فاطمۃ الزھراء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
فاطمہ بنت محمد
عربی زبان: فاطمة
Fatimah Calligraphy.png
کنیت
القاب
  • الصدیقہ[1]
    (سچی)
  • المبارکہ[1]
    (مبارک)
  • الطاھرہ[1]
    (پاک)
  • الذکیہ[1]
    (The Chaste/گناہ سے پاک)
  • الرضیہ[1]
    (اللہ کی رضا پر راضی)
  • البتول[1]
    (عفت والی/پاک)
  • الزھراء[1]
    (عالی شان/روشن)
  • سیدۃ النساء العالمین[4]
    (تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار)
خصوصیت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات میں

5 قبل ہجرت – 11 ہجری

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم 90 دن 11 ہجری
پیدائش ، 27جمعہ 604— 20 جمادی الثانی 5 ہجری[1][5]
مقام پیدائش مکہ، حجازی[1]
قومیت حجازی عرب
والد محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم [1]
والدہ خدیجہ بنت خویلد [1]
بھائی طیب اور فاسم
بہنیں زینب، ام کلثوم اور رقیہ
شوہر علی ابن ابی طالب
اولاد

بیٹے

بیٹیاں

وفات جمعرات، 28 اگست 632— 3 جمادی الثانی 11ہجری [عمر 28 سال 11 مہینے 12 دن]
مقام پیدائش نامعلوم لیکن مدینہ، حجاز میں
دین اسلام

حضرت فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جن کا معروف نام فاطمۃ الزھراء ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خدیجہ بنت خویلد کی بیٹی تھیں۔تمام مسلمانوں کے نزدیک آپ ایک برگزیدہ ہستی ہیں۔[6]۔ آپ کی ولادت 20 جمادی الثانی بروز جمعہ بعثت کے پانچویں سال میں مکہ میں ہوئی۔ آپ کی شادی حضرت علی ابن ابو طالب سے ہوئی جن سے آپ کے دو بیٹے حسن اور حسین اور دو بیٹیاں زینب اور ام کلثوم پیدا ہوئیں۔ آپ کی وفات اپنے والد حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے کچھ ماہ بعد 632ء میں ہوئی۔ آپ کے کثیر القابات مشہور ہیں۔


ولادت اور خاندان

حضرت فاطمہ کی ولادت مکہ میں ہوئی۔ آپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت خدیجہ بنت خویلد کی بیٹی تھیں۔ ان کی تاریخ پیدائش کے بارے میں اختلافات موجود ہیں۔ مختلف روایات ان کی ولادت کو 608ء سے لے کر 615ء تک بتاتی ہیں۔[7]۔ زیادہ مستند روایات یہ ہیں کہ آپ 20 جمادی الثانی بعثت کے پانچویں سال (615ء) کو بروز جمعہ صبح صادق کے وقت پیدا ہوئیں۔[8]۔ طبری نے بھی بعثت کا پانچواں سال لکھا ہے[9] [10]

ایک روایت کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اکثر حضرت فاطمہ کو سونگھ کر کہتے تھے کہ اس خاتونِ جنت سے بہشت کی خوشبو آتی ہے کیونکہ یہ اس میوۂ جنت سے پیدا ہوئی ہے جو جبرائیل نے مجھے شبِ معراج کھلایا تھا۔[11] [12] [13]۔

اس بارے میں بھی اختلافات موجود ہیں کہ آپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اکلوتی بیٹی تھیں یا نہیں۔ اس بارے میں تین قسم کی روایات ہیں۔ ایک قسم وہ ہے جس میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی اور بہنیں تھیں جن کے نام زینب، رقیہ اور ام کلثوم تھا۔ دوسری قسم کی روایات کے مطابق یہ باقی بہنیں حضرت خدیجہ کی پہلی شادی سے تھیں جو حضرت خدیجہ کی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شادی کے بعد ان کی بیٹیاں بنیں۔ تیسری قسم کی روایات کے مطابق یہ حضرت خدیجہ کی بہن ہالہ کی بیٹیاں تھیں جو اپنے والدین (ابولہند اور ہالہ) کے اختلافات کے بعد حضرت خدیجہ کی زیرِ کفالت آئیں اور بعد میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹیاں بن گئیں۔[14] ۔ لیکن قرآن میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹیوں کے لیے جمع کا صیغہ آیا ہ۔ آپ نے اپنی بہنوں کے نام پر بعد میں اپنی بیٹیوں کے نام بھی ام کلثوم اور زینب رکھے۔

آپ کی تربیت خاندانِ رسالت میں ہوئی جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، حضرت خدیجہ ، حضرت فاطمہ بنت اسد، حضرت ام سلمیٰ، ام الفضل (حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا عباس کی زوجہ)، ام ہانی (حضرت ابوطالب کی ہمشیرہ)، اسما بنت عمیس (زوجہ حضرت جعفرالطیار)، صفیہ بنت حمزہ وغیرہ نے مختلف اوقات میں کی۔[15] حضرت خدیجہ کے انتقال کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی تربیت و پرورش کے لیے حضرت فاطمہ بنت اسد کا انتخاب کیا۔ جب ان کا بھی انتقال ہو گیا تو اس وقت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ام سلمیٰ کو ان کی تربیت کی ذمہ داری دی[16]

القاب اور کنیت

آپ کے مشہور القاب میں زھرا اور سیدۃ النساء العالمین (تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار) اور بتول ہیں۔ مشہور کنیت ام الائمہ، ام السبطین اور ام الحسنین ہیں۔ آپ کا مشہور ترین لقب سیدۃ النساء العالمین ایک مشہور حدیث کی وجہ سے پڑا جس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو بتایا کہ وہ دنیا اور آخرت میں عورتوں کی سیدہ ( سردار) ہیں۔ [17]۔ اس کے علاوہ خاتونِ جنت، الطاہرہ، الزکیہ، المرضیہ، السیدہ، العذراء وغیرہ بھی القاب کے طور پر ملتے ہیں۔ [18]

حالاتِ زندگی

بچپن

حضرت فاطمہ الزھرا کی ابتدائی تربیت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت خدیجہ نے کی۔ اس کے علاوہ ان کی تربیت میں اولین مسلمان خواتین شامل رہیں۔ بچپن میں ہی ان کی والدہ حضرت خدیجہ کا انتقال ہو گیا۔ انہوں نے اسلام کا ابتدائی زمانہ دیکھا اور وہ تمام تنگی برداشت کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابتدائی زمانہ میں قریش کے ہاتھوں برداشت کی۔ ایک روایت کے مطابق ایک دفعہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کعبہ میں حالتِ سجدہ میں تھے جب ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے ان پر اونٹ کی اوجھڑی ڈال دی۔ حضرت فاطمہ کو خبر ملی تو آپ نے آ کر ان کی کمر پانی سے دھوئی حالانکہ آپ اس وقت کم سن تھیں۔ اس وقت آپ روتی تھیں تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کو کہتے جاتے تھے کہ اے جانِ پدر رو نہیں اللہ تیرے باپ کی مدد کرے گا۔[19]

ان کے بچپن ہی میں ہجرتِ مدینہ کا واقعہ ہوا۔ ربیع الاول میں 10 بعثت کو ہجرت ہوئی۔ مدینہ پہنچ کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زید بن حارثہ اور ابو رافع کو 500 درھم اور اونٹ دے کر مکہ سے حضرت فاطمہ، حضرت فاطمہ بنت اسد، حضرت سودہ اور حضرت عائشہ کو بلوایا چنانچہ وہ کچھ دن بعد مدینہ پہنچ گئیں۔[20] بعض دیگر روایات کے مطابق انہیں حضرت علی بعد میں لے کر آئے۔[21] 2 ہجری تک آپ حضرت فاطمہ بنت اسد کی زیرِ تربیت رہیں۔ 2ھ میں رسول اللہ نے حضرت ام سلمیٰ سے عقد کیا تو حضرت فاطمہ کو ان کی تربیت میں دے دیا۔[22]

حضرت ام سلمیٰ نے فرمایا کہ حضرت فاطمہ کو میرے سپرد کیا گیا۔ میں نے انہیں ادب سکھانا چاہا مگر خدا کی قسم فاطمہ تو مجھ سے زیادہ مؤدب تھیں اور تمام باتیں مجھ سے بہتر جانتی تھیں۔[23] رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے بہت محبت کرتے تھے۔عمران بن حصین کی روایت ہے کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ کے ساتھ بیٹھا تھا کہ حضرت فاطمہ جو ابھی کم سن تھیں تشریف لائیں۔ بھوک کی شدت سے ان کا رنگ متغیر ہو رہا تھا۔آنحضرت نے دیکھا تو کہا کہ بیٹی ادھر آؤ۔ جب آپ قریب آئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے بھوکوں کو سیر کرنے والے پروردگار، اے پستی کو بلندی عطا کرنے والے، فاطمہ کے بھوک کی شدت کو ختم فرما دے۔ اس دعا کے بعد حضرت فاطمہ کے چہرے کی زردی مبدل بسرخی ہو گئی، چہرے پر خون دوڑنے لگا اور آپ ہشاش بشاش نظر آنے لگیں۔خود حضرت فاطمہ کا بیان ہے کہ اس کے بعد مجھے پھر کبھی بھوک کی شدت نے پریشان نہیں کیا۔ [24] [25]

شادی

حضرت فاطمہ سے شادی کی خواہش کئی لوگوں نے کی جن میں سے کچھ پر رسول اللہ نے غضب ناک ہو کر منہ پھیر لیا۔[26]۔ طبقات ابن سعد وغیرہ کے مطابق حضرت ابوبکر نے اور بعد میں حضرت عمر نے اپنے لیے خواستگاری کی تو دونوں کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ مجھے اس سلسلے میں وحیِ الٰہی کا انتظار ہے۔ کچھ عرصہ بعد حضرت علی نے اسی خواہش کا اظہار کیا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبول کر لیا اور کہا 'مرحباً و اھلاً۔[27]۔[28]۔[29]۔[30]۔[31]۔ بعض روایات کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی سے فرمایا کہ اے علی خدا کا حکم ہے کہ میں فاطمہ کی شادی تم سے کر دوں۔ کیا تمہیں منظور ہے۔ انہوں نے کہا ہاں چنانچہ شادی ہو گئی۔[32] یہی روایت صحاح میں عبداللہ ابن مسعود، انس بن مالک اور حضرت ام سلمیٰ نے کی ہے۔ ایک اور روایت میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں فاطمہ کا نکاح علی سے کردوں۔[33]۔[34]
حضرت علی و فاطمہ کی شادی یکم ذی الحجہ 2ھ کو ہوئی۔[35] کچھ اور روایات کے مطابق امام محمد باقر و امام جعفر صادق سے مروی ہے کہ نکاح رمضان میں اور رخصتی اسی سال ذی الحجہ میں ہوئی۔[36]۔ ۔شادی کے اخراجات کے لیے حضرت علی نے اپنی زرہ 500 درھم میں بیچ دی۔[37] یہ رقم حضرت علی نے رسول اللہ کے حوالے کر دی جو حضرت فاطمہ کا مہر قرار پایا۔ جبکہ بعض دیگر روایات میں مہر 480 درھم تھا۔[38]

جہیز

جہیز کے لیے رسول اللہ نے حضرت مقداد ابن اسود کو رقم دے کر اشیاء خریدنے کے لیے بھیجا اور حضرت سلمان فارسی اور حضرت بلال کو مدد کے لیے ساتھ بھیجا۔[39] انہوں نے چیزیں لا کر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے رکھیں۔ اس وقت حضرت اسماء بنت عمیس بھی موجود تھیں۔ مختلف روایات میں جہیز کی فہرست میں ایک قمیص، ایک مقنع (یا خمار یعنی سر ڈھانکنے کے لیے کپڑا)، ایک سیاہ کمبل، کھجور کے پتوں سے بنا ہوا ایک بستر، موٹے ٹاٹ کے دو فرش، چار چھوٹے تکیے، ہاتھ کی چکی، کپڑے دھونے کے لیے تانبے کا ایک برتن، چمڑے کی مشک، پانی پینے کے لیے لکڑی کا ایک برتن(بادیہ)، کھجور کے پتوں کا ایک برتن جس پر مٹی پھیر دیتے ہیں، دو مٹی کے آبخورے، مٹی کی صراحی، زمین پر بچھانے کا ایک چمڑا، ایک سفید چادر اور ایک لوٹا شامل تھے۔ یہ مختصر جہیز دیکھ کر رسول اللہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ ان پر برکت نازل فرما جن کے اچھے سے اچھے برتن مٹی کے ہیں۔[40]۔[41]۔[42] یہ جہیز اسی رقم سے خریدا گیا تھا جو حضرت علی نے اپنی زرہ بیچ کر حاصل کی تھی۔[43]۔[44]۔[45]۔[46]

رخصتی

نکاح کے کچھ ماہ بعد یکم ذی الحجہ کو آپ کی رخصتی ہوئی۔ رخصتی کے جلوس میں حضرت فاطمہ اشہب نامی ناقہ پر سوار ہوئیں جس کے ساربان حضرت سلمان فارسی تھے۔ ازواج مطہرات جلوس کے آگے آگے تھیں۔ بنی ھاشم ننگی تلواریں لیے جلوس کے ساتھ تھے۔ مسجد کا طواف کرنے کے بعد حضرت فاطمہ کو حضرت علی کے گھر میں اتارا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی منگوایا اس پر دعائیں دم کیں اور علی و فاطمہ کے سر بازؤوں اور سینے پر چھڑک کر دعا کی کہ اے اللہ انہیں اور ان کی اولاد کو شیطان الرجیم سے تیری پناہ میں دیتا ہوں[47]۔ ازواج مطہرات نے جلوس کے آگے رجز پڑھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خاندان عبدالمطلب اور مہاجرین و انصار کی خواتین کو کہا کہ رجز پڑھیں خدا کی حمد و تکبیر کہیں اور کوئی ایسی بات نہ کہیں اور کریں جس سے خدا ناراض ہوتا ہو۔ بالترتیب حضرت ام سلمیٰ، حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ نے رجز پڑھے۔ ازواج مطہرات نے جو رجز پڑھے نیچے درج ہیں:

حضرت فاطمہ کی شادی میں ازواج مطہرات کے رجز[48]۔[49]۔[50]۔
حضرت ام سلمیٰ کا رجز

اے پڑوسنو چلو اللہ کی مدد تمہارے ساتھ ہے اور ہر حال میں اس کا شکر ادا کرو۔ اور جن پریشانیوں اور مصیبتوں کو دور کرکے اللہ نے احسان فرمایا ہے اسے یاد کرو۔ آسمانوں کے پروردگار نے ہمیں کفر کی تاریکیوں سے نکالا اور ہر طرح کا عیش و آرام دیا۔ اے پڑوسنو۔ چلو سیدۂ زنانِ عالم کے ساتھ جن پر ان کی پھوپھیاں اور خالائیں نثار ہوں۔ اے عالی مرتبت پیغمبر کی بیٹی جسے اللہ نے وحی اور رسالت کے ذریعے سے تمام لوگوں پر فضیلت دی


حضرت عائشہ کا رجز اے عورتو چادر اوڑھ لو اور یاد رکھو کہ یہ چیز مجمع میں اچھی سمجھی جاتی ہے۔

یاد رکھو اس پروردگار کو جس نے اپنے دوسرے شکر گذار بندوں کے ساتھ ہمیں بھی اپنے دینِ حق کے لیے مخصوص فرمایا۔ اللہ کی حمد اس کے فضل و کرم پر اور شکر ہے اس کا جو عزت و قدرت والا ہے۔ فاطمہ زھرا کو ساتھ لے کے چلو کہ اللہ نے ان کے ذکر کو بلند کیا ہے اور ان کے لیے ایک ایسے پاک و پاکیزہ مرد کو مخصوص کیا ہے جو ان ہی کے خاندان سے ہے

حضرت حفصہ کا رجز اے فاطمہ تم عالم انسانیت کی تمام عورتوں سے بہتر ہو۔ تمہارا چہرہ چاند کی مثل ہے۔

تمہیں اللہ نے تمام دنیا پر فضیلت دی ہے۔ اس شخص کی فضیلت کے ساتھ جس کا فضل و شرف سورہ زمر کی آیتوں میں مذکور ہے۔ اللہ نے تمہاری تزویج ایک صاحب فضائل و مناقب نوجوان سے کی ہے یعنی علی سے جو تمام لوگوں سے بہتر ہے۔ پس اے میری پروسنو۔ فاطمہ کو لے کر چلو کیونکہ یہ ایک بڑی شان والے باپ کی عزت مآب بیٹی ہے

شادی کے بعد

آپ کی شادی کے بعد زنانِ قریش انہیں طعنے دیتی تھیں کہ ان کی شادی ایک فقیر (غریب) سے کردی گئی ہے۔ جس پر انہوں نے رسالت مآب سے شکایت کی تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت فاطمہ کا ہاتھ پکڑا اور تسلی دی کہ اے فاطمہ ایسا نہیں ہے بلکہ میں نے تیری شادی ایک ایسے شخص سے کی ہے جو اسلام میں سب سے اول، علم میں سب سے اکمل اور حلم میں سب سے افضل ہے۔ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ علی میرا بھائی ہے دنیا اور آخرت میں؟۔ یہ سن کر حضرت فاطمہ ہنسنے لگیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں اس پر راضی اور خوش ہوں۔[51]۔[52]
شادی کے بعد آپ کی زندگی طبقۂ نسواں کے لیے ایک مثال ہے۔[53] آپ گھر کا تمام کام خود کرتی تھیں مگر کبھی حرفِ شکایت زبان پر نہیں آیا نہ ہی کوئی مددگار یا کنیز کا تقاضا کیا۔ 7ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کنیز عنایت کی جو حضرت فضہ کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کے ساتھ حضرت فاطمہ نے باریاں مقرر کی تھیں یعنی ایک دن وہ کام کرتی تھیں اور ایک دن حضرت فضہ کام کرتی تھیں۔ [54]۔[55][56] ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے اور دیکھا کہ آپ بچے کو گود میں لیے چکی پیس رہی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک کام فضہ کے حوالے کر دو۔ آپ نے جواب دیا کہ بابا جان آج فضہ کی باری کا دن نہیں ہے۔[57]
آپ کے حضرت علی سے بھی مثالی تعلقات تھے۔ کبھی ان سے کسی چیز کا تقاضا نہیں کیا۔ ایک دفعہ حضرت فاطمہ بیمار پڑیں تو حضرت علی نے پوچھا کہ کچھ کھانے کو دل چاہتا ہو تو بتاؤ۔ آپ نے کہا کہ میرے پدر بزرگوار نے تاکید کی ہے کہ میں آپ سے کسی چیز کا سوال نہ کروں، ممکن ہے کہ آپ اس کو پورا نہ کرسکیں اور آپ کو رنج ہو۔اس لیے میں کچھ نہیں کہتی۔ حضرت علی نے جب قسم دی تو انار کا ذکر کیا۔[58]
آپ نے کئی جنگیں دیکھیں جن میں حضرت علی نے نمایاں کردار ادا کیا مگر کبھی یہ نہیں چاہا کہ وہ جنگ میں شریک نہ ہوں اور بچے رہیں۔ اس کے علاوہ جنگ احد میں حضرت علی نے سولہ زخم کھائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ مبارک بھی زخمی ہوا مگر آپ نے کسی خوف و ہراس کا مظاہرہ نہیں کیا اور مرہم پٹی، علاج اور تلواروں کی صفائی کے فرائض سرانجام دیے۔[59]

اولاد

اللہ نے آپ کو دو بیٹوں اور دو بیٹیوں سے نوازا۔ دو بیٹے حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی اور بیٹیاں زینب بنت علی و ام کلثوم بنت علی تھیں۔ ان کے دونوں بیٹوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنا بیٹا کہتے تھے اور بہت پیار کرتے تھے۔ اور فرمایا تھا کہ حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔ ان کے نام بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود رکھے تھے۔

واقعہ مباہلہ

مباہلہ ایک مشہور واقعہ ہے اور ان چند واقعات میں سے ایک ہے جس میں حضرت فاطمہ کو جنگ کے علاوہ گھر سے نکلنا پڑا۔ نجران کے مسیحی جب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملنے آئے اور بحث کی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں اور کسی طرح نہ مانے تو اللہ نے قرآن میں درج ذیل آیت نازل کی:

اے پیغمبر! علم کے آجانے کے بعد جو لوگ تم سے کٹ حجتی کریں ان سے کہہ دیجئے کہ آؤ ہم لوگ اپنے اپنے فرزند، اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں۔ سورۃ آل عمران آیۃ 61

اس کے بعد مباہلہ کا فیصلہ ہوا کہ عیسائی اپنے برگزیدہ لوگوں کو لائیں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آیۂ مباہلہ پر عمل کریں گے اور اسی طریقہ سے فیصلہ ہوگا۔ اگلی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ساتھ حضرت حسن اور حضرت حسین کو چادر میں لپیٹے ہوئے حضرت علی اور حضرت فاطمہ کو لیے ہوئے آئے۔ ان لوگوں کو دیکھتے ہی عیسائی مغلوب ہو گئے اور ان کے سردار نے کہا کہ میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر خدا سے بد دعا کریں تو روئے زمین پر ایک بھی عیسائی سلامت نہ رہ جائے گا۔[60]۔[61]۔[62]۔[63]

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات

  • حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ:
مرض الموت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فاطمہ کو نزدیک بلا کر ان کے کان میں کچھ کہا جس پر وہ رونے لگیں۔اس کے بعد آپ نے پھر سرگوشی کی تو آپ مسکرانے لگیں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے سبب پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ پہلے میرے بابا نے اپنی موت کی خبر دی تو میں رونے لگی۔ اس کے بعد انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے میں ان سے جاملوں گی تو میں مسکرانے لگی۔[64]۔[65]۔[66]۔

ایک اور روایت میں یحیٰ بن جعدہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت فاطمہ سے کہا کہ سال میں صرف ایک مرتبہ قرآن مجھے دکھایا جاتا تھا۔ مگر اس دفعہ دو مرتبہ دکھایا گیا۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ میری موت قریب ہے۔ میرے اہل میں سے تم مجھے سب سے پہلے آ کر ملو گی۔[67] یہ سن کر آپ غمگین ہوئیں تو رسول اللہ نے فرمایا کہ کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ تم زنان اہلِ جنت کی سردار ہو؟ یہ سن کر آپ مسکرانے لگیں[68]۔[69]

آپ کے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات ایک عظیم سانحہ تھا۔ اس نے حضرت فاطمہ کی زندگی تبدیل کر دی۔ آپ شب و روز گریہ کیا کرتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی میراث میں سے بھی انہیں بوجوہ کچھ نہ مل سکا جس سے مالی پریشانیاں بھی ہوئیں۔ مسئلہ فدک و خلافت بھی پیش آیا۔ اہلِ مدینہ ان کے رونے سے تنگ آئے تو حضرت علی نے ان کے لیے مدینہ سے کچھ فاصلے پر بندوبست کیا تاکہ وہ وہاں گریہ و زاری کیا کریں۔ اس جگہ کا نام بیت الحزن مشہور ہو گیا۔ اپنے والد کی وفات کے بعد آپ نے مرثیہ کہا جس کا ایک شعر کا ترجمہ ہے کہ 'اے ابا جان آپ کے بعد مجھ پر ایسی مصیبتیں پڑیں کہ اگر وہ دنوں پر پڑتیں تو وہ تاریک راتوں میں تبدیل ہو جاتے'۔[70]۔[71]۔ اس دوران مسئلہ فدک بھی پیش آیا جس کا تذکرہ بعد میں آئے گا۔

وفات

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے کچھ ماہ بعد آپ کی وفات ہوئی۔ اس کی تاریخ 3 جمادی الثانی 11ھ ہے۔ آپ کی وفات کی وجوہات میں تاریخی اختلافات ہیں جن کا تذکرہ الگ سے کیا جائے گا۔ آپ جنت البقیع میں مدفون ہیں جہاں پر ایک روضہ بھی بنا ہوا تھا جسے سعودی حکومت نے 8 شوال 1344ھ کو ڈھا دیا۔[72]

احادیث میں فضائل

  • حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک فرشتہ جو اس رات سے پہلے کبھی زمین پر نہ اترا تھا اس نے اپنے پروردگار سے اجازت مانگی کہ مجھے سلام کرنے حاضر ہو اور یہ خوشخبری دے کہ فاطمہ اہلِ جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہے اور حسن و حسین جنت کے تمام جوانوں کے سردار ہیں۔[73]۔[74]۔[75]۔[76]۔[77]
  • حضرت مسور بن مخرمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ میری جان کا حصہ ہے پس جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔[78]۔[79]۔[80]۔[81]۔[82]
  • حضرت عبداللہ بن زبیر بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بے شک فاطمہ میری جان کا حصہ ہے۔ اسے تکلیف دینے والی چیز مجھے تکلیف دیتی ہے اور اسے مشقت میں ڈالنے والا مجھے مشقت میں ڈالتا ہے۔[83]۔[84]۔[85]۔[86]
  • حضرت ابو حنظلہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بے شک فاطمہ میری جان کا حصہ ہے۔ جس نے اسے ستایا اس نے مجھے ستایا۔[87]۔[88]۔[89]۔[90]
  • حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنے اہل و عیال میں سے سب کے بعد جس سے گفتگو فرما کر سفر پر روانہ ہوتے وہ حضرت فاطمہ ہوتیں اور سفر سے واپسی پر سب سے پہلے جس کے پاس تشریف لاتے وہ بھی حضرت فاطمہ ہوتیں۔[91]۔[92]۔[93]
  • ایک اور مشہور حدیث (جو حدیث کساء کے نام سے معروف ہے) کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک یمنی چادر کے نیچے حضرت فاطمہ، حضرت علی و حسن و حسین کو اکٹھا کیا اور فرمایا کہ بے شک اللہ چاہتا ہے کہ اے میرے اہل بیت تجھ سے رجس کو دور کرے اور ایسے پاک کرے جیسا پاک کرنے کا حق ہے[94]۔[95]۔[96]۔[97]۔[98]

اختلافی امور

مسئلہ فدک

فدک ایک باغ تھا جو جنگ خیبر کے وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہبہ کیا گیا اور اس کے لیے مسلمانوں نے جنگ نہیں کی۔[99] ۔ شرعی لحاظ سے اسے مال فئی میں شامل کیا جاتا ہے یعنی ایسی جائیداد جس کے لیے مسلمانوں نے اونٹ اور گھوڑے نہیں دوڑائے اور جنگ نہیں کی۔[100]۔[101] اہل سنت کے بعض اور اہل تشیع کے اکثر علماء اسے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جائیداد مانتی ہے [102]۔[103]۔[104]۔[105]۔[106]۔[107]۔[108]۔[109]۔[110] لیکن ابن تیمیہ نے اس سے انکار کیا ہے۔[111]
صحیح مسلم میں حضرت ابوسعدی الخدری اور حضرت عبداللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی زندگی ہی میں فدک حضرت فاطمہ کو اس وقت ہبہ کر دیا جب سورہ حشر کی آیت 7 نازل ہوئی۔[112] دیگر تفاسیر میں سورہ حشر کی آیت 7 کی ذیل میں لکھا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فدک حضرت فاطمہ الزھراء کو ہبہ کر دیا۔[113]۔[114] شاہ عبدالعزیز نے فتاویٰ عزیزیہ میں اس بات کا اقرار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حضرت فاطمہ الزھراء کو فدک سے محروم کرنا درست نہیں ہے۔[115] تاہم شاہ ولی اللہ اور ابن تیمیہ نے اس بات سے انکار کیا ہے۔[116]۔[117]
صحیح البخاری میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد فدک کی ملکیت پر حضرت فاطمہ الزھراء اور حضرت ابوبکر میں اختلافات پیدا ہوئے۔ حضرت فاطمہ نے فدک پر اپنا حقِ ملکیت سمجھا جبکہ حضرت ابوبکر نے فیصلہ دیا کہ چونکہ انبیاء کی وراثت نہیں ہوتی اس لیے فدک حکومت کی ملکیت میں جائے گا۔ اس پر حضرت فاطمہ حضرت ابوبکر سے ناراض ہو گئیں اور اپنی وفات تک ان سے کلام نہیں کیا۔ یہاں تک کہ ان کی وفات کے بعد رات کو جنازہ پڑھایا گیا جس کے بارے میں حضرت ابوبکر کو خبر نہ کی گئی۔[118]۔[119]۔[120]

اہل سنت کی کچھ روایات کے مطابق حضرت ابوبکر نے بعد میں حضرت فاطمہ سے صلح کی کوشش جاری رکھی یہاں تک کہ وہ ان سے ناراض نہ رہیں۔[121]

اس سلسلے میں اہل سنت اور اہل تشیع میں اختلاف ہے۔ اہل سنت کے مطابق حضرت ابوبکر نے یہ فیصلہ ایک حدیث کی بنیاد پر دیا جس کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انبیاء کے وارث نہیں ہوتے اور جو کچھ وہ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ جبکہ اہل تشیع کے مطابق یہ حدیث حضرت ابوبکر کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی اور یہ فیصلہ درست نہیں تھا کیونکہ قرآن کی کچھ آیات میں انبیاء کی وراثت کا ذکر ہے۔ اہل سنت اور اہل تشیع میں ایک اختلاف یہ بھی ہے کہ اہل سنت کے مطابق وفات تک حضرت فاطمہ حضرت ابوبکر سے ناراض نہ تھیں اور صلح ہو چکی تھی[122] جبکہ اہل تشیع کے مطابق وہ وفات تک ناراض تھیں اور انہوں نے وصیت کی تھی کہ وہ ان کے جنازے میں شریک نہ ہوں۔[123]
بیہقی[124] کے مطابق صلح ہوئی لیکن امام بخاری اور ابن ابی قیتبہ کے مطابق صلح نہ ہوئی اور حضرت فاطمہ نے تا زندگی حضرت ابوبکر و حضرت عمر سے کلام نہ کیا۔ جبکہ ابن ابی قیتبہ کے مطابق صلح کی کوششوں کے دوران حضرت فاطمہ نے ان دونوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں تازندگی نماز کے بعد تم دونوں پر بددعا کرتی رہوں گی۔ [125]۔[126]

وفات میں اختلافات

آپ کی وفات کے بارے میں مؤرخین اور نتیجتاً اہل تشیع، اہل سنت و اہل حدیث میں شدید اختلافات ہیں۔ اس لیے یہاں انہی واقعات کا تذکرہ کیا جائے گا جو مختلف تواریخ میں لکھے ہوئے ہیں۔

تواریخ میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد کچھ لوگوں نے بشمول حضرت علی کے بیعت نہیں کی۔ حضرت علی گوشہ نشین ہو گئے اس پر حضرت عمر آگ اور لکڑیاں لے آئے اور کہا کہ گھر سے نکلو ورنہ ہم آگ لگا دیں گے۔ حضرت فاطمہ نے کہا کہ اس گھر میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حسنین موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہونے دیں۔[127]۔[128]۔[129]۔[130]۔[131]۔[132]

حضرت علی کے باہر نہ آنے پر گھر کو آگ لگا دی گئی۔ حضرت فاطمہ دوڑ کر دروازہ کے قریب آئیں اور کہا کہ ابھی تو میرے باپ کا کفن میلا نہ ہوا۔ یہ تم کیا کر رہے ہو۔ اس پر ان پر دروازہ گرا دیا اسی ضرب سے حضرت فاطمہ شہید ہوئیں۔[133]۔ کچھ روایات کے مطابق ان کے بطن میں محسن شہید ہوئے۔ ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ محسن کا ذکر کسی معتبر تاریخ میں نہیں اس لیے اس بات کو نہ ماننا چائیے۔ لیکن کچھ کتابوں میں یہ ذکر موجود ہے۔[134]۔

لوگ جب گھر میں گھسے تو حضرت فاطمہ نے کہا کہ خدا کی قسم گھرسے نکل جاؤ ورنہ سر کے بال کھول دوں گی اور خدا کی بارگاہ میں سخت فریاد کروں گی۔[135]۔

اس مکمل واقعہ کی روایت بشمول آگ لگانا اور دروازہ گرانے کے ابن قیتبہ، ابوالفداء، ابن عبدربہ وغیرہ نے بھی کی ہے۔[136]۔[137]۔[138]۔[139]۔

علامہ شبلی نعمانی نے ان واقعات کی صحت کی تصدیق کرتے ہوئےلکھا ہے کہ روایت کے مطابق اس واقعہ سے انکار کی کوئی وجہ نہیں اور حضرت عمر کی تندی اور تیز مزاجی سے یہ حرکت کچھ بعید نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس نازک وقت میں حضرت عمر نے تیزی اور سرگرمی کے ساتھ جو کاروائیاں کیں ان میں گو بعض بے اعتدالیاں پائی جاتی ہیں لیکن یاد رکھنا چائیے کہ انہی بے اعتدالیوں نے اٹھتے ہوئے فتنوں کو دبا دیا۔بعض بنو ہاشم کی سازشیں اگر قائم رہتیں تو اسی وقت جماعت اسلامی کا شیرازہ بکھر جاتا اور وہی خانہ جنگیاں برپا ہو جاتیں تو آگے جا کر حضرت علی اور معاویہ بن ابی سفیان کے دور میں پیدا ہوئیں۔۔[140]۔

شاہ عبدالعزیز نے لکھا ہے کہ یہ قصہ افترا ہے اور اس کی کچھ اصل نہیں اگر جلانے کی دھمکی دی گئی تھی تو اس کا مقصد صرف ڈرانا تھا کیونکہ ایسے لوگ اس گھر میں پناہ لیے ہوئے تھے جو حضرت ابوبکر کی خلافت لوٹ پوٹ کرنے کے واسطے صلاح و مشورہ کرتے تھے۔ ۔ ۔ یہ فعل حضرت عمر سے مطابق فعل معصوم وقوع میں آیا (کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی ترک نماز کرنے والوں کے گھر کو آگ سے پھونکنے کی دھمکی دی تھی) اس لیے طعن کیوں ہو۔[141]

3 جمادی الاخر 11ھ کو انتقال ہوا اور صحیحین کے مطابق بوجہ حضرت فاطمہ کی وصیت کے انہیں رات کے وقت دفنایا گیا۔[142]۔[143] جنازے میں حضرت علی، حضرت حسن و حسین،حضرت عقیل ابن ابی طالب، حضرت سلمان فارسی، حضرت ابوذر غفاری، حضرت مقداد ابن اسود، حضرت عمار ابن یاسر اور حضرت بریدہ شریک تھے۔[144]۔ دیگر روایات میں حضرت حذیفہ یمانی، حضرت عباس، حضرت فضل، حضرت عبد اللہ ابن مسعود کا ذکر ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن زبیر کا ذکر بھی آتا ہے۔[145]۔ صحیح بخاری میں درج ہے کہ حضرت فاطمہ نے وصیت کی تھی کہ حضرت ابوبکر و حضرت عمر ان کے جنازے میں شریک نہ ہوں۔[146]۔ کچھ اور جگہ آتا ہے کہ حضرت فاطمہ نے فرمایا کہ ان میں سے کوئی جنازے میں نہ آئے جن سے میں ناراض ہوں۔[147]۔[148]۔

اکثر اور مشہور روایات کے مطابق جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔[149]۔ چالیس دیگر قبریں بھی بنائی گئیں تاکہ اصل قبر کا پتہ نہ چل سکے۔[150]۔ ) جبکہ کچھ روایات کے مطابق گھر میں دفن ہوئیں۔ جب حضرت عمر ابن عبدالعزیز نے مسجد نبوی کی توسیع کی تو گھر مسجد میں شامل ہو گیا۔[151]

حوالہ جات

  1. ^ 1.00 1.01 1.02 1.03 1.04 1.05 1.06 1.07 1.08 1.09 1.10 1.11 1.12 1.13 1.14 Sharif al-Qarashi, Bāqir. The Life of Fatima az-Zahra (sa). Trans. Jāsim al-Rasheed. Qum, Iran: Ansariyan Publications, n.d. Print. Pgs. 37-41
  2. ^ Al-Istee’ab, vol.2 Pg. 752
  3. ^ Usd al-Ghabah, vol.5 Pg. 520
  4. ^ "The Ka’aba, The House Of Allah | Story of the Holy Ka’aba | Books on Islam and Muslims". Al-Islam.org. http://www.al-islam.org/kaaba14/3.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-08-24. 
  5. ^ "The Story of Hazrat Fatima (sa), daughter of the Holy Prophet | Story of the Holy Ka’aba | Books on Islam and Muslims". Al-Islam.org. http://www.al-islam.org/kaaba14/3.htm۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-08-24. 
  6. ^ انسائکلوپیڈیا آف اسلام
  7. ^ انسائکلوپیڈیا بریٹانیکا
  8. ^ مودۃ القربیِ از سید علی ابن شہاب ہمدانی صفحہ 63
  9. ^ دلائل الامامت از محمد بن جریر الطبری
  10. ^ بحار الانوار از علامہ باقر مجلسی
  11. ^ روضۃ الصفاء از محمد ابن خاوند شاہ
  12. ^ وسیلۃ النجات از مولوی مبین الحنفی فرنگی محلی
  13. ^ روضۃ الاحباب از جمال الدین محدث
  14. ^ مرجاء الانس از علامہ معتمد بدخشانی
  15. ^ مدارج النبوۃ
  16. ^ سوانح فاطمۃ الزھرا از مضفر علی خان، الہ آباد، 1968ء
  17. ^ صحیح البخاری 4:56:819
  18. ^ سیرت فاطمہ الزھراء از سلطان مرزا دہلوی
  19. ^ سیرت النبی از علامہ شبلی نعمانی صفحہ 186
  20. ^ چودہ ستارے از علامہ ذیشان حیدر جوادی
  21. ^ سیرت فاطمہ الزھرا از سلطان مرزا دہلوی
  22. ^ چودہ ستارے از علامہ ذیشان حیدر جوادی
  23. ^ دلائل الامامۃ از محمد ابن جریر الطبری
  24. ^ بحار الانوار از علامہ باقر مجلسی
  25. ^ الخرائج والجرائح از قطب الدین راوندی 573ھ
  26. ^ کنز العمال جلد 7 صفحہ 113
  27. ^ طبقات ابن سعد جلد 8 صفحہ 11 و 12
  28. ^ البدایۃ والنہایۃ از ابن کثیر
  29. ^ تاریخ الخمیس از حسین دیار بکری جلد اول صفحہ 407 و 408
  30. ^ اسد الغابہ از ابن اثیر الجزری طبع بیروت
  31. ^ سیرت فاطمہ الزھرا از سلطان مرزا دہلوی
  32. ^ ریاض النظرۃ از محب الدین طبری جلد 2 صفحہ 184 طبع مصر
  33. ^ المعجم الکبیر از طبرانی 10:156
  34. ^ تذکرۃ الخواص از ابن جوزی (روایت از حضرت عبداللہ بن بریدہ)
  35. ^ چودہ ستارے از علامہ ذیشان حیدر جوادی
  36. ^ بحار الانوار از علامہ باقر مجلسی
  37. ^ مناقب ابن شہر آشوب جلد 4 صفحہ 14
  38. ^ الستیعاب از حافظ ابن عبدالبر
  39. ^ بحار الانوار از علامہ باقر مجلسی
  40. ^ مسند احمد بن حنبل
  41. ^ المستدرک الحاکم
  42. ^ سنن نسائی
  43. ^ المستدرک الحاکم
  44. ^ مناقب ابن شہر آشوب
  45. ^ کتاب السنن لسعید بن منصور
  46. ^ کشف الغمہ لعلی بن عیسیٰ اربیلی
  47. ^ الصواعق المحرقہ از ابن حجر عسقلانی
  48. ^ سیرت فاطمہ الزھرا از سلطان مرزا دہلوی
  49. ^ بحار الانوار از علامہ مجلسی
  50. ^ اعیان الشیعہ جز الثانی صفحہ 501
  51. ^ مناقب ابن شہر آشوب
  52. ^ بحارالانوار صفحہ 172
  53. ^ سیدہ کی عظمت از مولانا کوثر نیازی صفحہ 5
  54. ^ سیدہ کی عظمت از مولانا کوثر نیازی صفحہ 5
  55. ^ چودہ ستارے از ذیشان حیدر جوادی صفحہ 96
  56. ^ نقوش عصمت از ذیشان حیدر جوادی صفحہ 168
  57. ^ مناقب ابن شہر آشوب
  58. ^ ریاحین الشریعہ از ذبیح اللہ محلاتی
  59. ^ نقوش عصمت از ذیشان حیدر جوادی صفحہ 168
  60. ^ تفسیر ابن کثیر صفحہ 438 تفسیر سورہ آل عمران
  61. ^ سیرت ابن اسحاق (بیان تفسیر ابن کثیر میں)
  62. ^ نقوش عصمت از ذیشان حیدر جوادی
  63. ^ تفسیر بیضاوی صفحہ 74
  64. ^ صحیح البخاری
  65. ^ صحیح مسلم
  66. ^ مسند احمد بن حنبل
  67. ^ تاریخ طبری از علامہ ابی جعفر محمد بن جریر الطبری متوفی 310ھ
  68. ^ تاریخ بلاذری
  69. ^ کشف الغمہ جلد 2 صفحہ 8
  70. ^ نور الابصار صفحہ 46
  71. ^ مدارج النبوۃ جلد 2 صفحہ 524
  72. ^ نقوش عصمت از ذیشان حیدر جوادی
  73. ^ ترمذی، الجامع الصحیح۔ 607۔5 رقم 3781
  74. ^ مسند احمد بن حنبل۶ 391۔۔5
  75. ^ المعجم الکبیر از طبرانی رقم 1005
  76. ^ المستدرک۔ الحاکم رقم 4721،4722
  77. ^ صحیح البخاری، کتاب المناقب (یہ حصہ کہ حضرت فاطمہ اہلِ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں)
  78. ^ صحیح البخاری 3:1361 رقم 3510
  79. ^ صحیح البخاری 3:1374 رقم 3556
  80. ^ صحیح مسلم 4:1903 رقم 2449
  81. ^ الاصابہ فی تمیز الصحابہ از ابن عحر عسقلانی 8:56
  82. ^ 22:404المعجم الکبیر از طبرانی
  83. ^ ترمذی، الجامع الصحیح۔ 5:698
  84. ^ مسند احمد بن عنبل 4:5
  85. ^ حاکم، المستدرک 3:173
  86. ^ فتح الباری از ابن حجر عسقلانی 9:329
  87. ^ تمسند احمد بن حنبل 4:5
  88. ^ مسند احمد بن عنبل فضائل الصحابہ 2:755
  89. ^ السنن الکبریٰ از بیہقی 10:201
  90. ^ المعجم الکبیر از طبرانی 22:405
  91. ^ سنن ابی داوود 4:87
  92. ^ مسند احمد بن عنبل 5:275
  93. ^ السنن الکبریٰ از بیہقی 1:26
  94. ^ صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابہ الجز السابع صفحہ 13 حدیث 6261
  95. ^ منہاج السنہ از ابن تیمیہ الجز الثالث صفحہ 4
  96. ^ مسند احمد بن حنبل جز الاول صفحہ 331 ، جز الثالث صفحہ 385، جز الرابع صفحہ 51
  97. ^ تفسیر در منثور از جلال الدین سیوطی الجز الخامس صفحہ 198۔199
  98. ^ الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب از ابن عبد البر الجز الثانی
  99. ^ سیرت رسول اللہ از ابن اسحاق
  100. ^ تفسیر کبیر از فخر الدین رازی
  101. ^ تفسیر مراغی از مصطفیٰ المراغی در تفسیر سورہ حشر
  102. ^ تفسیر کبیر از فخر الدین رازی تفسیر سورہ حشر آیت 7
  103. ^ فتوح البلدان از احمد ابن یحییٰ البلاذری
  104. ^ معجم البلدان از یاقوت الحماوی الرومی صفحہ 139 جلد 14
  105. ^ تاریخ طبری صفحہ 1583 جلد 3
  106. ^ تاریخ الکامل از ابن اثیر جلد 2 صفحہ 108
  107. ^ تاریخ خمیس از حسین دیار بکری
  108. ^ وفاءالوفاء از علی ابن احمد السمھودی
  109. ^ سیرت رسول اللہ معروف بہ سیرت ابن ھشام از ابو محمد عبدالمالک ابن ھشام
  110. ^ تاریخ ابوالفداء از ابوالفداء ملک حماہ
  111. ^ منہاج السنہ از ابن تیمیہ
  112. ^ در المنثور از جلال الدین سیوطی جلد 4 صفحہ 177
  113. ^ معراج النبوۃ از عبدالحق دہلوی متوفی 1642ء صفحہ 228 جلد 4 باب 10
  114. ^ حبیب السیار از غیاث الدین محمد خواندامیر
  115. ^ فتاویٰ عزیزیہ از شاہ عبدالعزیز
  116. ^ قرۃ العین از شاہ ولی اللہ
  117. ^ منہاج السنہ از ابن تیمیہ
  118. ^ صحیح بخاری 59۔546
  119. ^ صحیح البخاری جلد 4 53۔325
  120. ^ صحیح بخاری اردو ترجمہ از مولانا داؤود مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند جلد 5 حدیث 4240۔4241
  121. ^ سنن کبریٰ از بیہقی جلد 6 صفحہ 300
  122. ^ سنن کبریٰ از بیہقی جلد 6 صفحہ 300
  123. ^ صحیح البخاری جلد 4 53۔326
  124. ^ سنن کبریٰ از بیہقی جلد 6 صفحہ 300
  125. ^ صحیح بخاری اردو ترجمہ از مولانا داؤود مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند جلد 5 حدیث 4240۔4241
  126. ^ الامامت و السیاست از ابن ابی قیتبہ جلد 14
  127. ^ تاریخ طبری از ابن جریر الطبری
  128. ^ مصنف ابن ابی شیبہ
  129. ^ ، مروج الذہب از علامہ مسعودی
  130. ^ الاستیعاب از ابن عبد البر صفحہ 345 در ذکر ابوبکر بن ابی قحافہ
  131. ^ ، ازالۃ الخفاء از شاہ ولی اللہ
  132. ^ منتخب کنز العمال از حاشیہ مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحہ 174 مطبوعہ مصر
  133. ^ مدارج النبوۃ رکن 4 باب 3 صفحہ 42 از عبدالحق دہلوی
  134. ^ روائح المصطفیٰ از مولوی صدر الدین حنفی صفحہ 28
  135. ^ تاریخ یعقوبی جلد 2 صفحہ 116
  136. ^ الامامت والسیاست از ابو محمد عبد اللہ بن مسلم قیتبہ متوفی 276ھ جلد 1 صفحہ 12
  137. ^ تاریخ ابوالفداء از امام اہل سنت عماد الدین اسماعیل بن علی ابوالفداء ۔ اردو ترجمہ از مولوی کریم الدین حنفی صفحہ 177۔179
  138. ^ عقد الفرید از امام شہاب الدین احمد معروف بہ ابن عبدربہ اندلسی۔ جلد 2 صفحہ 176 مطبوعہ مصر
  139. ^ تاریخ بلاذری در تذکرۂ بیعت حضرت ابوبکر
  140. ^ الفاروق از شبلی نعمانی حصہ اول صفحہ 113
  141. ^ تحفہ اثنا عشریہ از شاہ عبدالعزیز مطبوعہ نولکشور
  142. ^ صحیح البخاری
  143. ^ صحیح المسلم
  144. ^ مناقب شہر آشوب از حافظ محمد ابن علی شہر آشوب
  145. ^ تاریخ طبری از جریر الطبری
  146. ^ صحیح البخاری جلد 2 کتاب المغازی
  147. ^ طبقات ابن سعد الجز الثامن
  148. ^ ، المستدرک الصحیحین جز الثالث از الحاکم
  149. ^ مدارج النبوۃ از شیخ عبد الحق محدث دہلوی
  150. ^ دلائل الامامۃ از جریر الطبری
  151. ^ مناقب ابن شہر آشوب


کتابیں

اولین مآخذ

کتابیں اور رسائل

شیعی مآخذ

دائرۃ المعارف

بیرونی روانط