رملہ بنت ابوسفیان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مؤمنین کی والدہ
امہات المؤمنین - (ازواج مطہرات)

امہات المومنین

ام المومنین رملہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہا (عربی: رملة بنت أبي سفيان) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ تھیں۔ آپ کی کنیت "ام حبیبہ" تھی۔

ابتدائی زندگی

آپ رضی اللہ عنہا حضرت امیر معاویہ کی بہن اور عرب قبیلہ قریش کے سردار حضرت ابوسفیان اور صفیہ بنت ابو العاص کی بیٹی تھیں۔ آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خالہ زاد بہن تھیں۔

عبید اللہ بن جحش سے شادی

ان کی پہلی شادی عبید اللہ بن جحش سے ہوئی تھی۔ وہ زینب بنت جحش کے بھائی تھے جن سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نکاح کیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہا اپنے شوہر عبیداللہ کے ساتھ ہجرت کر کے حبشہ (ایتھوپیا) چلی گئی تھیں۔ آپ کے شوہر اسلام سے مرتد ہو کر عیسائی ہو گئے اور انہوں نے آپ رضی اللہ عنہا کو بھی مرتد ہونے کا کہا لیکن آپ نے انکار کر دیا۔ اسی وجہ سے ان میں طلاق ہو گئی۔ طلاق کے بعد اپنے سابقہ شوہر کی وفات تک وہ اپنی بیٹی کے ساتھ حبشہ میں ہی رہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شادی

جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان حالات کا پتہ چلا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نجاشی کو لکھا کہ وہ ان کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے پیام دے۔ ام حبیبہ نے منظوری دے دی تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے خالد بن سعید بن العاص نے ایجاب و قبول کیا اور نجاشی نے خود 4000 اشرفی مہر ادا کر دیا اس طرح 6ھ (627ء) میں آپ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نکاح میں آ گئیں اور مدینہ تشریف لے آئیں۔

بعض روایات کے مطابق حضرت رملہ رضی اللہ عنہا نے ہجرت کے ایک سال بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شادی کی۔ بعض روایات کے مطابق شادی کے وقت آپ کی عمر تیس برس کی تھی۔

اولاد

پہلے شوہر سے آپ کے ایک لڑکا عبداللہ اور ایک لڑکی حبیبہ تھی۔ اسی بیٹی حبیبہ کی وجہ سے آپ کی کنیت ام جبیبہ پڑ گئی۔ آنحضرت سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت

حضرت رملہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عزت کا بہت زیادہ خیال کرتی تھیں۔ ایک دفعہ آپ کے والد ابوسفیان آپ سے ملنے آتے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چادر پر بیٹھنے لگے تو آپ رضی اللہ عنہا نے فورا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چادر اٹھا کر اپنے والد ابوسفیان سے کہا کہ آپ اس چادر پر نہیں بیٹھ سکتے کیونکہ آپ نجس ہیں۔ اس وقت تک ابو سفیان مشرف بہ اسلام نہ ہوئے تھے۔

وفات

حضرت رملہ رضی اللہ عنہا خلافت امویہ میں اپنے بھائی حضرت معاویہ کے دورِ خلافت میں 45ھ (665ء) میں وفات پا گئیں اور آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

روایات

آپ رضی اللہ عنہا سے صحیحین میں تقریبا 55 احادیث منقول ہیں۔