سنن ابن ماجہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

بسلسلہ مقالہ جات
حدیث

Mosque02.svg
مشہور و معروف

سنّی صحاح ستہ

  1. صحیح بخاری
  2. صحیح مسلم
  3. سنن نسائی
  4. سنن ابی داؤد
  5. سنن ترمذی
  6. سنن ابن ماجہ

شیعہ اثنا عشری کتب اربعہ

  1. اصول کافی از کلینی
  2. من لا یحضرہ الفقیہ از شیخ صادق
  3. تہذیب الاحکام از شیخ طوسی
  4. الاستبصار از شیخ طوسی

اباضی مجموعات

  1. الجمع الصحیح از الربیع ابن حبیب
  2. ترتیب المسند از الورجلانی
سنّی مجموعات
شیعہ اثنا عشری مجموعات
شیعہ اسماعیلی مجموعات
معتزلی مجموعات

سنن ابن ماجہ سلسلۂ حدیث کی کتب صحاح ستہ میں چھٹے درجے پر منسوب ایک کتاب ہے جس کو ابن ماجہ نے مرتب کیا ہے۔

تعارف[ترمیم]

اس کتاب میں 1,500 ابواب میں 4,000 احادیث موجود ہیں۔

صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں 482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔

مزید دیکھئے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]