ایرانی تقویم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ایرانی تقویم یا ایرانی تقویم کو تقویم ہجری شمسی یا سالنمای ہجری خورشیدی بھی کہتے ہیں۔ یہ ایران اور افغانستان کی سرکاری تقویم ہے۔ یہ گریگورین تقویم کے مقابلے میں سورج سے زیادہ بہتر مطابقت رکھتی ہے۔

Seasons1.svg

ایرانی ان قدیم ترین تہذیبوں میں سے ہیں جنہوں نے چاند کی بجاۓ سورج پر انحصار کرتے ہوۓ اپنی تقویم بنایا۔ اس تقویم میں شمالی نصف کرہ میں بہار کا پہلا دن سال کا بھی پہلا دن ہوتا ہے جو 21 مارچ ہوتا ہے جسے نوروز کہتے ہیں۔ سال کے پہلے 6 مہینے لگاتار 31 دنوں کے ہوتے ہیں اور اس کے بعد 5 مہینے 30 دنوں کے ہوتے ہیں۔ بارھواں اور آخری مہینہ 29 دنوں کا ہوتا ہے مگر لیپ سال leap year میں یہ 30 دنوں کا ہوتا ہے۔
علم نجوم کے بارہ برج دراصل ایرانی تقویم کے مہینوں کے دری زبان میں نام ہیں۔

ترتیب دنوں کی تعداد فارسی کردی دری افغانی پشتو
IPA مقامی رسم الخط Romanized مقامی رسم الخط Romanized مقامی رسم الخط IPA مقامی رسم الخط
1 31 farvardin فروردین Xakelêwe خاكه ليوه hamal (Aries) حمل wraj وری
2 31 ordibeheʃt اردیبهشت Golan گولا ن sawr (Taurus) ثور ʁwajaj غویی
3 31 xordɒd خرداد Jozerdan جوزه ردان dʒawzɒ (Gemini) جوزا ʁbargolaj غبرګولی
4 31 tir تیر Poshper پووش په ر saratɒn (Cancer) سرطان tʃungaʂ چنګاښ
5 31 mordɒd / amordɒd مرداد / امرداد Gelawêj گلاويژ asad (Leo) اسد zmaraj زمری
6 31 ʃahrivar شهریور Xermanan خه رمانان sonbola (Virgo) سنبله wagaj وږی
7 30 mehr مهر Rezber ره زه به ر mizɒn (Libra) میزان təla تله
8 30 ɒbɒn آبان Gelarêzan گه لا ريژان haqrab (Scorpio) عقرب laɻam لړم
9 30 ɒzar آذر Sermawez سه ر ما وه ز qaws (Sagittarius) قوس lindəj لیندۍ
10 30 dej دی Befranbar به فرانبار dʒadi (Capricorn) جدی marʁumaj مرغومی
11 30 bahman بهمن Rêbendan ريبه ندان dalwa (Aquarius) دلو salwɑʁə سلواغه
12 29/30 espand / esfand اسپند / اسفند Resheme ره شه مه howt (Pisces) حوت kab کب

ایرانی تقویم دراصل جلالی تقویم کی نئی شکل ہے جسے عمر خیام اور اسکے ساتھیوں نے سلطان جلال الدین ملک شاہ سلجوقی (1072-1092ء) کے کہنے پر بنایا تھا.سلطان جلال الدین (ملک شاہ اول) کے نام پر اس تقویم کا نام جلالی تقویم رکھا گیا تھا اور یہ 15مارچ 1079 سے نافذ کیا گیا تھا۔ عمر خیام نے رسدگاہ میں تحقیق سے دریافت کیا تھا کہ زمین کا سورج کے گرد چکر 365.24219858156 دنوں میں پورا ہوتا ہے۔ اسکا یہ نتیجہ آج بھی اعشاریہ کے بعد چھ ہندسوں تک صحیح مانا جاتا ہے۔ اس پیمائش سے 5500 سالوں میں صرف ایک گھنٹے کی غلطی ہوتی ہے جبکہ گریگورین تقویم تقویم جو چار صدیوں بعد یورپ میں استعمال ہونا شروع ہوا اسمیں محض 3300 سال میں پورے ایک دن کی غلطی ہونے کی گنجائش ہے۔


مزید دیکھیۓ[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]