بحیرہ ارال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
جھیل ارال بمطابق 1960ء
جھیل ارال 2003ء میں، 50 سال قبل یہ موجودہ حجم سے دوگنی تھی

بحیرہ ارال وسط ایشیا کی ایک عظیم جھیل ہے جو قازقستان اور ازبکستان کے درمیان واقع ہے۔ اس جھیل کے چاروں طرف زمین ہے لیکن اپنے وسیع حجم کے باعث اسے سمندر کہا جاتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں اس جھیل کو بحیرۂ خوارزم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس جھیل کا نام "ارال۔ڈینگھز" سے نکلا ہے جو کرغز زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب "جزائر کا سمندر" ہے۔ 1960ء کی دہائی سے اس جھیل کے پانی میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے جس کی وجہ اس میں گرنے والے اہم دریاؤں سیر دریا اور آمو دریا سے نہریں نکال کر اس کے پانی کو وسیع پیمانے پر زراعت کے لیے استعمال کرنا ہے۔ ان اقدامات سے جھیل کے لیے پانی کے ذرائع ختم ہو کر رہ گئے اور یہ روز بروز سکڑتی چلی گئی اور کم پانی بھی شدید گرمی کے باعث بخارات میں تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ بحیرہ ارال جو کسی زمانے میں دنیا کی چوتھی سب سے بڑی جھیل تھا اب 1960ء کے مقابلے میں صرف 40 فیصد رہ گیا ہے۔ اب عالمی توجہ کے بعد اس قدرتی ورثے کی حفاظت کا منصوبہ تشکیل دیا گیا ہے لیکن اس سے بھی جھیل کے حجم میں قابل قدر اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ علاوہ ازیں یہ جھیل انتہائی آلودہ بھی ہے جس کی وجہ سوویت دور اور اس کے بعد ہتھیاروں کے تجربات، صنعتی منصوبہ جات اور کھاد سازی کی صنعت ہے۔

تاریخ[ترمیم]

بحیرہ ارال اگست 1985ء

ولادیمیر لینن اور بالشویکوں کی حکومت کے دوران 1918ء میں فیصلہ کیا گیا کہ آمو دریا اور سیر دریا، جو بحیرہ ارال کی زندگی کا سبب ہیں، کو صحراؤں کو سیراب کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تاکہ چاول، تربوز، اناج اور خصوصاً کپاس کی کاشت کو بڑھایا جاسکے۔

فیصلے کے مطابق 1930ء کی دہائی میں وسیع پیمانے پر نہروں کی تعمیر کا آغاز کیا گیا لیکن بیشتر نہروں کی تعمیر انتہائی ناقص طریقے سے کی گئی جس سے بڑے پیمانے پر پانی کا ضیاع ہوا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قراقم نہر، جو وسط ایشیا کی سب سے بڑی نہر ہے، کا 70 فیصد پانی ضائع ہو جاتا ہے۔

1960ء تک 20 سے 50 مکعب کلو میٹر پانی بحیرہ ارال میں گرنے کے بجائے زمینوں کو سیراب کرنے لگا۔ جس کی وجہ سے یہ عظیم جھیل تیزی سے سکڑنا شروع ہو گئی۔ اس تیزی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1961ء سے 1970ء تک صرف 10 سال کے عرصے میں جھیل کی سطح آب میں 20 سینٹی میٹر سالانہ کے حساب سے کمی ہونے لگی، 1970ء کی دہائی میں اس میں مزید اضافہ ہوا اور سالانہ 50 سینٹی میٹر کمی ہونے لگی۔ 1980ء کی دہائی میں سطح آب کے گرنے میں مزید تیزی واقع ہوئی اور اب 80 سے 90 سینٹی میٹر سالانہ کے حساب سے پانی کی سطح گرنے لگی۔ لیکن اس کے باوجود دونوں مذکورہ بالا دریاؤں کے پانی کے استعمال میں کمی نہ کی گئی بلکہ 1960ء سے 1980ء تک ان دریاؤں کے پانی کے استعمال میں دوگنا اضافہ دیکھا گیا جس کے باعث اس عرصے میں کپاس کی کاشت بھی دوگنی ہو گئی۔


موجودہ صورتحال[ترمیم]

ققرال کی خندق کے قیام کے بعد شمالی بحیرہ ارال کا موزانہ، بالائی منظر خندق کی تعمیر سے قبل کا ہے اور زیریں اس کے بعد کا

جھیل کی آبی سطح میں تقریباً 60 فیصد اور حجم کے حساب سے 80 فیصد کمی آئی ہے۔ 1960ء میں جب یہ دنیا کی چوتھی سب سے بڑی جھیل تھی تو اس کا رقبہ 68 ہزار مربع کلومیٹر تھا اور حجم 1100 مکعب کلو میٹر تھا لیکن 1998ء تک اس کا حجم گر کر صرف 28 ہزار 687 مربع کلو میٹر رہ گیا۔ اس طرح یہ اب دنیا کی آٹھویں سب سے بڑی جھیل ہے۔ اس عرصے کے دوران جھیل میں نمکیات کا بھی اضافہ ہوا۔

مسلسل سکڑتے رہنے کے باعث 1987ء میں جھیل ارال دو حصوں میں تقسیم ہو گئی جن میں شمالی بحیرہ ارال نسبتاً چھوٹی ہے جبکہ جنوبی جھیل ارال حجم میں بڑی ہے۔ دونوں جھیلوں کو ملانے کے لیے ایک مصنوعی نہر بھی کھودی گئی لیکن مسلسل سکڑنے کے باعث 1999ء میں یہ نہر بھی بند ہو گئی۔ 2003ء میں جنوبی بحیرہ ارال مزید دو حصوں مشرقی اور مغربی میں تقسیم ہو گیا۔

شمالی بحیرہ ارال میں پانی کو بحال کرنے کے لیے سیر دریا کے نہری نظام کی بہتری کے لیے منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے۔ اکتوبر 2003ء میں قازق حکومت نے ارال کے دو حصوں کو الگ کرنے کے لیے ایک بند "ققرال" تعمیر کرنے کا اعلان کیا۔ اس بند پر کام اگست 2005ء میں مکمل ہوا جس کے بعد شمالی بحیرہ ارال کی سطح آب میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور نمکیات میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ بند کے باعث بحیرہ ارال کی سطح میں 30 میٹر (98 فٹ) سے 38 میٹر (125 فٹ) تک کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔