صحیح بخاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

بسلسلہ مقالہ جات
حدیث

Mosque02.svg
مشہور و معروف

سنّی صحاح ستہ

  1. صحیح بخاری
  2. صحیح مسلم
  3. سنن نسائی
  4. سنن ابی داؤد
  5. سنن ترمذی
  6. سنن ابن ماجہ

شیعہ اثنا عشری کتب اربعہ

  1. اصول کافی از کلینی
  2. من لا یحضرہ الفقیہ از شیخ صادق
  3. تہذیب الاحکام از شیخ طوسی
  4. الاستبصار از شیخ طوسی

اباضی مجموعات

  1. الجمع الصحیح از الربیع ابن حبیب
  2. ترتیب المسند از الورجلانی
سنّی مجموعات
شیعہ اثنا عشری مجموعات
شیعہ اسماعیلی مجموعات
معتزلی مجموعات

صحیح بخاری (عربی : الجامع الصحيح ) یا عام طور سے البخاری یا صحیح بخاری شریف بھی کہا جاتا ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کا مرتب کردہ شہرہ آفاق مجموعہء احادیث ہے جو کہ صحاح ستہ کی چھ مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ اکثر سنی مسلمانوں کے نزدیک یہ مجموعہء احادیث روئے زمین پر قرآن کے بعد سب سے مستند کتاب ہے۔ [1]

عُنوان و موضوعات[ترمیم]


کتاب کو کئی بڑے اور بہت سے چھوٹے حصوں میں موضوع وار ترتیب دیا گیا۔ بڑے حصوڑ کو کتاب اور چھوٹے حصوںں کا باب کے نام سے پیش کیا گیا ہے۔بڑے موضوعات مندرجہ ذیل ہیں۔ *۔کتاب الایمان 2۔کتاب العلم 3۔کتاب الوضو 4۔کتاب الغسل 5۔کتاب الحیض 6۔کتاب التّیم 7۔کتاب الصّلوٰة 8۔کتاب مواقیت الصّلٰوة 9۔کتاب الاذان 10۔کتاب الصّفة الصّلٰوة 11۔کتاب الجُمعہ 12۔کتاب الصّلوة الخوف 13۔کتاب العیدین 14۔کتاب الوتر 15۔کتاب الاستسقائ 16۔کتاب الکسوف 17۔کتاب سجود القران 18۔کتاب ِ تقصیر الصّلوٰة 19۔کتاب تہجد 20۔کتاب الجنائز 21۔کتاب الزکوٰة 22۔کتاب الحج 23۔کتاب العّمرة 24۔کتاب الفضائل المدینہ 25۔کتاب الصّیام 26۔کتاب الصّلوٰة التراویح 27۔کتاب لیلة القدر 28۔کتاب الاعتکاف 29۔کتاب البیوع 30۔کتاب السّلم 31۔کتاب الشُفعہ 32۔کتاب الُاجارہ 33۔کتاب الحوالات 34۔کتاب الکفالہ 50۔کتاب الوکالہ 36۔کتاب الحرث والمزارعہ 37۔کتاب المثاقہ 38۔کتاب الاستقراض 39۔کتاب الخصومات 40۔کتاب اللقطة 41۔کتاب المظالم 42۔کتاب الشرکہ


احادیث کی تعداد[ترمیم]

ابن الصلاح کے مطابق صحیح بخاری میں احادیث کی کل تعداد 9086 ہے۔ یہ تعداد ان احادیث کو شامل کر کے ہے جو ایک سے زیادہ مرتبہ وارد ہوئی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر ایک سے زیادہ تعداد میں وارد احادیث کو اگر ایک ہی تسلیم کیا جائے تو احادیث کی تعداد 2761 رہ جاتی ہے۔

شروح[ترمیم]

بہت سے علماء نے اب تک اس مجموعۂ حدیث کی تشریحات کی ہیں اور تبصرے لکھے ہیں، جیسا کہ:

حوالہ جات[ترمیم]


بیرونی روابط[ترمیم]