سلیم دوم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سلیم ثانی

سلطان سلیمان اعظم قانونی کا بیٹا جو ۱۵۶۶ء سے ۱۵۷۴ء تک سلطنت عثمانیہ کے تخت پر بیٹھا۔ انتہائی نالائق حکمران تھا۔ اس کے دور میں تمام تر ریاستی انتظامات صدر اعظم محمد صوقوللی پاشا نے سنبھالے۔

تخت نشینی[ترمیم]

1566ء میں سلیمان کے انتقال کے بعد اس کی موت کی خبر ۵۰ روز تک عوام سے چھپائی گئی جس کے بعد سلیم ثانی قسطنطنیہ میں تخت نشین ہوا۔ اس وقت اس کی عمر 42 سال تھی۔ سلطنت عثمانیہ اس وقت بام عروج پر پہنچ چکی تھی لیکن اس عظیم الشان سلطنت کے حکمران کی حیثیت سے سلیم ثانی کسی طرح موزوں نہ تھا لیکن کیونکہ سلیمان کی کوئی اور اولاد نہ تھی اس لیے اسے تخت پر بٹھایا گیا۔

محمد صوقوللی[ترمیم]

  • تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں:

جس طرح عباسی سلطنت کا ذکر برامکہ کے بغیر ادھورا ہے اسی طرح عثمانی سلطنت خصوصاً سلیم ثانی کے دور کا تذکرہ محمد صوقوللی کے بغیر تشنہ رہ جائے گا۔ یہ عثمانیوں کی خوش قسمتی تھی کہ انہیں ایسا قابل وزیر میسر آیا جس نے سلطنت کی شاندار روایات کو برقرار رکھا۔ محمد صوقوللی بوسنیا کے ایک علاقہ صوقول میں پیدا ہوا۔ اس کا خاندان صوقولوچ کہلاتا تھا۔ انتہائی قابل و ذہین آدمی تھا۔ اسے سلیمان کے عہد میں جبری بھرتی کے لیے والدین سے لیا گیا تھا۔ قابلیت کی بنیاد پر سلطان کے محل میں اہم عہدوں پر رہا اور پھر صدر اعظم (وزیر اعظم) کے عہدے پر پہنچا۔ سلیم ثانی کی بیٹی سے عقد کیا۔ ظاہری حکمران تو سلیم تھا لیکن حقیقی فرمانروا محمد صوقوللی تھا۔ اپنی ذہانت سے امور سلطنت کو بخیر و خوبی چلایا۔ مراد ثالث کے ابتدائی عہد تک عنان حکومت اس کے ہاتھ میں تھی لیکن بعد میں سازش کے تحت قتل کر دیا گیا۔ اسی کے دور میں وینس سے صلح ہوئی جس کے تحت قبرص پر سلطنت عثمانیہ کا قبضہ تسلیم کیا گیا۔

فتوحات[ترمیم]

سلیم کے مختصر عہد میں عثمانی فتوحات کا سلسلہ جاری رہا اور یمن میں بغاوت کے خاتمے کے علاوہ تونس اور قبرص کی اہم فتوحات ہوئیں۔ لیکن اس کے دور کا ایک اہم ترین واقعہ جنگ لیپانٹو تھا۔

جنگ لیپانٹو[ترمیم]

  • تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں:

قبرص کی فتح نے یورپ کی عیسائی سلطنتوں میں کھلبلی مچا دی کیونکہ سلیمان اعظم کی وفات کے بعد بھی عثمانیوں کی پیشقدمی نہیں رکی تھی۔ اس سلسلے میں عثمانیوں کی بحری طاقت کو کمزور کرنے کا منصوبہ بنایا گیا جس کے لیے بحیرہ روم کی عیسائی ریاستوں کا ایک اتحاد تشکیل دیا گیا جس کی قیادت آسٹریا کے سالار اعظم ڈان جان کے سپرد کی گئی۔ ۱۵۱۷ء میں یہ بیڑہ مسینا کے مقام پر اکٹھا ہوا جبکہ ترکی بیڑہ لیپانٹو میں لنگر انداز تھا جس کی امارت امیر البحر علی پاشا کے ہاتھ میں تھی۔ خلیج لیپانٹو کے کنارے دونوں بحری بیڑوں کا آمنا سامنا ہوا اور چند گھنٹوں میں ترکوں کو ایک عظیم شکست ہوئی اور علی پاشا مارا گیا۔ اس جنگ میں تیس ہزار ترک کام آئے، ترکی بیڑا عیسائیوں کے قبضے میں چلا گیا اور کئی جہاز غرق آب ہو گئے۔ اس شکست کے نتیجے میں بحیرہ روم کی عیسائی طاقتوں کے مقابلے میں عثمانی بحری طاقت کا توازن بگڑ گیا۔ لیکن ترکوں نے اس کے بعد جس عزم و استقلال کا مظاہرہ کیا اور تھوڑے ہی عرصے میں ایک اور شاندار بحری بیڑہ تیار کیا وہ ان کی عظمت کی دلیل ہے۔

روس سے ٹکراؤ[ترمیم]

سلیم ثانی پہلا عثمانی حکمران تھا جس کے دور میں ترکوں کی روسیوں سے جنگ ہوئی۔ اس جنگ کا سبب صدر اعظم کی پیش نظر دو تجاویز تھیں جس میں انہوں نے خاکنائے سوئز میں نہر کھود کر بحیرہ قلزم اور بحیرہ روم کو (دیکھیے: نہر سوئز) اور دریائے ڈون اور دریائے وولگا (دیکھیے: وولگا ڈون نہر) کو ملانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ لیکن آخر الذکر کےلیے استراخان پر قبضہ ضروری تھا اور یہ شہر روس کے قبضے میں تھا اور ہر لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ اس شہر کی فتح کے لیے 1568ء میں صدر اعظم نے ینی چری کے 25 ہزار سپاہیوں پر مشتمل دستہ شہر ازوف کی جانب روانہ کی اور استراخان پر قبضہ کے لیے اس فوج کا روسیوں سے ٹکراؤ ہوا۔ ترک فوج شہر پر قبضہ نہ کر سکی اور واپسی پر فوج کا بیشتر حصہ بحیرہ اسود میں ایک طوفان کی نذر ہو گیا۔ ترک شہر پر قبضہ میں ناکام رہے لیکن روس ترکوں سے جنگ نہیں چاہتا تھا اس لیے جنگ بندی کا ایک معاہدہ طے پایا جس کے بعد ایک صدی تک ترک اور روس ایک دوسرے کے مدمقابل نہ آئے۔

انتقال[ترمیم]

سلیم کا انتقال 1574ء میں ہوا۔ اس نے کل 8 سال حکومت کی۔

کردار[ترمیم]

سلیم ثانی پہلا عثمانی سلطان تھا جس کی زندگی حرم سرا میں گذری۔ وہ ان تمام صلاحیتوں سے محروم تھا جو بادشاہت کے لیے ضروری ہوتی ہیں بلکہ اس میں ان میں سے ایک بھی خوبی نہ تھی۔ کم عمری سے ہی شراب کا رسیا تھا اسی لیے تخت پر بیٹھتے ہی شراب کی ممانعت کے حکم کو منسوخ کر دیا اس لیے عوام نے اسے شرابی کا لقب دیا۔ کاہلی کی وجہ سے ہر وقت مست کیفیت میں حرم میں رہتا۔

متعلقہ مضامین[ترمیم]