مدینہ منورہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مدینہ منورہ
المدينة المنورة
المدینہ المنورہ
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مزار اقدس
مدینہ منورہ is located in سعودی عرب
مدینہ منورہ
سعودی عرب کا نقشہ
متناسقات: 24°28′N 39°36′E / 24.467°N 39.6°E / 24.467; 39.6متناسقات: 24°28′N 39°36′E / 24.467°N 39.6°E / 24.467; 39.6
ملک Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب
صوبہ صوبہ مدینہ
حکومت
 - میر عبدالعزيز بن ماجد
رقبہ
 - کُل 589 کلومیٹر2 (227.4 میل2)
بلندی 608 میٹر (1,995 فٹ)
آبادی (2006)
 - کُل 1,300,000
منطقۂ وقت سعودی عرب کا معیاری وقت (یو ٹی سی+3)
Basmala.svg

Allah-green.svg
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین
اسلام

تاریخ اسلام

عقائد و اعمال

خدا کی وحدانیت
قبولیت اسلام
نماز · روزہ · حج · زکوٰۃ

اہم شخصیات

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
ابوبکر صدیق · عمر فاروق · عثمان غنی · علی حیدر
احباب حضور اکرم
حضور اکرم کا خاندان
حضور اکرم کی ازواج
دیگر پیغمبران

کتب و قوانین

قرآن · حدیث · شریعت
قوانین · کلام
سیرت

مسلم مکتبہ ہائے فکر

اہل سنت · اہل تشیع · صوفی

معاشرتی و سیاسی پہلو

اسلامیات · فلسفہ
فنون · سائنس
فن تعمیر · مقامات
اسلامی تقویم · تعطیلات
خواتین اور اسلام · رہنما
سیاسیات · جہاد · آزاد خواہی

مزید دیکھیئے

اسلامی اصطلاحات
اسلام پر مضامین کی فہرست


مدینہ منورہ (/mɛˈdnə/; عربی زبان: اَلْمَدِينَة اَلْمَنَوَّرَة مغربی سعودی عرب کےخطہ حجاز کا شہر جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا روضہ مبارک ہے۔ یہ شہر اسلام کا دوسرا مقدس ترین شہر ہے۔ شہر کی آبادی 2004ءکی مردم شماری کےمطابق 9 لاکھ 18 ہزار 889 ہے۔ شہر کا اصل نام یثرب تھا لیکن حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہجرت مبارکہ کےبعد اس کا نام مدینۃ النبی رکھ دیا گیا جو بعد ازاں مدینہ بن گیا۔

شہر کی سب سےاہم خصوصیت یہاں مسجد نبوی اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا روضہ مبارک ہےجس کی زیارت کےلئےہر سال لاکھوں فرزندان توحید یہاں پہنچتےہیں۔ تاریخ اسلام کی پہلی مسجد مسجد قباءبھی مدینہ میں قائم ہے۔ مکہ مکرمہ کی طرح مدینہ منورہ میں بھی صرف مسلمانوں کو داخل ہونےکی اجازت ہے۔ دونوں شہروں میں قائم مختلف مساجد میں ہر سال حج پر لاکھوں مسلمان عبادت کرتےہیں۔

تاریخ[ترمیم]

قبل از اسلام شہر مدینہ یثرب کہلاتا تھا ۔ یہ ایک اہم تجارتی قصبہ تھا اور یہاں کےبت پرست باشندےہر سال زیارت مکہ کیا کرتےتھےاور دونوں شہروں کا بت ”منات“ تھا۔ یہ شہر عرب یہودیوں کا بھی مرکز تھا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کےزمانےمیں مدینہ میں یہودیوں کےعلاوہ دو معروف قبائل بنو اوس اور بنو خزرج بھی موجود تھی۔ یہودی قبائل بنو قینقاع، بنو نذیر، بنو سیدہ، بنو حارث، بنو جشم، بنو نجار اور بنو قریظہ شامل تھی۔

بنو اوس اور بنو خزرج کےطاقتور قبائل کےدرمیان 610ءکی دہائی سے120 سالہ طویل جنگ چل رہی تھی۔

ہجرت مدینہ 622ء[ترمیم]

622ء میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کےساتھیوں نےمکہ کےکفار کےمظالم سےتنگ آکر مدینہ ہجرت کی۔ نبی آخر الزماں کی آمد پر اس کا نام مدینۃ النبی پڑگیا اور یہ شہر اولین اسلامی ریاست کا دارالخلافہ بنا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آمد پر تاریخی میثاق مدینہ طےپایا اس کےعلاوہ مواخات کےتحت تمام مسلمان مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنادیا گیا۔


بدر، احد اور احزاب کےغزوات کےبعد فتح مکہ کا تاریخی واقعہ رونما ہوا تاہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی جائے پیدائش مکہ میں رہنے کے بجائے دوبارہ مدینہ واپس آئے۔ خلافت راشدہ کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نےدارالحکومت دمشق منتقل کردیا گیا۔

مناظر مدینہ منورہ[ترمیم]

مدینہ منورہ

حوالہ جات[ترمیم]


Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔