عبد المجید ثانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
عبد المجید ثانی
خلیفہ
Portrait Caliph Abdulmecid II.jpg
معیاد عہدہ ۱۹ نومبر ۱۹۲۲ء – ۳ مارچ ۱۹۲۴ء
پیشرو محمد وحید الدین
شریک حیات شہوار بش قادین افندی
حیرنساء قادین افندی
عتیاء محستی قادین افندی
بحرز قادین افندی
نسل شہزادہ شہزاد عمر فاروق افندی
خدیجہ خیریہ عائشہ در شہوار
والد عبد العزیز اول
والدہ حیران دل قادین افندی
پیدائش 29 مئی 1868 (1868-05-29)
بسکٹس, سلطنت عثمانیہ
وفات 23 اگست 1944 (عمر 76 سال)
پیرس, فرانس
مذہب سنی اسلام


عبد المجید ثانی (ترکی زبان میں:Abdülmecit، پیدائش: ۲۹ مئی ۱۸۶۸ء – انتقال: ۲۳ اگست ۱۹۴۴ء) آل عثمان کے اور دنیا بھر میں مسلمانوں کے آخری خلیفہ تھے جنہیں سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد خاندان کا سربراہ منتخب کیا گیا۔ ۳ مارچ ۱۹۲۴ء کو ترک جمہوریہ کی جانب سے خلافت کے خاتمے کے اعلان کے ساتھ ہی ان کا عہدۂ خلافت بھی ختم ہو گیا۔ وہ ۱۹ نومبر ۱۹۲۲ء سے ۳ مارچ ۱۹۲۴ء تک خلیفۃ المؤمنین رہے۔

یکم نومبر ۱۹۲۲ء کو آخری عثمانی سلطان محمد ششم کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے بعد ۱۹ نومبر کو انقرہ میں ترک قومی مجلس نے انہیں نیا خلیفہ بنایا۔ بعد ازاں مارچ ۱۹۲۴ء میں خلافت کے عہدے کے خاتمے کے بعد انہیں بھی اپنے پیشرو کی طرح اہل خانہ کے ہمراہ ملک بدر کر دیا گیا۔

ان کی اکلوتی صاحبزادی شہزادی خدیجہ خیریہ عائشہ در شہوار آخری نظامِ حیدرآباد نواب میر عثمان علی خان کے بیٹے اعظم جاہ کے عقد میں دی گئی تھیں۔

عبد المجید ثانی ۲۳ اگست ۱۹۴۴ء کو پیرس، فرانس میں واقع اپنی رہائش گاہ میں انتقال کر گئے۔ انہیں مدینہ منورہ، سعودی عرب میں سپرد خاک کیا گیا۔

متعلقہ مضامین[ترمیم]

عبد المجید ثانی
پیدائش: 29 مئی 1868 وفات: 23 اگست 1944
مناصبِ اہل سنت
پیشرو
محمد سادس
خلیفہ
19 نومبر 1922 – 3 مارچ 1924
خالی
اتاترک اصلاحات
(مختصر دعوی منجانب حسین ابن علی (شریف مکہ))
دعویدار
پیشرو
محمد سادس
— محض خطاب —
سلطان سلطنت عثمانیہ
19 نومبر 1922 – 23 اگست 1944
جانشینی ناکامی کی وجہ:
سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ 1922
جانشین
احمد نہاد
— محض خطاب —
خلیفہ
3 مارچ 1924 – 23 اگست 1944
جانشینی ناکامی کی وجہ:
اتاترک اصلاحات
خالی
اتاترک اصلاحات
(خلیفہ کے اختیارات وزارت مذہبی امور کو دے دیے گئے)