سعد بن ابی وقاص

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

فاتح ایران حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا تعلق قریش کے قبیلہ بنو زہرہ سے تھا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ننھیالی خاندان ہے اس لیے آپ رشتے میں حضور کے ماموں زاد بھائی تھے۔ حضرت حمزہ کی والدہ آپ کی سگی پھوپھی تھیں۔ ہجرت مدینہ سے تیس برس پہلے پیدا ہوئے ۔ نزول وحی کے ساتویں روز حضرت ابوبکر کے ترغیب دلانے پر مشرف با اسلام ہوئے۔ اور عمر بھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے محافظ خصوصی کے فرائض انجام دیئے


شخصیت[ترمیم]

سعد بن ابی وقاص بہت مضبوط جسم کے انسان تھے۔ قد چھوٹا ہونے کے باوجود رعب دار شخصیت کے مالک تھے ۔ آپ بڑا سر آپ کے مدبر ہونے کی غمازی کرتا تھا اور مضبوط انگلیاں قوت بازو کی شاہد تھیں۔ تیر اندازی میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے۔ اسلام کی خاطر سب سے پہلے کسی کافر کا خون بہانے کا شرف آپ کو حاصل ہوا۔ جب دور ابتلاء میں کفار نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنا چاہا تو ایک مردہ اونٹ کی ہڈی سے دشمنوں پر حملہ کرکے ان میں سے ایک کو لہولہان کردیا اور باقی سب بھاگ جانے پر مجبور ہوگئے۔


غزوات میں شرکت[ترمیم]

سعد بن ابی وقاص اور ان کا خاندان ذوق جہاد میں بہت ممتاز تھے۔ غزوہ بدر میں آپ کے کم عمر بھائی عمیر نے اصرار کرکے شرکت کی اجازت لی اور معروف پہلوان عمرو بن عبدود کے ساتھ مقابلہ کرکے جام شہادت نوش کیا۔ سعد نے قریش کے ناقابل شکست سردار سعد بن العاص کو جہنم رسید کیا اور تین کافروں کو باندھ کر حضور کی خدمت میں پیش کیا۔

غزوہ احد میں آپ نے تیر اندازی سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وقت تک حفاظت کی جب مسلمان تیر اندازوں کے پشت سے ہٹ جانے کے سبب خالد بن ولید کے دستے نے عقب سے حملہ کرکے بہت نازک صورت حال پیدا کر دی تھی ۔ اس موقعہ پر حضور فرما رہے تھے ۔ ’’اے سعد تجھ پرمیرے ماں باپ قربان تیر چلاتے جاؤ۔‘‘ غالباً اس انداز سے حضور نے کسی اور صحابی کو کبھی مخاطب نہیں کیا۔

سعد بن ابی وقاص نے غزوہ خندق میں بھی داد شجاعت دی۔ صلح حدیبیہ کے موقعہ پر بیعت رضوان میں شریک ہوئے ۔ فتح مکہ کے موقعہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین صحابہ کو علمبردار مقرر کیا ان میں سے ایک سعد بن ابی وقص بھی تھے۔ غزوہ حنین میں شرکت کا شرف بھی آپ کو حاصل تھا۔ فتح خیبر میں بھی آپ رسول اللہ کے ہم رکاب تھے اور غزوہ حنین میں بھی آپ کا خاص اعزاز یہ تھا کہ خطرناک ترین حالات میں آپ کو رسول اللہ کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی جاتی

حجۃ الوداع کے موقع پر اتنے بیمار ہوگئے کہ صحت یابی کی امید نہ رہی۔ حضور نے دعا فرمائی چہرے اور شکم پر دست مبارک پھیرا اور آپ صحت یاب ہوگئے۔ اس موقعہ پر آپ کے دعائیہ کلمات آپ کے فاتح قادسیہ ہونے کی پیش گوئی کا رنگ لیے ہوئے ہیں۔ آپ نے فریایا۔ سعد شاید خدا تم کو بستر سے اٹھائے اور تم سے کچھ لوگوں کوفائدہ اور کچھ کو نقصان پہنچے ۔ آپ نے اس موقعہ پر اپنا سارا مال صدقہ کر دینا چاہا لیکن حضور نے صرف ایک تہائی صدقہ کرنے کی اجازت دی۔


خلافت راشدہ میں خدمات[ترمیم]

آپ حضرت ابوبکر صدیق کے ہاتھ پر بیعت کرنے میں پہل کرنے والوں میں سے تھے۔ اور انتظامی صلاحیت کی وجہ سے آپ کو بنو ہوازن کا عامل مقرر کیا گیا۔ اس منصب پر آپ کئی سال فائز رہے۔


ایران کی فتح[ترمیم]

آپ کی زندگی کا بہت عظیم کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے اس نازک وقت میں اسلامی لشکر کی قیادت کی جب ایران کے محاذ کی صورت بہت تشویشناک تھی۔ جسر کی جنگ میں ابوعبیدہ ثقفی شہید ہو گئے تھے۔ ایران میں نوجوان بادشاہ یزد گرد نے اقتدار سنبھال کر ایران کی فوجی حمیت کو اپیل کی تھی اور ایک لشکر جرار تیار کرکے اسلامی سلطنت پر حملہ آور ہونے کے احکامات جاری کیے تھے۔ ان حالات میں بعض صحابہ کی رائے یہ تھی کہ امیرالمومنین عمر بن خطاب کو خود محاذ پر جانا چاہیے۔ چنانچہ وہ مدینہ سے اس نیت سے روانہ ہو بھی گئے لیکن بعد میں حضرت علی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف نے سعد بن ابی وقاص کو سپہ سالار مقرر کرنے کی تجویز پیش کی۔ اس طرح یہ جہاندیدہ اور بہادر جرنیل محاذ جنگ پر پہنچا

قادسیہ کی جنگ طویل ترین ،سب سے زیادہ فیصلہ کن اور اہم جنگ تھی۔ تین روز کی اس جنگ میں شجاعت کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔ جنگی چالوں میں دشمن کو مات دی گئی اور کسریٰ کی عظیم فوج کی شکست سے اس کی سلطنت کی بنیادیں ہل گئیں

جنگ کے بعد سعد بن ابی وقاص نے یکے بعد دیگرے ایران کے تمام فوجی مراکز کو سرنگوں کیااور ایرانی درالحکومت مدائن کی طرف پیش قدمی کی۔ دریائے دجلہ کی طغیانی اور تند و تیز موجیں بھی لشکر اسلام کا راستہ نہ روک سکیں اور سعد بن ابی وقاص نے خدا کا نام لے کر اپنے گھوڑے کو دریا میں ڈال دیا۔ مسلمان ہنستے کھیلتے دریا عبور کرنے لگے تو ایرانی دیو آگئے دیو آگئے پکارتے ہوئے راہ فرار اختیار کر گئے۔ مدائن کے بعد جلولا اور دوسرے شہر فتح ہوئے اور نوادرات اور مال غنیمت مدینہ روانہ کر دئیے گئے۔

سعد بن ابی وقاص مفتوحہ ایران کے پہلے امیر تھے۔ آپ نے کچھ دیر تک مدائن کو اپنا مرکز حکومت بنایا پھر 17 ھ میں کوفہ کا شہر بسایا ۔ آپ کے دور امارت میں بے شمار مدرسے ، مکتب ، مساجد پل اور نہریں بنائی گئیں۔حضرت عمر نے بعض شکایات موصول ہونے پر 21 ھ کو حضرت سعد کو ان کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کردیا۔

حضرت عمر نے جن چھ افراد کو خلیفہ منتخب کرنے کا اختیار دیا تھا۔ سعد بن ابی وقاص ان میں سے ایک تھے۔ حضرت عثمان نے آپ کو دوبارہ کوفہ کا والی مقرر کیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے اختلاف ہو جانے پر تین سا بعد آپ کو پھر اس منصب سے علیحدہ کر دیا گیا۔


غیر جانبداری[ترمیم]

سعد بن ابی وقاص ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے حضرت عثمان کے خلاف اٹھنے والی ہر شورش پر قابو پانے کی کوشش کی لیکن جب شہادت عثمان کا سانحہ رونما ہو کر رہا تو آپ نے حضرت علی کے ہاتھ پر بیعت کرلی تاہم جنگ جمل اور جنگ صفین میں سرکت سے معذرت کر لی۔ اور حضرت علی نے جواباً کہا

’’مجھے ایسی تلوار بتاؤ جو کافر اور مسلمان میں امتیاز کر سکے۔‘‘

اس کے بعد اپنی وفات 55 ھ تک خانہ نشین رہے ۔ اور باوجود اس کے کہ آپ اپنے مرتبہ کےلحاظ سے بہت ممتاز تھے، اپنے بیٹے اور دوسرے لوگوں کے اکسانے پر بھی خلافت کے دعویدار نہ بنے۔ آپ نے زہد و تقوی اور گمنامی کی زندگی کو پسند کیا اور اپنے آپ کو دور فتن کے فتنوں میں ملوث نہ کیا۔