ام ہانی بنت ابی طالب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

حضرت ام ہانی بنت ابی طالب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی بہن تھیں۔ فتح مکہ سے کچھ پہلے اسلام لائیں۔ چونکہ ان کے خاوند اسلام نہیں لائے اس لیے ان میں جدائی ہو گئی۔ فتح مکہ کے دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے مکان پر غسل فرمایا ، اور کھانا نوش فرمایا ، پھر آٹھ رکعت نماز چاشت ادا فرمائی۔[1]۔

حضرت ام ہانی بیان فرماتی ہیں کہ جس رات حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معراج مبارک ہوئی اس رات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے ہی گھر میں تھے اور میرے ہی گھر میں آرام فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عشاء پڑھی اس کے بعد آرام فرمایا اور ہم بھی سو گۓ۔ جب فجر سے ذرا پہلے کا وقت تھا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں جگایا اور نماز پڑھنے کے بعد ارشاد فرمایا "اے ام ہانی رضی اللہ عنہاآج رات مجھے بیت المقدس لے جایا گیا وہاں سے آسمانوں پر پہنچایا گیا پھر صبح سے پہلے واپس لایا گیا۔ [2] آپ کے ذمے کچھ عرصہ کے لیے حضرت فاطمہ الزھرا کی تربیت بھی کی گئی تھی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ صحیح ترمذی ج1 صفحہ 62 و صحیح بخاری باب منزل النبی یوم الفتح
  2. ^ حضرت ام ہانی