عباس اول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

صفوی سلطنت کا سب سے عظیم بادشاہ، (پیدائش: 17 جنوری 1571ء، وفات: 19 جنوری 1629ء) اس کا دور خاندان صفویہ کا عہد زریں ہے۔

محمد خدا بندہ کے بعد جب وہ ایران کے تخت پر بیٹھا تو اس کی عمر صرف 17 سال تھی۔ ایران کے شمال مغربی حصوں پر عثمانی ترک قابض تھے اور مشرق میں خراسان ازبکوں کے قبضے میں تھا یا ان کی تاخت و تاراج کا ہدف بنا ہوا تھا۔ اندرون ملک بھی بدامنی تھی اور صوبوں کے امراء سرکشی اختیار کئے ہوئے تھے۔ عباس نے اس صورتحال کا بڑے تدبر اور ہوشیاری سے مقابلہ کیا۔ اس نے سب سے پہلے ترکوں سے معاہدہ کرلیا اور آذربائیجان، گرجستان اور لورستان کا ایک حصہ اُن کے حوالے کردیا۔ شاہ اسماعیل کے زمانے میں ایران میں اصحاب کرام پر تبرا بھیجنے کی جو قبیح رسم چلی آرہی تھی، اس کو بھی بند کرادیا اور اس طرح عثمانی ترکوں کو ایک حد تک مطمئن کردیا۔ مغربی سرحد سے مطمئن ہونے کے بعد شاہ عباس نے خراسان کی طرف توجہ کی۔ ازبکوں کا طاقتور حکمران عبداللہ خان 1598ء میں مرچکا تھا۔ اس لئے شاہ عباس نے اسی سال آسانی سے ازبکوں کو خراسان سے نکال دیا اور صفوی سلطنت کی حدود ہرات اور مرو تک وسیع کردیں۔

فتوحات[ترمیم]

مشرقی سرحدوں کو مستحکم کرنے کے بعد شاہ عباس نے ترکوں سے مقابلے کی تیاریاں شروع کیں۔ اس نے ترکوں کی فوج ینی چری کے نمونے پر ایک فوج تیار کی جو "شاہ سورن" کہلاتی تھی اور گرجستان اور آرمینیا کے نو مسلموں پر مشتمل تھی لیکن ایرانیوں کی سب سے بڑی کمزوری توپ خانے کی عدم موجودگی تھی۔ اس وقت جبکہ ساری دنیا میں توپوں کا رواج ہوچکا تھا اور خود ایران کے مغرب میں عثمانی ترک اور مشرقی میں دہلی کے مغل سلاطین توپیں استعمال کررہے تھے ، ایرانی فوج ابھی تک اس اہم جنگی ہتھیار سے محروم تھی۔ مغربی قومیں صلیبی جنگوں کے زمانے سے اس پالیسی پر عمل پیرا تھیں کہ مشرق وسطیٰ کی طاقتور مسلمان حکومتوں کا زور توڑنے کے لئے دوسری مسلمان حکومتوں کا تعاون حاصل کریں۔ اس غرض سے انہوں نے مصر کے مملوکوں اور ترکی کے عثمانیوں کے خلاف منگولوں، باطنیوں اور آق قویونلو ترکمانوں کا تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی اور اب وہ عثمانی ترکوں کا زور توڑنے کے لئے ایران کی صفوی حکومت کا تعاون حاصل کرنا چاہتی تھیں۔ طہماسپ کے زمانے میں ملکہ ایلزبتھ اس مقصد میں ناکام ہوگئی تھی لیکن شاہ عباس کے دور میں ان کو اس مقصد کے حصول میں خاصی کامیابی ہوئی۔

1599ء میں دو انگریز بھائی انتھونی شرلے اور رابرٹ لرشے ترکوں کےخلاف مسیحی اتحاد کے لئے ایران سے مدد حاصل کرنے کے لئے اور ایران اور یورپ کے درمیان تجارتی تعلقات قائم کرنے کے لئے آئے۔ شاہ عباس نے ان سے کوئی معاہدہ تو نہیں کیا، لیکن ایرانی فوج کو جدید طرز پر مسلح کرنے میں ان سے مدد لی۔ ان انگریزوں نے ایران میں توپ سازی کی صنعت شروع کی اور ایرانی افواج کو توپ خانے سے مسلح کردیا۔ جب ایرانی فوج جدید آتشیں ہتھیاروں اور توپوں سے مسلح ہوگئی تو شاہ عباس نے 1602ء میں عین اس وقت جب عثمانی ترک آسٹریا سے جنگ میں مصروف تھے، حملہ کردیا اور تبریز، شیروان اور پرتگالیوں سے بندرگاہ ہرمز چھین لیا اور خلیج فارس کے ساحل پر ایک نئی بندرگاہ قائم کی جو آج تک بندر عباس کہلاتی ہے۔ اسی سال شاہ عباس نے دہلی کی تیموری سلطنت سے قندھار بھی چھین لیا۔

صفوی دور علمی لحاظ سے بنجر دور ہے لیکن شاہ عباس کے زمانے میں علم و ادب کے میدان میں تھوڑی سے زندگی نظر آتی ہے۔ اس کے درباری علماء میں میر محمد باقر بن محمد داماد قابل ذکر ہیں۔ مطالعہ قدرت اور فلسفہ ان کا خاص موضوع تھا۔ بہاء الدین آملی اور صدر الدین شیرازی بھی جو ملا صدرا کے نام سے مشہور تھے، اس دور کی اہم علمی اور ادبی شخصیتیں ہیں۔ ملا صدرا کی فلسفے کی ضخیم کتاب "اسفار اربعہ" کا اردو میں 4 جلدوں میں ترجمہ ہوچکا ہے لیکن فلسفے کی ان کتب میں مغز کم اور پھوک زیادہ ہے۔

اصفہان[ترمیم]

شاہ عباس کے زمانے میں فنون لطیفہ نے خاص طور پر فن تعمیر اور فن مصوری نے بہت ترقی کی۔ دارالحکومت اصفہان کو بڑی ترقی دی گئی اور شاندار عمارتیں بنائی گئیں۔

شروع میں صفویوں کادارالحکومت تبریز تھا لیکن وہ ہمیشہ عثمانی ترکوں کی زد میں رہتا تھا۔ اس لئے عباس اعظم نے ایران کے وسط میں اصفہان کو دارالسلطنت بنایا۔

عباس نے اصفہان کو اتنی ترقی دی کہ لوگ اس کو "اصفہان نصف جہان" کہنے لگے۔ اس زمانے میں اصفہان کی آبادی 5 لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ یہاں ایسی شاندار عمارتیں تعمیر کی گئی جو قسطنطنیہ اور قاہرہ کو چھوڑ کر اس زمانے کے کسی شہر میں نہیں تھیں۔ لاہور، دہلی اور آگرہ کی شاندار عمارات ابھی تعمیر ہی نہیں ہوئی تھیں۔ عباس نے اصفہان میں جو عمارتیں بنوائیں ان میں جامع مسجد، قصر چہل ستون، زندہ رود ندی کے دو پل اور چہار باغ بہت مشہور ہیں۔ یہ عمارتیں آج بھی اصفہان کی سب سے پرشکوہ عمارتیں ہیں۔

شخصیت[ترمیم]

شاہ عباس اگرچہ ایک کامیاب اور سمجھدار حکمران تھا لیکن اعظم کا لقب اس کو زیب نہیں دیتا۔(کیا زیب دیتا ہے کیا نہیں، یہ ایک انسائیکلو پیڈیا کی تحریر نہیں ہوسکتی۔ اِس کے لئے فیس بُک پر پیج بنائیں) وہ انتہائی ظالم اور شکی مزاج تھا اس نے محض شک کی بنیاد پر اپنے ایک لڑکے کو قتل اور دو کو اندھا کردیا تھا۔ مورخین نے لکھا ہے کہ اس کے دور میں 500 جلاد لوگوں کو قتل کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے، وہ بدترین مستبد حکمران تھا۔

عباس کے بعد صفوی خاندان میں 4 حکمران ہوئے۔

پیشرو:
محمد خدا بندہ
صفوی سلطنت حکمران
1587ء تا 1629ء
جانشیں:
شاہ صفی