اردو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Padlock.svg اس صفحہ کو ترامیم کیلیے نیم محفوظ کر دیا گیا ہے اور صارف کو اندراج کر کے داخل نوشتہ ہونا لازم ہے؛ (اندراج کریں یا کھاتہ بنائیں)
اردو
عربی_رسم_الخط میں لفظ اردو اعراب کے ساتھ (نویسہ: نستعلیق)
URDUARAB.PNG
تلفظ [ˈʊrd̪uː]
مستعمل پاکستان، ہندوستان، فجی (فجی اردوامریکہ، برطانیہ، جرمنی، کینیڈا، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، قطر، سعودی عرب، آسٹریلیا، افغانستان، ناروے، جنوبی افریقہ، زمبابوے، موریشس، بنگلہ دیش، ملائشیا، سرینام، ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو اور برما (میانمار)۔
خطہ جنوبی ایشیاء، مشرقی وسطٰی
کل مکلمین 11 کروڑ واطن مکلمین (2007)
کلیتاً 48 کروڑ (2007) [متنازع ]
رتبہ 19–21 (واطن مکلمین)، اطالوی اور ترکی سے قریباً برابری [متنازع ]
خاندان_زبان ہند۔یورپی
خطات اردو ابجد (نستعلیق، نسخ)
باضابطہ حیثیت
باضابطہ زبان Flag of Pakistan.svg پاکستان
Flag of India.svg بھارت (7 ریاستیں)
Flag of Fiji.svg فجی
Flag of Qatar.svg قطر
Flag of Oman.svg سلطنت عمان
Flag of Bahrain.svg بحرین
نظمیت از مقتدرہ قومی زبان (پاکستان)
قومی مجلس برائے ترقیِ اردو زبان (ہندستان)
رموزِ زبان
آئیسو 639-1 ur
آئیسو 639-2 urd
آئیسو 639-3 urd

اُردو برصغیر کی زبانِ رابطۂ عامہ ہے۔ اس کا اُبھار 11 ویں صدی عیسوی کے لگ بھگ شروع ہو چکا تھا۔ اُردو ، ہند-یورپی لسانی خاندان کے ہند-ایرانی شاخ کی ایک ہند-آریائی زبان ہے. اِس کا اِرتقاء جنوبی ایشیاء میں سلطنتِ دہلی کے عہد میں ہوا اور مغلیہ سلطنت کے دوران فارسی، عربی اور ترکی کے اثر سے اس کی ترقّی ہوئی۔

اُردو (بولنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے) دُنیا کی تمام زبانوں میں بیسویں نمبر پر ہے. یہ پاکستان کی قومی زبان جبکہ بھارت کی 23 سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے.

اُردو کا بعض اوقات ہندی کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے. اُردو اور ہندی میں بُنیادی فرق یہ ہے کہ اُردو نستعلیق رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور عربی و فارسی الفاظ استعمال کرتی ہے. جبکہ ہندی دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور سنسکرت الفاظ زیادہ استعمال کرتی ہے. کچھ ماہرینِ لسانیات اُردو اور ہندی کو ایک ہی زبان کی دو معیاری صورتیں گردانتے ہیں. تاہم، دوسرے اِن کو معاش اللسانی تفرّقات کی بنیاد پر الگ سمجھتے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندی ، اُردو سے نکلی۔اسی طرح اگر اردو اور ھندی زبان کو ایک سمجھا جاۓ تو یہ دنیا کی چوتھی (4th) بڑی زبان ہے۔

تاریخ

اردو کو سب سے پہلے مغل شہنشاہ اکبر کے زمانے میں متعارف کروایا گیا۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ برِصغیرمیں 635 ریاستیں تھیں جن پر اکبر نے قبضہ کر لیا۔اتنے بڑے رقبے کی حفاظت کے لیے اسے مضبوط فوج کی ضرورت تھی۔اس لیے اس نے فوج میں نئے سپاہی داخل کرنے کا حکم دیا۔ان 635 ریاستوں سے کئی نوجوان امڈ آئے۔سب کے سب الگ الگ زبان کے بولنے والے تھے جس سے فوجی انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا تھا۔اکبر نے نیا حکم جاری کیا کہ سب میں ایک نئی زبان متعارف کروائی جائے۔تب سب فوجیوں کو اردو کی تعلیم دی گئی جن سے آگے اردو برِصغیرمیں پھیلتی چلی گئی۔

اردو ترکی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے لشکر۔دراصل مغلوں کے دور میں کئی علاقوں کی فوجی آپس میں اپنی زبانوں میں گفتگو کیا کرتے تھے جن میں ترکی،عربی اور فارسی زبانیں شامل تھیں۔چونکہ یہ زبانوں کا مجموعہ ہے اس لیے اسے لشکری زبان بھی کہا جاتا ہے۔دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ کر زبان کے الفاظ اپنے اندر سمو لینے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے۔

بولنے والے اور جُغرافیائی پھیلاؤ

بھارت اور پاکستان میں اردو بولنے والے علاقے۔     علاقے جہاں اردو سرکاری یا علاقائی سرکاری زبان سے مشترکہ سرکاری زبان ہے۔      (دیگر) علاقے جہاں صوبائی زبان سرکاری زبان ہے۔۔

معیاری اُردو (کھڑی بولی) کے اصل بولنے والے افراد کی تعداد 60 سے 80 ملین ہے۔ ایس.آئی.ایل نژادیہ کے 1999ء کی شماریات کے مطابق اُردو اور ہندی دُنیا میں پانچویں سب سے زیادہ بولی جانی والی زبان ہے۔ لینگویج ٹوڈے میں جارج ویبر کے مقالے: 'دُنیا کی دس بڑی زبانیں' میں چینی زبانوں، انگریزی اور ہسپانوی زبان کے بعد اُردو اور ہندی دُنیا میں سب سے زیادہ بولے جانی والی چوتھی زبان ہے۔ اِسے دُنیا کی کُل آبادی کا 4.7 فیصد افراد بولتے ہیں۔

اُردو کی ہندی کے ساتھ یکسانیت کی وجہ سے، دونوں زبانوں کے بولنے والے ایک دوسرے کو عموماً سمجھ سکتے ہیں۔ درحقیقت، ماہرینِ لسانیات اِن دونوں زبانوں کو ایک ہی زبان کے حصّے سمجھتے ہیں۔ تاہم، یہ معاشی و سیاسی لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں. لوگ جو اپنے آپ کو اُردو کو اپنی مادری زبان سمجھتے ہیں وہ ہندی کو اپنی مادری زبان تسلیم نہیں کرتے، اور اِسی طرح اِس کے برعکس۔

پاکستان میں اردو

اُردو کو پاکستان کے تمام صوبوں میں سرکاری زبان کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ مدرسوں میں اعلٰی ثانوی جماعتوں تک لازمی مضمون کی طور پر پڑھائی جاتی ہے۔ اِس نے کروڑوں اُردو بولنے والے پیدا کردیئے ہیں جن کی زبان پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی، کشمیری، براہوی، چترالی وغیرہ میں سے کوئی ایک ہوتی ہے. اُردو پاکستان کی مُشترکہ زبان ہے اور یہ علاقائی زبانوں سے کئی الفاظ ضم کررہی ہے۔ اُردو کا یہ لہجہ اب پاکستانی اُردو کہلاتی ہے. یہ اَمر زبان کے بارے میں رائے تبدیل کررہی ہے جیسے اُردو بولنے والا وہ ہے جو اُردو بولتا ہے گو کہ اُس کی مادری زبان کوئی اَور زبان ہی کیوں نہ ہو. علاقائی زبانیں بھی اُردو کے الفاظ سے اثر پارہی ہیں. پاکستان میں کروڑوں افراد ایسے ہیں جن کی مادری زبان کوئی اَور ہے لیکن وہ اُردو کو بولتے اور سمجھ سکتے ہیں۔ پانچ ملین افغان مہاجرین، جنھوں نے پاکستان میں پچیس برس گزارے، میں سے زیادہ تر اُردو روانی سے بول سکتے ہیں۔ وہ تمام اُردو بولنے والے کہلائیں گے۔ پاکستان میں اُردو اخباروں کی ایک بڑی تعداد چھپتی ہے جن میں روزنامۂ جنگ، نوائے وقت اور ملّت شامل ہیں۔

بھارت میں اردو

اصل مضمون: بھارت میں اردو

بھارت میں، اُردو اُن جگہوں میں بولی اور استعمال کی جاتی ہے جہاں مسلمان اقلیتی آباد ہیں یا وہ شہر جو ماضی میں مسلمان حاکمین کے مرکز رہے ہیں۔ اِن میں اُتر پردیش کے حصے (خصوصاً لکھنؤدہلی، بھوپال، حیدرآباد، بنگلور، کولکتہ، میسور، پٹنہ، اجمیر اور احمد آباد شامل ہیں. کچھ بھارتی مدرسے اُردو کو پہلی زبان کے طور پر پڑھاتے ہیں، اُن کا اپنا خاکۂ نصاب اور طریقۂ امتحانات ہیں۔ بھارتی دینی مدرسے عربی اور اُردو میں تعلیم دیتے ہیں۔ بھارت میں اُردو اخباروں کی تعداد 35 سے زیادہ ہے۔

جنوبی ایشیاء سے باہر اُردو زبان خلیجِ فارس اور سعودی عرب میں جنوبی ایشیائی مزدور مہاجر بولتے ہیں۔ یہ زبان برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، جرمنی، ناروے اور آسٹریلیا میں مقیم جنوبی ایشیائی مہاجرین بولتے ہیں۔

ممالک جہاں اُردو اصل بولنے والے بڑی تعداد میں آباد ہیں:

یو۔اے۔ای۔ میں، تین زبانوں میں لکھا ہوا سائن بورڈ۔
نئی دہلی ریلوے اسٹیشن میں ہمہ زبانوں میں لکھا ہو بورڈ۔
اردو بولنے والے ممالک کی فہرست
ملک سال بولنے والوں کی تعداد فی صد
پاکستان 1993 10,800,000 7%
بھارت 2001 70,736,600 6.1%
ملکتِ متحدہ 2001 747,285 1.3%
بنگلہ دیش 650,000 0.4%
متحدہ عرب امارات 600,000 13%
سعودی عرب 382,000 1.5%
نیپال 375,000 1.3%
ریاست ہائے متحدہ امریکہ 350,000 0.1%
افغانستان 320,000 8%
جنوبی افریقہ 170,000
کینیڈا 156,415 0.5%
عمان 90,000 2.8%
بحرین 80,000 11.3%
ماریشس 74,000 5.6%
قطر 70,000 8%
جرمنی 40,000
ناروے 29,100
فرانس 20,000
سپین 2004 18,000
سویڈن 2001 10,000
سوری نام
کُل عالمی 85,718,400

درج بالا فہرست سے پتہ چلتا ہے کہ اصل اُردو بولنے والوں کی زیادہ تعداد جنوبی ایشاء کی بجائے چھوٹے عرب ریاستوں (متحدہ عرب امارات، بحرین) میں ہے، جہاں اُن کی تعداد وہاں کی کل آبادی کا 10 فیصد سے زیادہ ہے۔ اِس کی وجہ وہاں پر پاکستان اور بھارتی تارکینِ وطن کی ایک بڑی تعداد ہے۔

سرکاری حیثیت

Urdu and city.jpg


ترتیب مضامین
اردو ادب

نثری ادب

افسانہ · ناول
داستان · ڈراما
افسانچہ · خطوط · تاریخ
تنقید · فلسفہ
لسانیات

نظم

غزل · مثنوی · مرثیہ

قصیدہ · حمد· نعت · مدح
منقبت · سلام · نظم
واسوخت . قطعہ . ریختہ . شہرآشوب
نوحہ . ترجیع بند . مسدس

موسیقی

قوالی · چار بیت · بیت بازی

تھئیٹر

Urdu and city.jpg

باب اردو

اُردو پاکستان کی قومی زبان ہے اور یہ پورے ملک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے. یہ تعلیم، اَدب، دفتر، عدالت، وسیط اور دینی اِداروں میں مستعمل ہے. یہ ملک کی سماجی و ثقافتی میراث کا خزانہ ہے.

اُردو بھارت کی سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے. یہ بھارتی ریاستوں آندھرا پردیش، بہار، جموں و کشمیر، اُتر پردیش، جھارکھنڈ، دارالخلافہ دہلی کی سرکاری زبان ہے۔ اس کے علاوہ مہاراشٹر، کرناٹک، پنجاب اور راجستھان وغیرہ ریاستوں میں بڑی تعداد میں بولی جاتی ہے۔ بھارتی ریاست مغربی بنگال نے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دے رکھا ہے۔

فقرہ کی ساخت

لاطینی جیسی قدیم زبانوں کی طرح اردو صرف و نحو میں فقرے کی ساخت فاعل-مفعول-فعل انداز میں ہوتی ہے۔ مثلاً فقرہ "ہم نے شیر دیکھا" میں "ہم"=فاعل، "شیر"=مفعول، اور "دیکھا"=فعل ہے۔ کئی دوسری زبانوں میں فقرے کی ساخت فاعل-فعل-مفعول انداز میں ہوتی ہے۔ مثلاً انگریزی میں کہیں گے "وُی سا آ لائن"۔

بولیاں

اردو کی بولیاں جن کو شناخت کیا گیا ہے وہ یہ ہیں؛

  • دکنی - اس کو دکھنی، دیسیا، مرگان نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ زبان دکن بھارت میں بولی جاتی ہے۔ مہاراشٹر میں جائیں تو مراٹھی اور کونکنی زبانوں کا اثر ملے گا، آندھرا پردیش جائیں تو تیلگو کا اثر ملے گا۔
  • ریختہ
  • کھری بولی :

پاکستان میں اردو پر پشتو، پنجابی، بلوچی، سندھی زبانوں کا اثر تو پایا جاتا ہے, لیکن بنیادی طور پر پاکستان کی اردو پر فارسی اور عربی کا زیادہ اثر پایا جاتا ہے۔

ادب

اصل مضمون: اردو ادب
حضرت امیر خسرو کی فارسی شاعری۔ (1253–1325)۔

اردو ادب حال ہی کی صدیوں میں مقام پایا، اس سے کئی صدیوں تک سلاطین دہلی پر فارسی کا غلبہ تھا۔ فارسی کی جگہ اردو نے بڑی آسانی سے پالی اور یہاں تک کہ لوگوں کو شک ہوتا ہے کہ فارسی کبھی سرکاری زبان تھی بھی کہ نہیں۔ اس کی وجہ اردو کے مصنفین اور فنکار ہیں۔

نثری ادب

اصل مضمون: اردو نثری ادب

مذہبی

اردو زبان میں اسلامی ادب اور شریعت کی کئی تصانیف ہیں۔ اس میں تفسیر القران، قرآنی تراجم، احادیث، فقہ، تاریخ اسلام، روحانیت اور صوفی طریقہ کے بے شمار کتابیں دستیاب ہیں۔ عربی اور فارسی کی کئی کلاسیکی کتب کے بھی تراجم اردو میں ہیں۔ ساتھ ساتھ کئی اہم، مقبول، معروف اسلامی ادبی کتب کا خزینہ اردو میں دستیاب ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پنڈت روپ چندجوشی نے 18وں صدی میں ایک کتاب لکھی جس کا نام لال کتاب ہے۔ اس کا موضوع فالنامہ ہے۔ یہ کتاب برھمنوں کے اُن خاندانوں میں جہاں اردو عام زبان تھی، کافی مشہور کتاب مانی گئی۔

ادبی

میر تقی میر (1723–1810) مغل سلطنت کے دور میں 18 ویں صدی میں اودھ کے نوبی دور کے مشہور شاعر۔

غیر مذہبی ادب کو پھر سے دو اشکال میں دیکھ سکتے ہیں۔ ایک فکشن ہے تو دوسرا غیر فکشن۔

دیگر اصناف ہیں۔

نظم

اصل مضمون: اردو نظم
مرزا غالب کی ایک یادگار تصویر۔

جنوبی ایشیاء میں اردو زبان ایک اہم زبان ہے۔ بالخصوص نظم میں اردو زبان کے مقابلہ میں دوسری زبان نہیں۔ اردو کی روایات میں کئی اصناف ہیں جن میں غزل ایک شاہانہ آشکار مانا جاتا ہے۔

نظمی اردو میں ذیل کے اصناف ہیں :

  • نظم
  • غزل :
  • مثنوی : ایک لمبی نظم جس میں کوئی قصہ یا داستان کہی گئی ہو۔
  • مرثیہ : شہیدوں کے واقعات کو بیان کرنے والی نظم۔ بالخصوص شہیدانِ کربلاء کی شہادت کو بیان کرنے والی نظم۔
  • قصیدہ : قصیدہ اردو نظم کی وہ صنف ہے جسے کسی کی تعریف میں کہی گئی نظمی شکل کہہ سکتے ہیں۔ اس کے چار اقسام ہیں
    • حمد : اللہ کی تعریف میں کہا گیا قصیدہ۔
    • نعت : حضرت محمد DUROOD3.PNG کی شان میں کہا گیا قصیدہ۔
    • منقبت : بزرگوں کی شان میں کہا گیا قصیدہ۔
    • مدح : بادشاہوں، نوابوں کی شان میں کہا گیا قصیدہ۔

مزید دیکھیے

بیرونی روابط

حوالہ جات

  1. ^ Linguistic Lineage for Urdu - Ethnologue