توپ قاپی محل

وکیپیڈیا سے

:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
باسفورس سے توپ قاپی محل کا منظر

توپ قاپی محل یا توپقاپی محل (عثمانی ترک زبان: توپقاپی سرائے) 1465ء سے 1853ء تک دارالحکومت قسطنطنیہ میں عثمانی سلاطین کی باضابطہ رہائش گاہ تھی۔ یہ محل ریاستی معاملات کا مرکز تھا اور آجکل ایک عجائب گھر کی حیثیت سے استنبول کے بڑے سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ اس محل کی تعمیر کا آغاز 1459ء میں سلطان محمد فاتح کے حکم پر ہوا۔ یہ محل 4 مرکزی احاطوں اور کئی چھوٹی عمارات کا مجموعہ ہے۔ اپنے عروج کے زمانے میں اس میں 4 ہزار سے زائد افراد رہائش پذیر تھے۔

یہ محل ہزاروں کمروں پر مشتمل ہے جن میں سے اہم ترین تک ہی عوام کو رسائی حاصل ہے۔ مذکورہ وزارت کے حکام اور ترک افواج کے مسلح دستے اس کی حفاظت کے فرائض انجام دیتے ہیں۔

محل عثمانی طرز تعمیر کا عظیم ترین نمونہ ہے اور اس میں اس دور کے ظروف، ملبوسات، ہتھیاروں، ڈھالوں، فن پاروں، خطاطی کے نمونوں اور عثمانی خزانوں اور زیورات نمائش کے لیےموجود ہیں۔

فہرست

[ترمیم] نام

توپ قاپی کا مطلب ہے توپ کا دروازہ۔ اردو میں اس کا نام عام طور پر ہر جگہ "توپ کاپی" لکھا جاتا ہے جو غلط ہے۔ عثمانی ترک زبان میں دروازے کو "قاپی" کہا جاتا تھا اس لیے اسے توپ قاپی کہا جانا چاہیے۔ اس کی ایک مثال اصفہان کا عالی قاپو محل ہے جس کا نام ترک زبان ہی میں ہے۔ [1]

[ترمیم] تاریخ

بابِ ہمایوں

1453ء میں فتح قسطنطنیہ کے بعد سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ کے قدیم شاہی محل کے کھنڈرات تلاش کروائے۔ اس جگہ پر عثمانی دربار نے اسکی سرائے یعنی قدیم محل کی تعمیر کا حکم دیا جو آجکل جامعہ استنبول کا حصہ ہے۔ سلطان مزید بہتر جگہ کی تلاش کے بعد 1459ء میں توپ قاپی کی موجودہ جگہ پر محل کی تعمیر کا حکم دیا۔ ابتدائی طور پر یہ ینی سرائے یعنی نیا محل کے نام سے معروف ہوا۔ توپ قاپی کا نام اسے 19 ویں صدی میں ملا۔

سلطان نے اس محل کی تعمیر کے لیے سلطنت کے مختلف علاقوں سے ماہرین اور کاریگروں کو طلب کیا جنہوں نے اپنے زمانے کے مہنگے اور نایاب ترین مواد استعمال کر کے اس محل کی تعمیر کی۔

[ترمیم] تعمیرات

باب السلام

محل کے جنوبی اور مغربی جانب ایک عظیم شاہی باغ بھی تعمیر کیا گیا جو "گل خانہ باغ" کہلاتا ہے۔

اس محل میں داخلے کے کئی دروازے ہیں جن میں سے مرکزی دروازہ "بابِ ہمایوں" یا "بابِ سلطنت" کہلاتا ہے۔ یہ عظیم دروازہ پہلی بار 1478ء میں تعمیر کیا گیا تاہم 19 ویں صدی میں اس کو دوبارہ سنگ مرمر سے تعمیر کیا گیا۔ اس دروازے پر قرآن مجید کی آیات کی خطاطی اور مختلف سلاطین کے طغرے بھی نصب ہیں۔ یہ دروازہ فجر سے لے کر عشا کی نماز تک کھلا رہتا تھا۔ وزراء یا غیر ملکی اعلٰی شخصیات کے علاوہ کسی کو اس دروازے سے گذرنے کی اجازت نہ تھی۔

دوسرا دروازہ باب السلام ہے جس کے دونوں جانب دو برج ہیں جو سلطان سلیمان قانونی نے 16 ویں صدی میں تعمیر کرائے تھے۔ اس دروازے سے صرف سلطان کو گذرنے کی اجازت تھی۔

تیسرا دروازہ باب السعادہ کہلاتا تھا جو 15 ویں صدی میں تعمیر کیا گیا۔ جو محل کے رہائشی افراد کی آمدورفت کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اس دروازے سے گذرنے کے لیے سلطان کی خاص اجازت درکار ہوتی تھی حتٰی کہ صدر اعظم کو بھی خاص دنوں اور مخصوص صورتحال میں اس دروازے سے گذرنے کی اجازت تھی۔ سلطان اہم تہواروں پر اس دروازے اور دیوان میدان کو استعمال کرتا تھا جبکہ سلطان کی آخری رسومات اور نماز جنازہ بھی اس دروازے کے سامنے ادا کی جاتی تھی۔

محل میں واقع کئی صحن یا احاطے واقع ہیں جن میں اعلٰی میدان، دیوان میدان، اندرون میدان اور صوفۂ ہمایوں شامل ہیں۔

[ترمیم] دیوان ہمایوں

باب السعادہ

"دیوان ہمایوں" 15 ویں صدی میں سلطان سلیمان قانونی کے حکم پر تعمیر کیا گیا۔ دیوان ہمایوں میں ریاست کے سیاسی، انتظامی و مذہبی کے علاوہ شہریوں کے اہم معاملات پر گفتگو ہوتی تھی اور اس کا اجلاس ہفتے میں چار بار ہوتا تھا جس میں صدر اعظم، اناطولیہ اور رومیلیا کے منصفین اعلٰی شریک ہوتے تھے اور وہ مسائل کے حل سلطان کو پیش کرتے تھے۔ یہاں مقدمات کے فیصلے بھی ہوا کرتے تھے اور کبھی کبھار مفتی اعظم (شیخ الاسلام) بھی ان اجلاسوں میں شریک ہوتے تھے۔ اجلاس کے دیگر شرکاء میں نشانچی (شاہی خطوط پر سلطان کی مہر ثبت کرنے کے ذمہ دار)، وزیر مالیات (دفتر دار)، وزیر امور خارجہ (رئیس الکتب) اور اجلاس کی کاروائی تحریر کرنے والے افراد شامل ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ سلطان کی صاحبزادیوں کی شادی کی تقریبات بھی یہی ہوتی تھیں۔ 18 ویں صدی میں اہم ریاستی معاملات کی "باب عالی" میں منتقلی کے باعث دیوان ہمایوں اپنی اہمیت کھو بیٹھا۔

دیوان ہمایوں اور حرم کے درمیان بُرجِ عدالت واقع ہے جو محل کا سب سے بلند تعمیر ہے جو باسفورس سے صاف دکھائی دیتی ہے۔

اس کے علاوہ اندرون کتاب خانہ اور احمد ثالث کتب خانہ نامی دو کتب خانے بھی محل میں موجود ہیں۔

[ترمیم] مقدس نوادرات

توپ قاپی محل کے اندر واقع مسجد "صوفہ جامعی"

عجائب گھر میں سب سے مشہور حصہ وہ کمرہ ہے جہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار، ایک دندان مبارک، موئے مبارک کا بال، ایک خط مبارک اور چاروں خلفائے راشدین کی زیر استعمال تلواریں اور ہتھیار نمائش کے لیے موجود ہیں۔ جن کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر کے مسلمان توپ قاپی محل جاتے ہیں۔ اس خاص کمرے کے تقدس کا عالم یہ تھا کہ سلطان اور اس کے اہل خانہ کو بھی سال میں صرف ایک بار 15 رمضان کو اس کمرے میں جانے کی اجازت تھی۔

یہاں تصویریں کھینچنے کی اجازت نہیں اور کسی تحقیقی کام کے لیے اگر تصویریں حاصل کرنا ضروری ہو تو اس کے لیے باقاعدہ اجازت طلب کرنا پڑتی ہے۔

اس کے علاوہ عثمانی دور کی تمام یادگاریں بشمول عثمانی سلاطین کی تصاویر، ان کے ہتھیار، استعمال شدہ اشیاء، خزانے، زیورات، نوادرات، تاج و تخت اور اس طرح کی دیگر نادر و نایاب اشیاء یہاں موجود ہیں۔

[ترمیم] باورچی خانہ

محل کا باورچی خانہ، چمنیاں نمایاں ہيں

محل کی ایک اور خاص بات یہاں موجود باورچی خانے ہیں جو ادرنہ کے شاہی محل کی طرز پر تعمیر کیے گئے تھے۔ ان میں سلطان سلیمان قانونی نے توسیع کروائی لیکن 1574ء کی آگ سے یہ تباہ ہو گئے جس پر شاہی معمار سنان پاشا نے ان کو جدید طرز پر تعمیر کیا۔ اور 20 چوڑی چمنیوں کی دو قطاروں کا اضافہ بھی کیا۔ یہاں سلطان، اس کے حرم اور محل اور اس کے باہر کے دیگر باسیوں کے لیے اشیائے خورد و نوش تیار کی جاتی تھیں جن کی تعداد کا اندازہ تقریباً چار ہزار ہے۔ باورچی خانے کا عملہ 800 سے زائد افراد پر مشتمل تھا جو مذہبی تہواروں کے موقع پر ایک ہزار سے بھی تجاوز کرجاتا تھا۔ یہاں دنیا کا سب سے تیسرا بڑا برتنوں کا ذخیرہ بھی موجود تھا۔

[ترمیم] موجودہ حیثیت

17 ویں صدی کے اواخر تک توپ قاپی اپنی اہمیت کافی حد تک کھو بیٹھا تھا کیونکہ سلطان اپنا بیشتر وقت باسفورس کے کنارے واقع محلات میں گذارنے لگے تھے۔ 1853ء میں سلطان عبد المجید اول نے باقاعدہ طور پر اپنی رہائش گاہ باسفورس کے کنارے واقعے نو تعمیر شدہ دولما باغچی محل میں منتقل کر دی جو یورپی طرز کا تعمیر کردہ شہر کا پہلا محل تھا۔

1921ء میں عثمانی سلطنت کے خاتمے کے بعد 3 اپریل 1924ء کو ایک حکومتی فیصلے کے مطابق توپ قاپی محل کو ایک شاہی عجائب گھر میں تبدیل کر دیا گیا۔ محل اب وزارت ثقافت و سیاحت کے زیر انتظام ہے۔

[ترمیم] حوالہ جات

  1. ^ توپ قاپی محل پر فارسی وکیپیڈیا کا مضمون