صحاح ستہ

وکیپیڈیا سے

:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

حدیث کے 6 مستند اور مشہور مجموعوں کو صحاح ستہ کہا جاتا ہے۔ ان کتابوں کو اسلامی تعلیم سمجھنے میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ان کتابوں میں محمد بن اسماعیل المعروف امام بخاری کی صحیح بخاری، امام مسلم کی صحیح مسلم، امام ترمذی کی صحیح ترمذی کے علاوہ ابو داؤد، ابن ماجہ اور نسائی کی مرتب کردہ تین کتابیں بھی شامل ہیں جن کے نام اپنے مرتبین سے موسوم ہیں۔

محدثین کی ان کتابوں میں ایک طرف دینی معلومات جمع کی گئیں اور دوسری طرف ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانے کے صحیح تاریخی واقعات جمع کیے گئے ہیں۔ اس طرح احادیث کی یہ کتابیں دینی و تاریخی دونوں اعتبار سے قابل بھروسہ ہیں۔

[ترمیم] تعارف

صحاحِ ستہ کے معنی “مستند چھ“ یعنی کہ چھ مستند کتابیں ہیں، کیمبرج کی تاریخِ ایران کے مطابق[1]:

مرتبین کے ابتدائی نسخے سارے کے سارے فارسی زبان میں تھے، ان کے مرتبین درج ذیل ہیں:
  1. محمد بن اسماعیل البخاری جنہوں نےحدیث کی مستند ترین کتاب صحیح بخاری مرتب کی، اس کتاب کو مرتب کرنے میں اُنہیں سولہ (16) سال کا عرصہ لگا۔ روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ امام بخاری کسی بھی حدیث کو محفوظ کرنے سے پہلے غسل کرکے نوافل پڑھتے اور پھر حدیث کو محفوظ فرماتے۔ امام بخاری کا انتقال 256ھ/70-869ء کو سمرقند میں ہوا۔
  2. مسلم بن حجاج النیشاپوری: جن کا انتقال 261ھ/5-874 کو نیشاپور میں ہوا۔ انہوں نے حدیث کی دوسری مستند ترین کتاب صحیح مسلم مرتب کی۔
  3. أبو داود سليمان بن الأشعث بن إسحاق بن بشير الأزدی السجستانی: ایک عرب نژاد فارسی جن کا اانتقال 275ھ/9-888ء میں ہوا۔
  4. ابو عیسٰی محمد بن ترمذی: جنہوں نے مشہور ترمذی شریف مرتب کی۔ آپ امام بخاری کے شاگرد تھے۔ آپ کا انتقال 279ھ/3-892ء میں ہوا۔
  5. أحمد بن شعيب النسائي جوکہ خراسان سے تھے اور 303ھ/16-915ء میں انتقال کرگئے۔ اُنہوں نے حدیث کی معروف کتاب سنن النسائی ترتیب دی۔
  6. محمد بن يزيد ابن ماجہ: ان کا انتقال 273ھ/87-886ء میں ہوا۔

[ترمیم] حوالہ جات

  1. ^ ایس، ایچ، نصر (1975)، “علوم المذاہب“ تاریخ ایران، ناشرآکسفورڈ یونیورسٹی پریس