ملک شاہ اول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

جلال الدولہ ملک شاہ المعروف ملک شاہ اول 1072ء سے 1092ء تک سلجوقی سلطنت کا حکمران رہا۔ وہ اپنے والد الپ ارسلان کی وفات کے بعد تخت نشین ہوا۔ یہ لائق اور بہادر باپ کا سچا جانشیں تھا اور اوصاف میں اسی کے مشابہ تھا۔ الپ ارسلان نے اپنی زندگی میں اس کو نامزد کر دیا تھا۔ عباسی خلیفہ قائم باللہ نے اس کی حکومت کی تصدیق کی اور اس کا سکہ اور خطبہ سارے سلجوقی مقبوضات میں جاری ہو گیا۔ اس کا عہد سیاسی عروج، علمی ترقی اور دینی عظمت کے لحاظ سے بہت اہم تھا۔ اس کے عہد میں نہ صرف پورے دمشق کو سلجوقی حکومت میں شامل کرلیا گیا بلکہ ترکستان کو فتح کرکے خاقان چین سے بھی خراج وصول کیا گیا اور اسلامی جھنڈا ساحل شام تک لہرایا۔ اس کے عہد میں ہر جگہ فارغ البالی اور امن و عافیت تھی۔ تجارت اور صنعت کو فروغ حاصل تھا۔ راستے محفوظ تھا اور اس کا عہد ہر اعتبار سے سنہری کہلانے کا مستحق تھا۔ علمی ترقی، دینی عظمت، معاشی خوشحالی اور تمدنی عروج کسی جگہ کمی نہ تھی۔ وہ بلا کا شجاع اور بہادر تھا اور جہاں رخ کیا وہاں کامیابی حاصل کی۔ ہر دشمن کو زیر کیا اور سلجوقی حکومت کو وسعت دی۔

1092ء میں اس کے انتقال کے بعد سلجوقی سلطنت کا زوال شروع ہوگیا اور وہ مختلف حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ اناطولیہ میں قلج ارسلان اول نے سلاجقہ روم کی بنیاد رکھی۔ شام میں اس کے بھائی تتش اول، عراق میں برکیارق، فارس میں محمود اول اور خراسان میں احمد سنجر برسراقتدار آگئے۔

سلجوقیوں کی آپس کے اختلافات ہی 1096ء میں پہلی صلیبی جنگ میں عیسائیوں کی فتح کا باعث بنے اور انہوں نے بیت المقدس فتح کرلیا۔

متعلقہ مضامین[ترمیم]

الپ ارسلان

سلجوقی سلطنت

مزید دیکھیۓ[ترمیم]