خلیج فارس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
نقشہ خلیج فارس
Persian Empire Abraham Ortelius
Saudi map of Persian gulf - 1952
UN Persian Gulf

خلیج فارس جنوب مغربی ایشیاء میں ایران اور جزیرہ نما عرب کے درمیان واقع خلیج ہے۔ یہ تجارتی نقطہ نظر سے دنیا کے اہم ترین آبی علاقوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ ایران ، عراق اور بعض عرب ریاستوں کو بحر ہند سے ملاتی ہے۔

خلیج فارس 1980ء سے 1988ء کے درمیان ایران عراق جنگ کے باعث دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنی جب دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے تیل کے ذخائر پر حملے کئے۔ 1991ء میں "جنگ خلیج" کے موقع پر خلیج فارس ایک مرتبہ پھر جنگ کی زد میں آئی جب امریکا نے کویت پر عراق کے قبضے کو ختم کرنے کے لئے اتحادیوں کی مدد سے عراق پر حملہ کیا۔

خلیج فارس مچھلیوں، شعب البحر اور موتیوں کی دولت سے مالا مال ہے لیکن گزشتہ تین دہائیوں میں جنگوں کے درمیان تیل کے ذخائر میں رساؤ کے با‏عث آبی حیات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

جغرافیہ[ترمیم]

2 لاکھ 33 ہزار اسکوائر کلومیٹر کی خلیج فارس آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج اومان سے منسلک ہے ۔ دریائے فرات و دجلہ خلیج فارس میں گرنے سے قبل شط العرب بناتے ہیں ۔ 989 کلومیٹر طویل یہ خلیج ایران اور سعودی عرب کو جدا کرتی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان کم از کم فاصلہ آبنائے ہرمز کے مقام پر 56 کلومیٹر ہے۔ خلیج میں پانی زیادہ گہرا نہیں اور زیادہ سے زیادہ گہرائی 90 میٹر ہے جبکہ خلیج کی اوسط گہرائی 50 میٹر ہے۔

خلیج فارس کے ساحلوں کے ساتھ قائم ممالک میں ایران، اومان، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب،قطر، بحرین، کویت اور عراق شامل ہیں۔ علاوہ ازیں خلیج میں کئی چھوٹے چھوٹے جزیرے بھی ہیں۔

تیل اور گیس[ترمیم]

خلیج فارس


خلیج فارس اور اس کے ساحلی علاقے دنیا میں تیل کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں اسی لئے تیل سےمتعلقہ صنعتیں ہی خطے میں سبسے زيادہ ہیں۔ سمندر میں دنیا کی سب سے بڑی آئل فیلڈ السفانیہ خلیج میں ہی واقع ہیں۔ علاوہ ازیں قطر اور ایران میں گیس کے وسیع ذخائر بھی دریافت ہوئے ہیں۔ اس گیس کی بدولت قطر نے بڑی تعداد میں ما‏ئع قدرتی گیس (ایل این جی) اور پیٹروکیمیکل صنعتیں قائم کی ہیں۔

تاریخی حوالہ جات[ترمیم]

نویں صدی عیسوی کے مسلم مصنف یعقوبی نے خلیج فارس کو بحیرہ فارس کے نام سے لکھا ہے اور اسے چین تک پہنچنے کے لیے سات سمندروں میں سے ایک بتایا ہے۔