غزوہ خندق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

-

غزوہ خندق۔ الاحزاب
تاریخ شوال۔ ذی القعدہ 5ھ (مارچ 627ء)
مقام مدینہ اور اس کے آس پاس
نتیجہ مسلمانوں کی فتح
متحارب
مسلمانانِ مدینہ قریشِ مکہ (مشرکین)
قائدین
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابو سفیان
قوت
تقریباً 3000 تقریباً 10,000
نقصانات
6 شہادتیں 8 ھلاکتیں اور کثیر مالی نقصان
غزوہ خندق کے مقام پر مسجد سلمان فارسی

شوال۔ ذی القعدہ 5ھ (مارچ 627ء) میں مشرکینِ مکہ نے مسلمانوں سے جنگ کی ٹھانی، ابوسفیان نے قریش اور دیگر قبائل حتیٰ کہ یہودیوں سے بھی لوگوں کو جنگ پر راضی کیا اور اس سلسلے میں کئی معاہدے کیے اور ایک بہت بڑی فوج اکٹھی کر لی مگر مسلمانوں نے حضرت سلمان فارسی کے مشورہ سے مدینہ کے ارد گرد ایک خندق کھود لی۔ مشرکینِ مکہ ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ خندق کھودنے کی عرب میں یہ پہلی مثال تھی کیونکہ اصل میں یہ ایرانیوں کا طریقہ تھا۔ ایک ماہ کے محاصرے اور اپنے بے شمار افراد کے قتل کے بعد مشرکین مایوس ہو کر واپس چلے گئے۔ اسے غزوہ خندق یا جنگِ احزاب کہا جاتا ہے۔ احزاب کا نام اس لیے دیا جاتا ہے کہ اصل میں یہ کئی قبائل کا مجموعہ تھی۔ جیسے آج کل امریکہ، برطانیہ وغیرہ کی اتحادی افواج کہلاتی ہیں۔ اس جنگ کا ذکر قرآن میں سورۃ الاحزاب میں ہے۔

پس منظر[ترمیم]

غزوہ خندق کے مقام پر مسجد فتح (اوپر) اور مسجد سلمان فارسی (نیچے)

جنگ احد کے بعد قریش، یہودی اور عرب کے دیگر بت پرست قبائل کے درمیان طے پایا کہ مل جل کر اسلام کو ختم کیا جائے۔ اس سلسلے میں پہلا معاہدہ قریش کے سردار ابوسفیان اور مدینہ سے نکالے جانے والے یہودی قبیلہ بنی نضیر کے درمیان ہوا۔ اس کے بعد بنی نضیر کے نمائندے نجد روانہ ہوئے اور وہاں کے مشرک قبائل 'غطفان' اور 'بنی سلیم' کو ایک سال تک خیبر کا محصول دے کر مسلمانوں کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا[1]۔ اسلام کے خلاف اس اتحاد کو قرآن نے احزاب کا نام دیا ہے۔ ان میں ابوسفیان کی قیادت میں 4000 پیدل فوجی، 300 گھڑ سوار اور 1500 کے قریب شتر سوار (اونٹوں پر سوار) شامل تھے۔ دوسری بڑی طاقت قبیلہ غطفان کی تھی جس کے 1000 سوار انینہ کی قیادت میں تھے۔ اس کے علاوہ بنی مرہ کے 400 ، بنی شجاع کے 700 اور کچھ دیگر قبائل کے افراد شامل تھے۔ مجموعی طور پر تعداد دس ہزار سے تجاوز کر گئی جو اس زمانے میں اس علاقے کے لحاظ سے ایک انتہائی بڑی فوجی طاقت تھی۔ یہ فوج تیار ہو کر ابو سفیان کی قیادت میں فروری یا مارچ 627ء میں مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لیے مدینہ روانہ ہو گئی۔ [2] [3]
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس سازش کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اصحاب سے مشورہ کیا۔ حضرت سلمان فارسی نے ایک دفاعی خندق کھودنے کا مشورہ دیا جو عربوں کے لیے ایک نئی بات تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ مشورہ پسند آیا چنانچہ خندق کی تعمیر شروع ہو گئی۔ مدینہ کے اردگرد پہاڑ تھے اور گھر ایک دوسرے سے متصل تھے جو ایک قدرتی دفاعی فصیل کا کام کرتے تھے۔ ایک جگہ کوہِ عبیدہ اور کوہ راتج کے درمیان سے حملہ ہو سکتا تھا اس لیے وہاں خندق کھودنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کی کھدائی میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سمیت سب لوگ شریک ہوئے۔ اس دوران حضرت سلمان فارسی نہایت جوش و خروش سے کام کرتے رہے اور اس وجہ سے انصار کہنے لگے کہ سلمان ہم میں سے ہیں اور مہاجرین کہنے لگے کہ سلمان ہم میں سے ہیں۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ 'سلمان میرے اہلِ بیت سے ہیں' ۔ کھدائی کے دوران حضرت سلمان فارسی کے سامنے ایک بڑا سفید پتھر آ گیا جو ان سے اور دوسرے ساتھیوں سے نہ ٹوٹا۔ آخر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود تشریف لائے اور کلہاڑی کی ضرب لگائی۔ ایک بجلی سی چمکی اور پتھر کا ایک ٹکرا ٹوٹ کر الگ ہو گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تکبیر بلند کی۔ دوسری اور تیسری ضرب پر بھی ایسا ہی ہوا۔ حضرت سلمان فارسی نے سوال کیا کہ ہر دفعہ بجلی سی چمکنے کے بعد آپ تکبیر کیوں بلند کرتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب دیا کہ جب پہلی دفعہ بجلی چمکی تو میں نے یمن اور صنعاء کے محلوں کو کھلتے دیکھا۔ دوسری مرتبہ بجلی چمکنے پر میں نے شام و مغرب کے کاخہائے سرخ کو فتح ہوتے دیکھا اور جب تیسری بار بجلی چمکی تو میں نے دیکھا کہ کاخہائے کسریٰ میری امت کے ہاتھوں مسخر ہو جائیں گے'۔ [4]۔ بیس دن میں خندق مکمل ہو گئی۔ جو تقریباً پانچ کلومیٹر لمبی تھی، پانچ ہاتھ (تقریباً سوا دو سے ڈھائی میٹر) گہری تھی اور اتنی چوڑی تھی کہ ایک گھڑ سوار جست لگا کر بھی پار نہ کر سکتا تھا[5]۔ مسلمانوں کی تعداد 3000 کے قریب تھی جو پندرہ سال سے بڑے تھے اور جنگ میں حصہ لے سکتے تھے۔ [6]

جنگ[ترمیم]

غزوہ خندق کا مقام

اندرونی محاذ[ترمیم]

خندق کھدنے کے تین روز بعد دشمن کی فوج مدینہ پہنچ گئی اور خندق دیکھ کر مجبوراً رک گئی۔ ان کے عظیم فوج اس خندق کی وجہ سے ناکارہ ہو کر رہ گئی۔ کئی دن تک ان کے سپاہی خندق کو پار کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اس دوران مشرکین و یہود نے مدینہ کے اندر رہنے والے ایک قبیلہ بنی قریظہ سے رابطہ کیا اور مسلمانوں کو قتل کرنے کی ترغیب دی۔ یہودیوں نے مسلمانوں سے معاہدہ کر رکھا تھا اس لیے مسلمانوں نے ان کی طرف سے بے فکری اختیار کی ہوئی تھی۔ یہودیوں نے اپنی قدیم فطرت کے عین مطابق دغا کی اور نو سو افراد مسلمانوں پر حملہ کے لیے تیار ہو گئے۔ جب یہ افواہ پھیلی تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ کو تحقیق کے لیے بنی قریظہ کی طرف بھیجا۔ فیصلہ یہ ہوا کہ اگر یہ بات ٹھیک نکلی تو اس کی اطلاع خفیہ طور پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دی جائے تاکہ مسلمانوں کے حوصلے پست نہ ہوں۔ یہ بات درست نکلی[7]۔ بنو قریظہ کو شک تھا کہ اگر وہ مسلمانوں کے ساتھ عہد شکنی کریں اور قریش پیٹھ پھیر کر چلے جائیں تو اچھا نہ ہوگا۔ اس لیے انہوں نے قریش سے کچھ ان کے کچھ لوگ بطور یرغمال مانگے جسے قریش نے اپنی توہین سمجھا۔ اس دوران مسلمان یہودی سازش سے آگاہ ہو چکے تھے اس لیے انہوں نے راتوں کو پانچ سو سواروں کا گشت شروع کیا اور نعرہ تکبیر لگا کر بزدل یہودیوں کا جگر پانی کرتے رہے۔ انہی وجوہ سے بنی قریظہ عملی طور پر حملہ نہ کر سکے۔

بیرونی محاذ: ایمان کفر کے مقابلے پر[ترمیم]

کچھ دن کے بعد عمرو ابن عبدود کی قیادت میں پانچ سواروں(عمرو بن عبدود، عکرمہ بن ابو جہل، ضرار بن الخطاب، نوفل بن عبداللہ اور ابن ابی وھب) نے خندق کو ایک کم چوڑی جگہ سے پار کر لیا۔ عمرو بن عبدود عرب کا مشہور سورما تھا اور اس کی دہشت سے لوگ کانپتے تھے۔ اس نے سپاہ اسلام کا للکار کر جنت کا مذاق بناتے ہوئے کہا کہ 'اے جنت کے دعویدارو کہاں ہو؟ کیا کوئی ہے جسے میں جنت کو روانہ کر دوں یا وہ مجھے دوزخ میں بھیج دے' اور اپنی بات کی تکرار کرتا رہا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ 'کوئی ہے جو اس کے شر کو ہمارے سروں سے دور کرے؟'۔ حضرت علی علیہ السلام نے آمادگی ظاہر کی۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو اجازت نہ دی اور دوسری اور پھر تیسری دفعہ پوچھا۔ تینوں دفعہ حضرت علی علیہ السلام ہی تیار ہوئے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اپنا عمامہ اور تلوار عطا کی اور فرمایا کہ ' کل ایمان کل کفر کے مقابلے پر جا رہا ہے' ۔ ایک سخت جنگ جس کے دوران گردو غبار چھا گیا تھا نعرہ تکبیر کی آواز آئی۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ 'خدا کی قسم علی نے اسے قتل کر دیا ہے'۔ عمرو بن عبدود کے قتل کی دھشت اتنی تھی کہ اس کے باقی ساتھی فوراً فرار ہونے لگے۔ نوفل بن عبداللہ فرار ہوتے وقت خندق میں گر گیا جسے نیچے اتر کر حضرت علی علیہ السلام نے قتل کر دیا۔ باقی فرار ہو گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ' روزِ خندق علی کی ضربت تمام جن و انس کی عبادت سے افضل ہے' [8]۔

احزاب میں پھوٹ[ترمیم]

جب محاصرہ طول پکڑ گیا تو بنی قریظہ، قریش، غطفان اور دوسرے قبائل میں اختلافات نمودار ہونا شروع ہو گئے اور بددلی پھیل گئی۔ ایک دوسرے کے بارے میں بدگمانی پیدا ہو گئی اور ایسے لوگ سامنے آنے لگے جو جنگ جاری رکھنے کے حامی نہیں تھے۔ ان اختلافات نے انہیں آپس ہی میں مصروف رکھا یہاں تک کہ خدائی مدد آ گئی۔

خدائی مدد[ترمیم]

ایک رات شدید اور سرد آندھی چلی جس نے مشرکین کے خیموں کو اکھاڑ پھینکا اور ان کی روشنیاں بجھا دیں۔ شدید گردو غبار سے فضا تاریک ہو گئی۔[9]۔ مشرکین نے فرار ہونے کو ترجیح دی اور مکہ کہ طرف روانہ ہو گئے۔ 22 ذی القعدہ بدھ کے دن تک لشکرِ کفار میں سے کوئی بھی باقی نہ رہا اور شدید مالی و جانی نقصان کے بعد ان کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اجازت دے دی کہ مسلمان محاذ کو چھوڑ کر اپنے گھروں کو چل دیں[10]۔

نتائج[ترمیم]

اس جنگ میں مسلمانوں کے چھ افراد شہید ہوئے۔ مشرکین کے آٹھ سے زیادہ افراد ھلاک ہوئے۔ مالی نقصان بہت شدید تھا۔ یہ مسلمانوں کی شاندار فتح تھی جس میں خندق کھودنے کی تدبیر بڑی کام آئی۔ مشرکین بہت دیر تک اس جنگ کے اثرات سے سنبھل نہ سکے۔ اس جنگ کے بارے میں سورۃ احزاب میں آیات 9 سے 25 نازل ہوئیں۔

پیش منظر[ترمیم]

اس جنگ سے ایک بات واضح ہو گئی کہ یہودیوں پر اعتماد ٹھیک نہیں۔ یہودی قبیلہ بنی قریظہ کی عہد شکنی نے مسلمانوں کی آنکھیں کھول دیں۔ چنانچہ اس کے بعد مسلمانوں نے بنی قریظہ کو سبق سکھانے کی ٹھانی اور غزوہ خندق کے فوراً بعد خدائی احکام کے تحت ان کے ساتھ جنگ کی جسے غزوہ بنی قریظہ کہتے ہیں۔

حوالے[ترمیم]

  1. ^ تاریخ طبری جلد ۲ صفحہ ۵۶۶
  2. ^ السیرۃ النبویۃ از ابن ھشام صفحہ ۲۳۴
  3. ^ السیرۃ الحلبیہ
  4. ^ تاریخ طبری جلد ۲ صفحہ ۵۶۹
  5. ^ تاریخ یعقوبی جلد ۲ صفحہ ۵۰
  6. ^ السیرۃ النبویۃ از ابن ھشام صفحہ ۲۳۴
  7. ^ المغازی جلد ۲ صفحہ ۴۵۴
  8. ^ مستدرک حاکم جلد ۳ صفحہ ۳۲
  9. ^ تاریخ طبری جلد ۲ صفحہ ۵۷۸
  10. ^ ۲۴۲ ابن ھشام جلد ۳ صفحہ