نعت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

پیغمبرِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی اندازِ بیاں کو نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔عربی زبان میں نعت کیلئے لفظ "مدحِ رسول" استعمال ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بہت سے صحابہ اکرام نے نعتیں لکھیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ نعتیں لکھنے والے کو نعت گو شاعر جبکہ نعت پڑھنے والے کو نعت خواں یا ثئاء خواں بھی کہا جاتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

گوکہ یہ کہنا مشکل ہے کہ نعت خوانی کا آغاز کب ہوا تھا لیکن روایات سے پتہ چلتا ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا حضرت ابوطالب نے پہلے پہل نعت کہی۔ اردو کے مشہور نعت گو شاعر فصیح الدین سہروردی کے مطابق اولین نعت گو شعراء میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا حضرت ابوطالب اور اصحاب میں حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ پہلے نعت گو شاعر اور نعت خواں تھے۔ [1] اسی بناء پر اُنہیں شاعرِ دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی کہا جاتا ہے۔ ذیل میں آپکے نعتیہ اشعار ہیں۔

یابکر آمنة المبارک بکرھا     ولدتہ محصنة بسعد الاسع
نوراً ضاء علی البریة کلھا     من یھد للنور المبارک یھتدی
متی يبد في الداجي البهيم جبينه    يلح مثل مصباح الدجي المتوقد
دیوان حضرت حسان بن ثابت 153
ترجمہ:”اے آمنہ کے مبارک بیٹے! جو انتہائی پاکیزگی اور عفت کے ساتھ پیدا ہوا۔
آپ ایسا نور تھے جو ساری مخلوق پر چھا گیا اور جسے اس مبارک نور کی پیروی نصیب ہوئی وہ ہدایت یافتہ ہو گیا۔
رات کی تاریکی میں حضور کی جبینِ اقدس اس طرح چمکتی دکھائی دیتی ہے جیسے سیاہ اندھیرے میں روشن چراغ۔“

اسکے علاوہ حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے ترنم سے نعتیں پڑھیں۔ حضور نبیء کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود کئی مرتبہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نعت سماعت فرمائی۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے علاوہ بھی ایک طویل فہرست ہے، اُن صحابہء کرام کی کہ جنہوں نے حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نعتیں لکھیں اور پڑھیں۔ جب حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکے سے ہجرت فرما کر مدینے تشریف لائے تو آپ کے استقبال میں انصار کی بچیوں نے دف پر نعت پڑھی، جس کا درج ذیل شعر شہرتِ دوام پاگیا:[2]

طلع    البدر    علینا   من    ثنیات    الوداع
و جب    الشکر   علینا    ما    دعا    للہ    داع

صحابہ نعت گو شعراء[ترمیم]

حضورِ اکرم نورِ مجسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نقش پاءجوکہ ترب کے عجائب گھر میں محفوظ ہے

درج ذیل نام اُن صحابہء کرام کے ہیں، جنہیں نہ صرف حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نعت پڑھنے کا شرف حاصل ہوا بلکہ کئی روایات سے یہ ثابت ہے کہ حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود کئی بار ان اصحاب سے نعت سماعت فرمائی[2]:

علماء نعت گو شعراء[ترمیم]


نعت خوانی اولیاء اللہ کی نظر میں[ترمیم]

دورِ صحابہ سے لے آج کے دور تک جہاں صحابہء کرام اور علماء نے حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نعتوں کی روایت کو فروغ دیا، وہیں اولیاء اللہ نے بھی اسلام کی ترویج و اشاعت کے ساتھ حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عشق کو ایمان کی تکمیل کے لئے ناگزیر قرار دیا اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حصول کے لئے نعت خوانی کو سب بہتر ذریعہ قرار دیا۔ تمام تر سلاسلِ تصوف میں محافلِ نعت خوانی کو خصوصی مقام حاصل ہے۔ ایسی ہی برگزیدہ ہستیوں کے نام درج ذیل نے جنہوں نے صرف نعت خوانی کو فروغ دیا بلکہ خود بھی نعت گوئی کی:


مسلم نعت گو شعراء[ترمیم]

حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ثناء خوانی کرنے والے ہر دور میں آتے رہے ہیں اور ان میں کچھ نام ایسے ہیں جنہوں نے اپنے اس فن اور ہنر کے طفیل ابدی شہرت حاصل کرلی۔ ذیل میں ایسے حضرات کی فہرست دی جارہی ہے:

غیر مسلم نعت گو شعراء[ترمیم]

حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات رحمت للعالمین ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام جہانوں کے لئے رحمت بن کر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدحت و ثناء خوانی جہاں مسلمانوں کا شعار رہی ہے، وہیں کچھ ایسے غیر مسلم شعراء بھی ہیں جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں بہت عمدہ نعتیہ کلام لکھے۔ خصوصاً بھارتی شاعر کنور مہندر سنگھ بیدی سحر نے اس سلسلے میں لافانی اشعار حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں کہے، جوکہ بہت پسند کئے گئے اور اکثر ان کے ان اشعار کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ:

ہم کسی دین سے ہوں صاحبِ کردار تو ہیں
ہم ثناء خوانِ شہء حیدرِ کرار تو ہیں
نام لیوا ہیں محمد کے پرستار تو ہیں
یعنی مجبور پئے احمدِ مختار تو ہیں

عشق ہو جائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں
صرف مسلم کا محمد پہ اجارہ تو نہیں

پاکستان کے مشہور جسٹس رانا بھگوان داس بھی نعت گو ہیں۔ ان کی ایک نعت کے کچھ اشعار درج ہیں[3]۔

نبیِ مکرم شنہشاہ عالی
بہ اوصافِ ذاتی و شانِ کمالی
جمالِ دو عالم تری ذاتِ عالی
دو عالم کی رونق تری خوش جمالی
خدا کا جو نائب ہوا ہے یہ انساں
یہ سب کچھ ہے تیری ستودہ خصالی

نعت خواں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ نعت خوانی
  2. ^ 2.0 2.1 صحابہ نعت گو شعراء
  3. ^ جسٹس رانا بھگوان داس کی نعت


Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔
‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=نعت&oldid=1100934’’ مستعادہ منجانب