صحابی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

صحابی وہ ہے جس نے بحالتِ ایمان نبی صلی الله علیہ وسلم سے ملاقات کی ہو اور اسلام پر وفات پائی، اگرچہ درمیاں میں ارتداد پیش آگیا ہو. [1]

صحابی لفظ واحد ہے، اس کی جمع صحابہ ہے۔ مذکر کے لئے صحابی کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے جبکہ مؤنث واحد کے لئے صحابیہ اور جمع کے لئے صحابیات کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔


قرآن مجید میں مقام صحابہ[ترمیم]

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپﷺ کے بعد کوئی نیا نبی آنے والا نہیں ہے،قرآن کریم اور حضور ﷺ کی عملی زندگی کا نمونہ قیامت تک محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالی نے ایک ایسی جماعت کو منتخب فرمایاجس کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی،صحابہ کرام کے مقام اور ان کی حیثیت کو خود اللہ تعالی نے بیان فرمایا ہے،جس میں سے چند آیتوں کا ترجمہ یہاں پیش کیا جارہا ہے،جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ صحابہ کرام اللہ کی منتخب کردہ ایک چنندہ جماعت ہیں ،ان کی صفات کا تذکرہ گزشتہ نبیوں کی کتابوں میں بھی بیان کیا گیا ہے،اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں، اللہ نے صحابہ کرام کو جنت کی خوشخبری بھی سنادی،آیات قرآنی ملاحظہ فرمائیں:

(۱)"ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا ..الخ۔ (فاطر:۳۲)

ترجمہ:پھر وارث بنایا ہم نے کتاب کا ان لوگوں کو جن کا ہم نے اپنے بندوں میں سے انتخاب کیا..الخ۔ "الکتاب" یعنی قرآن مجید کے پہلے وارث بالیقین صحابۂ رسول ہیں، جن کے بارے میں آیتِ مبارکہ گواہی دیتی ہے، وہ اﷲ کے منتخب بندے ہیں؛ پھر بعض مقامات پر ان منتخب بندوں کو سلامِ خداوندی سے بھی نوازا گیا، ارشاد ہے:

(۲)"قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَسَلاَمٌ عَلٰی عِبَادِہٖ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی"۔ (النمل:۵۹)

اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ فرمادیجئے کہ تعریفات سب اﷲ کے لیے ہیں اورسلام ہو ان بندوں پر جن کو اﷲ نے منتخب فرمایا۔

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت سفیان ثوری رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ اس آیت میں منتخب بندوں سے مراد "صحابۂ رسول" ہیں۔ (التفسیر المظہری:۷/۱۲۴)

(۳)محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں سخت ہیں (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں،تم انہیں دیکھوگے کہ کبھی رکوع میں ہیں،کبھی سجدے میں(غرض)اللہ کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں ،ان کی علامتیں سجدہ کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں،یہ ہیں ان کے وہ اوصاف جو تورات میں مذکور ہیں...الخ۔ (الفتح:۲۹)

(۴)اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ اُن کی پیروی کی،اللہ ان سب سے راضی ہوگیا ہے اور وہ اس سے راضی ہیں اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کررکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ،جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے،یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔ (التوبہ:۱۰۰)

(۵)اﷲ تعالیٰ نے تم کو ایمان کی محبت عطافرمائی اور ایمان کو تمہارے دلوںمیں مرغوب کردیا، کفروفسق (گناہِ کبیرہ) عصیان (گناہِ صغیرہ) سے تم کو نفرت عطاکی، ایسے ہی لوگ اﷲ کے فضل وانعام سے راہِ راست پر ہیں۔ (الحجرات:۷)

(۶)ان لوگوں کے دلوں میں اﷲ تعالیٰ نے ایمان ثبت کردیا ہے اور ان کو اپنے فیضِ غیب سے مضبوطی عطا فرمائی۔ (المجادلہ:۲۲)

احادیث پاک میں صحابہ کا مقام[ترمیم]

زبانِ رسالت سے صحابہ کے چنندہ ہونے کی خوشخبری دی گئی، جن میں سے چند احادیث کا ترجمہ یہاں پیش کیا جارہا ہے: "اِنَّ اﷲَ اخْتَارَ اَصْحَابِیْ عَلٰی العٰالَمِیْنَ سِوٰی النَّبِیِّیْنَ وَالْمُرْسَلِیْنَ.... وَقَالَ فِیْ اَصْحَابِیْ کُلُّھُمْ خَیْرٌ"۔ (مجمع الزوائد:۱۰/۱۶)

اﷲ تعالیٰ نے نبیوں اور رسولوں کے بعد ساری دنیا سے میرے صحابہ کو منتخب فرمایا اورفرمایا: میرے سب ہی صحابہ بھلائی والے ہیں۔ "اِنَّ اﷲَ اخْتَارَنِیْ وَاخْتَارَ لِیْ اَصْحَابِیْ...الخ"۔ (الفتح الکبیر فی ضم الزیادۃ إلی الجامع الصغیر، باب حرف الھمزۃ، حدیث نمبر:۳۲۲۴، صفحہ نمبر:۱/۲۹۷)

اﷲ نے میرا انتخاب فرمایا اور میرے لیے میرے صحابہ کا انتخاب فرمایا ۔ "خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ"۔ (بخاری، باب لایشھد علی شھادۃ جور، حدیث نمبر:۲۴۵۸)

لوگوں میں بہترین میرے قرن والے ہیں؛پھر وہ جو ان کے بعد ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد ہیں۔ حافظ ابن ِ حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے فتح الباری میں لکھا ہے :"قرنی" سے مراد صحابہ ہیں، نیز بخاری میں باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم(کتاب الفضائل ۷/۳) میں ہے کہ "بُعِثْتُ فِیْ خَیْرُ الْقُرُوْنِ بَنِیْ آدَمَ"۔ ابن آدم کے سب سے بہترلوگوں کے درمیان مجھے بھیجا گیاہے۔ اسی لیے حضرت ابن ِ مسعودؓ فرمایا کرتے تھے: صحابۂ رسول اس امت کے سب سے افضل افراد تھے، جو دل کے اعتبار سے بہت نیک،علم کے لحاظ سے سب سے پختہ اور تکلفات کے اعتبار سے سب سے زیادہ دور رہنے والے تھے۔ (رزین،مشکوٰۃ:۱/۳۲)

حافظ ابن عبدالبر نے "الاستیعاب" اور علامہ سفارینی نے "شرح الدرۃ المضیئہ" میں لکھا ہے کہ جمہور ِ امت کی رائے کے مطابق صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین انبیاء علیہم السلام کے بعد سب سے افضل ہیں۔ (مقدمۃ لاستیعاب تحت الاصابۃ:۱/۲)

صحابہ سے متعلق امت مسلمہ کو ہدایت قرآن کریم میں اور احادیث میں صحابہ کرامؓ کی مدح وثناء کی گئی اور ان کو جنت کی بشارت دی گئی اور اسی کے ساتھ امت کو ان کے ادب واحترام اور ان کی اقتداء کا حکم بھی دیا گیا ہے، ان میں سے کسی کو برا کہنے پر سخت وعید بھی فرمائی ہے ،ان کی محبت کورسول اللہﷺ کی محبت، ان سے بغض کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض قرار دیا گیا ہے، اس سلسلہ کی چند احادیث ملاحظہ فرمائیں: "خَیْرُالْقُرُوْنِ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ"۔ (مسلم:کتاب فضائل الصحابۃ،حدیث نمبر:۴۶۰۰)

میرے عہد کے مسلمان بہترین مسلمان ہیں پھر ان کے بعد آنے والے پھر ان کے بعد آنے والے۔ "عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ"۔ (مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، حدیث نمبر:۴۶۱۰)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میرے صحابہ کو برا نہ کہو؛اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرو تو وہ ان کے ایک مد بلکہ اس کے نصف خرچ کرنے کے برابر بھی نہیں ہوسکتا۔

ایک اور روایت میں آپ نے ارشاد فرمایا: "قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي لَاتَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ وَمَنْ آذَى اللَّهَ يُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ"۔ (ترمذی، بَاب فِيمَنْ سَبَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم،حدیث نمبر ۳۷۹۷)

لوگو! میرے صحابہ کے معاملہ میں اللہ سےڈرو اللہ سے ڈرو میرے بعد ان کو نشانہ نہ بناؤ ،جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے در حقیقت مجھ سے بغض رکھا ،جس نے ان کو اذیت پہنچائی اس نے مجھ کو اذیت پہنچائی اور جس نے مجھ کو اذیت پہچائی اس نے اللہ کو اذیت پہنچائی اور جس نے اللہ کو اذیت پہنچائی قریب ہے کہ اللہ تعالی اس کو پکڑلے۔ حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: خدا کی قسم ہے کہ صحابہ کرام میں کسی شخص کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جہاد میں شریک ہونا جس میں اس کا چہرہ غبار آلود ہوجائے غیر صحابہ سے ہر شخص کی عمر بھر کی عبادت وعمل سے بہتر ہے اگرچہ اس کو عمر نوح(علیہ السلام)عطا ہوجائے۔ (ابوداؤد،باب فی الخلفاء،حدیث نمبر۴۰۳۱)

صحابہ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم اگر کوئی شخص صحابہ کی شان میں گستاخی کرے تو اس کے فاسق العقیدہ ہونے میں تو کوئی کلام نہیں، لیکن تکفیر میں اختلاف ہے ،فقہائے احناف میں عبدالرشید طاہر البخاری نے لکھا ہے کہ اگر کوئی رافضی شیخین کی شان میں گستاخی کرے اور لعنت بھیجے تو وہ کافر ہے۔ (خلاصۃ الفتاوی:۴/۳۸۱)

ملا علی قاری نے بھی مشائخ سے اس طرح کی بات نقل کی ہے لیکن اس کو از روئے قواعد مشکل قرار دیا ہے ۔(شرح فقہ اکبر:۲۲۹)

فقہاء مالکیہ میں علامہ دردیر نے ایسے شخص کو کافر تو قرار نہیں دیا ہے لیکن صحابہ اور اہل بیت کی تنقیص کرنے والوں کو شدید تعزیر کا مستحق قرار دیا ہے (الشرح الصغیر۴/۴۴۴)علامہ صاوی مالکی نے نقل کیا ہے کہ قول معتمد یہ ہے کہ خلفاء اربعہ کی اہانت یا تکفیر کی وجہ سے کفر کافتوی تو نہیں لگایا جائے گاالبتہ تعزیر کی جائے گی لیکن سحنون مالکی نے خلفاء اربعہ کو کافر کہنے والوں کو مرتد قرار دیا ہے نیز صاوی نے یہ بھی لکھا ہے کہ جو تمام صحابہ کی تکفیر کرے وہ بالاتفاق کافر ہے۔ (حاشیہ صاوی علی الشرح الصغیر:۴/۴۴۔۴۴۳)

غرض اگر از راہ احتیاط صحابی کی شان میں گستاخی کو کفر قرار نہ دیا جائے تب بھی اس کے قریب بہ کفر ہونے میں شبہ نہیں ؛اسی لیے سلف نے مشاجراتِ صحابہ پر گفتگو کرنے سے بھی منع کیا ہے ،افسوس کہ گزشتہ نصف صدی میں ایسی کتابیں منظر عام پر آئی ہیں جن میں ناحق صحابہ کے اختلاف کو زیر بحث لایا گیا ہے اور آخر یہ بحث کہیں تو ناصبیت کے درجے کو پہنچ گئی ہے اور کہیں اس کی سرحد تشیع سے جاملی ہے ،حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کا عمل خدمت نہیں بلکہ بد خدمتی ہے اور ایک ایسی راہ پر بے احتیاطی سے قدم رکھنا ہے جو شیشہ سے زیادہ نازک اور بال سے زیادہ باریک ہے، فالی اللہ المشتکی وبہ التوفیق۔

صحابہ رضی اللہ عنہم کی تعداد[ترمیم]

ابوزرعہ رازی کا قول ہے کہ آپ کی وفات کے وقت جن لوگوں نے آپ کو دیکھا اورآپ سے حدیث سنی ان کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی(تجرید:/۳) جن میں مرد اور عورت دونوں شامل تھے اوران میں ہر ایک نے آپ سے روایت کی تھی (مقدمہ اصابہ :۳) ابن فتحون نے ذیل استیعاب میں اس قول کو نقل کرکے لکھا ہے کہ ابوزرعہ نے یہ تعداد صرف ان لوگوں کی بتائی ہے جو رواۃ حدیث میں تھے، لیکن ان کے علاوہ صحابہؓ کی جو تعداد ہوگی وہ اس سے کہیں زیادہ ہوگی (ایضاً) بہرحال اکابر صحابہؓ کے نام ان کی تعداد اوران کے حالات تو ہم کو صحیح طورپر معلوم ہیں، لیکن ان کے علاوہ ہم اورصحابہ کی صحیح تعداد نہیں بتاسکتے،اسد الغابہ میں لکھا ہے کہ خود صحابہؓ کے زمانہ میں مشاغل دینیہ نے صحابہ کو یہ موقع نہ دیا کہ وہ اپنی تعداد کو محفوظ رکھیں (مقدمہ اسد الغابہ :۳) اس کے علاوہ اکثر صحابہ ؓ صحرانشین بدوی تھے، اس لیے ایسی حالت میں ان کا گمنام رہنا ضروری تھا۔ (مقدمہ اصابہ :۴)

صحابہ رضی اللہ عنہم کا زمانہ[ترمیم]

صحابہ کرام کا مبارک زمانہ ابتدائے بعثت سے شروع ہوکر پہلی صدی کے آخر تک ختم ہوگیا اوراس طرح رسول اللہﷺ کی معجزانہ پیشین گوئی پوری ہوئی جو ان الفاظ میں کی گئی ہے۔ "فَإِنَّ رَأْسَ مِائَةٍ لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ"۔ (بخاری، کتاب موقیت الصلوٰۃ،بَاب السَّمَرِ فِي الْفِقْهِ وَالْخَيْرِ بَعْدَ الْعِشَاءِ،حدیث نمبر:۵۶۶)

ترجمہ:جو لوگ آج روئے زمین پر موجود ہیں ان میں سے سو سال کے بعد کوئی باقی نہ رہے گا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت کا مطالعہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین دین کی بنیاد ہیں، دین کے اول پھیلانے والے ہیں، انہوں نے حضور اقدسﷺ سے دین حاصل کیا اور ہم لوگوں تک پہنچایا، یہ وہ مبارک جماعت ہے کہ جس کو اللہ جل شانہ نے اپنے نبی پاکﷺ کی مصاحبت کے لیے چنا اور اس بات کی مستحق ہے کہ اس مبارک جماعت کو نمونہ بناکر اس کا اتباع کیا جائے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے جسے دین کی راہ اختیار کرنی ہے تو ان کی راہ اختیار کرے جو اس دنیا سے گزر چکے ہیں اور وہ حضرت محمدﷺ کے صحابہ ہیں جو اس امت کا افضل ترین طبقہ ہے ،قلوب ان کے پاک تھے، علم ان کا گہرا تھا، تکلف اور بناؤٹ ان کے اندر نہیں تھی،اللہ جل شانہ نے انھیں اپنے نبی کی صحبت اور دین کی اشاعت کے لیے چنا تھا، اس لیے ان کی فضیلت کوپہچانو ان کے نقش قدم پر چلو اور طاقت بھر ان کے اخلاق اور ان کی سیرتوں کو مضبوط پکڑو ،اس لیے کے وہی ہدایت کے راستے ہیں۔ (مشکوۃ،باب اعتصام بالکتاب والسنۃ ،حدیث نمبر:۱۹۳،ازرزین)

انسان کے فرائض میں سب سے مقدم اور سب سے اہم فرض یہ ہے کہ اخلاق انسانی کی اصلاح کی جائے ،علم اور فن،تہذیب وتمدن،صنعت وحرفت تمام چیزیں دنیا میں آئیں اور آتی رہیں گی؛ لیکن انسانیت کو تہذیب سے آراستہ کرنا بہت ضروری تھا اس لیے دنیا میں جب سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کو بھیجا گیا تو اسی ذمہ داری کے ساتھ بھیجا گیا پھر ان کے بعد آنے والے بڑے بڑے پیغمبر اسی سلسلے کو یعنی تہذیب نفوس کو آگے بڑھاتے رہے اس کے بعد سب سے آخر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام کمالات کا مجموعہ بناکر بھیجا گیا اور پھر اعلان کردیا گیا کہ : "اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاۭ"۔ (المائدہ: ۳)

آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کومکمل کردیا، تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر (ہمیشہ کے لیے) پسند کرلیا۔ اب انسانوں کے اخلاق سدھارنے کے لیے قیامت تک کوئی نیا نبی آنے والا نہیں ہے،اگر کوئی انسان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا مطالعہ کرنا چاہے یا آپ کی تربیت کا انداز دیکھنا چاہے ،آپ کے اقوال وافعال اور اعمال کا نمونہ دیکھنا چاہےتو وہ صحابہ کرام کی مقدس جماعت ہے،صحابہ کرام کی زندگیوں کا مطالعہ ایمانی کیفیت کو بڑھاتا ہے، زندگی کے اصول سکھاتا ہے،عقائد ،عبادات ،معاشرت اورمعاملات انسان کے درست ہوتے ہیں، سنت اور بدعت کی پہچان ہوتی ہے۔ اس زمانے کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ صحابہ کرام کی مقدس زندگی کو دنیا کے سامنے اس طرح پیش کیا جائے جس سے لوگوں میں شوق عمل پیدا ہو اور اس مثال کو پیش نظر رکھ کر لوگ خود بخود اپنے عقائد واعمال کی طرف مائل ہوں۔ (خلاصہ سیر الصحابہ:۵/۷)

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی کو پہچاننے کے لیے حضرات صحابہ ہی کی زندگی معیار ہوسکتی ہے کیونکہ یہی وہ مقدس جماعت ہے جس نے براہ راست حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے استفادہ کیا اور آپ کی نبوت کی روشنی بغیر کسی پردہ اور بغیر کسی واسطے کے صحابہ کرام پر پڑی ان میں جو ایمان کی حرارت اور نورانی کیفیت تھی وہ بعد والوں کو میسر آنا ممکن نہ تھی، اس لیے قرآن کریم نے صحابہ کرام کی پوری جماعت کی تقدیس وتعریف فرمائی ہے اور جماعت صحابہ کو مجموعی طور پر "رضی اللہ عنہم ورضو عنہ" فرمایا یعنی اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، صحابہ کرام راستہ پانے والے اور راستہ دکھانے والے ہیں ،اسی غرض سے آئندہ صفحات میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کی سیرت کو پیش کیا جارہا ہے ۔



جماعت صحابہ میں کسی ایک کی بھی تنقیص و تحقیر پوری جماعت صحابہ کی تنقیص و تحقیر ہے کیونکہ یہ صحبت نبوت کی تنقیص و تحقیر ہے اسی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔

میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ ان کو میرے بعد ہدف ملامت نا بنا لینا۔ پس جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی۔ اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا [2]۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ النخبة الفكر، ص: صفحة ٨١
  2. ^ صحیح ترمذی جلد2 ، صفحہ 226