سلیمان اعظم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Osmanli-nisani.svg    سلیمان اعظم
سلطان عالی مقام، امیرالمؤمنین و خلیفۃ الرسول اللہ
Suleiman I attributed to school of Titian c.1530
Tughra of Suleiman I the Magnificent.svg
دور سلطنت عثمانیہ کا عروج
تاج پوشی 30 ستمبر 1520
پیدائش 6 نومبر 1494 (1494-11-06)
جائے پیدائش ترابزون
وفات 5/6 ستمبر 1566 (عمر 71)
جائے وفات زیگیتوار ، ہنگری
مدفن جامع سلیمانیہ ، استنبول[1][2]
پیشرو سلیم اول
جانشین سلیم دوئم
ملکہ خرم سلطان (روکسیلانہ)
بیویاں
خرم سلطان
ماہِ‌دوراں گلبہار سلطان
اولاد شہزادہ محمود (1511-1521)

شہزادہ مصطفی (1515-1553)
شہزادہ محمد (1523-1543)
مہرِماہ سلطانہ (1524-1580)
سلیم دوئم (1525-1574)
شہزادہ بایزید (1527-1561)

شہزادہ جہانگیر (1535-1553)
شاہی گھرانہ عثمانی خاندان
شاہی خاندان عثمانی خاندان
والد سلیم اول
والدہ عائشہ حفصہ سلطان


سلیمان اول

سلیمان اول (المعروف سلیمان قانونی اور سلیمان اعظم) سلطنت عثمانیہ کے دسویں فرمانروا تھے جنہوں نے 1520ء سے 1566ء تک 46 سال تک حکمرانی کے فرائض انجام دیئے۔ وہ بلاشبہ سلطنت عثمانیہ کے سب سے عظیم حکمران تھے جنہوں نے اپنے بے مثل عدل و انصاف اور لاجواب انتظام کی بدولت پوری مملکت اسلامیہ کو خوشحالی اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن کردیا۔ انہوں نے مملکت کے لئے قانون سازی کا جو خصوصی اہتمام کیا اس کی بنا پر ترک انہیں سلیمان قانونی کے لقب سے یاد کرتے ہیں جبکہ مغرب ان کی عظمت کا اس قدر معترف ہے کہ مغربی مصنفین انہیں سلیمان ذیشان یا سلیمان عالیشان اور سلیمان اعظم کہہ کر پکارتے ہیں۔ ان کی حکومت میں سرزمین حجاز، ترکی، مصر، الجزائر، عراق، کردستان، یمن، شام، بیت المقدس، خلیج فارس اور بحیرہ روم کے ساحلی علاقے، یونان اور مشرقی و مغربی ہنگری شامل تھے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

سلطان سلیمان کا طغرہ

سلیمان 6 نومبر 1494ء (900ھ) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سلیم اول دولت عثمانیہ کے نویں سلطان تھے جبکہ والدہ کا نام عائشہ تھا۔ سلیم اول نے 8 سال تک (918ھ تا 926ھ) حکومت کی تھی۔ سلیمان نے اپنے والد سے 16 سال تک جنگی فنون کی تربیت حاصل کی۔ سلیم اول نے اپنے بیٹے کو دینی و دنیاوی تعلیم دلوانے کا بھی اہتمام کیا تھا۔ سلیمان کی انتظامی صلاحیتوں کو اس وقت جلا ملی جب انہیں مختلف صوبوں میں حاکم مقرر کیا گیا۔ سب سے پہلے انہوں نے اپنے دادا سلطان بایزید ثانی کے زمانے میں کفہ کی سنجق (صوبے) میں حکمرانی کے فرائض انجام دیئے۔ انہوں نے مغنیسیا، ادرنہ اور صاروخان کی حکمرانی کی ذمہ داریاں بھی انجام دیں۔ سلیم اول نے جب ایران پر حملہ کیا تو سلیمان ہی نائب کی حیثیت سے قسطنطنیہ میں موجود تھے۔

بحیثیت سلطان[ترمیم]

سلیمان اعظم اس کے بعد کی فتوحات، 1683ء میں سلطنت اپنے عروج پر

1520ء میں سلیم اول کے انتقال کے بعد عثمانی سلطنت کی باگ ڈور سلیمان اول کے ہاتھوں میں آئی اور یہیں سے دولت عثمانیہ کے اس دور کا آغاز ہوتا ہے جو اپنی خوشحالی، استحکام اور وسعت کے اعتبار سے یادگار ہے۔ سلیمان نے اپنے 46 سالہ دور حکومت میں خلافت عثمانیہ کو سیاسی برتری دلوانے اور اسے برقرار رکھنے کے لئے جو کوشش کی وہ بلاشبہ لائق صد تحسین ہے ان کا یہ کارنامہ اس لحاظ سے بھی بے حد ممتاز ہے کہ اس دور میں مسیحی و مغربی طاقتیں بیدار اور متحد ہورہی تھیں اور بڑی بڑی شخصیات عثمانیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے میدان میں آگئی تھیں مثلا شہنشاہ چارلس پنجم جو یورپ کے نصف سے زائد حصے پر حکمران تھا جس میں موجودہ اسپین، بیلجیئم، ہالینڈ اور جرمنی شامل تھے، ادھر انگلستان میں ملکہ ایلزبتھ اول حکمران تھی اور ہنگری پر شاہ لوئی کا سکہ چل رہا تھا۔

یہ یورپ کی بیداری کا زمانہ تھا۔ فرانس، انگلستان اور آسٹریا نے اپنے اختلافات ختم کر لئے تھے اور مسیحی طاقت متحد ہونے کی فکر میں تھیں۔ چنانچہ حکومت سنبھالنے کے بعد اپنے 26 سالہ دور حکومت میں سلیمان کسی نہ کسی جنگ یا مہم میں مصروف رہے اگرچہ درمیان میں مختصر وقفے بھی آئے لیکن جہاد کاجو جذبہ سلیمان کے سینے میں موجزن تھا اس نے انہیں آخر وقت تک میدان عمل میں مصروف رکھا حتی کہ جنگ کے دوران ہی انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ انہوں نے ذاتی طور پر 13 بڑی جنگوں میں شرکت کی جن میں سے تین ایشیا میں اور 10 یورپ میں لڑی گئی اور اس طرح سلطنت عثمانیہ کی حدود میں 13 مرتبہ توسیع کی۔

فتح بلغراد[ترمیم]

مکمل مضمون کے لئے دیکھئے فتح بلغراد

خلیفہ بننے کے بعد سلیمان کی زندگی کا پہلا معرکہ فتح بلغراد تھی۔ ہنگری کا بادشاہ لوئی ثانی سلیمان کے والد کے عہد سے ہی شورشیں برپا کررہا تھا۔ سلیمان نے خلیفہ بننے کے بعد شاہ ہنگری کے پاس اپنے سفیر بھیجے جنہوں نے سلیمان کی جانب سے خراج کی ادائیگی کا مطالبہ شاہ تک پہنچایا۔ شاہ طاقت کے نشے میں چور تھا اس نے ترک سفیروں کے ساتھ بدسلوکی کی بلکہ بعض روایات کے مطابق انہیں قتل کروا دیا۔ سلیمان کو خبر ملی تو انہوں نے فوجی تیاری کا حکم دیا۔ ماہ رمضان المبارک میں یہ مہم سر کی گئی۔ 1521ء میں اسلامی فوج بلغراد پر قبضہ کر چکی تھی۔ سلیمان نے بلغراد کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچایا اور وہاں بڑے کلیسا کی صفائی کروائی اور نماز ادا کی اور اسے مسجد میں تبدیل کردیا گیا۔

فتح رہوڈس[ترمیم]

اگلے سال انہوں نے رہوڈس کے جزیرے کی طرح نظر کی جہاں سینٹ جان کے سورما (نائٹس) موجود تھے۔ یہ لوگ عرصۂ دراز سے سلطنت عثمانیہ کے لئے مستقل خطرہ بنے ہوئے تھے کیونکہ وہ ہمیشہ عیسائی بحری قزاقوں کی مدد کرتے رہتے تھے۔ سلیمان 20 رجب 928ھ بمطابق 15 جون 1522ء کو قسطنطنیہ سے فوج لے کر روانہ ہوئے۔ 300 جنگی جہاز اور 400 باربرداری کے جہاز الگ روانہ کئے۔ 4 رمضان بمطابق 28 جولائی کو سلطان ساحل پر اترے اور 8 رمضان بمطابق یکم اگست کو رہوڈس کا محاصرہ شروع کیا، یہ محاصرہ ایک دو نہیں بلکہ 5 ماہ تک جاری رہا۔ آخر رہوڈس کے حاکم نے ہتھیار ڈال دیئے۔ سلیمان نے جزیرے والوں کو 12 دن کی مہلت دی اور اعلی ظرفی سے کام لیتے ہوئے انہیں اجازت دی کہ وہ اپنا سامان اور اسلحہ لے جاسکتے ہیں اور ضرورت پڑے تو عثمانی جہازوں کو بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ رہوڈس کے مسیحی باشندے یہاں سے نکل کر جزیرہ کریٹ چلے گئے۔

معرکۂ مہاچ[ترمیم]

چند سال بعد سلیمان نے ہنگری پر حملے کا فیصلہ کیا اور 932ھ بمطابق اپریل 1526ء میں ایک لاکھ سپاہیوں کی فوج کے ساتھ روانہ ہوئے۔ اس وقت 300 توپیں بھی فوج کے ساتھ تھیں۔ مہاچ کے مقام پر اسلامی افواج ہنگری کی فوجوں کے مدمقابل ہوئیں۔ مسلمان اس قدر جوش و جذبے سے لڑے کہ صرف دو گھنٹے میں جنگ کا فیصلہ ہوگیا اور شاہ لوئی نے راہ فرار اختیار کی لیکن دریا میں ڈوب کر مرگیا۔

ہنگری پر پہلا حملہ[ترمیم]

سلیمان نے اب ہنگری کے دارالحکومت بوڈا پر چڑھائی کی۔ 3 ذی الحجہ 932ھ بمطابق 10 ستمبر 1526ء کو اس شہر پر بھی مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا۔ شاہ لوئی لا ولد تھا اس لئے خلیفہ سلیمان نے مقامی امراء کے مشورے سے کاؤنٹ زاپولیا کو حاکم مقرر کیا اور واپس چلے گئے۔ بوڈا اب بڈاپسٹ کہلاتا ہے۔ کچھ عرصے بعد شہنشاہ چارلس پنجم کے بھائی فرڈینننڈ نے ہنگری کا حکمران بننے کے خواب دیکھنے شروع کردیئے اور اپنے ان خوابوں کو حقیقت بنانے کی غرض سے اس نے ہنگری پر حملہ کیا اور کاؤنٹ زاپولیا کو شکست دے کر پولینڈ بھگادیا۔ زاپولیا نے سلطان سے فریاد کی۔ فرڈیننڈ بھی سلطان سے امداد کا طالب ہوا لیکن اس تکبر سے کہ ہنگری کے جن شہروں پر مسلمانوں کا قبضہ ہوچکا تھا وہ بھی واپس طلب کرلئے۔ ظاہر کہ اس پر غرور درخواست پر سلطان توجہ نہیں دے سکتے تھے۔ انہوں نے زاپولیا کی مدد کا فیصلہ کرلیا۔ 12 رمضان المبارک 935ھ بمطابق 20 مئی 1529ء کو سلطان ایک بڑی فوج لے کر بوڈا پہنچے۔ 6 روز تک محاصرہ کرکے قلعہ فتح کیا۔

محاصرۂ ویانا[ترمیم]

زاپولیا کو اس کے عہدے پر بحال کیا اور فتنے کی جڑ کاٹنے کی غرض سے آسٹریا کا رخ کیا۔ 27 ستمبر کو دارالحکومت ویانا کا محاصرہ شروع کیا۔ یہ محاصرہ طویل ہوگیا، موسم بہت خراب تھا، رسد کی کمی تھی، راستوں کی خرابی کی وجہ سے سلطان کو بڑی توپیں ہنگری میں ہی چھوڑنی پڑی تھیں، اس لئے یہ محاصرہ بے نتیجہ رہا اور سلطان کو واپس آنا پڑا لیکن یورپ کے قلب تک مسلمانوں کے قدم پہنچنے کے باعث ان کی اہل یورپ پر بڑی دھاک بیٹھ گئی۔ تین سال بعد سلطان نے پھر آسٹریا کا رخ کیا لیکن صرف ایک مقام گونز کو فتح کرنے میں تین ماہ کا عرصہ لگ گیا وار وہاں سے استیریا کو فتح کرکے سلطان نومبر میں قسطنطنیہ واپس پہنچ گئے اور پھر آسٹریا سے عارضی صلح ہوگئی۔

ایران کے خلاف کارروائی[ترمیم]

سلیمان کا چھٹا بڑا حملہ ایران کے خلاف تھا۔ سلطان کے وزیراعظم ابراہیم نے 941ھ بمطابق جولائی 1534ء میں تبریز پر قبضہ کرلیا۔ ستمبر میں سلطان بذات خود اس شہر میں فاتحانہ انداز میں داخل ہوئے۔ یہاں سے ترک فوج نے ہمدان کے راستے بغداد کا رخ کیا۔ سلطان بغداد میں چار ماہ رہے پھر ایرانیوں نے چونکہ مفتوحہ علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرلیا تھا اس لئے ترک افواج نے ایک بار پھر ایران کا رخ کیا اور آذربائیجان اور دیگر کئی علاقے فتح کرلئے۔ 23 رجب 943ھ بمطابق 17 جنوری 1534ء کو سلطان واپس قسطنطنیہ پہنچ گیا۔

ہنگری کی عثمانی سلطنت میں شمولیت[ترمیم]

اس کے بعد سلطان چند سالوں تک مختلف چھوٹی بڑی مہمات میں مصروف رہے۔ ادھر فرڈیننڈ اور زاپولیا نے ہنگری کو ایک معاہدے کے تحت آپس میں تقسیم کرلیا تھا لیکن صرف ایک سال بعد زاپولیا کا انتقال ہوگیا تھا جس کے بعد فرڈیننڈ نے اپنی حریف طبیعت سے مجبور ہوکر پھر پورے ہنگری پر قبضہ جمانا چاہا، سلطان کو یہ اطلاعات ملیں تو انہوں نے ربیع الآخر 948ھ بمطابق اگست 1541ء میں ہنگری کا رخ کیا۔ شہر بوڈا اور دیگر کئی شہر فتح کئے اور انہیں اپنی مملکت میں شامل کرلیا اور صرف ٹرانسلوانیا کو زاپولیا کی بیوہ ملکہ ایزابیلا کے لئے چھوڑ دیا۔ دالپور، ہیکلوس، فونفکیرشن پر بھی مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا۔ یہاں ترک دستے متعین کردیئے گئے۔ ہنگری کو سنجقوں میں تقسیم کردیا گیا اور یہاں ترک گورنر مقرر کئے گئے۔

1547ء میں شہنشاہ چارلس پنجم اور فرڈیننڈ نے سلطان سے سات سالہ صلح کرلی اور ہنگری اور ٹرانسلوانیا پر سلطان کا قبضہ ہوگیا۔ فرڈیننڈ نے ایک کثیر رقم سالانہ خراج دینے کا وعدہ کیا۔ اس کے بعد چند سالوں میں سلطان نے ایران میں اندر تک حملے کئے۔ بغداد، موصل، یریوان، آرمینیا اور بین النہرین (میسوپوٹیمیا) کو اپنی مملکت میں شامل کرلیا۔ ادھر عدن پر قبضہ کیا اور بحیرہ روم میں اپنے طاقتور بحری بیڑے اور امیر البحر خیر الدین پاشا باربروسا کے شاندار کارناموں کی بدولت الجزائر، طرابلس اور بحیرہ ایجیئن کے متعدد جزیرے فتح کئے۔ اس زمانے میں بری قوت کے اعتبار سے ایشیا یا یورپ کی کوئی سلطنت دولت عثمانیہ کے برابر نہ تھی اور بحری لحاظ سے بھی اس کا شمار دنیا کی چند بڑی مملکتوں میں ہوتا تھا۔

وفات[ترمیم]

1565ء میں آسٹریا سے جنگ پھر شروع ہوگئی جس میں عیسائیوں نے کچھ کامیابیاں حاصل کیں۔ سلطان اس زمانے میں بیمار تھے انہیں گٹھیا کی شکایت تھی اس کے باوجود مردانہ وار افواج کی قیادت کے لئے نکل آئے۔ آسٹریا کے قلعہ سگتوار کا محاصرہ 2 اگست 1565ء کو شروع ہوا اور 8 ستمبر تک جاری رہا اور قلعہ فتح ہوگیا اور اس وقت جب لشکر اسلام کامیابی کے پھریرے لہراتا ہوا قلعے میں داخل ہورہا تھا لیکن سپاہی اس اندوہناک حقیقت سے بے خبر تھے کہ ان کا محبوب سلطان اب ان کے درمیان نہیں بلکہ وہ 9 اور 10 صفر بمطابق 5 اور 6 ستمبر کی درمیانی شب ہی انہیں چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملا ہے۔ سلطان کی وفات کی خبر وزیراعظم صوقوللی پاشا نے دانستہ مخفی رکھی اور فتح کے بعد اسے عام کیا۔ فتح کے شادیانے فورا موقوف ہوگئے اور فضا سوگوار ہوگئی۔ سلطان کی میت واپس قسطنطنیہ لائی گئی جہاں خود ان کی تعمیر کردہ مسجد سلیمانیہ میں انہیں سپردخاک کیا گیا۔

کارنامے[ترمیم]

سلطان نے حکومت کے اداروں کا انتظام اس قدر عمدگی سے کیا کہ اسے مثالی انتظام کہا جاسکتا ہے۔ ان کا دور ایک جمہوری دور تھا۔ انہوں نے شاہی خاندان کے افراد کی بجائے وزیر اعظم صوقوللی پاشا کو نظم و نسق سونپ دیا تھا۔ انہوں نے قانون سازی کی طرف خصوصی توجہ دی، فوج کی نظم و تربیت، فوجی نظام جاگیرداری، زمینی جائیداد کے قوانین، پولیس اور فوج کی خدمات کے عوض جاگیر وغیرہ دینے کا ضابطہ اور آئین مرتب کروایا۔ انہوں نے محصول کی مقدار خود مقرر کی تھی۔ قانون کی رو سے کاشتکار اراضی کا مالک تھا۔ کاشتکاروں کو میسر سہولیات کی وجہ سے ہنگری کے علاقوں میں مقیم اکثر عیسائی کاشتکار بھاگ کے مسلمانوں کے علاقے میں آباد ہوگئے۔ مختلف جرائم کے لئے سزائیں مقرر کی گئیں اور ان تمام قوانین کو بعد میں مجموعے کی شکل میں مرتب کیا گیا۔ سلطان نے ملک بھر میں اشیائے صرف کی قیمتیں مقرر کیں،محکمۂ انسداد بے رحمی حیوانات بنوایا۔ سرکاری دفاتر میں ریکارڈ مرتب کروائے جو "کوتکات" کہلاتے تھے۔ انہوں نے آب رسانی کے نظام کو بھی بہت ترقی دی۔ قسطنطنیہ میں ایک بڑی نہر جاری کروائی اور مکہ مکرمہ کی پرانی نہروں کی مرمت کروائی۔ بڑے شہروں میں ہسپتال قائم کئے اور پل بنوائے۔ مکہ مکرمہ میں چاروں فقہی مذاہب کے لئے چار مدرسے قائم کئے۔ متعدد شہروں میں خوبصورت مساجد تعمیر کروائیں جن کے ساتھ مدارس بھی کام کرتے تھے۔

1424ء میں سلطان مراد ثانی کے زمانے میں شیخ الاسلام کا عہدہ قائم ہوا تھا، سلطان سلیمان نے اسے برقرار رکھا اور یہ عہدہ دولت عثمانیہ میں 498 سال تک رہا اور اس پر 131 علماء فائز ہوئے۔

سلطان نے فوج کو بہتر بنانے کا خاص انتظام کیا ان کے پاس مستقل تنخواہ دار فوج 24 ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھا لیکن جنگ کے موقع پر دو لاکھ سپاہی میدان میں لائے جاسکتے تھے۔ انہوں نے فوج کو محض انتقامی جذبے سے کبھی کسی مہم پر روانہ نہیں کیا۔ جب بھی فوج جنگ کے لئے روانہ ہونے لگتی تو اسے سختی سے تاکید کی جاتی کہ وہ عوام کی جان و مال کو کوئی نقصان نہ پہنچائے۔

سلطان سلیمان ایک عظیم فاتح ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم شاعر بھی تھے۔

فن تعمیر وہ میدان ہے جس میں سلطان کے کارنامے آج بھی مستحکم صورت میں اپنی نوعیت اور جاہ و جلال کی داستاں بیان کررہے ہیں۔ سلطان نے مفتی ابو السعود کے فتوے کی بنیاد پر کعبۃ اللہ کی از سر نو تعمیر کروائی۔ سلطان کی تعمیر نے ترک ثقافت پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ ہم سلیمان قانونی کو سلطنت عثمانیہ کا شاہجہاں کہہ سکتے ہیں۔ ان کے دور کے مشہور ترین معمار سنان پاشا تھے۔ سلطان کے دور میں جو مساجد تعمیر ہوئیں ان میں بلند ترین مقام جامع سلیمانیہ کا ہے جو 1550ء سے 1556ء کے درمیانی عرصے میں تعمیر ہوئی۔ یہ عظیم مسجد شہر قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کی سب سے اونچی پہاڑی پر تعمیر کی گئی اور آج بھی موجود ہے۔ سلطان کی قبر مسجد کے صحن میں موجود ہے اور وہیں سلیمان ثانی اور کئی دیگر عثمانی خواتین کی قبریں بھی ہیں۔

ان تمام کارناموں اور خوبیوں کے باوجود سلیمان اعظم وہ بلند مقام حاصل نہ کرسکے جو خلفائے راشدین یا عمر بن عبدالعزیز کا تھا بلکہ ہم انہیں نور الدین، صلاح الدین اور اورنگزیب جیسی جلیل القدر ہستیوں کے مقابلے میں بھی پیش نہیں کرسکتے

نور الدین، صلاح الدین اور اورنگزیب ہر فیصلہ تحقیق کے بعد کرتے تھے۔ بیت المال سے مقررہ رقم لیتے تھے البتہ سلیمان کو ہارون رشید، مامون رشید، ملک شاہ سلجوقی اور شاہجہاں جیسے بادشاہوں کی صف میں شمار کیا جاسکتا ہے، وہ جمہوری حمکران نہیں تھے اور اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرتا تھے، ہر معاملے کو عدالت میں پیش کرنا ضروری نہیں سمجھتا تھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے لوگوں کے بہکانے سے شبہ میں آکر اپنے ایک لڑکے مصطفی اور اپنے سب سے بہترین وزیراعظم ابراہیم کو قتل کرادیا۔

سلیمان اعظم شیر شاہ سوری اور جلال الدین محمد اکبر کے ہمعصر تھے لیکن اس کے باوجود اپنے زمانے کا سب سے بڑا حکمران تھے۔ شیر شاہ کی سلطنت چھوٹی تھی اور انہوں نے صرف 4 سال حکومت کی جبکہ اکبر نے یقیناً ایک بڑی سلطنت قائم کی جو پائیدار بھی تھی لیکن سلیمان کی زندگی میں اکبر کی حکومت کو پورا عروج نہیں ہونے پایا تھا اس طرح سلیمان اپنی زندگی میں دنیا کے سب سے بڑے حکمران تھے۔

بیرونی مقالات[ترمیم]

سلطان سلیمان کا دل

حوالہ جات[ترمیم]

  • "عظیم مسلمان شخصیات"، ماہنامہ رابطہ، مصنف: کلیم چغتائی
  • دولت عثمانیہ: ڈاکٹر محمد عزیز
  • سلاطین ترکیہ: اسٹینلے لین پول/ نصیب اختر
  • دس سلطان: سید بشیر احمد اسعدی
  • تاریخ ترکیہ: نصیر احمد ناصر
  • دائرۂ معارف اسلامیہ
  1. ^ The Encyclopædia Britannica, Vol.7, Edited by Hugh Chisholm, (1911), 3; Constantinople, the capital of the Turkish Empire...
  2. ^ Britannica, Istanbul:When the Republic of Turkey was founded in 1923, the capital was moved to Ankara, and Constantinople was officially renamed Istanbul in 1930.