ خرچ کرنے والا")
۔ ذوالنورین ("دو نوروں وال")
عثمان
غنی -

خلیفہ راشد

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اسلام کے تیسرے خلیفہ راشد تھے۔ آپ نے 644ء سے 656ء تک خلافت کی ذمہ داریاں سر انجام دیں۔

ابتدائی زندگی

آپ قریش کی ایک شاخ بنو امیہ میں پیدا ہوئے۔ آپ پہلے اسلام قبول کرنے والے لوگوں میں شامل ہیں۔ آپ ایک خدا ترس اور غنی انسان تھے۔ آپ فیاض دلی سے دولت اللہ کی راہ میں خرچ کرتے۔ اسی بنا پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو غنی کا خطاب دیا۔

ذوالنورين

ذوالنورين کا مطلب ہے دو نور والا۔ آپ کو اس لئے ذوالنورين کہاجاتاہے کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کي دو صاحبزادیاں یکےبا دیگرے آپ کے نکاح میں آئیں یہ وہ واحد اعزاز ہے جو کسی اور حاصل نہ ھو سکا.آپ کا شمار عشرہ مبشرہ میں کیاجاتا ہے یعنی وہ دس صحابہ کرام جن کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ ہی جنت کی بشارت دی تھی.

ہجرت

آپ نے اسلام کی راہ میں دو ہجرتیں کیں، ایک حبشہ اور دوسری مدینہ منورہ کی طرف۔

خلافت

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات سے پہلے ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں چھ صحابی شامل تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت علی ، حضرت طلحہ ،حضرت زبیر ، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبدالرحمان بن عوف رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کمیٹی میں شامل تھے۔ اس کمیٹی نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کیا۔ آپ نے بارہ سال خلافت کی زمہ داریاں سرانجام دیں۔ آپ کے دور خلافت میں ایران اور شمالی افریقہ کا کافی علاقہ اسلامی سلطنت میں شامل ہوا۔

جامع قرآن

حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کو جامع القرآن کہا جاتا ہے۔= [1] ابن ابی داود نے بسند صحیح حضرت سوید بن غفلہ سے روائت کی انہوں نے فرمایا حضرت علی کا فرمان ہے کہ حضرت عثمان کے بارے میں خیر ہی کہو ؛ کیونکہ انہوں نے مصاحف کے بارے میں جو کچھ بھی کیا صرف اپنی رائے سے نہیں بلکہ ہماری ایک جماعت کے مشورہ سے کیا گیا [2] ان ہی سے روایت ہے میں خلیفہ ہوتا تو مصحف کے بارے میں وہی کرتا جو حضرت عثمان نے کیا {{ ===اختلاف لغات===}}قبائل عرب میں عربی زبان میں کافی اختلافات تھے مثلا جس کلمہ ء مضارع کا عین ماضی مکسور ہو اس کی علامات مضارع ا ۔ ت۔ ۔ن کو غیر اہل حجاز کسرہ دیتے تھے اسی طرح علامات مضارع کو ی کو جب کہ اس کے بعد کوئی دوسری یا ہو اس لئے وہ تعلم م پیش کے ساتھ کو تعلم ت زیر اور م زبر کے ساتھ بولتے [3] اسی طرح نبی ھذیل حتی کو عتی اھل مدینہ کے یہاں تابوت کا تلفظ تابوہ تھا بنی قیس کاف تانیث کے بعد ش بولتے ضربک کی بجاءے ضربکش کہتے اس طریقہ تلفظ کو کشکشہ قیس سے تعبیر کیا جاتا بنی تمیم ان ناصبہ کو عن کہتے، اسی طرح ان کے نزدیک لیس کے مشابہ ماولا مطلقا وامل نہیں ، ماہذا بشرا ان کے لغت پر ماہذا بشر ہو گا اسی طرح کے اور بہت سے اختلاف تھے

شہادت

اسلام کے دشمنوں خاص کر مسلمان نما منافقوں کو خلافت راشدہ اک نظر نہ بھاتی تھی. يہ منافق رسول اللہ سے بھی دنیاوی بادشاہوں کی طرح یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ بھی اپنا کوئی ولی عہد مقرر کریں گے. ان منافقوں کی ناپاک خواہش پر اس وقت کاری ضرب لگی جب امت نے حضرت ابوبکر کو اسلام کا پہلا متفقہ خلیفہ بنا لیا. حضرت ابو بکر کی خلافت راشدہ کے بعد ان منافقوں کے سینے پر اس وقت سانپ لوٹ گیا جب امت نے کامل اتفاق سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ اسلام چن لیا.حضرت عمر کے بعد ٱپ کا سریر آراۓ خلافت ھونا بھی ان مسلمان نما منافقوں کے لۓ صدمہ جانکناہ سے کم نہ تھا۔ انھوں نے آپ کی نرم دلی کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور آپ کو شہید کرنے کی ناپاک سازش کی اور ايسے وقت ميں کاشانہ خلافت کا محاصرہ کيا جب اکثر صحابہ کرام حج کے ليے مکہ گئے ھوۓ تھے.آپ نے اپنی جان کی خاطر کسی مسلمان کو مزاحمت کرنے کی اجازت نہ دی. روایوں کی جانب سے یہ بات پورے وثوق سے لکھی گئی ہے کہ اس سانحہ میں ملوث باغیوں میں حضرت ابو بکر کا بیٹا محمد بن ابی بکر بھی شامل تھا . حضرت علی اس صورتحال سے سخت پریشان تھے انہوں نے اپنے دونوں صاحبزادوں حضرب حسن اور حضرت حسین کے ہمراہ کئی صحابہ زادوں جن میں حضرت طلحہ کے صاحبزادوں سمیت حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عبداللہ بن زبیر بھی شامل تھے ان سب کو کاشانہ خلافت کی حفاظت پر مامور کیا۔ تاہم اور چالیس روز تک محبوس رہے. چالیس روز بعد باغی آپ کے گھر میں داخل ہو گئے اور آپ کو شھيد کرديا.اس دلخراش سانحہ مين آپ کی ذوجہ محترمہ حضرت نائلہ رضی اللہ عنا کی انگشت مبارک بھی شھيد ھو گئیں. آپ کی شہادت کے بعد حضرت علی نے خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ کی حییثیت سے خلافت سنبھالی۔

ابن عساکرزید بن ثابت سے روایت کرتے ھین محمد رسول عربی نے فرمایا ایک دن عثمان میرے پاس سے گزرے اور اسوقت ایک فرشتہ میرے قریب تھا جس نے کہا یہ شخص (عثمان) شہید ہو گا۔


حوالہ جات

  1. ^ (قرآن کیسے جمع ہوا ازمحمد احمد اعظمی مصباحی)
  2. ^ (الاتقان ص 61)
  3. ^ (شرح کافیہ للرضی ص 187 ج ۲ مطبوعہ نولکشور لکھنو۱۲۷۹ ھ)


بیرونی روابط

اسلامی مؤرخین کے افکار:

حضرت عثمان عرب وسیط میں:

نظریات اہل تشیع:

عثمان بن عفان
قریش کی ذیلی شاخ
وفات: 17 جولائی 656ء (35ھ)
مناصبِ اہل سنت
پیشرو
عمر بن خطاب
خلیفہ راشد
644ء (23ھ) – 656ء (35ھ)
جانشین
علی بن ابی طالب
شاہی القاب
پیشرو
یزدگرد سوئم
شاہ فارس
651ء (30ھ) – 656ء (35ھ)
عہدہ
خلافت میں مدغم ہوا