حمنہ بنت جحش
|
|
ممکن ہے اس مضمون کی ویکائی کرنے کی ضرورت ہو تاکہ یہ ویکیپیڈیا کے کیفیت معیار پر پورا اتر سکے۔ براہ کرم مضمون میں اندرونی متعلقہ روابط ڈال کر یا مضمون کے خاکہ میں بہتری لا کر مدد کریں۔ |
صحابہ کرام اللہ کی زمین پر بنی نوع انسان کی بہترین جماعت تھے ۔ ان جیسی کوئی دوسری جماعت نہ چشم فلک نے ان سے قبل دیکھی تھی نہ اس کے بعد اس کا کوئی امکان ہے ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں چند افراد اسلام دشمن بھی تھے مگر اسلام کے سچے جانثار تعداد میں زیادہ تھے ۔ انسان ہونے کے ناطے صحابہ کرام سے بھی بعض اوقات تسامحات اور بھول چوک وقوع پذیر ہو گئی ۔ آنحضور کے خاندان میں آپ کی پھوپھی امیمہ بنت عبد المطلب کی اولاد بلند پایہ اور سابقون الاولون صحابہ میں شامل ہے ۔ شہید احد حضرت عبداللہ بن جحش جیسا بیٹا ،ام المومنین زینب بنت جحش جیسی بلند مقام بیٹی اور حمنہ بنت جحش جیسی عظیم دختر سبھی انہی کے بطن سے پیدا ہوئے۔
حضرت حمنہ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ وہ خود صحابیہ ہونے کے علاوہ عظیم المرتبت صحابہ کی زوجیت میں رہیں ۔ وہ بلند پایہ صحابیِ رسول جس نے اللہ کی خاطر شان سکندری چھوڑی اور لباس قلندری بلاجھجک پہن لیا، یعنی حضرت مصعب بن عمیر، کے پہلے شوہر نامدار تھے ۔ حضرت مصعب کی احد میں شہادت ہوئی تو حضرت حمنہ کے منہ سے بے اختیار چیخ نکل گئی ۔ ان کے بھائی عبداللہ بھی اس جنگ میں شہید ہوئے تھے ۔ ماموں حمزہ شیر خدااور دیگر کئی اعزہ نے بھی شہادت کا مرتبہ حاصل کیا تھا ۔ وہ خود بھی جنگ میں شریک تھیں ۔ مجاہدین کو پانی پلانے اور زخمیوں کی مرہم پٹی میں مصروف رہیں ۔
عزیزوں کی وفات کی خبر جوں جوں ملتی گئی وہ غمزدہ ہو نے کے باوجود صبر و ہمت کے ساتھ انا للہ پڑھتی رہیں ۔ جب حضرت مصعب کی شہادت کی خبر ملی تو انا للہ کے ساتھ بے ساختہ ان کے منہ سے چیخ بلند ہو گئی مگر عظیم صحابیہ نے خود کو فوراً سنبھال لیا ۔ اس موقع پر آنحضور نے جو کچھ فرمایا اس کا مفہوم یہ ہے کہ میاں بیوی کا تعلق مثالی ہو تو ایک دوسرے کی جدائی کا صدمہ بے قرار وبے حال کر دیتاہے ۔ حضرت حمنہ کا دوسرا نکاح بعد میں مشہور صحابی رسول اور یکے از عشرہ مبشرہ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ سے ہوا ۔ حضرت حمنہ میں بے پناہ خوبیاں تھیں لیکن تاریخ اسلامی کے دردناک حادثے یعنی حضرت عائشہ پر افک اور بہتان باندھنے کے واقعہ میں یہ بھی پھسل گئیں اور حضرت حسان بن ثابت اور حضرت مسطح بن اثاثہ کی طرح وہ بھی منافقین کے برپا کردہ پروپیگنڈے اور فتنے کے ماحول میں فریب کا شکار ہو گئیں۔ اللہ رب العالمین نے ام المومنین حضرت عائشہ کی پاک دامنی اور افک سے برات کا اعلان وحی ربانی کے ذریعے سے کیا تو ایک جانب اہل ایمان کی صفوں میں مسرت و اطمینان کی لہر دوڑ گئی لیکن اس کے ساتھ انہیں اس بات پر بھی شدید صدمہ ہوا کہ منافقین کی سازش کے نتیجہ میں تین مخلص اہل ایمان سے بھی غلطی کا ارتکاب ہو گیا تھا ۔ ان پر قذف کی حد جاری کی گئی جس سے وہ قانوناً برائی سے پاک ہو گئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان حضرات نے سچے دل سے توبہ بھی کی ۔ دراصل توبہ ہی حقیقی پاکیزگی اور اللہ کے ہاں برات کا ذریعہ ہے۔ سیدہ حمنہ کو تو اپنی اس غلطی پر اتنا افسوس ہوا کہ وہ زندگی بھر اس واقعہ کو یاد کر کے استغفار پڑھتی رہیں اور ان مواقع پر ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہے ۔
انسان کی عظمت اس بات میں نہیں ہے کہ اس سے کوئی غلطی نہ ہو بلکہ عظمت کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ غلطی ہو جانے کے بعد وہ توبہ و استغفار کرے ۔ اپنے گناہوں پر ندامت کے آنسو بہائے اور آئندہ کے لیے اس غلطی کا اعادہ کرنے سے مکمل پرہیز کا عزم باندھے ۔ ہر انسان خطا کار ہے اور بہترین لوگ وہ ہیں جو خطا کے بعد توبہ کی طرف لپکتے ہیں ۔ آنحضور نے ارشاد فرمایا ” جو گناہوں سے توبہ کرے وہ گناہوں سے ایسے پاک ہو جاتاہے کہ گویا اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں ۔“ جماعت صحابہ پوری کی پوری اس عظیم مقام پر فائز تھی ۔ ان سے جب بھی کوئی بھول چوک ہوئی ، وہ فوراً اللہ کے در پہ جھک گئے اور توبہ و استغفار سے خود کو پاک صاف کر لیا ۔ اسی لیے اللہ نے ان سب سے جنت و مغفرت کا وعدوہ فرمایاہے اور”ر ضی اللہ عنھم و رضوا عنہ“ انکے نام کا حصہ بنا دیاہے ۔حضرت طلحہ کے نامور بیٹے محمد بن طلحہ اور عمران بن طلحہ حضرت حمنہ کے بطن سے پیدا ہوئے