کریٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
کریٹ
Crete

Περιφέρεια Κρήτης
—  یونان کا علاقہ  —
کریٹ کی ناسا تصویر
متناسقات: 35°13′N 24°55′E / 35.21°N 24.91°E / 35.21; 24.91متناسقات: 35°13′N 24°55′E / 35.21°N 24.91°E / 35.21; 24.91
ملک Flag of Greece.svg یونان
دارالحکومت ایراکلیون
علاقائی اکائیاں
حکومت
 - علاقائی گورنر Stavros Arnaoutakis
رقبہ
 - کُل 8,336 کلومیٹر2 (3,218.5 میل2)
زیادہ سے زیادہ بلندی 2,456 میٹر (8,058 فٹ)
آبادی (2011)
 - کُل 621,340
 کثافتِ آبادی 74.5/کلومیٹر2 (193/میل2)
آیزو 3166 رمز GR-M
ویب سائٹ www.crete.gov.gr
یونان اور کریٹ کا نقشہ

کریٹ یا کریتی (یونانی زبان: Κρήτη, Kríti ['kriti]; قدیم یونانی: Κρήτη, Krḗtē) بحیرہ روم میں یونان کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ یہ بحیرہ روم کا پانچواں سب سے بڑا جزیرہ بھی ہے۔ یہ جزيرہ سیاحوں میں بہت مشہور ہے اور لاکھوں سیاح یہاں کے تاریخی مقامات کی سیر کرنے آتے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

کریٹ 824ء تک مشرقی رومن یا بازنطینی سلطنت کا حصہ رہا تاہم سن 824ء میں عربوں نے اسے فتح کرکے امارت کا درجہ دیا اور کانڈیہ کا شہر بسا کر اسے دارالحکومت قرار دیا۔

960ء میں بازنطینیوں نے ایک مرتبہ پھر اسے فتح کیا اور 1204ء تک یہ انہی کے قبضے میں رہا۔ چوتھی صلیبی جنگ کے موقع پر یہ جزیرہ صلیبیوں کے ہاتھوں فتح ہوا 1669ء میں عثمانی ترکوں کی فتح تک انہی کے قبضے میں رہا۔

عثمانی دور[ترمیم]

1648ء میں عثمانیوں نے اس جزیرے کے شہر کینڈیا کا محاصرہ شروع کیا جو تاریخ کا سب سے طویل محاصرہ ہے۔ 1669ء میں عثمانیوں نے شہر فتح کرلیا اور جزیرے کا آخری شہر اسپنالونگا 1718ء میں فتح ہوا اور جزیرہ سلطنت عثمانیہ کا حصہ بن گیا۔

یونان کی جنگ آزادی کے وقت کریٹ میں مسلمانوں کی تعداد 45 فیصد تھی۔ اس وقت جزیرے کے 23 میں سے 19اضلاع میں عیسائیوں کی تعداد 60 فیصد تھی لیکن شمالی ساحل پر تین بڑے شہروں میں مسلمانوں کی تعداد 60 فیصد سے زائد تھی۔

1832ء میں یونان کی سلطنت عثمانیہ سے آزادی کے بعد اس میں کریٹ شامل نہیں تھا بلکہ مصر کے خدیو مصطفیٰ پاشا کی زیر نگرانی تھا۔ اس عرصے میں جزیرہ مسلم اور عیسائی ‏آبادی کے درمیان فسادات کا مرکز بن گیا۔ برطانیہ، امریکہ، فرانس اور اٹلی کے تعاون سے یونان نے 1866ء میں عثمانی اقتدار کے خلاف بغاوت کھڑی کرادی جس کے بعد عالی پاشا کو یہاں بھیجا گیا جنہوں نے مسائل کو بخوبی حل کیا۔

1896ء تک عثمانی افواج کی جزیرے کے بیشتر حصوں پر گرفت نہ رہی۔ دسمبر 1898ء میں ترک افواج کو شکست دے دی گئی اور یونان کے شہزادہ جارج کی سربراہی میں آزاد کریٹ جمہوریہ وجود میں آئی۔ 1908ء میں سلطنت عثمانیہ کی ابتر صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کریٹ نے یونان سے الحاق کااعلان کردیا تاہم اس کی توثیق 1913ء میں جنگ بلقان کے بعد کی گئی۔

کریٹ کی مسلم اقلیت جزیرے پر موجود رہی تاہم 1923ء میں یونان اور ترکی کے درمیان معاہدہ لوزان کے تحت مسلم اور عیسائی آبادی کا تبادلہ کیا اور مسلمانوں کی اکثریت ترکی ہجرت کرگئی۔

دوسری جنگ عظیم[ترمیم]

دوسری جنگ عظیم کے دوران مئی 1941ء میں یہاں جنگ کریٹ لڑی گئی جس میں جرمن افواج خصوصا ان کے چھاتہ بردار دستوں نے برطانیہ کی افواج کو سے نکال باہر کیا۔

نگار خانہ[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

کریٹ

مزید دیکھیے[ترمیم]