خطوط نبوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطوط کو کئی درجہ بندویوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، مثال کے طور پر

حوالہ جاتی خطوط[ترمیم]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط جو تاریخ میں حوالے کے لیے مشہور ہے وہ حضرت جعفر طیار کو دیا گیا تھا جو بنام نجاشی شاہ حبشہ کے نام لکھا گیا تھا۔

تبلیغی خطوط[ترمیم]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکے اور عرب کے رہنے والوں کو ذاتی طور پر تبلیغ کرنے علاوہ ،دور دراز کے لوگوں کو خطوط کے ذریعے بھی تبلیغ کرتے تھے۔مدینہ میں اپنے قدم جمانے کے اس سلسلے میں اُنہوں نے بہت سے بادشاہوں کو خط لکھے اُن میں سے بہت سے تاریخ میں کافی مشہور ہیں۔

شاہ بازنطین کے نام[ترمیم]

شاہ بازنطین کے نام لکھے گئے خط کا عکس

بازنطین کے عیسائی شاہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو خط لکھا اس کا متن کچھ اس طرح سے تھا۔

من محمد بن عبد الله إلى هرقل عظيم الروم: سلام على من اتبع الهدى، أما بعد فإنى أدعوك بدعوة الإسلام . أسلم تسلم ويؤتك الله أجرك مرتين ، فإن توليت فإن عليك إثم الأريسيِّين. و يا أهل الكتاب تعالوا إلى كلمة سواء بيننا وبينكم ألا نعبد إلا الله ،ولا نشرك به شيئا،ولا يتخذ بعضنا بعضا آربابا من دون الله فإن تولوا فقولوا اشهدوا بأنا مسلمون


شاہ سکندریہ کے نام[ترمیم]

سکندریہ کے بادشاہ کو بھی ایک خط لکھا جس میں انہیں اسلام کی دعوت دی گئی تھی۔

شاہ ایران کے نام[ترمیم]

شاہ ایران ،خسرو پرویز ، کے نام انہوں نے جو خط لکھا تھا اسے شاہ ایران نے پھاڑ دیا تھا۔ جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آج پرویز نے اپنی سلطنت کے ٹکڑے کر دئیے ہیں۔

شاہ حبشہ کے نام[ترمیم]

شاہ حبشہ کے نام جو تبلیغی خط لکھا اس کا متن کچھ یوں تھا۔

شاہ حبشہ نیگس کو لکھا گیا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خظ

كتاب رسول الإسلام إلى النجاشي

بسم الله الرحمن الرحيم من محمد رسول الإسلام إلى النجاشى ملك الحبشة: سلام عليك إنى أحمد الله إليك ،الله الذي لا إله إلا هو الملك القدوس السلام المؤمن المهيمن، وأشهد أن عيسى بن مريم روح الله وكلمته ألقاها إلى مريم البتول الطيبة الحصينة، فحملت بعيسى فخلقه الله من روحه كما خلق آدم بيده، وإنى أدعوك وجنودك إلى الله عز وجل، وقد بلغت ونصحت فاقبلوا نصحى، والسلام على من اتبع الهدى


گورنر بحرین کے نام[ترمیم]

المنذر بن ساوي کے نام لکھا گیا خط

المنذر بن ساوي کے نام لکھے گئے خط کا متن کچھ اس طرح تھا۔

رساله محمد للمنذر بن ساوي التميمى

بسم الله الرحمن الرحيم، من محمد رسول الله إلى المنذر بن ساوي، سلام عليك، فإني أحمد إليك الله الذي لا إله إلا هو، وأشهد أن لا إله إلا الله، وأن محمداً عبده ورسوله. أما بعد: فإني أذكرك الله عز وجل، فإنه من ينصح فإنما ينصح لنفسه، ومن يطع رسلي ويتبع أمرهم فقد أطاعني، ومن ينصح لهم فقد نصح لي، وإنّ رسلي قد أثنوا عليك خيراً، وإني قد شفعتُكَ في قومكَ، فاتركْ للمسلمين ما أسلموا عليه، وعفوتُ عن أهل الذنوب فاقبل منهم، وإنك مهما تصلح، فلن نعزلكَ عن عملك، ومن أقام على يهودية أو مجوسية فعليه الجزية.