شاعری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


شاعری (Poetry) کا مادہ "شعر" ہے اس کے معنی کسی چیز کے جاننے پہچاننے اور واقفیت کے ہیں۔ لیکن اصطلاحاً شعر اس کلامِ موزوں کو کہتے ہیں جو قصداً کہا جائے۔ یہ کلام موزوں جذبات اور احساسات کے طابع ہوتا ہے۔ اور کسی واقع کی طرف جاننے کا اشارہ کرتا ہے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ نےکوئی حادثہ دیکھا ہو اور وہ آپ کے دل پر اثر کر گیا ہو اور آپ کے اندر سے خود بخود الفاظ کی صورت میں ادا ہو جائے اس اثر کے بیان کو شعر کہتے ہیں اور انہی شعروں کو شاعری کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ( موزوں الفاظ میں حقائق کی تصویر کشی کو شاعری کہتے ہیں۔)


تفصیل[ترمیم]

دراصل شعر ایک قسم کی لفظی مصوری ہے۔ ہعنی مصور برش اور رنگ سے تصویر بناتا ہے اور شاعر جذبات اور باطنی احساسات کی تصویر مناسب الفاظ میں کھینچتا ہے۔ جیسے دریا کی روانی، جنگل کا سناٹا، باغ کی شادابی سبزے کی مہک، دھوپ کی شدت، جاڑوں کی ٹھنڈک رنج و غم، کا ذکر ہو تو تصویر آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے۔شاعری جذبات و احساسات کا نام ہے۔ جذبہ اور احساس دراصل خواس خمسہ سے تحریک پاتا ہے۔ یہ اللہ تعالٰیٰ کی عطا ہے کہ انسان اپنے خواس خمسہ سے تمام کام لیتا ہے۔ شاعر کسی نا کسی چیز سے متاثر ہو کر ہی شعر کہتا ہے۔

اجزائے شاعری[ترمیم]

شاعری میں مندرجہ ذیل اجزاء/تراکیب ہو سکتی ہیں۔

شعر[ترمیم]

شعر شاعری کا لازمی جزو ہے۔ شعر کی سطر کو مصرع کہتے ہیں، ایک شعر میں دو مصرعے ہوتے ہیں۔ پہلے مصرعے کو مصرع اولیٰ اور دوسرے کو مصرع ثانی کہتے ہیں۔

بیت الغزل[ترمیم]

غزل کے سب سے بہترین شعر کو بیت الغزل کہتے یہں۔ مثلاً: مجروح سلطان پوری کا ایک ملاحظہ کریں:
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا [1]

اردو غزل[ترمیم]

  • تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: غزل

غزل کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا یا عشق و محبت کا ذکر کرنا ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ غزل کے موضوعات بدل گئے ہیں۔ عشق و محبت کے علاوہ اصلاحی، سیاسی، معاشی، سماجی بحث و مباحث بھی غزل کی لڑی میں پرود یئے گئے ہیں۔ غزل کے یہ معنی بھی لئے جاتے ہیں کہ وہ ہرن جسے ایک شکاری نے زخمی کر دیا ہو اور پھر اس زخمی ہرن سے چیخ نکلتی ہو۔ اس آواز کو بھی غزل کہتے ہیں۔

غزل کے پہلے شعر کو مطلع کہا جاتا ہے جس کے مصرعہ اولیٰ اور مصرعہ ثانی میں قافیہ اور ردیف ہوتے ہیں۔ مصرعہ اولیٰ سے مراد غزل کے پہلے شعر کا پہلا مصرعہ اور مصرعہ ثانی سے مراد غزل کے پہلے شعر کے دوسرے مصرعہ کو مصرعہ ثانی کہا جاتا ہے۔ ان دونوں میں قافیہ اور ردیف ہوتے ہیں اس لیے اس کو مطع کہا جاتا ہے مطلع کا مطلب طلوع کرنے والا یا کھولنے والا ہے۔ اسی طرح غزل کے آخری شعر کو مقطع کہتے ہیں مقطع کا مطلب قطع کرنا یا کاٹنا یا پھر ختم کرنا بھی ہے۔مقطع میں اکثر شاعر اپنا نام یا تخلص شامل کرتا ہے۔ غزل کے کم سے کم اشعار کی تعداد پانچ اور زیادہ سے زیادہ گیارہ یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

فرد[ترمیم]

شاعری میں ایک اکیلے شعر کو فرد کہتے ہیں۔

حمد[ترمیم]

  • تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: حمد

حمد ایک عربی لفظ ہے،جس کے معنی‘‘تعریف‘‘ کے ہیں۔ اللہ کی تعریف میں کہی جانے والی نظم کو حمد کہتے ہیں۔

ہجو[ترمیم]

  • تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: ہجو

ایسا کلام یاایسی نظم خواہ کسی بھی ہیئت میں ہو۔ جس میں کسی کی مخالفت میں اس پر طنز کیا جائے یا اس کا مذاق اڑایا جائے۔

مصرعہ[ترمیم]

شعر کی ایک سطر کو مصرعہ کہتے ہیں۔

مطلع[ترمیم]

کسی بھی غزل کا (شاعری) میں پہلے شعر کو مطلع یا حسن مطلع کہتے ہیں جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوتے ہیں۔

مقطع[ترمیم]

مقطع کے معنی قطع کرنے کے ہیں چونکہ شاعر اپنی شاعری کا اختتامی شعر میں اپنا تخلص استعمال کرتا ہے، اسی آخری شعر کو اسے مقطع کہا جاتا ہے۔


مدح[ترمیم]

  • تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: مدح

مدح کے معنی تعریف و توصیف کے ہیں اور یہ عموماً قصیدہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ قصیدے کا سب سے ضروری جز مدح سرائی ہے ۔ اور اسی پر قصیدے کی بنیا د ہوتی ہے۔ عربی قصائد میں مدح حقیقت اور واقعیت سے بھر پور ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک عرب شاعر کو کسی نے اپنی مدح پر مجبور کیا تو اس نے جواب دیا کہ ” تم کچھ کرکے دکھائو تو میں تمہاری مدح کروں۔“

منقبت[ترمیم]

  • تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: منقبت

اشعار کے ذریعے کسی کی تعریف کرنے کو منقبت کہتے ہیں لیکن یہ لفظ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی تعریف میں لکھے ہوئے اشعار کو کہا جاتا ہے۔


مثنوی[ترمیم]

  • تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: مثنوی

مثنوی کا لفظ، عربی کے لفظ ”مثنیٰ “ سے بنا ہے اور مثنیٰ کے معنی دو کے ہیں۔ اصطلاح میں ہیت کے لحاظ سے ایسی صنفِ سخن اور مسلسل نظم کو کہتے ہیں جس کے شعر میں دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں اور ہر دوسرے شعر میں قافیہ بدل جائے، لیکن ساری مثنوی ایک ہی بحر میں ہو۔ مثنوی میں عموماً لمبے لمبے قصے بیان کئے جاتے ہیں نثر میں جو کام ایک ناول سے لیا جاتا ہے، شاعری میں وہی کام مثنوی سے لیا جاتا ہے، یعنی دونوں ہی میں کہانی بیان کرتے ہیں۔ مثنوی ایک وسیع صنفِ سخن ہے اور تاریخی، اخلاقی اور مذہبی موضوعات پر کئی ایک خوبصورت مثنویاں کہی گئی ہیں۔ مثنوی عموماً چھوٹی بحروں میں کہی جاتی ہے اور اس کیلیے چند بحریں مخصوص بھی ہیں اور شعرا عموماً اسکی پاسداری کرتے ہیں لیکن مثنوی میں شعروں کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں ہے، کچھ مثنویاں تو کئی کئی ہزار اشعار پر مشتمل ہیں۔

مناجات[ترمیم]

  • تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: مناجات

مناجات کا مطلب ہے دعا وغیرہ۔ زبانوں کے اختلاف کو الگ رکھ کر اگر ہم تمام مذاہب کی الہامی کتب کا غور وفکر کے ساتھ مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ مذاہبِ عالم میں جو دعائیں اور حمدیں پڑھی جاتی ہیں ان کے معنی اور مفہوم میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے، چاہے ہم اسے حمد کہیں، ہندوآرتی، بدھسٹ وندنا، یہودی سالم، پارسی یاسنا یہودی و عیسائی افراد اپنی ہر دعا اور حمد کی ابتداءاور آخر میں ”ہلّلُو یاہ“ Hallelujah پکارتے ہیں۔ ”ہلّلُو“ یعنی حمد کرو ”یاہ“ لفظ یہواہ یعنی خدا کا مخفف ہے۔ ہلّلُو یاہ کے لغوی معنی ہیں خدا کی حمد کرو۔ عربی میں اس کا ترجمہ ”الحمدﷲ“ ہوگا۔ اسی طرح ہندی میں بولا جانے والا لفظ ”ہری اُوم“ یا ”ہرے اوم“ کے لغوی معنی بھی الحمدﷲ کے ہیں۔ سنسکرت زبان کے لفظ اوم ` کے لغوی معنی ایسی ہستی اور نور کے ہیں جو کائنات کی وسعتوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ ظاہر ہے یہاں کائنات پر محیط اس ہستی سے مراد اﷲ ہی ہے اور ہری یا ہرے حمد و ثنا کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح اہلِ ہنود ہر روز صبح جو آرتی (حمد) پڑھتے ہیں ”اوم جے جگدیش ہرے“ اگر اس کا ترجمہ کیا جائے تو سورۃ فاتحہ کی پہلی آیت آپ کے ذہن میں گونجنے لگے گی ”اوم`“ کے معنی اﷲ کے ہیں ”جے“ کہتے ہیں کسی شے کے مالک، رب اور پروردگار کو ”جگدیش“ کا مآخذ جگ ہے جس کے معنی عالم کے ہیں۔ جگدیش کے معنی عالمین اور کائنات کے ہیں اور ”ہرے“ حمد کےِلیے استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ ”اوم جے جگدیش ہرے“ کا ترجمہ ہوگا اﷲ رب العامین کی حمد کرو یعنی الحمد اﷲ رب العالمین!

مسدس[ترمیم]

مسدس چھے شعروں کے ایک قطعہ پر مشتمل شاعری کو کہتے ہیں۔ سب سے مشہور مسدس مسدس حالی ہے۔

نعت[ترمیم]

  • تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: نعت

پیغمبرِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی اندازِ بیاں کو نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔عربی زبان میں نعت کیلئے لفظ "مدحِ رسول" استعمال ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بہت سے صحابہ اکرام نے نعتیں لکھیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ نعتیں لکھنے والے کو نعت گو شاعر جبکہ نعت پڑھنے والے کو نعت خواں یا ثئاء خواں بھی کہا جاتا ہے۔

نظم[ترمیم]

  • تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: نظم

نظم سے مراد ایسا صنف سخن ہے جس میں کسی بھی ایک خیال کو مسلسل بیان کیا جاتا ہے۔ نظم میں موضوع اور ہیئت کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہوتی۔

قافیہ[ترمیم]

  • تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: قافیہ

قافیہ کا لفظ 'قفا' یا 'قفو' سے مشتق ہے اور اسکے لغوی معنی 'پیچھے آنا والا' یا 'پیرو کار' کے ہیں، چونکہ عربی شاعری میں شعر کا اختتام قافیہ پر ہوتا ہے اسلیے اسے یہ نام دیا گیا، واضح رہے کہ فارسی اور اردو شاعری میں ضروری نہیں کہ شعر کا اختتام قافیے پر ہو، بلکہ زیادہ تر شعر کا اختتام ردیف پر ہوتا ہے جو کہ فارسی شاعروں کی ایجاد ہے اور عربی شاعری میں مستعمل نہیں۔

اصطلاح میں قافیہ حروف اور حرکات کے اس مجموعے کو کہتے ہیں جس کی تکرار مختلف الفاظ کے ساتھ شعر کے آخر یا ردیف سے پہلے آئے جیسے دمَن، چمَن، زمَن یا دِل، محفِل، قاتِل وغیرہ الفاظ کو ہم قافیہ کہا جائے گا۔

ردیف[ترمیم]

  • تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: ردیف

ردیف کے لغوی معنی ہیں "گھڑ سوار کے پیچھے بیٹھنے والا"۔ شعری اصطلاح میں ردیف سے مراد وہ لفظ یا الفاظ کا مجموعہ ہے جو قافیے کے بعد مکرر آئیں اور بالکل یکساں ہوں۔ ردیف کا ہر مصرعے میں ہونا لازمی نہیں ہے۔ عام طور پر یہ غزل کے اشعار میں مصرعۂ ثانی میں دہرائے جاتے ہیں۔


قصیدہ[ترمیم]

  • تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: قصیدہ

لفظ قصیدہ عربی لفظ قصد سے بنا ہے اس کے لغوی معنی قصد (ارادہ ) کرنے کے ہیں۔ گویا قصیدے میں شاعر کسی خاص موضوع پر اظہار خیال کرنے کا قصد کرتا ہے اس کے دوسرے معنی مغز کے ہیں یعنی قصیدہ اپنے موضوعات و مفاہیم کے اعتبار سے دیگر اصناف ِ شعر کے مقابلے میں وہی نمایاں اور امتیازی حیثیت رکھتا ہے جو انسانی جسم و اعضاءمیں مغز کو حاصل ہوتی ہے فارسی میں قصیدے کو چامہ بھی کہتے ہیں۔

قطعہ[ترمیم]

دو شعروں کے مجموعے کو قطعہ کہتے ہیں؛ قطعہ کی جمع قطعات ہے۔

رباعی[ترمیم]

  • تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: رباعی

رباعی عربی کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی چار چار کے ہیں۔ شاعرانہ مضمون میں رباعی اس صنف کا نام ہے جس میں چار مصرعوں میں ایک مکمل مضمون ادا کیا جاتا ہے۔ رباعی کا وزن مخصوص ہے ، پہلے دوسرے اور چوتھے مصرعے میں قافیہ لانا ضروری ہے۔ تیسرے مصرعے میں اگر قافیہ لایا جائے تو کوئی عیب نہیں۔ اس کے موضوعات مقرر نہیں۔ اردو فارسی کے شعرا نے ہر نوع کے خیال کو اس میں سمویا ہے۔ رباعی کے آخری دو مصرعوں خاص کر چوتھے مصرع پر ساری رباعی کا حسن و اثر اور زور کا انحصار ہے۔ چنانچہ علمائے ادب اور فصحائے سخن نے ان امور کو ضروری قرار دیا ہے۔ بعض نے رباعی کے لیے چند معنوی و لفظی خصوصیات کو بھی لازم گردانا ہے۔ عروض کی مختلف کتابوں میں رباعی کے مختلف نام ہیں۔ رباعی ، ترانہ ، اور دو بیتی بعض نے چہار مصرعی ، جفتی اور خصی بھی لکھا ہے۔

سلام[ترمیم]

یہ نظم کی ایک قسم ہے جو زیادہ تر شہداء کربلا کے مدح میں لکھی جاتی ہے۔

سہرا[ترمیم]

شادی کے موقع پر دلہا کے لئے گائے جانے والے گیت کو سہرا کا نام دیا جاتا ہے۔

تحت اللفظ[ترمیم]

بغیر ترنم کے شاعری کی ادائیگی کو تحت اللفظ کہا جاتا ہے۔

تخلص[ترمیم]

  • تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: تخلص

وہ قلمی مختصر نام جو شاعر یا ادیب اپنے اصل نام کی بجائے رکھ لیتے ہیں۔

وسوخت[ترمیم]

وسوخت محبوب کے بے وفائی یا لاپروائی کے بیان کے لئے لکھی جانے والی شاعری کو کہتے ہیں۔

گیت[ترمیم]

  • تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: گیت

گیت سروں کی ایک ایسی لہر ہوتی ہے جس میں انسانی آواز بھی شامل ہو اور وہ گیت کے بول گائے۔ گیت کو گایا جاتا ہے اور انسانی آواز جو کہ سر میں ادا کی جاتی ہے، اس کے ساتھ آلات موسیقی کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔

قوالی[ترمیم]

  • تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: قوالی

قوالی ایک موسیقی کا قسم ہے جس کا تعلق جنوبی ایشیا کے صوفی سلاسل سے ہے۔ تصوف ماننے والے کے نزدیک قوالی عبادت کا ایک قسم ہے۔ متعدد قوالوں نے دنیا بھر میں شہرت پائی ہے بشمول نصرت فتح علی خان، عزیز میاں اور صابری برادران۔

تلمیح[ترمیم]

  • تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: تلمیح

تلمیح کے لغوی معنی ہیں اِشارہ کرنا۔ شعری اصطلاح میں تلمیح سے مراد ہے کہ ایک لفظ یا مجموعہ الفاظ کے ذریعے کسی تاریخی‘ سیاسی‘ اخلاقی یا مذہبی واقعے کی طرف اشارہ کیا جائے۔ تلمیح کے استعمال سے شعر کے معنوں میں وُسعت اور حسن پیدا ہوتا ہے۔ مطالعہ شعر کے بعد پورا واقعہ قاری کے ذہن میں تازہ ہو جاتا ہے۔


مذہبی حیثیت[ترمیم]

اسلام[ترمیم]

اسلام میں شعراء کی کچھ اقسام کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔سورۃ الشعرا میں شاعروں کی پیروی سے منع کیا گیا ہے۔سورۃ الشعرا کی آیت 224 میں شعرا کو بھٹکے ہوئے لوگ کہا گیا ہے۔ان کی پیروی کرنے والوں کو بھی بہکے ہوئے لوگ کہا گیا ہے۔ وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ [٢٦:٢٢٤]
رہے شعراء، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلا کرتے ہیں
أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ [٢٦:٢٢٥]
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں
وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ [٢٦:٢٢٦]
اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں

جبکہ کچھ اقسام کے بارے میں حوصلہ افزائی بھی کی گئی ہے، جیسے کہ شاعر رسول حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا بھی کی تھی، "یا اللہ اسکی روح القدس (جبریل علیہ السلام) کے ذریعے مدد فرما" چنانچہ ہر قسم کی شاعری اسلام میں مذموم نہیں ہے بلکہ جس طرح بیہودہ گفتگو اسلام میں منع ہے اسی طرح شاعری بھی منع ہے، اور جس طرح اچھی گفتگو کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے اسی طرح اچھی شاعری کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔

مزید دیکھئے[ترمیم]


حوالہ جات[ترمیم]