سریہ عبد اللہ بن جحش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سریہ عبد اللہ بن جحش
تاریخ رجب 2ھ، دسمبر 623ء
مقام نخلہ
نتیجہ کامیاب سریہ
متحارب
مہاجرین مدینہ قریش مکہ
قائدین
عبد اللہ بن جحشRAZI.PNG
بجانب مسلمین
عمرو بن خضرمی
بجانب کفار
نقصانات
0 1 (2 اسیر)

سریہ عبد اللہ بن جحش یا سریہ نخلہ دور نبوی کا اہم ترین سریہ سمجھا جاتا ہے۔ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہجرت کے دوسرے سال رجب میں عبد اللہ بن جحشRAZI.PNG کو 12 (بعض روایت میں 8) مہاجر صحابہ کے ساتھ بطن نخلہ روانہ روانہ کیا۔ اس سریہ میں عبد اللہ بن جحشRAZI.PNG کے ساتھ ابوحذیفہ بن عتبہ، عمرو بن سراقہ، سعد بن ابی وقاص، عامر بن ربیعہ، عتبہ بن غزوان، واقد بن عبد اللہ اور صفوان بن بیضاء رضی اللہ عنہم ساتھ تھے۔

خط[ترمیم]

حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عبد اللہ بن جحشRAZI.PNG کو ایک خط دے کر فرمایا تھا کہ کہ دو دن بعد اسے کھولنا۔ دو دن بعد اس خط کو کھولا گیا تو اس میں درج تھا:

مقام نخلہ میں قیام کرکے قریش کے حالات کا پتہ لگاؤ اور اطلاع دو

جھڑپ[ترمیم]

اتفاقاً قریش کے چند افراد جو شام سے مال تجارت لے کر لوٹ رہے تھے سامنے آگئے۔ چونکہ اشہر حرم تھا اس لیے مسلمانوں کو حملہ کرنے میں تردد ہوا۔ باہم مشورہ کیے اور آخرکار حملہ کردیا۔ واقد بن عبد اللہRAZI.PNG نے قریش کے سالار قافلہ عمرو بن حضرمی کو قتل کر دیا۔ دو افراد حکم بن کیسان اور عثمان بن عبد اللہ گرفتار ہوئے اور مال غنیمت ہاتھ آیا۔

واپسی[ترمیم]

صحابہ کرامRAZI.PNG جب مدینہ منورہ واپس آکر یہ واقعہ بیان کیا اور مال غنیمت اور قیدیوں کو پیش کیا تو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

میں نے تمہیں اس کی اجازت نہیں دی تھی۔

اسیران جنگ[ترمیم]

جو افراد گرفتار ہوئے تھے وہ معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اور مقتول عمرو بن حضرمی کا تعلق بھی رئیس خاندان سے تھا۔ چنانچہ اس واقعہ نے تمام قریش کو مشتعل کردیا اور انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔ غزوہ بدر الکبری کا سلسلہ اسی واقعہ سے وابستہ ہے۔ عروہ بن زبیرRAZI.PNG نے تصریح کی ہے کہ غزوہ بدر اور تمام لڑائیاں جو قریش سے پیش آئیں سب کا سبب یہی خضرمی تھا۔

وکان الذي ھاج وقعة بدر وسائر الحروب التي كانت بين رسول اللهؐؐﷺ وبين مشركي قريش فيما قال عروة بن الزبير ماكان من قتل واقد بن عبد الله السهمي عمرو بن الخضرمي.
(عروہ بن زبیرRAZI.PNG کے بقول) واقعہ بدر اور وہ تمام لڑائیاں جو قریش اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مابین پیش آئیں ان سب کا محرک یہی تھا کہ واقد سہمی نے خضرمی کو قتل کردیا تھا۔ [1]



حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ شبلی نعمانی (2006)، سیرۃ النبی، 1، مکتبہ مدنیہ، ص: 185-186 






ماقبل:
سریہ سعد بن ابی وقاص
سرایا نبوی
سریہ عبد اللہ بن جحش
مابعد
سریہ عمیر بن عدی