ردیف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ردیف کے لغوی معنی ہیں گُھڑ سوار کے پیچھے بیٹھنے والا۔


شعری اصطلاح[ترمیم]

شعری اصطلاح میں ردیف سے مراد وہ لفظ یا الفاظ کا مجموعہ ہے جو قافیے کے بعد مکرر آئیں اور بالکل یکساں ہوں۔ ردیف کا ہر مصرعے میں ہونا لازمی نہیںہے۔ عام طور پر یہ غزل کے اشعار میں مصرعۂ ثانی میں دہرائے جاتے ہیں۔

مثالیں[ترمیم]

مثال کے طور پر:

جذبہ شوق کدھر کو لئے جاتا ہے مجھے

پردئہ راز سے کیا تم نے پکارا ہے مجھے

اس شعر میں لفظ "مجھے" ردیف ہے کیونکہ یہ قافیہ کے بعد دہرایا جا رہا ہے اور تبدیل نہیں ہو رہا۔ ایک اور مثال پیش ہے

نقشِ فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا


اس شعر میں لفظ "کا" ردیف ہے۔

مزید دیکھئے[ترمیم]


‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=ردیف&oldid=838717’’ مستعادہ منجانب