فارسی زبان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
فارسی
فارسی بہ خطِ نستعلیق
فارسی بہ خطِ نستعلیق.
مستعمل ایران، افغانستان، تاجکستان
خطہ مرکزی ایشیاء
کل مکلمین 82 ملین
رتبہ بارہواں
خاندان_زبان ہند-یورپی
  • ہند-ایرانی
    • فارسی
خطات پارسی-عربی
باضابطہ حیثیت
باضابطہ زبان ایران
نظمیت از اکیڈیمی برائے فارسی زبان و اَدَب
رموزِ زبان
آئیسو 639-1 fa
آئیسو 639-2 per (B)  fas (T)
آئیسو 639-3 fasPersian
علاقہ جہاں فارسی (بطورِ مادری زبان) بولنے والے آباد ہیں.

فارسی ایک ہند-یورپی زبان ہے جو ایران، افغانستان اور تاجکستان میں بولی جاتی ہے.
فارسی کو ایران، افغانستان اور تاجکستان میں دفتری زبان کی حیثیت حاصل ہے. ایران، افغانستان، تاجکستان اور اُزبکستان میں تقریباً 72 ملین افراد کی مادری زبان ہے. یونیسکو (UNESCO) سے بھی ایک بار مطالبہ کیا جا چکا ہے کہ وہ فارسی کو اپنی زبانوں میں شامل کرے.
فارسی عالمِ اسلام اور مغربی دُنیا کے لئے اَدب اور سائنس میں حصہ ڈالنے کا ایک ذریعہ رہی ہے. ہمسایہ زبانوں مثلاً اُردو پر اِس کے کئی اثرات ہیں. لیکن عربی پر اِس کا رُسوخ کم رہا ہے.اور پشتو زبان کو تو فارسی کا دوسرا شکل قرار دیا جاتاہے اور دونوں کے قواعد بهی زیادہ تر ایک جیسے ہیں.
برطانوی استعماری سے پہلے، فارسی کو برّصغیر میں دوسری زبان کا درجہ حاصل تھا؛ اِس نے جنوبی ایشیاء میں تعلیمی اور ثقافتی زبان کا امتیاز حاصل کیا اور مُغل دورِ حکومت میں یہ سرکاری زبان بنی اور 1835 میں اس کی سرکاری اور دفتری رواج ختم کر دیا گیا۔ 1843ء سے برّصغیر میں انگریزی صرف تجارت میں استعمال ہونے لگی. فارسی زبان کا اِس خطہ میں تاریخی رُسوخ ہندوستانی اور دوسری کئی زبانوں پر اس کے اثر سے لگایا جاسکتا ہے. خصوصاً، اُردو زبان، فارسی اور دوسری زبانوں جیسے عربی اور تُرکی کے اثر رُسوخ کا نتیجہ ہے، جو مُغل دورِ حکومت میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی زبان ہے.

جماعت بندی[ترمیم]

فارسی، ایرانی زبانوں کے مغربی گروہ سے تعلق رکھتی ہے جو کہ ہند-یورپی زبانوں کی ایک شاخ ہے اور فاعل-مفعول-فعل قسم کی ہے. عام خیال کے برعکس یہ سامی زبان نہیں ہے.

مقامی نام[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]


Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔