ینی چری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ینی چری
Janissary
نئی فوج
Battle of Vienna.SultanMurads with janissaries.jpg
ینی چری
فعالیت 1363–1826
وفاداری Flag of the Ottoman Empire (1453-1517).svg سلطنت عثمانیہ
قِسم پیادہ فوج
حجم 1400-1,000

1564-13,502

1609-37,627

1680-54,222

صدر دفاتر ادرنہ, قسطنطنیہ
رنگ سرخ اور سبز
التزامات جنگ کوسووہ
جنگ نکوپولس
جنگ انقرہ
جنگ وارنا
جنگ چالدران
جنگ موہاچ
محاصرہ ویانا
اور دیگر
سربراہان (کمانڈر)
اول مراد اول
آخر محمود دوم
یونانی عیسائی لڑکے مسلمان ہونے کےبعد مسجد میں عبادت کررہے ہیں، انہیں ینی چری میں شامل کیا جاتا تھا

ینی چری سلطنت عثمانیہ کی افواج کا اہم حصہ تھے جو سلطان کے ذاتی محافظ اور پیادہ دستوں کا کردار ادا کرتے تھے۔ ینی چری دنیا کی پہلی باقاعدہ فوج تھی جو 14 ویں صدی میں تیار کی گئی اور 1826ء میں سلطان محمود ثانی نے اس کا خاتمہ کردیا۔ ینی چری ترکی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب "نئی فوج" ہے (ینی مطلب نئی اور چری مطلب فوج)۔

قیام[ترمیم]

ینی چری 1365ء میں سلطان مراد اول نے تیارکی۔ ابتداء میں اس میں مفتوحہ علاقوں کے غیر مسلم نوجوانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد شامل کیا جاتا تھا۔

ان کا براہ راست تعلق سلطان سے ہوتا تھا۔ان کی اہلیت کے مطابق انھیں سلطنت عثمانیہ ميں مختلف عہدوں پر فائز کیا جاتا تھا۔ کیونکہ سلطان کے علاوہ ان کا کسی سے تعلق نہیں تھا اس لئے یہ کسی بددیانتی میں ملوث نہ تھے تاہم جیسے ہی نااہل حکمران مسند اقتدار پر بیٹھنے لگے ینی چری ملکی معاملات میں مداخلت کرنے لگے۔

یہ دنیا کی پہلی منظم اور باقاعدہ فوج تھی جسے سخت تربیت دی جاتی تھی۔ یہ باقاعدہ چھاؤنیوں کے اندر رہتے تھے اور زمانہ امن میں پولیس اور آگ بجھانے والے دستوں کا کام انجام دیتے تھے۔ انہیں ہر تین ماہ بعد باقاعدگی سے نقد تنخواہیں دی جاتی تھیں۔ تنخواہیں کی ادائیگی کے وقت سلطان خود ینی چری کے لباس میں چھاؤنی آتا تھا اور خود بھی قطار میں لگ کر تنخواہ حاصل کرتا تھا۔

ینی چری دنیا کی پہلی باقاعدہ فوج تھی جس نے بارود کا استعمال کیا۔ اس نے 15 ویں صدی میں ہی بندوقوں کا استعمال شروع کیا۔

زمانہ امن میں کارنامے[ترمیم]

علاوہ ازیں ینی چری سڑکوں کی تعمیر، جنگ کے دوران خیموں کی تنصیب، کھانے کی تیاری اور فوجیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے فرائض بھی انجام دیتی تھی۔ ینی چری کا اہم ترین شعبہ مہتر تھا جو دنیا میں کا پہلا عسکری بینڈ تھا، ینی چری کے خاتمے کے ساتھ یہ بینڈ بھی ختم ہو گیا لیکن 1954ء میں استنبول عسکری عجائب خانے کے زیر اہتمام اس کو دوبارہ منظم کیا گیا۔ یہ بینڈ ترکی کے قومی اور دیگر تاریخی ایام کے موقع اپنے فن کا مظاہرہ کرتا ہے۔

ینی چری مخصوص لباس ہہنتے تھے جو انہیں انتظامیہ کی جانب سے جاری کیا جاتا تھا۔

دیگر مسلمانوں کی طرح انہیں داڑھی رکھنے کی اجازت نہیں تھی بلکہ یہ صرف مونچھیں رکھتے تھے۔ 18 ویں صدی میں ینی چری کاروبار بھی کرنے لگے تھے ۔

تعداد و تنظیم[ترمیم]

ینی چری کی تعداد 100 سے 2 لاکھ کے درمیان رہی ہے۔ نکول ڈیوڈ کے مطابق 14 ویں صدی میں ینی چری کی تعداد ایک ہزار اور 1475ء میں 6 ہزار تھی۔ 1699ء کی شکست کے بعد ان کی تعداد کم ہوگئی لیکن 18 ویں صدی میں تعداد 113،400 تھی۔

دستوں کو اورتہ میں تقسیم کیا جاتا تھا جو موجودہ رجمنٹ کے برابر ہے۔ ایک اورتہ کی قیادت چورباجی کے پاس ہوتی تھی۔ سلیمان اعظم کے دور میں ینی چری کے 165 اورتہ تھے۔ سلطان عموماً عثمانی افواج خصوصاً ینی چری کا اعلی کمانڈر تھا لیکن ان کی قیادت آغا کرتا تھا۔ ایک دستے کو مندرجہ ذیل تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا تھا:

  1. جماعت: سرحدی دستے، 101 اورتہ
  2. بیلک: سلطان کے ذاتی محافظ، 61 اورتہ
  3. سکبان: 34 اورتہ

اس کے علاوہ اجمی (کیڈٹس) کے 34 اورتہ بھی شامل ہوتے تھے۔


ابتداء میں ینی چری ماہر تیر انداز تھے لیکن 1440ء کی دہائی میں بارود کی دستیابی پر انہوں نے بندوقیں سنبھال لیں۔

عثمانی سلطنت نے تمام اہم مہمات میں ینی چری کا استعمال کیا جس میں فتح قسطنطنیہ 1453ء، مملوکوں کے خلاف فتوحات اور آسٹریا اور ہنگری کے خلاف جنگیں بھی شامل ہیں۔ جنگ میں ینی چری دستوں کی قیادت ہمیشہ سلطان خود کرتا تھا۔

1683ء میں ینی چری کے غلام ہونے کی شرط کے خاتمے کے بعد ینی چری کی عزت افزائی میں اضافہ ہوا اور ہر مسلم ترک خاندان کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ ان کا بیٹا ینی چری میں بھرتی ہو۔

بغاوتیں[ترمیم]

ینی چری عثمانی حکومت میں اپنی اہمیت سے بخوبی واقف تھے اور اس لئے انہیں کئی مرتبہ بغاوت بھی کی جن میں پہلی بغاوت تنخواہوں میں اضافے کے لئے 1449ء میں کی گئی جس میں ان کے مطالبات تسلیم کئے گئے۔ 1451ء کے بعد وہ ہر نئے سلطان سے انعامات و اکرامات اور تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کرتے۔ 1566ء میں سلطان سلیم ثانی نے ینی چری کو شادیاں کرنے کی بھی اجازت دے دی۔ 1622ء میں ینی چری نے بغاوت کے دوران سلطان عثمان ثانی کو قتل کردیا جو اصلاحات کرنا چاہتے تھے۔

18 ویں صدی کے اوائل میں ینی چری حکومتی معاملات میں مداخلت کرنے لگے اور انہوں نے اچھا خاصا اثر و رسوخ قائم کرلیا۔ انہوں نے عسکری تنظیم کو جدید بنانے کے اقدامات کی مخالفت کی بلکہ اپنی محلاتی سازشوں کے ذریعے سلطانوں کو بھی تخت سے ہٹانے لگے۔

1683ء میں ویانا کے دوسرے محاصرے میں ناکامی کے بعد انہوں نے فوجی تنظیم کو جدید بنانے کے ہر اقدام کی مخالفت کی ۔ 1807ء میں انہوں نے سلطان سلیم ثالث کو تخت سے ہٹادیا جو یورپی طرز پر فوج کی تنظیم چاہتے تھے۔ 1810ء میں ینی چری نے استنبول میں دو ہزار گھروں کو آگ لگادی اور 1811ء میں دو دستوں کے درمیان ٹکراؤ ہوگیا۔


خاتمہ[ترمیم]

  • تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں:

اس صورتحال میں محمود ثانی نے ینی چری کے خاتمے کا تہیہ کرلیا۔ 1826ء میں ینی چری نے محسوس کیا کہ سلطان نئی فوج تشکیل دینا چاہتا ہے اور 14 جون 1826ء کو انہوں نے استنبول میں بغاوت کردی لیکن اس مرتبہ فوج اور عوام ان کے خلاف ہوگئی۔ سلطان کے گھڑ سوار دستوں "سپاہیوں" نے انہیں چھاؤنیوں میں جالیا اور توپ خانے سے ان پر گولہ باری کی گئی جس کے نتیجے میں ینی چری کی بڑی تعداد ماری گئی اور اگلے دو سال کے اندر اندر ملک بھر سے ینی چری افواج کا خاتمہ کردیا گیا۔ ینی چری کے خاتمے کو ترکی زبان میں واقعۂ خیریہ (Vaka-i Hayriye) کہا جاتا ہے۔

بیرونی روابط[ترمیم]

ینی چری کے بارے میں معلومات

حوالہ جات[ترمیم]