رباعی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
: عمر خیام کی ایک فارسی رباعی کا عکس

رباعی عربی کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی چار چار کے ہیں۔ شاعرانہ مضمون میں رباعی اس صنف کا نام ہے جس میں چار مصرعوں میں ایک مکمل مضمون ادا کیا جاتا ہے۔ رباعی کا وزن مخصوص ہے ، پہلے دوسرے اور چوتھے مصرعے میں قافیہ لانا ضروری ہے۔ تیسرے مصرعے میں اگر قافیہ لایا جائے تو کوئی عیب نہیں۔ اس کے موضوعات مقرر نہیں۔ اردو فارسی کے شعرا نے ہر نوع کے خیال کو اس میں سمویا ہے۔ رباعی کے آخری دو مصرعوں خاص کر چوتھے مصرع پر ساری رباعی کا حسن و اثر اور زور کا انحصار ہے۔ چنانچہ علمائے ادب اور فصحائے سخن نے ان امور کو ضروری قرار دیا ہے۔ بعض نے رباعی کے لیے چند معنوی و لفظی خصوصیات کو بھی لازم گردانا ہے۔ عروض کی مختلف کتابوں میں رباعی کے مختلف نام ہیں۔ رباعی ، ترانہ ، اور دو بیتی بعض نے چہار مصرعی ، جفتی اور خصی بھی لکھا ہے۔


مروجہ اوزان[ترمیم]

رباعی کے ہر مصرعے کی ایک خاص بحر ہوتی ہے۔ رباعی کے مصرعوں کے لیے کل اوزان کی تعداد 24 ہے۔ جن میں سے 12 اوزان بحور کے خاندان اخرب سے ہیں، جبکہ باقی 12 بحور کے خاندان اخرم سے ہیں۔

اوزان شجرہء اخرب[ترمیم]

بحور اخرب کی پہچان یہ ہے کہ وہ ہمیشہ رکن “مفعول“ سے شروع ہوتئ ہیں۔

1۔ اخرب مقبوض مکفوف (مفعول۔ مفاعلن۔ مفاعیل فعل)

2۔ اخرب مقبوض مکفوف اہتم (مفعول مفاعلن مفاعیل فعول)

3۔ اخرب مقبوض ازل (مفعول مفاعلن مفاعیلن فاع)

4۔ اخرب مقبوض ابتر (مفعول مفاعیلن مفاعیلن فع)

5۔ اخرب مکفوف اہتم (مفعول مفاعیل مفاعیل فعول)

6۔ اخرب مکفوف مجبوب (مفعول مفاعیل مفاعیل فعل)

7۔ اخرب مکفوف ازل (مفعول مفاعیل مفاعیلن فاع)

8۔ اخرب مکفوف ابتر (مفعول مفاعیل مفاعیلن فع)

9۔ اخرب مجبوب (مفعول مفاعیلن مفعول فعل(

10۔ اخرب اہتم (مفعول مفاعلین مفعول فعل(

11۔ اخرب مخنق ازل (مفعول مفاعیلن مفعولن فع)

12۔ اخرب مخنق ابتر (مفعول مفاعیلن مفعولن فاع)

اوزان شجرہ اخرم[ترمیم]

شجرہ اخرم کی تمام بحور “مفعولن“ سے شروع ہوتی ہیں۔

1۔ اخرم اخرب ازل (مفعول فعول مفاعیل فاع)

2۔ اخرم اخرب مکفوف مجبوب (مفعولن مفعول مفاعیل فعل)

3۔ اخرم اخرب مکفوف اھتم (مفعولن مفعول مفاعیل فعول)

4۔ اخرم مخنق اخرب ابتر (مفعول مفعولن مفاعیلن فع)

5۔ اخرم مخنق اخرب اہتم (مفعولن مفعولن مفعول فعول)

6۔ اخرم مخنق اخرب مجبوب (مفعولن مفعولن مفعول فعل)

7۔ اخرم مخنق ازل (مفعولن مفعولن مفعولن فاع)

8۔ اخرم مخنق ابتر (مفعولن مفعولن مفعولن فع)

9۔ اخرم اشتر مکفوف اہتم (مفعولن فاعلن مفاعیلن فع)

10۔ اخرم اشتر مکفوف مجبوب (مفعولن فاعلن مفاعیل فعل)

11۔ اخرم اشتر ازل (مفعولن فاعلن مفاعیلن فاع)

12۔ اخرم اشتر ابتر (مفعولن فاعلن مفاعیلن فاع)

نمونہء رباعیات[ترمیم]

1[ترمیم]

کیا صرف مسلمان کے پیارے ہیں حسین،

چرخ نوع فلک کے تارے ہیں حسین

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو

ہر قوم پکارے گی، ہمارے ہیں حسین

(جوش ملیح آبادی)

2[ترمیم]