جامع سلیمانیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سلیمانیہ مسجد

گلاٹا ٹاور سے مسجد کا ایک منظر

بنیادی معلومات
محل وقوع استنبول، ترکی
جغرافیائی متناسقات 41°00′58″N 28°57′50″E / 41.01611°N 28.96389°E / 41.01611; 28.96389متناسقات: 41°00′58″N 28°57′50″E / 41.01611°N 28.96389°E / 41.01611; 28.96389
مذہبی انتساب اسلام
تفصیلات
بلندی (انتہائی) 53 میٹر
چوڑائی گنبد (داخلی) 26 میٹر
مینار 4
بلندی مینار 72 میٹر


سلیمانیہ مسجد (ترک:Süleymaniye Camii، سلیمانیہ جامع) ترکی کے شہر استنبول کی ایک عظیم جامع مسجد ہے۔ یہ مسجد سلطان سلیمان اول (سلیمان قانونی) کے احکام پر مشہور عثمانی ماہر تعمیرات معمار سنان پاشا نے تعمیر کی۔ مسجد کی تعمیر کا آغاز 1550ء میں اور تکمیل 1557ء میں ہوئی۔

مسجد سلیمانیہ کو بازنطینی طرز تعمیر کے شاہکار ایاصوفیہ کے مقابلے میں تعمیر کیا گیا تھا۔ جسے عیسائی طرز تعمیر کا عظیم شاہکار قرار دیتے ہوئے دعوی کرتے تھے کہ اس کے گنبد سے بڑا کوئی گنبد تیار نہیں کیا جاسکتا۔ (ایاصوفیہ کو فتح قسطنطنیہ کے بعد سلطان محمد ثانی نے مسجد میں تبدیل کردیا تھا)اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے سنان پاشا نے مسجد کی تعمیر کا آغاز کیا اور یہ عظیم شاہکار تخلیق کیا۔

مسجد سلیمانیہ کی لمبائی 59 میٹر اور چوڑائی 58 میٹر ہے۔ اس کا گنبد 53 میٹر بلند اور 57.25 میٹر قطر کا حامل ہے۔ مسجد کے چار مینار ہیں کیونکہ مسجد میں چار مینار تعمیر کرنے کا حق صرف سلطان کا تھا۔ شہزادی شہزادیاں دو اور دیگر افراد ایک مینار تعمیر کرسکتے تھے۔ مسجد کے علاوہ صحن، لنگر خانہ، دار الشفاء، 4 مدارس، دار الحدیث اور ایک حمام بھی تعمیر کئے گئے۔ مسجد سے ملحقہ باغیچے میں سلطان سلیمان اول اور ان کی اہلیہ کے مزارات ہیں جبکہ سلطان کی صاحبزادی محرمہ، والدہ دل آشوب صالحہ اور ہمشیرہ عائشہ کی قبریں بھی موجود ہیں۔ سلیمان ثانی، احمد ثانی، مصطفی ثانی کی صاحبزادی صفیہ بھی یہیں مدفون ہیں۔ مسجد کی دیواروں کے ساتھ ہی شمال کی جانب سنان پاشا کا مقبرہ ہے۔

1660ء میں آتش زدگی کے نتیجے میں مسجد کو شدید نقصان پہنچا جس کے بعد سلطان محمد چہارم نے اس کی بحالی کا کام کرایا۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران مسجد میں دوبارہ آگ بھڑک اٹھی جس کے بعد مسجد کی آخری تزئین و آرائش 1956ء میں کی گئی۔ آجکل یہ استنبول کے مشہور ترین مقامات میں سے ایک ہے۔

متعلقہ مضامین[ترمیم]

نگار خانہ[ترمیم]